Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نجی تعلیمی ادارے۔۔ لٹیرے؟ مافیا؟ یا ناسور

August 12, 2015August 12, 2015 0 1 min read
Education
Education
Education

تحریر: شہزاد حسین بھٹی
کسی بھی ملک و معاشرے میں تعلیم کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے تعلیم معاشرے میں موجود بگاڑ کو ختم کرنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتی ہے تعلیم انسان کو عقل و شعور کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی میں ہونے والے تغیر و تبدل میں اہم کردار ادا کرتی ہے تعلیم انسانی زندگی کا وہ واحد جزو ہے جس سے سیکھنے کا عمل ماں کی گود سے لے کر قبر میں جانے تک جاری رہتا ہے۔ علم کا حصول ہر مرد و عورت کے لیے ضروری ہے کوئی بھی معاشرہ جب ترقی کی منازل کو طے کرتا ہے تو وہ معاشرہ صرف اور صرف تعلیم کی بنا پر ہی ترقی پاتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی ۖ کا فرمان ہے کہ” علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے” علم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس حدیث سے لگا سکتے ہیں۔ ذرا تصور کریں آ ج سے چودہ سو سال قبل سرزمین حجاز سے چین تک کا سفر کیسے طے ہوتا ہو گا۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 – A حکومت پر لازم کرتا ہے کہ وہ 5سے 16 سال تک کے بچوں کو مفت معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے لیکن بدقسمی سے ہمارے ہا ں حکومیتںجیسے دیگر عوامی مسائل سے بے اعتناعی برتی رہیں، تعلیم کا حا ل بھی ویسا ہی ہے۔حالانکہ دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر حکومت اور والدین کی طرف سے خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور قومی بجٹ میں اس شعبہ کے لیے خصوصی فنڈز بھی رکھے جاتے ہیں۔ حال ہی میںایک رپورٹ کے مطابق کوریا کے گھروں کے مجموعی بجٹ کا 70فیصد بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔پاکستان میں 4 کروڑ سے زائد بچے، بچیاں سکولوں اوریونیورسٹیوں میں ہر سال پڑھتے ہیں اور ان کی بڑی اکثریت پنجاب ہی سے تعلق رکھتی ہے۔ 2011ـ12 کے اعدادوشمار کے مطابق2 کروڑ سے زائد بچے پرائمری میں پڑھتے ہیں اور وہاں نجی تعلیم کا تناسب محض 22 فی صد ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں نجی تعلیمی اداروں میں پڑھنے والوں کا تناسب ضرور زیادہ ہے مگر اسے پورے پاکستان پر لاگو کرنا حقیقت حال سے کنی کترانے کے مترادف ہے۔

پاکستان میں نجی تعلیم کب ، کیوں شروع ہوئی اگر آپ کی اس پر نظر ہوگی تو تعلیم پر ”سیاست کی گرفت” بارے سمجھنے میں آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں نجی سکول وغیرہ کراچی اور مشرقی بنگال ہی میں بننے شروع ہوئے تھے مگر دونوں جگہ ”نیت کی خرابی” کا عمل دخل زیادہ اور تعلیمی خدمات کی بصیرت کم تھی۔ مشرقی بنگال کے ہندوؤں نے اس لیے الگ تعلیمی اداروں کو پروان چڑھایا کیونکہ وہ اپنے بچوں کو ”حکومت پاکستان کے اثرات” سے محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ طلبا کے مسائل بارے 1966ء کی چھپی حمودالرحمن رپورٹ میں اس بارے تفصیلات موجود ہیں۔ کراچی میں مسئلہ زیادہ ٹیڑھا تھا کہ عارضی دارالحکومت بننے سے قبل کراچی تو صوبہ سندھ کا مرکز تھا اور یہاں برٹش انڈیا کے دور سے سندھی زبان سکولوں میں بطور ذریعہ تعلیم رائج تھی۔”سندھی زبان سے بچنے” کے لیے 1947ء کے بعد سکھر سے کراچی تک مہاجرین کو نجی تعلیمی ادارے بنانے پر اْکسایا گیا۔ چند سالوں ہی میں اس کا نتیجہ سامنے آگیا اور 1950ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں ہی میں اہل کراچی نجی سکولوں اور کالجوں کے مافیا کے خلاف سڑکوں پر آگئے۔ ”چارونا چار” حکومت نے کراچی کے نجی سکولوں وغیرہ کی 50 فی صد فیسوں کا بوجھ خود اٹھایا تو جاکر کہیں معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ حکومت نے رقم تو دے ڈالی مگر نجی سکولوں کے حوالہ سے قوانین سازی نہیں کی۔ تحریک چلانے والے بھی اس ویڑن سے عاری تھے کہ ”نجی تعلیمی مافیا” سے کیونکر نمٹا جائے۔

