Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

وزیر اعظم کا دورہ امریکا : کچھ لو، کچھ دو کی پالیسی ۔۔۔۔

July 21, 2019 0 1 min read
Imran Khan
Imran Khan
Imran Khan

تحریر : قادر خان یوسف زئی

وزیراعظم پاکستان امریکا کے صدر ٹرمپ کی خصوصی دعوت پر 21 سے 23 جولائی دورہ امریکا کر رہے ہیں ۔وائٹ ہاؤس اعلامیے کے مطابق” صدرٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان مختلف امور پر بات چیت ہوگی، دونوں رہنماؤں میں انسداد دہشت گردی، دفاع اور توانائی اور تجارت پر بھی بات ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا، ان کا دورہ امریکہ علاقائی سلامتی اور خوشحالی میں معاون ثابت ہوگا۔ترجمان وائٹ ہاوس کے مطابق وزیراعظم کا محور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام لانا ہے، مذاکرات کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔”۔ دفتر خارجہ کے ترجمان فیصل قریشی نے امید ظاہر کی ہے کہ” امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ وزیر اعظم کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت ملے گی پاکستان کے دفتر خارجہ نے مزیدکہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکہ کے دوران خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بھی بات ہو گی”۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ” امریکا تعلقات اہمیت کے حامل ہیں، دونوں ممالک میں مثبت اور تعمیری بات چیت ضروری ہے، وزیراعظم کا دورہ امریکا باہمی تعلقات میں اہم ثابت ہو گا۔

ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وزیراعظم عمران خان کو دورہ امریکا کی دعوت کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی اہمیت کا اعتراف سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مثبت رویے کے ساتھ پیش قدمی پاکستان اور امریکا دونوں کے بہترین مفاد میں ہے، ہمیں افغانستان کے متعلق امریکی ترجیحات کا احساس ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ، وزیراعظم کے دورہ امریکا سے اعتماد سازی کی فضا بحال ہوگی، دونوں ممالک میں مثبت اور تعمیری بات چیت ضروری ہے، پاک امریکا تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے، ہماری خارجہ پالیسی میں امریکا سے تعلقات ہمیشہ اہم رہے۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان مسئلہ افغانستان کے سیاسی حل کے لئے صدر ٹرمپ کے دوراندیش فیصلوں کا خیرمقدم کرتا ہے، جو خود پاکستان کے موقف اور پالیسی کا اعتراف ہے”۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ریکارڈ بک کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنرل ایوب خان 2 مرتبہ او رجنرل ضیا الحق 6 مرتبہ امریکا کا دورہ کرچکے ہیں ۔ جبکہ امریکی صدرو سے جنرل (ر) پرویز مشرف 11 مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ یہ کسی بھی سربراہ مملکت کی امریکی صدور سے ہونے والی سب سے زیادہ ملاقات کی تعداد ہے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اورسابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو دو دو مرتبہجبکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف 6 مرتبہ امریکا کا دورہ کرچکے ہیں۔ جبکہ ایک مرتبہ امریکا کا پرائیویٹ وزٹ کیا، یہ دورہ 4 سے 5 جولائی 1999 کو کیا گیا تھا اور اس دوران انہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن سے کارگل تنازع پر گفتگو کی تھی۔کسی بھی پاکستانی حکمران کی جانب سے آخری مرتبہ امریکا کا دورہ 2015 میں کیا گیا تھا کہ اور یہ دورہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کیا تھا۔چار برس بعد وزیراعظم عمران خان اُن حالات میں امریکا کا دورہ کررہے ہیں جب دونوں ممالک کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔

