
اسلام آباد (جیوڈیسک) وزیر اعظم نواز شریف اس وقت ایسی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں کہ انکے آگے کھائی ہے اور پیچھے کنواں۔ گیارہ مئی کو ایک طرف اسلام آباد کے ڈی چوک میں عمران خان اپنے پرجوش کارکنوں کے سامنے چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق، انتخابی اصلاحات اور دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے تو دوسری طرف کینیڈا سے ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان کے 26 شہروں میں ہونیوالے اجتماعات سے اپنے ویڈیو لنک خطاب میں موجودہ پارلیمانی سسٹم کو آئینی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر مسترد کر رہے تھے۔ اس صورتحال میں وزیر اعظم کو جلد ازجلد کوئی سیاسی حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اور طاہرالقادری دونوں وہ سیاسی خلاء پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جو وزیر اعظم کے فوج کے ساتھ جاری برتائو اور اختلافات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے خصوصاً ان الزامات کے بعد کہ وزیراعظم نے جی ایچ کیو کیخلاف نجی میڈیا گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں، اس صورتحال نے مسلم لیگ (ن) کو متنوع اور مخاصمانہ میڈیا مارکیٹ میں دوستوں سے محروم کر دیا ہے۔ اگرچہ عمران خان کے تمام مطالبات جمہوری ہیں تاہم مسلم لیگ (ن) کے قائدین پریشان کن نتائج کے خدشے کے پیش نظر چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کرانے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اس سے مسلم لیگ ن کی پورے الیکشن میں کامیابی مشکوک ہو سکتی ہے۔ قومی میڈیا نے اگرچہ طاہرالقادری کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ خیال کرتے ہوئے عمران خان کے مطالبات پر توجہ مرکوز رکھی تاہم سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی اکثریت طاہرالقادری کے نکات کو عمران خان کے مقابلے میں زیادہ منطقی اور واضح تصور کر رہی ہے، اور اسکی ایک سیاسی اہمیت ہے وہ اس طرح کہ اگر عمران حکومت کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں یا اپنے مطالبات پورے کرانے میں ناکام رہتے ہیں تو اپوزیشن حلقوں کیلئے طاہرالقادری کیلئے دلچسپی بڑھ جائیگی۔
