Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اقتدار کی موت

March 27, 2021March 27, 2021 0 1 min read
Power
Power
Power

تحریر : طارق حسین بٹ شان

ضمیر اور ضمیر فروشی میں انتہائی نازک سا فرق ہوتا ہے جسے اہلِ نظر ہی سمجھ سکتے ہیں۔ایک مختصر سے فروشی کے لاحقے سے انسان کہاں کا کہاں پہنچ جاتا ہے شائد اسے خود بھی اس کا احساس نہیں ہوتا؟ ویسے بھی موجودہ دور میں ضمیر فروشی اور جسم فروشی ایک آرٹ کا مقام حاصل کر چکی ہیں ۔میری ذاتی رائے ہے کہ ضمیر فروشی ہی اس جسم فروشی کی بنیاد قرارپاتی ہے جسے معاشرے میں انتہائی نا پسندیدہ فعل سمجھاجاتا ہے ۔ بدلتے موسموں میں اب جسم فروشی پر وہ لعن طعن دیکھنے کو نہیں ملتی جو کبھی معاشرے کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔ شائد لوگ زیادہ سیانے ہو گے ہیں یا پھر ترقی پسندی ،لبرل ازم،پرائیو یسی اور مغربیت نے غیرت مند احساس کو ہوا کر دیا ہے ۔دنیا میں حرص و ہوس اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کیلئے ضمیر فروشی سے بچ کر نکل جانا ممکن نہیں رہا۔فی زمانہ انسانی حواہشیں لا محدود ہو تی جا رہی ہیں،دنیا کی جاذبیت اور اس کا حصول ایک ایسا رنگین خواب بنتا جا رہا ہے جس کیلئے سب کچھ جائز قرار پا رہا ہے ۔

اصول و ضوابط، اقدار،اور کمٹمنٹ قصہِ ماضی بنتی جا ہی ہیں ۔پندو نصاح کو کوئی خریدنے کیلئے تیار نہیں ہے۔جسے دیکھو وہ اپنی غرض کا بندہ بنا ہوا ہے ۔ فی زمانہ دولت کی طاقت چونکہ مسلمہ قرار پائی ہے اس لئے اس کی جاذبیت سب کو اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے۔آج لفظ کی حرمت کی بجائے دولت کی اندھی طاقت انسانی مدارج کا تعین کر رہی ہے۔اسی لئے دولت کا حصول ہر انسان کی پہلی ترجیح بنا ہوا ہے جس کیلئے اسے غیرت و حمیت کی قربانی دینی پڑ رہی ہے ۔پرانے وقتوں میں انسان کی پہچان اس کا اعلی کردار اور اس کی دیانت و امانت ہوا کرتی تھی۔لوگ ایسے با صفا لوگوں کو دیکھ کر حوش ہوتے تھے۔با صفا لوگوں کی موجو دگی معاشرے کا فخر قرار پا تی تھی۔با صفا افراد کسی بھی معاشرے کا حسن ہو تے ہیں اس لئے لوگ ان کی ذات پر فخر اور مان کرتے ہیں ۔(تنہائی کے اداس لمحوں میں۔ با صفا لوگوں کی یاد آتی ہے)میں خود اپنی زندگی میں کئی ایسے افراد کا شیدا تھا جو اپنی بات پر ڈٹ جاتے تھے۔

ان کے لئے اہمیت صرف اصولوں کی ہواکرتی تھی۔وہ کسی دولتمند یا صاحبِ ثروت کے سامنے نہیں بلکہ اپنے ادرشوں اور اصولوں کے سامنے جھکتے تھے۔ انھیں ڈرانا، دھمکانا یامرعوب کرنا ممکن نہیں ہوتا تھا۔وہ اپنی ذات میں انجمن ہوتے تھے اسی لئے معاشرے کا حسن قرار پاتے تھے۔جذبات و احساسات کے مختلف رنگوں سے آراستہ معاشرے میں وقار اور تمکنت کا راج ہوتا تھا ،ایک وقار اور احترام کارفرما ہوتا تھا،بڑوں کو دیکھ کراحتراما کھڑے ہو نے کا چلن عام تھا،اپنے بڑوں کو سلام کرنا اور ان کی بزرگی کو قابلِ فخر سمجھنا معاشرے کی پہچان ہوتا تھا لیکن یہ سارا کلچر وقت کی دھول میں کہیں گم ہورہ گیا ہے جس سے انسان خود بھی تنہا ہو گیا ہے ۔،۔