خاص طور پر پاک۔امریکا تعلقات میں سخت سرد مہری موجود ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے انتخابات میں کامیابی بعد جنوبی ایشیا کے لئے نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا ، جس میں پاکستان کے خلاف سخت موقف رکھا ۔ افغان امن عمل کے حوالے سے امریکی صدر نے یکطرفہ رویہ اپناتے ہوئے پاکستان سے ڈومور کے مطالبات بھی کئے ، نیز پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف کے بجائے انہوں نے ”کولیشن فنڈز ”کو غلط پیرائے میں بیان کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ”ہم اب پاکستان کو اربوں ڈالر نہیں دے رہے کیونکہ وہ ہم سے پیسہ لے رہے تھے اور کر کچھ نہیں رہے تھے”۔ جس پر وزیر اعظم نے بڑے مدلل انداز میں امریکی صدر کو ٹویٹر پر ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘امریکہ کو افغانستان میں اپنی ناکامی پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ایک لاکھ 40 ہزار نیٹو افواج، ڈھائی لاکھ افغان فوجیوں اور ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں کیوں طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔’صدر ٹرمپ کے ٹوئٹس پر عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ’ ٹرمپ کے دعوے پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں جس نے جانوں کی قربانی دی، خود کو غیر مستحکم کیا اور معاشی نقصان برداشت کئے۔ اُنہیں تاریخی حقائق یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان امریکی جنگ لڑتے ہوئے بہت زیادہ نقصان اُٹھا چکا ہے۔ اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے لوگوں اور ہمارے مفادات کیلئے بہترین ہو گا’۔

یہ جواب پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا ، جس کے بعد امریکا نے اپنے رویئے میں تبدیلی لانی شروع کی تاہم ڈو مور کا مطالبہ بھی جاری رکھا ، تاہم پاکستان اور امریکی صدر کے درمیان افغان امن تنازع حل کے لئے بھرپور تعاون کئے جانے پر رویئے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ، امریکی صدر نے اپنے ایک خصوصی خط میں افغانستان کے لئے اپنے معاون خصوصی زلمے خلیل زاد سے تعاون کے لئے وزیر اعظم سے درخواست بھی کی تھی ۔ جس کا پاکستان نے مثبت جواب دیا اور افغان طالبان کو امریکا کے ساتھ براہ راست مزاکرات کی میز تک لانے میں موثر و فعال کردار ادا کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان سات دور ہوچکے ہیں اور دونوں فریقین ایک حتمی مسودے کے قریب پہنچ چکے ہیں ، چار نکاتی ایجنڈے پر دونوں فریقین نے بڑی حد تک کام کرلیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق زلمے خلیل زاد چین کے دورے سے امریکا واپسی کے بعد امریکی صد رسے افغان طالبان کے ساتھ حتمی مسودے کی منظوری لیں گے ۔ تاہم اس حوالے سے امریکی انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ پہلے امریکی صدر نے شام و افغانستان کے سے امریکی افواج کا اعلان کیا تو ان کی کابینہ کے اہم اراکین مستعفی ہوگئے اور پینٹاگون کے علاوہ کانگریس کی جانب سے اعلان کو عجلت قرار دیا گیا ۔ بعد ازاں امریکی صدر نے نصف فوج افغانستان میں رکھنے کا اعلان کیا ، لیکن افغان طالبان نے اس ارادے کی شدید مخالفت کی ،بعدازاں پرائیوٹ فوج کی افغانستان میں امریکی افواج کے جگہ لینے کی عالمی میڈیا میں خبریں آئی ، جس میں خاص طور پر بلیک واٹر کو افغان جنگ ٹھیکے میں دیئے جانے کی اطلاعات تھی ۔ لیکن اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں آئی تاہم افغان طالبان افغانستان میں بلیک واٹر کی موجودگی کا الزام لگا رہے ہیں کہ امریکا فوجی انخلا سے پہلے بلیک واٹر افغانستان بھیج چکا ہے جو عام شہریوں پر حملوں سمیت کئی ایسے واقعات میں ملوث ہے جس میں بم دھماکے بھی شامل ہیں ۔ جس کا مقصد عام افغان شہری کو افغان طالبان کے مخالف کرنا قرار دیا جارہا ہے ۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہے کہ حتمی مسودے کے بعد امریکا انٹیلی جنس کے طور امریکی فوجیوں کو افغانستان میں لازماََ رکھے گا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے لئے نامزد کردہ جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ” افغانستان سے امریکی فوج کا فوری انخلا اسٹریٹجک غلطی ہوگی”۔’اگر میں چیئرمین بنتا ہوں تو میں امریکا اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات برقرار رکھنا چاہوں گا جبکہ ہم پاکستان پر دبائو ڈالیں گے کہ وہ امریکا کی گزارشات پر عمل کرے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے سیکیورٹی معاونت معطل کردی ہیں اور دفاعی مذاکرات روکے ہوئے ہیں مگر ہمیں اپنے مشترکہ مفادات پر فوجی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے’۔ سینیٹ پینل نے انہیں افغانستان، پاکستان اور عراق کے حساس معاملات پر تحریری سوالنامہ ارسال کیا تھا جس کے جواب میں انہوں نے پاکستان سے دفاعی تعلقات کی ضرورت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اسلام آباد کا افغانستان میں امن و استحکام میں اہم کردار ہے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی اہم ضرورت ہے۔کمیٹی نے سوال کیا کہ ‘آپ اس عہدے پر پاکستان سے امریکا کے تعلقات، بالخصوص فوج سے فوج کے تعلقات اور عالمی سطح پر فوجی تربیت کے حوالے سے کیا تجاویز دیں گے’۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا ‘ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی پاکستان کو امریکی مفادات حاصل کرنے میں اہم شراکت دار بتاتی ہے، اس کے علاوہ اس میں افغانستان میں القاعدہ اور داعشـخراساں کو شکست دینے کے لیے امریکی فوج کو ساز و سامان فراہم کرنا اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے حوالے سے سیاسی معاہدے شامل ہیں’۔

