Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہمیں تو اپنوں نے لوٹا

April 28, 2019 0 1 min read
Imran Khan
Imran Khan
Imran Khan

تحریر : روہیل اکبر

وزیراعظم پاکستان عمران خان جب بھی کہیں تقریر کرتے ہیں توملک میں کرپشن کرنے والوں اور پھر انکی مہربانیوں کی بدولت ملک پر قرضوں کے بوجھ کا ذکر ضرور کرتے ہیںہم پاکستانیوں کو ان قرضہ لینے اور پھر اسے ہڑپ کرنے والوں نے جتنا نقصان پہنچایا اتنا شائد ہمارے دشمنوں نے بھی نہیں پہنچایا ہوگا ایک طرف قرضہ لیکر ملک کو مقروض کیا گیا تو دوسری طرف قرضہ لیکر معاف کرواکر ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا گیا یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم اپنے پاﺅں پر کھڑے نہیں ہوسکے اور آج صورتحال یہ بن چکی ہے کہ ہم قرضہ ادا کرنا تو دور کی بات اسکا سود اداکرنے کے قابل بھی نہیں رہے ملک میں قرضوں کے حوالہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا دور بدترین رہا یہی وجہ ہے کہ آج ہر پاسکتانی تقریبا پونے دو لاکھ کا مقروض ہوچکا ہے اور رہی سہی کسر ان لوگوں نے پوری کردی جنہوں نے قومی دولت کو مال مفت سمجھ کر اپنے اپنے ہاتھ صاف کیے اور ان میں کون کون سی شخصیات شامل تھیں جن میں سے چند ایک کے نام میں لکھوں گا باقیوں کا بھی گاہے بگاہے ذکر کرتا رہونگا قرضہ خوروں کی تفصیل سے پہلے ملکی قرضوں کی کچھ تفصیل پیش کرتا ہوں کہ ہم نے 1958ءمیں پہلی دفعہ آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اُس وقت 1ڈالر 3روپے کا تھا جو 1965کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کی بیرونی امداد چند ماہ کے لیے بند ہونے کی وجہ سے بڑھ کر 7روپے تک چلا گیا، لیکن معاشی حالات قدرے مضبوط ہی تھے اور تاریخ گواہ ہے کہ 1972ءتک ہم قرضوں کی ادائیگی کرسکتے تھے۔

سود کیساتھ اصل زر بھی واپس کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ 1973 ءمیں ذوالفقار علی بھٹونے اپنے دور اقتدار میں محض 0.3ڈالر ہی بیرونی قرض لیا، پھر 1980 میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں 2 ارب ڈالر کا لیا گیا قرض اسی دور میں واپس کیا گیا۔ اُن کے دور میں افغان جنگ کی وجہ سے ڈالر کی خاصی ریل پیل تھی اس لیےانہیں مزید قرض لینے کی کچھ خاص ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ پھر1988 ءسے جمہوریت کا ”سنہری“دور محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے سے شروع ہوتا ہے، جب ڈالر 18روپے کا تھا۔ اور اسی سال دسمبر1988ءمیں محترمہ بے نظیر کی قیادت میں عالمی اداروں سے قرض کے دو پروگرام حاصل کیے گئے جو 1990 اور 1992 میں ختم ہوئے۔ ان پروگراموں کے ختم ہونے سے مراد یہ کہ قرض واپس کرنے کی مدت ختم ہوئی مگر قرض واپس نہ کیا گیا، اسی طرح نومبر 1990ءمیں نواز شریف کا پہلا دور حکومت شروع ہوا، انہوں نے بھی 1993ءمیں ایک ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرض لیا۔1994میں محترمہ کے دوسرے دور حکومت میں آئی ایم ایف کا پھر در کھٹکھٹایاگیا، یہ وہ دور تھا جب قرض واپس کرنے کے بجائے بین الاقوامی اداروں کے چنگل میں پاکستان کے پھنسنے کا آغاز ہوچکا تھا۔ اور اصل رقم کے بجائے پاکستان محض اوپر کا سود ہی ادا کرنے پر اکتفا کرتا تھا۔

