Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پروفیسر غفور احمد کی کتابوں میں پاکستانی سیاست کی چشم دید کہانی !

August 5, 2020 0 1 min read
Professor Ghafoor Ahmed
Professor Ghafoor Ahmed
Professor Ghafoor Ahmed

تحریر : میر افسر امان

پروفیسر غفور احمد صاحب سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان جوانی ہی میں جماعت اسلامی میں شریک ہوئے اور آخر دم تک جماعت سے ہی وابستہ رہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبر رہے۔ کئی موقعوں پر گرفتارکیے گئے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔جن میں پھر مارشل لا آ گیا،اور الیکشن نہ ہو سکے، جنرل ضیاء الحق کے آخری دس سال، بے نظیر بھٹو کی نامزدگی سے برطرفی تک، نواز شریف کا پہلا دور حکومت ،بے نظیر کا پہلا دور حکومت، بے نظیر کا دوسرا دور حکومت بے نظیر حکومت کا عروج وزوال، پرویز مشرف آرمی ہائوس سے ایوان صدر تک اور نواز شریف اقتدار سے عتاب قابل ذکر ہیں۔ وہ پاکستان اور کراچی کے عوام کی توانا آواز تھے۔انہوں نے سیاست میں شرافت کے چلن کو عام کیا۔جماعتی زندگی میں نظم وضبط درخشاں مثالیں قائم کیں۔ ایم کیو ایم کے عروج کے زمانے کی بات کرتے ہوئے،ا یک سینئر صحافی نے ان کے گھر پہلی دفعہ جانے کا واقعہ بیان کرتے ہو ئے کہا کہ، میرا فون خود رسیو کیا ،دروازے پر خود آئے، جائے خود بنا کر لائے، کوئی سیکرٹیری، خدمت گار، گارڈ، محافظ نہ تھا۔ جبکہ اس شہر کراچی میں لوگ محافظوں اور خدمت گاروں کی فوج رکھتے ہیں۔ بہادر نڈر اور راست باز شخص تھے۔ سادگی کا پیکر تھے۔

پروفیسر غفوار حمد یو ڈی ایف اور پاکستان قومی اتحاد کے سیکر ٹری جرنل رہے۔ ان اتحادوں کی مذاکراتی ٹیموں کے سرکردہ ممبر بھی رہے۔ اتحادوں کی سیاست مفاہمت سے شروع ہوتی ہے۔ پروفیسر غفور احمد کو اس پر عبور حاصل تھا۔ وہ سیاسی رہنمائوں کو ملاتے تھے۔ تمام سیاسی لیڈروں سے ان کی ذاتی تعلقات تھے ۔ محاز آرائی پر آمادہ سیاست دانوںکو ہمیشہ یکجا کرتے۔ پروفیسر غفور احمد نے بزرگ سیاسی رہنمائوں نواب زادہ نصراللہ خان ،مولانا مفتی محمود پیر پگارا اور دوسرے سینئر سیاسی راہنمائوں میںہر دلعزیز تھے۔ وہ آئی جی آئی کے سیکرٹری جرنل تھے۔ ان کا ١٩٧٣ ء کے آئین بنانے میں بہت بڑا کردار تھا۔ ختم نبوت کی تحریک میں پیش پیش تھے۔

ہر سیاسی جماعت اور مکتبہ فکر میں یکساںمقبول تھے۔ایم کیو ایم کے عروج کے دوران جماعت اسلامی برنس روڈ پر جلسہ کیا۔ جلسہ تو جماعت اسلامی کا تھا مگر ایم کیو ایم زور ذبردستی سے برنس روڈ کے درمیان اور فلیٹوں پر دہشت گرد الطاف حسین کی تصویروں اور ایم کیو ایم کے جھنڈوں سے سجا تھا۔ عین اسٹیج کے برابر دہشت گرد الطاف حسین کا بہت بڑا پورٹریٹ سجا دیا۔ ایم کیو ایم کے ترانے بھی بجائے جاتے رہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد اور دو دفعہ کراچی کا میئر رہنے والے عبدلالستار افغانی سمیت جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے ایم کیو ایم کے مظالم کے خلاف سخت تقریریں کیں۔ ہم کارکنوں پر خوف کا عالم طاری تھا۔

