Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

گرجا گھروں پر حملے اور دستور ہند کی ضمانتیں

February 9, 2015 0 1 min read
Attacks On Churches
Attacks On Churches
Attacks On Churches

تحریر:محمد آصف اقبال، نئی دہلی
گرچہ ملک میں رہنے افراد کے درمیان فکر و نظر اور مذہب و تمدن کے اختلافات پائے جاتے ہیں اس کے باوجود ملک کی ترقی و تنزلی میں تمام ہی افراد و گروہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔دوسری جانب ملک میں امن و امان قائم ہے یا نہیں؟ملک کی ہمہ جہت ترقی ہو رہی ہے یا مخصوص افراد و گروہ ترقی کے منازل طے کر رہے ہیں؟مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان معاملات خوشگوار ہیں یا وہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے؟ملک کا عمومی جائزہ لیتے ہوئے اگر ان جیسے مسائل پر روشنی ڈالی جائے، تو دیکھنا چاہیے کہ مخصوص ملک کی اقلیتیں کن حالات سے دوچار ہیں۔اس پس منظر میں جب ہم ملک عزیز ہندوستان کا جائزہ لیتے ہیں، تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اقلیتیںمختلف سطح پر مسائل میں گھری ہوئی ہیں۔

اُنہیں مسائل میں ایک اہم مسئلہ حالیہ دنوں عیسائی برادری کی عبادت گاہوں پر حملوں کا ہے۔ان حملوں میں گزشتہ دنوں کچھ زیادہ ہی شدت اس وقت پائی گئی،جبکہ ایک مخصوص فکر سے وابستہ افراد نے 2021 تک ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا بیان دے ڈالا۔اس کے باوجود سوال برقرار ہے کہ حالیہ چند ماہ میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ کیوں ہوا؟کیااس کا تعلق مخصوص فکر سے وابستہ افرادہی سے ہے؟یا یہ ایک عمومی اور وقتی معاملہ ہے

جوگزشتہ دنوں بھی سامنے آیاہے؟وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں،لیکن یہ بات بطور شہادت موجود ہے کہ جب سے ملک کو 2021تک ہندوراشٹر بنانے کی بات کہی گئی،تب ہی سے ان حملوں یا حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔جو نہ صرف ملک کے شہریوں بلکہ ملک سے باہر رہنے والے ہندوستانی NRIsکے لیے بھی تکلیف دہ اورقابل تشویش بات ہے۔حالیہ دنوں دارالحکومت دہلی میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر ہوئے حملے کے خلاف بڑے پیمانے احتجاج بھی ہوئے ہیں،وہاں موجود لوگوں کے کیا احساسات تھے ؟اور وہ کن خدشات کا شکار تھے؟آئیے اس پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں۔

“میں بہت پریشان ہوں اور مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے”۔یہ الفاظ سینتالیس سالہ عیسائی خاتون لینی کروبلا کے ہیں۔انھوں نے ہاتھ میں ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا’مجھے ایک ہندوستانی عیسائی ہونے پر فخر ہے۔’لینی اُن سینکڑوں عیسائی افراد میں شامل تھیں جو دہلی میں حالیہ کئی عیسائی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔لینی نے اس سے پہلے کبھی کسی مظاہرے میں حصہ نہیں لیا ۔ لیکن اس بار وہ کہتی ہیں کہ انہیں سلامتی کے خدشات کے سبب احتجاج کے لیے باہر آنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

اپنے خدا کی عبادت کرنا میرا بنیادی حق ہے لیکن اس کا تحفظ حاصل نہیں ہے”۔لینی کے ساتھ پر امن احتجاج میں ایک اور خاتون سینسی بھی شامل ہیں۔وہ کہتی ہیں”اب ہم آزادی کے ساتھ عبادت نہیں کر سکتے۔ ہماری عبادت پر بھی اب سیاست کی جا رہی ہے”۔دہلی اور ملک کی کئی دیگر ریاستوں میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے سے عیسائیوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔گذشتہ دنوں دہلی کے جنوبی علاقے وسنت کنج میں واقع سینٹ ایلفونسا چرچ میں تخریب کاری کے بعد عیسائیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ دو مہینے کے دوران دہلی میں یہ پانچواں چرچ تھا جس میں پراسرار طریقے سے رات میں توڑ پھوڑ کی گئی۔چند ہفتے قبل شہر کے دلشاد گارڈن میں ایک بڑا چرچ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔

پولیس آج تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔وسنت کنج کے چرچ میں تخریب کاروں نے چرچ کے تبرکات اور عبادت کے ساز وسامان زمین پر پھینک دیے تھے اور پیسے اور کئی قیمتی اشیا کو ہاتھ نہیں لگایا گیا تھا لیکن پولیس کا کہنا ہے یہ چوری کا معاملہ ہے۔عیسائی برادری کو شک ہے کہ عبادت گاہوں پر حملے میں سخت گیر ہندو تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ہندوستان میںفی الوقت عیسائیوں کی آبادی تقریباً تین فیصد ہے۔اور ان تین فیصد افراد کو صرف گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں پر ہی تشویش نہیں ہے بلکہ بہار میں ہونے والے حالیہ جبری تبدیلی مذہب واقعے سے بھی وہ گھبرائے ہوئے ہیں۔بہار میں تقریباً 40 عیسائی خاندانوں کو ‘گھر واپسی’ کے نام پر دوبارہ ہندو بنایا گیاہے۔ جس کے نتیجہ میں عیسائی مزید خوف سے دوچار ہیں۔

حقوق انسانی کے قومی کمیشن نے وزارتِ داخلہ سے کہا ہے کہ وہ دارالحکومت کے گرجا گھروں میں رونما ہونے والے حادثات کی تحقیقات کرائے۔وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ان واقعات میں کوئی گرفتاری کیوں نہیں ہو رہی ہے۔دوسری طرف دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی نے یقین دلایا کہ پولیس کسی طرح کی جانبداری سے کام نہیں لے رہی ہے،اور جلد ہی تحقیقات کے بعد شرارتی عناصر کو گرفت میں لے گی۔برخلاف اس کے عیسائیوں کے ایک ترجمان نے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی حکومت ایک چھوٹی سی مذہبی اقلیت کے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتی تو وہ پورا ملک کیسے چلائیں گے۔

واقعہ کے پس منظر میں باراک اوباما کے بیان پر بھی نظر ڈال لی جائے توکچھ برا نہیں ہے۔وائٹ ہاؤس سے وہ کہتے ہیں کہ “آج اگر مہاتما گاندھی ہوتے تو عدم رواداری کے ان واقعات پر وہ سکتے میں آ جاتے”۔اسی سے ملتا جلتا بیان ہندوستانی دورے کے دوران بھی دے کر گئے تھے۔جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان اُس وقت تک ترقی کرے گا جب تک مذہب کی بنیاد پر ملک نہیں بٹے گا۔لیکن محسوس ہوتا ہے کہ سننے والے ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔

Tears
Tears

واقعات جو حملوں کی شکل میں سامنے آئے، متاثرین کے دکھ درد،احساسات و خدشات اور درمیان میں دیگر باتوں کا تذکرہ صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ سوچنے والے دل و دماغ اپنے دکھ دردکے ساتھ دوسروں کے دکھ درد اور پر یشانیوں میں بھی شامل ہوں۔پھر گلے لگ کر ایک دوسرے کے آنسوں نہ پوچھے جائیں بلکہ دستور ہندمیں موجود اقلیتیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کا آغاز ہونا چاہیے۔یہ ذمہ داری ہندوستان میں موجود اقلیتوں کے اس بڑے گروہ پرعائد ہوتی ہے، جو گرچہ خود بے شمار مسائل سے دوچار ہے، اس کے باوجودوہ دوسروں کے مسائل کو بھینظر انداز نہیں کرتا۔لہذا مسلمانان ہند کو چاہیے کہ وہ دستور ہند کا اس لحاظ سے مطالعہ کریں کہ وہ خود اپنے حقوق و مطالبات منوانے کی پوزیشن میں آجائیں ساتھ ہی وہ دوسروں کو کیا تعاون دے سکتے ہیںاس پر بھی انہیں سوچنا چاہیے۔