اس وقت ہر کوئی اپنی جگہ پر افلاطون بنا ہوا ہے اور خود کو عقلِ کل کا مالک سمجھے ہوئے ہے۔وہ کسی کی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہے۔اگر اہلِ عقل و دانش سچائی کی جانب قدم اٹھانے کیلئے روشنی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو انسان بپھر جاتا ہے ۔انسان اندھیروں کا عادی ہو جائے تو اسے روشنی کی تلاش کہاں رہتی ہے؟ ہمارے سامنے اس وقت ایک بالکل انو کھی دنیا ہے۔اس دنیا کا باسی بالکل الگ تھلگ رہنے کا متمنی ہے ۔ وہ دوستوں ،رشتہ داروں اور اپنوں محسنوں سے فاصلہ قائم رکھنا چاہتا ہے۔وہ اپنی پرائیویسی میں کسی کو مخل ہونے کی اجازت نہیں دینا چاہتا ۔ وہ انٹرنیٹ پر تو بڑا متحرک ہو گا۔بے سرو پا پوسٹیں بھی اپ ڈیٹ کرے گا لیکن رشتوں کے تقاضوں اور ان کی حساسیت کا اسے قطعی کوئی احساس نہیںہو گا۔وہ انٹرنیٹ کی دنیا میں مستغرق ہو گا جہاں اس کا فون سیل ہی اس کا سب سے بڑا دوست ہو گا۔اسے اچھائی اور برائی کی جو تمیز معاشرہ دیا کرتا تھا وہ معاشرہ اب مردہ ہو چکا ہے۔

اہلِ یورپ نے اپنے کلچر کے زور پر ہمارے قدیمی معاشرے کو دفن کر دیا ہے۔اب ہر کوئی اقبال کی طرح یہ تو کہہ نہیں سکتا۔(خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانشِ افرنگ ۔،۔ سرمہ ہی میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف)۔اسلامی معاشرے کے اپنے خدو خال ہیں۔اس کے اپنے تقاضے ہیں۔وہ تقاضے ہمارے خون میں سرائیت کئے ہوئے ہیں لہذا ان کو ہمارے لہو سے کھرچنا ممکن نہیں۔صدیوں کے سفر کے بعد اہلِ یورپ کو ایک ایسا ہتھیار مل گیا ہے جس سے ان کا کام انتہائی آسان ہو گیا ہے ۔ وہ بات جسے منوانے میں یورپ کو کئی صدیاں درکا تھیں۔ ایک موبائل سیل نے ان کی ہر مشکل آسان کر دی ہے۔ہمارا معاشرتی یونٹ اور گھرانہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے ،رشتے ناطے ہوا میں بکھر گئے ہیں،ہر گھر میں آزادی کے دیپ جل رہے ہیں، رومانوی ماحول کا احساس جاگزین ہو چکا ہے اورہماری پوری نوجوان نسل ایک دوسرے کے ساتھ روابط کی زنجیر میں بندھ چکی ہے ۔موبائل فون پر بیہودہ پیغامات،میسیجز اور گفتگو روزمرہ کا معمول ہے۔کوئی احساسِ ندامت نہیں ، کوئی شرمندگی نہیں ، کسی سے کوئی جھجک نہیں۔