ہم لوگ سمجھ رہے کہ اب گولی چلی اور اب گولی چلی۔ ۔ ۔ جب پروفیسرغفور احمدنے تقریر کی تو الطاف حسین کی تصوریر کی طرف اشارہ کر کے کہا الطاف حسین تم برنس روڈ کے بے جان کھمبوں کی طرح ایک کھمبا ہو۔ میں بھی مہاجو ہوں۔تم نے مہاجروں کی فلاح بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ جیسے یہ کھمبے نہیں حرکت نہیں کر سکتے ،ایسے تم نے بھی کوئی حرکت نہیں کی۔ کراچی سے قومی اسمبلی کی ٩ سیٹیں جیتنے کے بعد تمھارے ٩ کھمبوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ اس زمانے میں ایم کیو ایم کے سامنے کراچی میں کوئی سیاسی دینی جماعت نہیں کھڑی تھی۔ صرف جماعت اسلامی نے ا یم کیو ایم کی قومیت اور لسانی کی سیاست کی مذمت کی اور مقابلے پر ڈٹی رہی۔

متحدہ پاکستان کے آخری الیکشن میں مشرقی پاکستان سے مجیب اور مغربی پاکستان سے بھٹو کامیاب ہوئے تھے۔ بھٹو کو چاہیے تھا کہ وہ دوبارہ عوام کے پاس جاتا مگر ان ہی ممبران کی بنیاد پر حکومت کی۔فاشسٹ سوچ کی وجہ سے لوگ بھٹو کے خلاف ہوگئے تھے۔١٩٧٧ء کے انتخابات میں بھٹو نے کھل کر دھاندلی کرائی۔ پاکستان قومی اتحاد بنا۔بھٹو کے خلاف تحریک چلی۔پروفیسر غفور پاکستان قومی اتحاد کے سیکرٹیری کے منصب کی وجہ سے مذاکرات میں شامل تھے۔اپنی کتاب ” نواز شریف کا پہلا دور حکومت” میں لکھتے ہیں کہ پاکستان قومی اتحاد اور بھٹو میں مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے، مگر ضیاء الحق نے مارشل لالگا دیا۔ ضیاء الحق نے دس سال تک حکومت کی۔قوم سے الیکشن کا وعدہ کر کے پورا نہیں کیا۔ اسی دور میں قصوری کے قتل کے الزام میں عدالت نے بھٹو کو پھانسی کی سزا دی۔ ضیاء الحق بہاول پور کے دورے کے دوران ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں شہید ہو گیا۔

پروفیسر غفورلکھتے ہیں کہ نواز شریف نے کہا کہ اسلامی جمہوری اتحاد اقتدار میں آکر اسلام کے اعلیٰ قدروں کا احیاء کرے گا۔٢٤ اکتوبر کو اسلامی نظام کا سورج طلوع ہو گا۔نومبر ١٩٩٠ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کو قومی اسمبلی کی ١٠٦ پی ڈی اے کو ٤٤ نشستیں ملیں۔ووٹو کے لحاظ سے پی ڈی اے کو صرف سوا لاکھ ووٹ کم ملے۔بے نظیر نے الزام لگایا کہ عوام کے ساتھ دھوکا ہواہے۔ نواز شریف اقتدار میں آکر اپنے وعدے سے مکر گئے۔ الٹا شرعی کورٹ کے سود ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کوٹ میں درخواست دی جو آج تک اٹکی ہوئی ہے۔ جب کبھی نواز شریف کو متوجہ کیا جاتا تو فرماتے کہ میں بنیاد پرست نہیں۔ لوگ نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، زکوٰة دیں اور حج کریں اسلام نافذ ہو جائے گا۔ اس دور میں فوج کے تین سپہ سالار