وزیر اعظم عمران خان اپنے دورے کے دوران کس ایجنڈے پر بات کریں گے ۔ اس حوالے سے صورتحال کافی واضح ہے کہ امریکی صدر افغانستان میں امریکی فوج کے انخلا اور پاکستان کی سرزمین پر کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کو زیر بحث لائیں گے ۔دیگر ضمنی معاملات میں ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے ذرائع کے مطابق کوئی بات ممکن نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق خاص طور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے حکومت فی الوقت امریکی صدر سے بات نہیں کرنا چاہتی ۔ واضح رہے کہ عمران خان اپنے انتخابی منشور میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے قوم سے وعدہ کرچکے ہیں لیکن ذرایع کے مطابق حالیہ دورہ امریکا میں پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام یا وزیر خارجہ کی جانب سے ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی کہ عمران خان کے پہلے دورے میں عافیہ رہائی پر کوئی بات کی جائے گی ۔ بنیادی طور امریکا دورہ کالعدم تنظیموں ، منی لانڈرنگ اور افغان امن حل تنازع کا احاطہ کرے گا۔پاکستان کی جانب سے پاک۔بھارت تعلقات بھی زیر بحث آئیں گے کیونکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کا دیرینہ مطالبہ بھارت کا ہے اور امریکا بھارتی ایما پر ہی کشمیر کی آزادی کے لئے مزاحمتی تنظیموں کی اخلاقی حمایت ختم کرنے کے لئے پاکستان پر دبائو بڑھاتا رہا ہے۔ امریکی دورے سے قبل اس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سی ٹی ڈی پنجاب نے حافظ سعید کو گرفتار کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے جوڈیشنل ڈیمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ۔