انٹر نیٹ پر شادیاں اور باہمی ملاقاتیں معمول کے واقعات ہیں۔انٹر نیٹ پرجس طرح کے بیہودہ مواد سے پاکستان کی نوجوان نسل مستفیذ ہو رہی ہے وہ اس معاشرے کی تباہی کی اصل وجہ ہے۔ہمیں احساس نہیں ہو رہا کہ ہم کیا کھو رہے ہیں۔ہے کوئی جو ذمہ داروں کا تعین کر یگا ؟ معاشرے میں اقدار کی بحالی کا علم اٹھائے گا؟ عفت و عصمت اور حیاء کی فضا قائم کرنے کی سعی کریگا ؟

کسی بھی ملک کی حکومت اپنے ہاں معاشرتی اقدار اور اس کی اعلی روایات کو قائم کرنے کی امین ہو تی ہے۔اس کا کام ایسے قوانین مرتب کرنا ہو تے ہیں جس سے عوام کی شعوری تربیت ہو تی رہے۔اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں مرتب کرے جس سے عوام اپنے محور سے دور نہ ہو سکیں۔ریاست مدینہ کے نعرے تو زبان زدہ خا ص و عام ہیں لیکن ان کا کوئی اثر کسی بھی جگہ نظر نہیں آ رہا۔اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ بر سرِ اقتدار رہتا ہے اس لئے اس طرح کی ساری کاوشیں ناکامی سے ہمکنار ہو تی ہیں۔اس خاص طبقہ کا مفاد چونکہ یورپ سے جڑا ہوا ہوتا ہے اس لئے وہ طبقہ یورپ کی خوشنودی کو ہر حال میں مقدم تصور کرتا ہے ۔عوام کی بد قسمتی یہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں اصول پسندی کا مادہ عنقا ہو چکا ہے۔٣ مارچ کو سینیٹ الیکشن میں ضمیر کی آوازپر لبیک کہنے کے جو مظاہر دیکھنے کو ملے اس میں سید یوسف رضا گیلانی کامیابی سے ہمکنار ہو ئے لیکن محض نو دنوں کے بعد ١٢ مارچ کو سینیٹ چیرمین کے انتخاب میں ضمیر کی آواز کے دوسرے مظاہرے میں وہی سید یوسف رضا گیلانی چاروں شانے چت کر دئے گے۔

ایک شور مچا ،ہنگامہ برپا ہوا،ضمیر کی آواز کی بھر پور مذمت کی گئی حالانکہ نو دن پہلے ضمیر کی آواز پر زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے تھے۔کچھ صحافی اسے ضمیر فروشی کا نام دے رہے تھے اور کچھ دولت کی چمک سے موسوم کر رہے تھے۔ کچھ کے بارے میں شنید ہے کہ انھوں نے اپنا ووٹ ستر کروڑ میں بیچا تھا واللہ عالم بالصواب ۔ جس قوم کے سیاستدانوں کا کردار ضمیر کی آواز کو بدلتے رہنے میں پنہاں ہو اس قوم کے نو نہال بھی ویسے ہی ہوں گے۔انھیں بھی اپنے افعال پر شرمندگی کہاں ہو گی؟اب اس تمام کارِ زیاں کو عوام ضمیر فروشی کہیں گے، دولت کی چمک کہیں گے،مقتدرہ کا جادو کہیں گے،اہلِ حرم کا جبر کہیں گے،خفیہ ہاتھوں کی کارستانی کہیں گے، ،ضمیر کی آواز کہیں گے ،کسی تعویز گنڈے کا معال کہیں گے؟کسی موکل کی پھرتیاں کہیں گے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔جو ہونا تھا وہ ہو گیا بس قوم منہ دیکھتے رہ گئی کہ ہم جن کے رحم و کرم پر ہیں وہ تو خود ضمیروں کے سوداگر ہیں۔اہلِ اقتدار ہی اقدار کے قاتل بن جائیں گے تو اقدار کیسے زندہ رہیں گی؟

Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt

تحریر : طارق حسین بٹ شان
(چیرمین) مجلس قلندران اقبال۔۔

Share this:
Tags:
Death power اقتدار پاکستان ضمیر معاشرے موت
Accountability
Previous Post کرپٹ مافیا کا احتساب
Next Post اردو ادب اور سر سید احمد خان
Sir Syed Ahmad Khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close