٢
تبدیل ہوئے۔صدر اسحاق خان سے اختلاف پید ا کیے اور صدر نے ١٨ اپریل ١٩٩٣ء کو اسمبلی توڑ کر نواز شریف اور کابینہ کو بر طرف کر دیا۔ عدالت نے نواز شریف کو بحال کر دیا۔نواز شریف نے اپنا رویہ نہیں بدلاآخر کار فوج نے مداخلت کی۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ نے شٹل ڈپلومیسی کر کے دونوں کو رخصت کر دیا۔۔ اپنی کتاب ”وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نامزدگی اور برطرفی تک” میں لکھتے ہیں کہ ملک میں نظام مصطفےٰ میں مقبولیت کی وجہ سے بے نظیر نے بیان دیا کہ وہ اپنے والد کی سوشلسٹ سوچ سے ہمیشہ دو ر رہی۔٨نومبر١٩٨٨ء کے الیکشن میں کامیابی کے بعد ٢ دسمبر ١٩٨٨ء بے نظیر نے حلف اٹھایا۔وہ پاکستان کی پیلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔صدر اسحاق خان سے اختلاف ہوا ۔ صدر نے ٦ اگست ١٩٩٠ء کو اسمبلی توڑ کر بے نظیر کو برطرف کر دیا۔پھر ١٩٩٣ء کے ا لیکشن ہوئے۔ اس میں جماعت اسلامی اسلامک فرنٹ کے نام سے الیکشن میںحصہ لیا۔ اسلامک فرنٹ کو تین سیٹیں ملیں۔پیپلز پارٹی کو ٨٩ مسلم لیگ کو ٧٣ ملیں۔ پیپلز پارٹی کے مقابلہ میں تین لاکھ زائد ووٹ ملے۔ مرکز میںپیپلز پارٹی نے حکومت بنائی۔

فاروق لغاری صاحب کو صدر منتخب کیا۔بے نظیر نے امریکا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بیان دیا کہ ایٹمی پروگرام منجمد رکھیں گی۔ میر مرتضیٰ بھٹو بے نظیر کی مرضی کے خلاف پاکستان آئے۔اسی دور میں گھر کے سامنے قتل کر دیے گئے۔ غنوہ بھٹو نے اس قتل کا الزام زرداری اور بے نظیر پر لگایا۔بے نظیر نے فوج کے خلاف باتیں کیں۔بے نظیر جنرل نصیر اختر کو فوج کا سربراہ بنانے چاہتی تھیں صدر فارق لغاری سنیارٹی کے لحاظ سے جنرل جہانگیر کرامت کے حق میں تھے۔ دونوں میں اختلاف پیدا ہوئے۔ اس دور میں کرپشن عروج پر تھی۔نواز شریف نے بے نظیر کے خلاف سیاسی مہم شروع کی۔صدرلغاری نے کرپشن کے متعلق بے نظیرکو پانچ خطوط لکھے۔ بے نظیر نے کہا لغاری ہمارے بندے ہیں۔ لغاری نے کہا میں اللہ کو بندہ ہو۔ اگر حکومت غلط کام کیے تو عوام کان سے پکڑ کا ناکال دیں گے۔نواز شریف نے صدر سے کہا کہ پیپلز پارٹی کو چلتا کریں۔ قاضی حسین احمد نے پارلیمنٹ کے سامنے پر امن مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں نے کسی کو داخل نہیں ہونے دیں گے۔

سارے راستے سیل کر دیے ۔ مگر قاضی حسین احمد اسلام آباد میں داخل ہو ئے۔٢٤ جون ١٩٩٦ء کو قاضی حسین احمد کی زیرقیادت اسلام آباد میں تاریخ دھرنا دیا اور اپنی تنظیمی طاقت کا لوہا منوایا۔ رولپنڈی میں احتجاج پر جماعت اسلامی کے جلوس پر فائرنگ کی گئی۔ جماعت اسلامی کے دور کاکن شہید اور کئی زخمی ہوئی۔ مگر جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ کامیاب دھرنے کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے دو رکعت نماز شکرانہ ادا کیے۔صدر لغاری نے ٣ نومبر ١٩٩٦ء کو رات دو بجے بے نظیر کی حکومت برطرف کر دی۔ صدارتی ذرایع نے کہا کہ بے نظیر خود کرپشن کی تمام حدود پار کر چکی ہے۔پیپلز پارٹی کے ساتھ فرنڈلی اپوزیش کا کرادر ادا کرنے کے بعدنواز شریف تیری بار ١٩٩٧ء کے الیکشن میں ٹو تھرڈ مجارٹی کے ساتھ اقتدار میں آئے۔ اپنی کتاب” پرویز مشرف آرمی ہائوس سے ایوان صدر تک” میںلکھتے ہیں کہ بھارت پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں ١٩٩٨ء میںچھ ایٹمی دھماکے کروا کر پاکستان کے ہیرو بن گے۔ پرویز مشرف کو فوج کا سربراہ بنایا۔ نواز شریف کی جیسے پہلے فوجی سربراہوں سے ان بن تھی۔ پرویز مشرف سے بھی نہ بن سکی۔