سکولوں کی تعلیم کے حوالہ سے دوسری آفت کا ظہور ایوبی دور میں ہوا۔ بلدیاتی انتخابات کروانے اور اختیارات کو نچلی سطح پر دینے کے دعویدار ایوب خان کے دور ہی میں سکولوں کو چلانے کا اختیار صوبوں کو دے دیا گیا جبکہ نصاب کی تیاری پر مرکز نے قبضہ جما لیا تھا۔ 1962ء میں ٹیکسٹ بک بورڈ بنائے گئے تو 1966ء میں قدرت اللہ شہاب جیسے مرکزی ادارہ نصابیات کے کرتا دھرتا بن بیٹھے۔ 1971ء تک بالعموم یہی بندوبست چلتا رہا البتہ ملک کے دیگر حصوں میں بہت سی تعلیمی انجمنیں بھی کام کر رہی تھیں جو انگریز دور سے اپنے سکول کھولے ہوئے تھیں۔ ان تعلیمی انجمنوں کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی اولین مثالیں کہا جاسکتا ہے۔1972ء میں ماسوائے مدارس تمام سکولوں کو قومی تحویل میں لے لیا تو نجی تعلیم نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ مگر پھر 1979ء کی تعلیمی پالیسی میں ضیاالحق نے بغیر قانون سازی کیے نجی سکول کھولنے کی حوصلہ افزائی شروع کر دی۔ اس میں بھی ”نیت کی خرابی” تھی کہ ضیاالحق نے محض ”بغض بھٹو” میں نجی تعلیم کے ”جن” کو بوتل سے باہر نکالا تھا۔ اگر ضیا الحق واقعی تعلیمی ویژن رکھتا تو اسے سب سے پہلے انہیں تعلیمی انجمنوں سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔

Private Schools
Private Schools

اصلاحات کے بعد انہی انجمنوں کو سکول سازی میں حصہ دار بنایا جاتا تو مسئلہ اس قدر ٹیڑھا نہ ہوتا۔موجودہ اعداد وشمار اور نجی تعلیمی سلسلہ کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی آج ہم اس مسئلہ سے نمٹنے کا سامان کر سکتے ہیں۔ 2009ء کی تعلیمی پالیسی میں بجاطور پر یہ اقرار موجود ہے کہ سرکاری اور نجی تعلیم میں فرق کی وجہ سے پاکستانی معاشرے پر انتہائی مہلک سماجی اثرات پڑ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس کا یہ مطلب نکالتے ہیں کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو ”یکساں” کرنے کے لیے سب ہی کو پرائیویٹ تحویل میں دے دیا جائے۔ اس مہم پر دھیرے دھیرے کام ہو رہا ہے۔پنجاب اور سندھ میں نجی شعبہ یا این جی اوز (NGO’s) کو 1990ء کی دہائی سے سرکاری سکولوں کی مینجمنٹ میں حصہ دار بنانے کا آغاز ہوا تھا۔ اس سکیم سے تاحال کیا فائدہ ہوا ہے؟ تعلیمی معیار میں کیا بہتری آئی ہے؟ اس ضمن میں کوئی آزاد تحقیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ ایک ایسی صورتحال میں جہاں نجی شعبہ مادرپدر آزاد ہو اور بدنیتی پر اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو، وہاں ایسا نجی شعبہ سرکاری،تعلیمی اداروں کو کیسے راہ راست پر لاسکتا ہے؟ یہ ہے وہ سوال جو آج ہر کسی کو تنگ کر رہا ہے۔ 1990ء دہائی سے حکومتیں تعلیم سے منسلک نجی شعبہ کو بہت سی رعائتیں دے رہی ہیں مگر تاحال ان کے لیے قوانین بنانے سے قاصر ہیں۔

