Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اقتدار ہو تو ایسا

November 18, 2013November 18, 2013 0 1 min read
Waseem Nazar
Hazrat Umar Farooq
Hazrat Umar Farooq

حضرت عمر فاروق کے دور میں ایک مسافر سفر کرتے کرتے تھک گیا اور ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ گیا اور سو گیا، کچھ دیر بعد اٹھا تو بھوک نے ستایا، اٹھا اور اپنی منزل کی طرف چل دیا اچانک نظر پڑی کہ لنگر تقسیم ہو رہا ہے تو وہ مسافر لنگر لینے کی غرض سے لائن میں لگ گیا۔ جب باری آئی تو لنگر تقسیم کرنے والے نے مسافر کو لنگر دیا مگر مسافر نے کہا کہ مجھے دو بندوں کا لنگر دو، لنگر تقسیم کرنے والے نے کہا کہ تم اکیلے ہو تو میں تم کو دو بندوں کا لنگر کیسے دے دوں مگر مسافر نے اصرار کیا کہ مجھے دو بندوں کا ہی کھانا چاہیے، تقسیم کرنے والے نے کہا دوسرا آدمی کون ہے تو مسافر نے کہا کہ فلاں درخت کے نیچے میں سویا ہوا تھا تو دوسری طرف ایک اور آدمی بیٹھا تھا جو سوکھی روٹیاں پانی میں ڈبو کر کھا رہا تھا لہذا اس کا بھی لنگر دے دو، لنگر تقسیم کرنے والا مسکرایا اور بولایہ وہ ہی شخص ہے جو لوگوں کو لنگر تقسیم کر رہا ہے۔ یہ شخص حضرت عمر فاروق ہیں جو خود سوکھی روٹیاں کھا رہے ہیں اور لوگوں کو لنگر کھلا رہے ہیں۔

ایک دفعہ حضرت عمر فارق کے بیٹے نے آپ سے کوئی فرمائش کی آپ کے پاس پیسے نہیں تھے تو آپ نے اس وقت کے خزانچی کو پیغام بھیجا کہ مجھے چار درہم ادھار دے دیں اور مہینے کے آخر میں میری تنخواہ سے کاٹ لے تو خزانچی نے انکار کر دیا اور کہا کہ اے عمرفاروق تمہارے پاس کیا گارنٹی ہے کہ تم ایک مہینہ زندہ رہو گے، تو یہ سن کر آپ کانپ اٹھے کہ اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور بیٹے کو صبر کرنے کو کہا۔

ایک دفعہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعدگھر آئے تو کسی کام میں مصروف ہو گئے تو اچانک ایک آدمی آیا اور کہنے لگا امیر المومین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے، آپ کو غصہ آیا اور اس آدمی کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم لوگ اپنے معاملات لے کر آتے نہیںاور جب میں گھر کے کام میں مصروف ہوتا ہوں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آجاتے ہو، تو وہ شخص چلا گیا۔ بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور پریشان ہو گئے اس شخص کو بلایا جسے آپ نے درا مارا تھا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے، وقت کا بادشاہ ، چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہے ہیں میں نے تم سے زیادتی کی ہے اور میرے پیٹھ پر مارو۔ اس شخص نے کہا نہیں میں نے آپ کو معاف کر دیا۔ تو امیر المومنین نے کہا کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مار دو تاکہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے۔ تو آپ روتے جاتے اور فرماتے کہ ائے عمر تو کافر تھا، ظالم تھا،بکریاں چراتا تھا تو خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور تھجے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا اور آج تو اپنے رب کے احسانوں کو بھول گیا ہے۔آج ایک آدمی تجھ سے کہتا ہے کہ مجھے میرا حق دلاو تو تو اسے درا مارتا ہے۔ اور پھر اپنے آپ سے کہتے ہیں کہ اے عمر تو کیا سمجھ بیٹھا ہے کہ مرے گا نہیں، اور اللہ کو حساب دینا پڑے گا، امیر المومنین اسی بات کو باربار دھراتے اور دیر تک روتے رہے۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق راتوں کو اٹھ اٹھ کر پہرا دیتے اور لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھتے۔ ایک دن آپ اپنا بھیس بدل کرگشت کر رہے تھے تو اچانک ایک گھر سے بچوں کی رونے کی آواز آئی اور بچے کھانا مانگ رہے تھے اور ماں کہہ رہی تھی کہ ہنڈیاں پک رہی ہے تم سو جاو جب کھانا پک جائے گا تو میں جگا دوں گی، یہ سنتے ہی آپ دروازے پر دستک دی تو ایک عورت باہر آئی تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ بچے کیوں رو رہے ہیں تو عورت نے کہا کہ وہ بھوکے ہیں اور گھر میں کھانا نہیں ہے تو آپ نے فرمایا کہ پھر ہنڈیا چولہے پرکیوں رکھی ہے تو عورت نے کہا کہ وہ تو خالی ہے اور بچوں کو دلاسہ دے رہی ہوں کہ وہ سو جائیں، تو آپ سے یہ سب کچھ برداشت نا ہوا تو فوراً بیت المال میں گئے اور کھانے کی چیزیں لیں اور اپنے غلام اسلم سے کہا کہ اس کو میری پیٹھ پر رکھ دو تو غلام نے کہا کہ امیر المومنین میں سامان خود لے چلتا ہوں تو آپ نے فرمایا کیا تم قیامت والے دن بوجھ اٹھا پاو گئے؟ نہیں میں خود لے کر جاوں گا۔