پرویز مشرف نے کارگل کی جنگ چھیڑ دی۔ نواز شریف نے پرویز مشرف کو زبردستی کولمبو میں ایک میٹینگ میں بھیجا ۔ جب پرویز مشرف مشرف واپس ملک آرہے تھے جہاز میں سوار تھے، تو اسی ددران مشرف کو برطرف کر کے جنرل ضیا بٹ صاحب کو فوج کا سربراہ بنا دیا۔فوج نے اسے اپنی انسلٹ سمجھا اور ملک میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔١٢ اکتوبر١٩٩٩ء کو فوج نے ملک میںمار شل لاء لگا کر نواز شریف کا اقدار ختم کر دیا۔ پرویزمشرف نے طیارہ اغوا کا مقدمہ قائم کیا۔٦ اپریل ٢٠٠٠ء کو خصوصی عدالت نے نواز شریف کو عمر قید کی سزا سنائی۔١٤ دسمبر ٢٠٠٠ء کو نواز شریف ایک معاہدے کیا۔ اس کے تحت جس میں دس سال تک سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ ملک بھی نہیں آسکیںگے۔ اپنے خاندان کے ساتھ سعودی عرب چلے گئے۔

پروفیسر غفور احمد لکھتے ہیں کہ١٢مئی٢٠٠٠ء کوبارا رکنی عدالتی بینچ نے ١٢اکتوبر کے اقدام کوریاستی نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین سال کے اندر قومی اور صوبائی الیکشن کرائے جائیں ۔سپریم کورٹ نے پاکستان کے آئین میںمحدود اور مشروت ترمیم کا حق بھی دیا۔وزارت دفاع نے پرویز مشرف کی مدت ملازمت جو ٦ اکتوبر ٢٠٠١ء کوختم ہونے سے قبل غیر معینہ توسیع کر دی۔ پرویز مشرف نے٢٠ جون کو نواز شریف کے لگائے گئے رفیق تاڑ کو صدر کے عہدہ سے سبکدوش کر کے خود صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔٢٠٠٢ء کو ریفرنڈ م کروا کے ملک کے صدر بن گئے۔امریکا نے پرویز مشرف کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ دولت مشترکہ نے رکنیت معطل کر دی۔١١ ستمبر ٢٠٠١ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر اسامہ بن لادن پر الزام لگا کر افغانستان پر حملہ کرنے فیصلہ کیا۔ وزیر خارجہ کولن پاول نے رات گئے پرویز مشرف کوفون پر دھمکی دے کر تعاون طلب کیا۔ پرویز مشرف نے بغیر مشورے کے سارے کے سارے مطالبات مان کر امریکا کو لاجسٹک سپورٹ کے نام پر پاکستان کے ہوائی ،بری اور بحری راستے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ ١٠ اکتوبر ٢٠٠١ء کو امریکا نے ٤٠ ملکوں کے ناٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر پڑوسی مسلمان ملک افغانستان کی امارت اسلامیہ افغانستان پر قبضہ کر کے اسے ختم کر دیا۔دنیا کا سب سے بڑا بم گرا دیا۔ کارپٹ بمباری کی۔ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔جماعت اسلامی، جمعیت علمائ(س) اور جمعیت علمائے پاکستان کے، قاضی حسین احمد، مولانا سمیع اللہ، شاہ احمدنورانی اور عمران خان نے مخالفت کی تھی۔بے نظیر اوراسفند یارولی نے حمایت کی۔امریکا کی کونڈا لیزا رائس نے کہا کہ ہم غالب ہیں ۔اپنے مفادات کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں۔لیکن امریکا تکبر ،فاقہ کش افغانوں نے زمین میں ملا دیا۔ امریکا اور ٤٠ ناٹو اتحادیوں کو ا