تعلیم کے موضوع پرایک سیمینار میں ڈاکٹر فیصل باری نے جو اعداد وشمار دیے ان میں یہ حقائق بھی شامل تھے کہ جن نجی سکولوں کو ایجوکیشن فاؤنڈیشن وغیرہ کے تحت مدد دی ہے اس سے نسبتاً بہتر نتائج نکلے ہیں۔انگریزی اور حساب کے مضامین میں بچوں کے سیکھنے کا تناسب بڑھا ہے جبکہ اْردو کے مضمون میں صورتحال بدستور مخدوش ہی ہے۔ یہ تناسب سرکاری سکولوں اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی مدد سے چلنے والے نجی سکولوں کا ہے۔ اسے بھی ”اندھوں میں کانا راجہ” ہی سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔محض سرکاری سکولوں سے موازنہ کرنے سے یہ بات ثابت نہیں کی جاسکتی کہ نجی شعبہ کی شمولیت سے سکولوں میں تعلیمی صورتحال بہتر ہوتی ہے۔ سرکاری سکولوں کے حالات تو مخدوش ہی ہیں تو پھر موازانہ کے لیے آپ کو الگ سے ”کم از کم تعلیمی معیارات” کا پیمانہ بنانا ہوگا۔ پھر ان معیارات سے آپ سرکاری و دیگر اداروں کا موازنہ کریں۔ نجی شعبہ کو 1992ء کی تعلیمی پالیسی کے بعد تواتر سے جو مراعات دی جارہی ہی ان بارے بھی چارٹ بنائیں۔ مشرف دور میں پاکستان ریلوے کے سکولوں کو نجی شعبہ کو دینے کی پالیسی کے تحت بیکن ہاؤس والوں کو یہ سکول دیے گئے تھے۔ وہ تجربہ کیوں ناکام ہوا؟ نیت کی خرابی اس معاہدہ کے اندر ہی تھی یا پھر نجی شعبہ کی نظریں ریلوے کے سکولوں کی زمینوں پر تھیں؟ 1980ء کی دہائی سے بالعموم ہمارے ہاں تعلیم سے وابستہ نجی شعبہ کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں انہیں سامنے رکھے بغیر ہم یہ نہیں جان سکتے کہ سرکاری تعلیمی ادارے لینے کے ضمن میں نجی شعبہ کی نیت کیا ہے؟یوں لگتا ہے کہ نجی شعبہ، مخصوص این جی اوز (NGO’s)، بین الاقوامی امدادی ادارے، کاروباری حضرات اور حکومت ہر کسی کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ میں دلچسپی کی وجہ تعلیمی نظام میں بہتری کی بجائے کچھ اور ہے۔ سرکار ”تعلیمی بوجھ” سے جان چھڑانا چاہتی ہے؟ نجی شعبہ کی نظریں سکولوں کی زمینوں پر ہیں؟ بین الاقوامی کھلاڑی تو یہ ثابت کرنے میں پیش پیش ہیں کہ پاکستان کے ہر مسئلہ کا حل ”نجی کاری” میں پنہاں ہے۔
ہمارے ملک عظیم میں علم کے نام پر پیسہ بٹورنے والے ادارے جنہوں نے تعلیمی ڈھانچے کو انتہائی تباہ کن حالات تک پہنچا دیا ہے کچھ عرصہ سے تعلیم کے نام پر ایک کاروبار شروع کر دیا گیا ہے جس کو ہم پرائیویٹ سکولوں کا نام دیتے ہیں ان میں سے اکثریت نے ایک مافیا کا روپ دھار لیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اپنے بچے تو ایلیٹ کلاس کے سکولوں میں پڑھتے ہیں اور یہ خود دوسروں کے بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی چال میں مگن ہیں اس مافیا نے ہزاروں روشن دیے بجھا دئیے ہیں ان کو پوچھنے والا ہی کوئی نہیں آج تک ان لوگوں کا احتساب کرنے کے لیے کسی ادارے کے قیام کو عمل میں نہیں لایا گیا یہ لوگ عوام سے ان کے منہ میں ڈالا ہوا نوالہ بھی چھیننے کو تیار ہیں۔