اس پس منظر میں دستور ہند کا مطالعہ کرتے ہوئے اقلیتوں کے تعلق سے موٹے طور پر یہ دفعات سامنے آتی ہیں۔دفعہ ٢٥: (١) تمام اشخاص کو آزادیٔ ضمیر، اورآزادی سے مذہب قبول کرنے، اس کی پیروی اور اس کی تبلیغ کا مساوی حق ہے ۔بشرطیکہ امن عامہ، اخلاق عامہ، صحت عامہ اور اس حصہ کی دیگر توضیعات متاثر نہ ہوں۔دفعہ ٢٦: اس شرط کے ساتھ کہ امن عامہ،اور صحت عامہ متاثر نہ ہوں ہر ایک مذہبی فرقے یا اس کے کسی طبقے کو حق ہوگا کہ:(الف) مذہبی اور خیراتی اغراض سے ادارے قائم کرنے اور چلانے کا۔(ب) اپنے مذہبی امور کا انتظام خود کرنے کا ۔دفعہ ٢٧: کسی شخص کو ایسے ٹیکسوں کے ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گاجن کی آمدنی کسی خاص مذہب یا مذہبی فرقہ کی ترقی یا اس کو قائم رکھنے کے مصارف ادا کرنے کیلئے صراحتاً صرف کی جائے۔

دفعہ ٢٨: (١)کسی ایسے تعلیمی ادارے میں جو بالکلیہ مملکتی فنڈ سے چلایاجاتا ہو کوئی مذہبی تعلیم نہیں دی جائے گی۔(٢) فقرہ (١) کے کسی امر کا اطلاق ایسے تعلیمی ادارہ پر نہیں ہوگا جس کا انتظام مملکت کرتی ہو لیکن جو کسی ایسے وقف یا ٹرسٹ کے تحت قائم کیاگیا ہو جو ایسے ادارہ میں مذہبی تعلیم دینا لازم قرار دے۔(٣) کسی ایسے شخص پر جو کسی ایسے تعلیمی ادارہ میں شریک ہو جو مملکت کا مسلمہ ہو یا جس کو مملکتی فنڈ سے امداد ملتی ہو لازم نہ ہوگا کہ کسی ایسی مذہبی تعلیم میں حصہ لے جو ایسے ادارے میں دی جائے یا ایسی مذہبی عبادت میں شریک ہو جو ایسے ادارہ میں یا اس ملحقہ عمارت واراضی میں کی جائے بجز اس کے کہ ایسے شخص نے یا اگر وہ نابالغ ہو تواس کے ولی نے اس کیلئے اپنی رضامندی سے دی ہو۔ثقافتی اور تعلیمی حقوق سے متعلق :دفعہ ٢٩: (١)ہندوستان کے کسی علاقہ میں یا اس کے کسی حصہ میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقہ کو جس کی اپنی الگ جداگانہ زبان، رسم الخط، یا ثقافت ہو اس کو محفوظ رکھنے کاحق ہوگا۔

(٢) کسی شہری کو ایسے تعلیمی ادارہ میں جس کو مملکت چلاتی ہو یا جس کو مملکتی فنڈ سے امداد ملتی ہو داخلہ دینے سے محض مذہب، نسل، ذات، زبان یا ان میں سے کسی بنا پر انکار نہیں کیاجائے گا۔دفعہ ٣٠: تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہب کی بناپر ہوں یا زبان کی اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اوران کاانتظام کرنے کا حق ہوگا۔ (دستور ہند،حصہ ٣ بنیادی حقوق، ص:٤٦ـ٤٧) ان دستوری مستحکم ضمانتوں کے ساتھ دستور ساز اسمبلی میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو اطمینان دلاتے ہوئے سردار ولبھ بھائی پٹیل نے یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ ان کے مفادات کا ان کے اطمینان کی حد تک خیال رکھا جائے گا اور اسے اسٹیٹ ایک مشن یعنی کاز کی حیثیت دے گا۔پس ان ہی دفعات کی موجودگی میں کرنے کا کام یہ کہ اقلیتوں کے تعلق سے دستور ہند میں موجود یقین دہانیوں کو عملی شکل میں نافذ کروانے کے لیے ایک کامن پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے۔سوال پھر اٹھے گا کہ بیڑا کون اٹھائے ؟تو عموماً وہی لوگ بیڑا اٹھاتے ہیں جو تعداد اور مسائل میںہر دو سطح پر پیش پیش ہوں!

Asif Iqbal
Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
guarantees India offensive problem حملے دستور ضمانتیں گرجا گھروں مسئلہ ہند
Mian Mahmood-ur-Rasheed
Previous Post شریف برادران کی جمہو ریت آمر یت سے بدتر ہے :پی ٹی آئی
Next Post وارم اپ میچ، بنگلہ دیش کا پاکستان کو جیت کیلئے 247 کا ہدف
Pakistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close