
اسلام آباد (جیوڈیسک) حکومت نے کالادھن سفید کرنے کی اسکیم کا اعلان کردیا ہے۔ تعمیرات، لائیو اسٹاک، پاور پلانٹس اور بلوچستان میں کوئلے کی کانوں کی تلاش میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا۔
اسلام آباد میں تاجروں اور سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ رضا کارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں آنے والے افراد کو ہر قسم کے جرمانوں اور آڈٹ سے مکمل چھوٹ ہوگی۔
بعد میں وزارت خزانہ کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ یکم جنوری سے سرمایہ کاری پر رقم کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی، ملک میں توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ لگانے پر بھی یہی پیکج لاگو ہوگا۔
رعایتی پیکج کا اطلاق چھوٹے گھروں کی تعمیر، کان کنی اور تھر کول منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنے والوں پر بھی ہوگااوراس ٹیکس ریلیف پیکج میں بلوچستان اور خیبر پختوانخوا کے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
جبکہ ٹیکسٹائل، فلور ملز، گھی کارخانوں، اسلحہ، سگریٹ، سیمنٹ اور شوگر ملز بھی اس سے فائدہ اٹھاسکیں گی۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس رعایتی پیکج کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کا فروغ اور روزگار کے مواقعوں میں اضافہ کرنا ہے۔