ان پرائیویٹ سکولوں کی حالت یہ ہے کہ یہ کم تنخواہ پر نالائق اساتذہ بھرتی کرتے ہیں جو بچوں کے بنیادی تصورات کو اچھی طرح سمجھا نہیں پاتے جس کی وجہ سے بچے امتحانات میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ان حالات میں اپنے سکولوں کی ناکامی کو منظر عام پر آنے سے بچانے کے لیے یہ ناکام ہونے والے طلباء کو مختلف حیلوں بہانوں سے تنگ کر کے اپنے سکولوں سے فارغ کر دیتے ہیں تاکہ ان کا نتیجہ اچھا رہے نیز یہ دوسرے سکولوں میں اچھے نمبروں سے پاس طلباء کو مفت تعلیم اور دیگر سہولیات کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے سکول کے معیار کو بہتر پیش کر سکیں اور طلباء کے والدین سے منہ مانگی فیسیں وصول کر سکیں۔ تعلیم کے نام پر ایک ایسا زرق برق کاروبار شروع ہو گیا ہے کہ ہر سکول اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر ثابت کرنے کے لیے مارکیٹینگ کر رہا ہے اور اس دوڑ میں تعلیم برائے مشن کے دعویدار کئی سکولوں کی چینیں شامل ہو گئی ہیں۔ حتکہ “آرمی پبلک سکولز” بھی کسی سے پیچھے نہیںرہے۔اونچی دکان پھیکا پکوان کے مصداق بھاری فیسیں وصول کی جارہی ہیں حتکہ سی سی ٹی وی کیمروں، خار دار تار، اضافی سیکورٹی اور دیگر متفرق اخراجات بھی طلبا کے والدین سے وصول کیے جاتے ہیں اور حال یہ ہے کہ شام کو اکیڈمیز کے بغیر بچے پاس نہیں ہو سکتے۔

ایک کہاوت ہے کہ” چار پاکستانی تبی ایک جانب اکھٹے چل سکتے ہیں، بشرطیکہ پانچواں چارپائی پر ہو” یہی حال پاکستانی سکولوں کے نصاب کا ہے۔ فیڈرل کا نصاب الگ، صوبوں کا نصاب الگ، سکولوں کا نصاب الگ ، کسی بک شاپ پر جائیں تو وہ پہلے پوچھتے ہیں کس سکول کا نصاب چاہیے؟ ان حالات میں طلباء اور انکے والدین چکرا کر رہ گئے ہیں۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی نجی تعلیمی اداروں میں طلباء کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے سستی تعلیم اور پُرکشش وظائف کی پیشکشو ں کا مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ شہروں اوردیہاتوں میں بڑے بڑے بینرز اور ہورڈنگز آویزاں کر دی جاتی ہیں اور اخبارات میں پوزیشن لینے والے بچوں کی تصاویر لگا کرطلباء کی قابلیت کو بھی بیچا جاتا ہے۔ اساتذہ طالبعلموں میں گوہر نایاب ڈھونڈنے کے بجائے فارمی مرغیوں کی طرح سکولوں اور ٹیوشن سینڑوں میں برائلر طالب علم تیار کررہے ہیں جو رٹے لگا کر زیادہ سے زیادی نمبر تو حاصل کر لیتے ہیں مگر ان میںعلمیت اورقابلیت نام کی چیزنہیں ہوتی۔ اور اس طرز تعلیم نے سب سے زیادہ تعلیم اور ہماری نوجوان نسل کو تباہ کیا ہے۔ کب وہ دور آئے گا جب تمام ملک کے سکولوں میں ایک جیسا نظام تعلیم رائج ہو گا جہاں امیر اور غریب کا بچہ ایک جیسی کتابیں پڑھ کر ایک قابل فخر شہری بن سکے گا؟

Shahzad Hussain Bhatti
Shahzad Hussain Bhatti

تحریر: شہزاد حسین بھٹی

Share this:
Tags:
character mafia private educational institutions robbers Society تعلیم کردار لٹیرے مافیا معاشرے
Breath
Previous Post ایسی7 بیماریاں جن کا پتا سانس کی بو سے چل سکتا ہے
Next Post جذبہ جہاد اور ضرب عضب
Zarb e Azb

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close