
تحریر : منظور احمد فریدی
اللہ جل شانہ کی بے پناہ حمد وثنا اور محمد مصطفی کریم کی ذات اقدس پر کروڑہا بار درودوسلام کے نذرانے پیش کرتے ہیں اللہ نے بنی نوع انسان کو تمام ذی روح مخلوقات سے افضل و اعلیٰ پیدا فرمایا اور پھر اسکی تربیت و ہدائت کے لیے رسولوں کا سلسلہ جاری فرمایا انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر ہر چیز کو اسکے تابع کر دیا رسولوں کے سلسلہ سے ہر دور میں اپنی پہچان کا درس دیا اور جب یہ سارا کھیل شروع کر رہا تھا تو پہلے تمام انبیاء کی روحوں کو جمع فرما کر یہ عہد لیا کہ لوگ تمہیں نبی مانتے ہوں تمھاری بادشاہت قائم ہو اور اس دورانیہ میں میرا محبوب نبی محمد ۖ تشریف لے آئے تو اپنی نبوت چھوڑ کر اسکا کلمہ پڑھ لینا اور اسکی معاونت کرنا اور اگر ایسا نہ کیا تو فاسق وفاجر گردانے جائو گے یہ شان عطا کی آقاۖ کو جن کی امت میں ہمیں پیدا کیا اور پھر فرمایا کہ تم بہترین امت ہو نیکی کا درس دیتے ہو برائی سے منع کرتے ہو یقینا تم ہی کامیاب ہو نبی ۖ کو مبعوث فرما کر خاتم الانبیاء کا تاج پہنا دیا اور کائنات کے ساتھ ساتھ انبیاء کرام کا سردار بنا کر ہمیں عطا فرما دیا اس ساری تمہید کا مطلب اقتدار کو بیان کرنا ہے اس سے بڑا اقتدار زمین پر کسی کو نہ ملا نہ ملیگا۔
مملکت خداد وطن عزیز پاکستان اسی اساس پر حاصل کیا گیا کہ ہم امت محمدیہ ہیں اور ہندو انگریز یہود و ہنود کے ساتھ ہمارا رہن سہن ایک نہیں بلکہ ہم ایک الگ قوم ہیں جو اسلام کے ماننے والے ہیں مساوات کے نظام کے قائل ہیں اور قرآن کریم اللہ کی لا ریب کتاب ہمارا قانون ہے جو چور کے ہاتھ کاٹنے شرابی کو کوڑے مارنے اور زانی کو سنگسار کرنے کا حکم دیتا ہے مگر ہوا کیا ہمارے ارباب وقت کے اس اعلان پر متحدہ ہندوستان سے لوگ جوق در جوق پاکستان چلے آئے آتے ہی ان کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اس کے لیے لکھوں تو ایک الگ داستان ہے پھر کبھی سہی دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے جس نظریہ پر یہ ریاست حاصل کی ہم اس پر قائم بھی رہے کہ نہیں ہرگز نہیں رہے روز اول سے ہی اس کی باگ ڈور اس طبقہ نے سنبھال لی جو اسکے بننے کے حق میں ہی نہ تھا اور کسی نہ کسی رنگ میں آج بھی وہ طبقہ ہمارے سروں پر ہماری شامت اعمال بنا مسلط ہے۔
ہم میں اس بات شعور شائد اگلی دو چار نسلیں گنو اکر بھی نہ آئے ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں اور اللہ کی ایک بھی نہیں مانتے اللہ نے حکم دیا اطاعت کرو میری میرے رسول کی اور اسلام میں پورے پورے داخل ہوجائو مگر ہم اسلام کی روح سے اتنے دور ہوئے کہ آج ہماری نسل نو ہمیں جاہل دقیانوسی خیالات کا حامل اور ملاں کے علاوہ جاہل بھی کہنے لگی وہ اولاد جسے اسلام ماں باپ کی میراث کہتا ہے وہ اولاد اپنے بڑوں کے سامنے اسطرح بولنے لگی کی بابا تم چپ کرو بندے کو بات کرنے دو لاحولاولا قوة مطلب کہ بابا تو بندہ ہی نہیں سنت انبیاء داڑھی جسے اللہ کہتا ہے کہ میں نے مردوں کے چہرے کی زینت پیدا فرمایا اس سے نفرت دین کے علم سے نابلد اور ہماری درسگاہوں کا نصاب تک بدل دیا گیا کہ قوم کو دین سیکھ کر شعور نہ آجائے اسمبلیوں میں بیٹھے ہمارے ارباب اختیار اقتدار کو ایسے چپکے کہ وہ اس سے جدا ہونا اپنی موت تصور کرتے ہیں جبکہ اسلام اقتدار کو محض خدمت قرار دیتا ہے۔