اسی ڈگر پردونوں مذکورہ جماعتوں نے آئی ایم ایف، ایشائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے 1995 سے 1999 تک 3پروگرام لئے جووقت سے پہلے ہی فلاپ ہوگئے۔ اوراس طرح1999ءتک پاکستان پر بیرونی قرض کا کل حجم 39ارب ڈالر تک جا پہنچا یعنی پاکستان سود کی ادائیگی کے قابل بھی نہیں تھا یا یوں کہہ لیں کہ ڈیفالٹ اور دیوالیہ کے قریب تھا۔ رہی سہی کسر 1999 ءمیں جنرل مشرف کے مارشل لانے نکال دی جسکی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا دی گئی اور آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے قرض دینے کے دروازے بند کردیے۔ مشرف کی قسمت اچھی تھی کہ اس دوران 9/11جیسا بڑا واقعہ ہوگیا اور امریکا کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی، پاکستان پر پابندیوں کا خاتمہ ہوا۔1999ءاور2000ءکے اقتصادی جائزے کے مطابق جنرل مشرف نے پیرس کلب کے ساتھ معاہدہ کیا، کنسورشیم کو قرضوں کی ری شیڈولنگ پر راضی کرلیا۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ اس عرصے میں پاکستان کے سارے سود ادا کرکے اصل زر میں سے بھی پانچ ارب ڈالر کی رقم واپس کی گئی۔ اور 2008ءمیں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ کم ہوکر 34ارب ڈالر رہ گیا۔ اُس وقت ”منصوبہ 2020ئ“بھی بنایا گیا جس کے مطابق پاکستان 2020ءتک ملک کے قرضے چکا دے گا، 2000ءسے 2008ءتک پاکستانی کرنسی مستحکم رہی۔ 1999ءمیں 52روپے کا ڈالر تھا۔ نو سالوں میں 52اور 62روپے کے درمیان ہی رہا۔ نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مارچ 2008کونیا دور جمہوریت شروع ہوا، لہٰذا نئی نویلی جمہوریت نے عالمی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 7.2ارب ڈالر کا تاریخی پیکج وصول کی 2008ءسے 2013ءتک کے پیپلزپارٹی کے پانچ سالوں میں بیرونی قرضہ 34 ارب ڈالر سے 59 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ پیپلز پارٹی نے پاکستان کو 25 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ اس کے بعد 2013ءمیں ن لیگ کا ”سنہرا“ دور شروع ہوا جس میں بیرونی قرضہ 59 ارب ڈالر سے 93 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

صرف جولائی 2016ءسے جنوری 2017ءکے سات ماہ میں 4.6ارب ڈالر کے نئے قرضے لیے گئے۔ اس2.3 ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر سکوک بانڈ کی فروخت سے حاصل کیے گئے۔ اس بانڈ کو فروخت کرنے کے لیے لاہور اسلام آباد موٹر وے کو ضمانت کے طور پر گروی رکھوایا گیا۔ جبکہ اگلے مرحلوں میں دیگر موٹر وے سمیت، ملک کے تمام ریڈیو اسٹیشن اور اہم عمارتیں عالمی منڈی میں گروی رکھوائی گئیں تاکہ پاکستان قرض کی ”نعمت“ سے استفادہ حاصل کرسکے۔ یوں ن لیگ نے پانچ سال کے دوران پاکستان کو 34 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ ان دونوں جماعتوں نے ملکر صرف 10 سال کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کو 59 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ جب کہ اس سے پہلے کے 60 سالوں میں پاکستان کل 34 ارب ڈالر کا مقروض تھااب اگر ”اندرونی“ یعنی مقامی قرضوں کی بات کریں تو اس سے مراد مقامی بینکوں سے لیا جانے والا قرضہ ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا مقامی قرض، بیرون قرض سے زیادہ ہے۔ مشرف دور سے پہلے تک یہ قرضہ 3ہزار ارب روپے تھے جو آج بڑھ کر 20ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آکر تقریباً 6ہزارارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جبکہ ن لیگ نے پانچ سالوں میں 9ہزار ارب روپے کے قرضے لیے۔ اسی طرح مشرف دور میں ہر پاکستانی 40ہزار روپے کا مقروض تھا، پیپلزپارٹی کے دور میں 80ہزار روپے کا، ن لیگ دور میں ڈیڑھ لاکھ روپے اور آج پونے دو لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔

آپ انڈسٹری کی بات کر لیں، جس پاکستانی پراڈکٹ کا دنیا بھر میں طوطی بولتا تھا، اُس پر پاکستان کے بجائے آج کل ”میڈان چائنہ“ یا ”میڈ ان بنگلہ دیش“ لکھا جانے لگا۔ پاکستان کی 70فیصد انڈسٹری آخری دس سالوں میں یا تو بند ہوگئی یا بنگلہ دیش منتقل ہوگئی۔ بیرونی سرمایہ کاری کا ستیا ناس کردیا گیا، 2007کی سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 6ارب ڈالر تھا جو پی پی پی کے دور میں انتہا کی دہشت گرد کارروائیوں اور غیر مستحکم حالات کے باعث محض 0.8ارب ڈالر رہ گئی۔ جبکہ سابقہ ن لیگی دور میں مزید کم ہو کر0.2ارب ڈالر رہ گئی۔ (سی پیک بیرونی سرمایہ کاری نہیں بلکہ بھاری بھرکم سود والا قرضہ ہے)۔ ان کے علاوہ قومی اداروں میں سٹیل مل نے آخری دفعہ 2006ءمیں منافع کمایا۔ 2008ءمیں اس کا کل خسارہ 16ارب روپے تھا۔

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور میں سٹیل مل کا کل خسارہ 118.7 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ جبکہ ن لیگ دور میں 200ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ ریلوے، پی آئی اے بدستور سینکڑوں ارب کا خسار ہ ہوااب آتے ان قرضوں کی طرف جو ہمارے سیاستدانوں نے لیکر معاف کروالیے ان ہمارے ملک کے بزرگ سیاستدان چوہدری شجاعت حسین صاحب اور چوہدری پرویز الہی صاحب بھی سرفہرست ہیں جن کے ذمہ قرضوں کی تفصٰل کچھ یوں جس پر آجکل مٹی پاﺅ والا کام ہورہا ہے چوہدری برادران نے اپنے نام یعنی چودھری شجاعت حسین ولد چودھری ظہور الہی شناختی کارڈ نمبر 270-45-175002 ،چوہدری پرویز الہی ولد چوہدری منظور الہی شناختی کارڈ نمبر262086 270-45- ،چودھری گلزار محمد ولد چودھری فضل محمدشناختی کارڈ نمبر266-44-110269 ، چودھری منظور الہی ولد چودھری سردار خان شناختی کارڈ نمبر270-19-031261، چودھری وجاہت حسین ولد چودھری ظہور الہی شناختی کارڈ نمبر 224-60-142208 ، چودھری صباحت الہی ولد چودھری منظور الہی, چودھری شفقت حسین ولد چودھری ظہور الہی،مسز کوثر حسین،مسمات خالدہ بیگم،مسز کیثرا لہی جنکارجسٹرڈ کمپنی ایڈریس E-20گلبرگ (سی) 3لاہور تھا اور سال 2000تک پھالیہ شوگر مل پراین ڈی ایف سی کا کل قرضہ چودہ کروڑ ننانوی لاکھ چھیالیس ہزار روپے بنتا تھا جو آج 18 سال بعد تین ارب ننانوے کروڑ بیس لاکھ باسٹھ ہزار تین سو بتیس روپے بنتا ہے کیا یہ غریب پاکستانیوں کے حق پر ڈاکہ نہیں ہے پاکستان کے سب سے بڑے قومی ترقیاتی مالیاتی ادارے NDFC کو چودھریوں سے قرضہ واپس نہ لینے کے لیئے جنرل مشرف نے غیر قانونی طریقے سے NDFC کو نیشنل بینک کے قبضے میں دے دیا تھا اس وقت پاکستان میں NDFC کے کل نادہندگان کی تعداد 330 تھی اور NDFC کا ان نادہندگان کی طرف کل قرضہRs.88275901000 یعنی اٹھاسی ارب ستائیس کروڑ انسٹھ لاکھ ایک ہزار روپیہ تھااین ڈی ایف سی NDFC کے کم سے کم مارک اپ یعنی 16% ریٹ سے آج یہ کل رقم Rs.1276691494000 یعنی بارہ کھرب چھہتر ارب 69 کروڑ 14 لاکھ 94 ہزار روپے بنتی ہے کیا وزیراعظم اپنے ان سیاسی اتحادیوں سے بھی قرضہ واپس لے سکیں گے آخر میں ایک فلم کا ڈائیلاگ یاد آرہا ے کہ ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔

Rohail Akbar
Rohail Akbar

تحریر : روہیل اکبر

Share this:
Tags:
country imran khan loans pakistan Prime Minister Rohail Akbar پاکستان شخصیات عمران خان قرضوں ملک وزیراعظم
Education and knowledge
Previous Post تعلیم اور علم
Next Post باسکٹ بال ایونٹ 30 اپریل اور یکم مئی کو آرام باغ باسکٹ کورٹ کراچی پر کھیلا جائیگا
5th Pizza Hut Karachi Games basketball Event

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close