Hazrat Umar Farooq
Hazrat Umar Farooq

آپ خود سامان لے کر اس عورت کے گھر گئے، عورت نے کھانا پکایا اور بچوں کو کھلایا اور بچے اچھلنے کودنے لگے تو یہ سب کچھ دیکھ کر آپ خوش ہوئے تو عورت نے کہا اللہ آپ کو جزائے خیر دے اور سچ یہ ہے کہ تم امیر المومنین ہونے کے قابل ہو نہ کہ عمرفاروق۔ آپ فرماتے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر سے اس بارے میں پوچھ ہوگی۔

یہ تھا عمر فاروق کا دور جنہوں نے صحیح معنوں میں سیاست کی جن کو خوف خدا بھی تھا اور اعوام کا اساس بھی۔ لیکن آجکا کوئی حکمران ہے جو خود سوکھی روٹی اور دوسروں کا لنگر کھلائے، آج بھی تو لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں ہے کسی کو خیال نہیں اگر خیال ہے تو صرف اپنے پیٹ کا اور اپنی ذات کا۔ہے کوئی عمر فاروق جیسا حکمران جیسے خزانچی بھی ادھار نا دے، ہے اس دنیا میں کوئی مائی کا لال جو عمر فاروق جیسا عدل کرے جیسے وقت کا قاضی بھی بلائے تو قاضی کی عدالت میں چلا جائے، ہے کوئی ہے ایسا جیسے اپنی رعایا کا احساس ہو جو راتوں کو جاگتا ہو اور بھوکے کو کھانا دے کر آئے۔ ہے کوئی ایسا جیسے حکمرانی کی کرسی توملی ہو مگر بھول گیا ہو کہ اس کرسی کا کل حساب بھی ہو گا۔ نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔

آج ہمارے ملک کی معیشت کہاں کھڑی ہے اور ایک طرف حکمرانوں کی عیاشیاں ہیں اور دوسری طرف اعوام کی خودکشیاں ہیں، مائیں اپنے حمل اور باپ اپنے ہاتھوں سے اپنی نسل ضائع کررہے ہیںجس باپ نے بھوک، بیروزگاری، غربت کے ہاتھوں پاگل ہو کر اپنے بچے دریائے روای میںپھینک دیے اس کے لیے گنگا اور جمنااور راوی میں کیا فرق ہو گا اور تم سیاست کا نعرہ لگاؤ اور ہمیں بہلائو،اس ملک کی کمزور معیشت کی وجہ اصل میںآج ہم عملی طور پر امریکہ کے غلام ہیں اور سیاست چمکانے والوں کیا آج اس ملک پر ڈراون حملے نہیں ہو رہے اور صلاحیت رکھنے کے باوجود ہماری جرت نہیں۔