عدالت کی طرف سے سی ٹی ڈی کو تحقیقات مکمل کرکے چارج شیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔پاکستان میں کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید احمد کے خلاف محکمہ انسداد دہشتگری پنجاب نے رواں ماہ 3 جولائی سے تخریب کاری میں مالی معاونت کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا ۔2012کو امریکا کی جانب سے جماعت الدعوہ اور حافظ سعید احمدکو دہشت گرد کی عالمی فہرست میں شامل کئے جانے کے بعد پاکستان نے فلاح انسانیت کے ادارے سمیت کالعدم جماعت الدعوہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے اثاثے ضبط کرلئے تھے ۔ بھارت حافظ سعید کو ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ کالعدم جماعت الدعوہ کے خلاف کاروائی کرے ۔ پاکستان میں ممبئی حملوں کے بارے میں درج کیس میں حافظ سعید ملزم نامزد نہیں رہے تاہم اس کے باوجود پاکستان نے کئی بار حافظ سعید احمد کو گرفتار کیا لیکن بھارت کوئی ثبوت فراہم میں ناکام رہا ۔ جس کے بعد انہیں رہا کردیا جاتا ۔ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں حافظ سعید کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت تخریب کاری کے لئے مالی معاونت کے الزام پر مقدمے بنائے گئے ۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق حافظ سعید مقامی عدالت سے ضمانت کروانے گجرانوالہ آرہے تھے کہ انہیں پکڑ لیا گیا۔

حافظ سعید کی گرفتاری کو بعض حلقے عمران خان کے دورہ امریکا سے قبل صدر ٹرمپ کی خوشنودی کی خوشش قرار دے رہے ہیں ۔ جب کہ دوسری جانب ایف ٹی ایف اے کی جانب سے پاکستان پر عالمی دبائو کو کم کرنے کے لئے کاروائی بھی قرار دی جا رہی ہے کہ اس سے پاکستان دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لنڈرنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرانے کے موقف کو اپناسکے گا تاکہ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں داخل نہ ہوسکے ۔ تاہم وزیر اعظم کے دورہ امریکا سے قبل اس اہم کاروائی پر صدر ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ” 10 سال کی تلاش کے بعد ممبئی حملوں کے نام نہاد ماسٹر مائنڈ کو پاکستان میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری 10 سال کی تلاش کے بعدعمل میں آئی، ان کی تلاش کیلئے 2 برسوں سے دباؤ ڈالا جارہا تھا”۔

22 جولائی کو طے شدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات دونوں رہنماؤں کی پہلی باضابطہ ملاقات ہو گی۔ جس میں پاکستان کی جانب سے یہی کوشش ہوگی کہ امریکی صدر کو افغانستان میں قیام امن کے لئے دی جانے والی قربانیوں اور پاکستان کو درپیش مشکلات کے حوالے بد اعتمادی کی فضا کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ کیونکہ امریکہ کا مفاد بنیادی طور پر افغانستان کے ارد گرد گھومتا ہے۔پاکستان کی دفاعی امداد کو امریکا مختلف جانبدارنہ و یکطرفہ کاروائی کے سبب روک چکا ہے ۔ ان حالات میں امریکا ، پاکستان کو صرف اسی صورت میں کوئی یقین دہانی کراسکتا ہے جب وہ اپنے مطالبات کے حوالے سے مطمئن ہو۔ لہذا ان حالات میں امریکا کی جانب سے پاکستان کی دفاعی ضروریات کے حوالے سے دفاعی جنگی سازو سامان کی فراہمی یا معاہدے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ گو کہ امریکی منفی رویئے کی سبب پاکستان کا روس، چین کی جانب بڑھتا جا رہا ہے ، اس لئے امریکا ، چین کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنے میں سی پیک( ون روڈ ون بیلٹ ) کے حوالے سے پاکستان پر دبائو بڑھانے کی کوشش ضرور کرے گا ۔