ہمارے لیڈر فرماتے ہیں کہ وہ اقتدار کو قوم کی امانت اور خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں مگر اسی امانت میں خیانت کی انتہا یہ کہ الیکشن میں پیسے کا استعمال دیکھیں اور رہن سہن دیکھیں اسلام کے عظیم سپوت نبی آخرالزمان کے تربیت یافتہ جرنیل حضرت عمر فاروق کے دور حکمرانی کو دیکھ لیں انکی ریاست کے مقابلہ میں پاکستان ایک صوبہ کے برابر بھی نہیں مگر انکے نام سے کفار کی نیندیں حرام تھیں آج ہمارے حکمران کفار سے ڈر کے اپنی عوام کا مال انہیں فائدہ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں کوئی سرے محل خرید لیتا ہے۔
کوئی ملوں کا جال بچھائے پھرتا ہے اور کوئی اقتدار کے حصول کے لیے مجرے کرتا پھرتا ہے ان سے پوچھو کہ اگر اقتدار خدمت کا نام ہے تو اسے حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازیاں کیوں لگاتے ہو اور مل جانے پر اسے اپنے باپ دادا کی وراثت کیوں سمجھ لیتے ہو اسے دوام بخشنے کے لیے غداروں کو وزارتوں پر فائز کیوں کرتے ہو اور ہر اس عمل سے کیوں گزر جاتے ہو جو خلاف اسلام بھی ہو اور اخلاقیات سے بھی گرا ہوا ہو کیا میاں برادران نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے را کے ایجنٹ ساتھ نہیں رکھے زرداری نے انہیں برا کہا یا حکومت میں شامل نہیں رکھا۔
عمران خان کے دھرنا مجروں میں وہ پل کا کردار کرنے آئے تو اس نے کہا ہو کہ تم غدار ہو ہرگز کسی نے بھی نہیں کہا کیونکہ سب کو اپنی اپنی باری کا انتظار ہے اور اس ملک کو لوٹنے میں کسی نے بھی کوئی کسر چھوڑی نہ چھوڑنی ہے عوام جس میں ہم جیسے لوگ شامل ہیں اپنی روٹی کے چکر میں ایسے الجھا دیے گئے کہ انہیں رزق کی فکر میں رزاق بھی یاد نہ رہا اور الیکشن سے الیکشن تک وہ اس جنگ سے بے پرواہ اپنی دھن میں مست روٹی کمانے میں مصروف ہیں۔
اقتدار کی یہ ہوس ہمارے سیاست دان طبقہ کو اتنا برابر کر چکی ہے کہ اب شائد ہمارے پاس کوئی چوائس ہی نہیں سوائے اسکے کہ ان سب میں سے کس نے ملک کو کم لوٹا اور چوائس اسوقت تک پیدا بھی نہ ہوگی۔
جب تک نظام نہ بدلا اور نظام تب بدلے گا جب ہم بدل گئے اور اللہ کی بارگاہ میں کشتیاں جلا کر پیش ہو گئے کہ اے مالک ہم تیرے بھولے بندے تجھے بھول چکے تھے تیری زمین پر حکومت کرنے والے فرعونوں کے جال میں ایسے پھنسے کہ تو یاد رہا نہ تیرے محبوب کی تعلیمات آج ہم سچے دل سے تمام گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں حاضر ہیں اور اس وقت تک واپس نہ لوٹیں گے جب تک تو ان فراعین سے ہمیں چھٹکارہ عنائت نہیں کردیگا تو مالک ہے تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور تو جو کہے ہوجاتا ہے یہ کب ہوگا کون دئکھے گا یہ بھی اللہ کو ہی علم ہے والسلام
تحریر : منظور احمد فریدی