ہماری بھوک، غربت اور ہماری کمزور معیشت ان ڈرون طیاروں کو گرانے سے روکے ہوئے ہے۔ یہ کس قسم کی سیاست کی بات کررہے ہیں جہاں لوگ بھوکے، بیروز گار ہیں اور نام رکھا ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور قومی اسمبلی کے باہر لکھا ہے کلمہ طیبہ اور بات کرتے ہیں مغربی جمہورت کی اور روشن خیالی کی۔ کیا ہمیں اسلام کے نام پر بنے والا پاکستان اس لیے دیا گیا تھا کہ ہم یہ دیکھیں، لاقانونیت اور معاشرے کی جڑوں میں تیزاب کی طرح پھیلی ہوئی کرپشن اپنی آخری حدود سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ معمولی سے معمولی اور جائز کام کے لیے بھی دام درکار ہیں۔ سماج اس وقت ایک منڈی میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں قدم قدم پر میرٹ مطلوب ہے۔ جہاں محکمے جہالت کی تھوک منڈی ہیں جہاں عدالتوں میں انصاف ملتا ہے، جہاں قانون ساز قانون کی بوٹیاں نوچنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، جہاں اعوام اور اقتدار اور دو متضاد قوتوں کا نام ہے۔

یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں ہر کوئی اپنی دھن میں مگن ہے سر کھجانے کی فہرست نہیں دائیں بائیں کی فکر نہیںہر شخص بھوکا ہے۔ کوئی اقتدار کا طالب ہے اور کوئی شہرت کا بھوکا، کوئی دولت کا پرستار ہے کوئی پیٹ کا بھوکا، کوئی بھنگ کے ایک پیالے پراپنا سب کچھ نچھاور کرنے پر امادہ اور کوئی طاقت کا بھوکا۔ہم زاول کی آخری حدوں کے آخر پر پہنچ چکے ہیں انصاف مہیا کرنے والے ادارے سیسک سیسک کر دم توڑ رہے ہیں ہر طرف ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے بھوک، غربت افلاس، انصاف کی۔

کل کی تاریخ پڑھیے جب بوڑھے آدمی کو چھ ماہ کی پنشن نہ ملی تو وہ اپنی کنپٹی پر بندوق رکھ کر بولا یہ میرا پاکستان ہے اور تیرا پاکستان ہے، جب مزدور رات کا خالی ہاتھ گھر لوٹا اور بچوں سے نظریں چراتے ہوئے بولاہے تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات، جب وزیر اعظم کی کھلی کچہری میں خودسوزی کرنے والاشخص بھی بولا تھا
میں بھی پاکستان ہوں اور توبھی پاکستان ہے، جب جاگیر دار کے بیٹے غریب کی بیٹی کو اٹھا کر لے کر گئے تھے تو وہ بولی تھی انصاف دو انصاف کہاں ہے، لال مسجد کے شہدا آج بھی کہہ رہے ہیں پاک فوج تو زندہ باد۔ کل کی تاریخ پڑھیے جب بیروزگار باپ نے اپنی تین جوان بیٹوں کو مارا تھاتو وہ بولا تھا۔

عجب رسم ہے چارہ گھروں کی محفل میں لگا کر دفن نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے ایک نوالے کو امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

غربت سے مجبور لوگ اپنے بچے بیچ ڈالتے ہیں ان کے ریٹ لگا کر سڑک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں، اپنی پانچ پانچ سالہ بچیاں دلالوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ خود دریاوں میں کود جاتے ہیں، پنکھوں کے ساتھ جھول جاتے ہیں، آگ لگا لیتے ہیں، خود کو گولیاں مار لیتے ہیں اور اپنے معصوم بچوں کی گردنیں کاٹ دیتے ہیں، صدارت وزارت اور عمارت کے بھوکے، تہذیبی حقدار کو پامال کر دیتے ہیں، کھبی تو چند کھوٹے سکوں کے عوض قوم کی بیٹوں کو بیچ ڈالتے ہیں اور کبھی مساجد اور درباروں کا تقدس پامال کرتے ہوئے انہیں لہو رنگ کرتے ہیں اور جب لوگ کہتے ہیں کہ خدا سب دیکھ رہا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ خدا کیا دیکھ رہا ہے۔ میری دعا ہے اللہ سے کہ ہمیں نیک ہدایت دے اور ہمیں حضرت عمر فاروق جیسا حکمران عطا فرما(امین)

Waseem Nazar
Waseem Nazar

تحریر : وسیم نذر
چئیر مین ایکشن کمیٹی کالمسٹ کونسل آف پاکستان
waseemnazar1@gmail.com

Share this:
Tags:
government hazrat umar farooq politics power اقتدار حضرت عمر فاروق حکمران سیاست
Mubashir Malik
Previous Post ہماری ثقافت ہماری پہچان
Next Post کروڑ لعل عیسن کی خبریں 17/11/2013

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close