نیز خطے میں ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کے سبب ایران کی حکومت کی جانب سے غیر جانب دارانہ حمایت پر امریکا رویہ پاکستان کے ساتھ سرد ہی رہنے کی توقع ہے۔پاکستان خطے کو جنگ کے مضر اثرات سے پاک کرنے او ر امن کو پائدار بنیادوں میں استوار کرنے کے لئے جہاںایک طرف افغانستان سے تعلقات کو بہتر بنانے اور غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب بھارت کے ساتھ مذاکرات اور تصفیہ معاملات کے حوالے سے بھی سنجیدہ کردار ادا کررہا ہے۔ خاص طور پر کرتار پور راہدری کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو عالمی برادری نے سراہا ہے اور امریکا نے بھی پاک ۔ بھارت کے درمیان کرتار پور راہدری کے منصوبے کا خیر مقد م کیا ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا ہے کہ” پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع ہونے والا کرتار پور راہداری کا منصوبہ خوش آئند ہے۔یہ واقعی بہت اچھی خبر ہے۔ ہم اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جو چیز بھی پاکستان اور بھارت کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔”واضح رہے کہ کرتار پور منصوبے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں ملکوں کی کوشش ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک اس راہداری کو کھول دیں۔ بیشتر سکھ یاتریوں کو کرتار پور میں واقع گورودوارہ تک رسائی نہیں دی جاتی۔رواں برس 23 نومبر کو سکھوں کے مذہبی پیشوا گُرو نانک کا 550 واں یومِ پیدائش منایا جائے گا۔ پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ گُرو نانک کے یومِ پیدائش سے قبل کرتار پور راہداری کے معاملات طے پا جائیں تاکہ اس مذہبی تہوار پر بھارت سے سکھ یاتری کرتار پور آ سکیں۔

وزیر اعظم کا دورہ امریکا سے دونوں رہنمائوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے و موقف کو جاننے کا موقع ملے گا ۔ امریکی صدر و پاکستانی وزیر اعظم کو ہم مزاج بھی کہا جاتا ہے اس لئے سیاسی پنڈتوں کے مطابق عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اچھی قربت پیدا ہونے کے امکانات کو بھی ظاہر کیا جارہا ہے ۔ واضح طور پر صدر ٹرمپ امریکی مفادات کے پیش نظر پاکستان کے لئے ایک مثبت رویئے کا اظہار کریں گے ۔ پاکستان بھارت ، افغانستان اور ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے تحفظات کو دور کرنے کے علاوہ پاکستان کو درپیش مشکلات کے حوالے سے نئے اسٹریجک تعلقات کا خواہاں ہوگا ۔ 2020کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ امریکی عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے یقینی طور پر ایسے فیصلوں کو فوقیت دیں گے جس سے انہیں آیندہ انتخابات میں درپیش مشکلات سے چھٹکارا پانے میں مدد ملے۔ کیونکہ انتخابات سے قبل ہی صدر ٹرمپ اپنے متنازعہ بیانات کے وجہ سے عوامی مقبولیت تیزی سے کھوتے جارہے ہیں خاص طور پر نسل پرستانہ بیان اورغیر ملکی نژاد خواتین کے خلاف سخت بیانات پر صدر ٹرمپ الجھتے جارہے ہیں ۔پاکستان ان حالات میں صدر ٹرمپ سے دفاعی و تجارتی تعلقات کی بحالی کی صورت میں صدر ٹرمپ کی کئی دیرینہ خواہشات کو پورا کرنے میں مدد گار ہوسکتا ہے۔دیکھنا ہوگا کہ کچھ لو کچھ دو کی پالیسی کا تسلسل بحال ہوتا ہے یا نہیں۔

 Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
america policy President Trump Prime Minister Qadir Khan Yousafzai visit امریکا پالیسی دورہ صدر ٹرمپ وزیر اعظم
Elections
Previous Post قبائلی اضلاع میں صوبائی انتخابات، آزاد امیدوار 7، تحریک انصاف 5 نشستوں پر آگے
Next Post محکمہ قانون و پارلیمانی امور کی آسامیاں اور طریقہ کار
Law

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close