٣
فغان طالبان نے شکست دی۔ اب امریکا نے طالبان سے ایک معاہدہ کیاہے کہ وہ افغانستان سے مکمل نکل جائے گا۔ بھارت نے پاکستان کو دھمکی دی کہ وہ پاکستان کی شکل بدل دے گا۔بھارت نے اپنے دس لاکھ فوج پاکستان کی سردوں پر لگا دی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، پھر بھارت پیچھے ہٹ گیا۔ پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ٣١٨ افراد نے ملک کے ٢٠٠سور بلین روپے لوٹ لیے ہیں۔ یہ سب واپس لائیں گے۔ کرپشن کو ختم کرنے کے لیے پرویز مشرف نے ایک احتساب بیورو بنایا۔مگر اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ کرپشن کو کوئی بھی پیسا رواپس نہیں لایا۔پہلے ہی سال مہنگاہی میں٣٠ فی صد اضافہ ہوا۔سپریم کورٹ کے معدود اختیار دینے کو استعمال کر کے ٢٩ ترمیم کے ذریعے صدر کو اسمبلی ٹورنے کا اختیار ، صوبوں میں مرضی کے گورنر لگانے کا اختیار، کلیدی عہدوں پر تقرری کے اختیار،قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرنے ، نگران کابینہ کا اختیار اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کا اختیار حاصل کر لیا۔پرویز مشرف نے اپنی حمایت کے لیے (ق) لیگ بنائی۔ وزیر اعظم کے بجائے اختیارت صدر کے پاس منتقل ہو گئے۔اس کے باجود ١٠ اکتوبر ٢٠٠٢ء کو سیاسی جماعتوں نے الیکشن میںحصہ لیا۔پرویز مشرف صدر اور آرمی چیف تھے۔ قومی اسمبلی میں ایم ایم کے مولانا فضل لالرحمان قائد حذ ب اختلاف بنے۔ مرکزی اقتدار پرویز مشرف کے پاس ہی رہا۔ پنجاب میں ق، سندھ میںپیپلز پارٹی،، سرحد اور بلوچستان میں ایم ایم اے نے حکومتیں بنائیں۔

صاحبو! پاکستان میں سیاست دانوں کی غلطیوں کی وجہ سے چار بار مارشل لاء لگا۔ طاقت ور جمہوریت کی رہ کھوٹی ہوئی۔ پھر بھی جمہوری عمل جاری رہا۔ملک میں کرپشن عام ہے۔موجودہ نیب کی کاردگی بھی صحیح نہیں۔ کرپٹ سیاست دان اپنے اپنے سوشل میڈیا ٹیموں کی وجہ سے پھر ہیرو بن رہے ہیں۔ غریب عوام کی خزانے میں کوئی بھی قابل ذکر پیسا داخل نہیں ہوا۔اس لیے عمران خان حکومت کو صدراتی ایکٹ کے ذریعے کوئی قانون بنانا چاہیے ۔ بار ثبوت کرپٹ لوگوں کی ذمہ ہو۔ آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے والے ہر فرد کو عدالت کی طرف سے چھ ماہ کا وقت دیا جائے کہ وہ خود اپنے اثاثوں کے بارے میں ثبوت پیش کریں۔ ثبوت نہ پیش کرنے کی صورت میں اس شخص کے آمدنی سے زاہد اثاثے ضبط کر کے غریب عوام کے خزانے میں داخل کیے جائیں تو عوام مطمئن ہوں گے۔

عمران خان جو علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان میں مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست کے دستور کے ساتھ الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔ مگر اب ارد گرد کرپٹ سیاست دانوں کی وجہ سے غیر مقبول ہو رہے ہیں۔مہنگاہی روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔ عوام آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ عمران خان بھی اپنے پیش روں کی طرح غیر مقبول ہو رہے ہیں۔جب تک اس ملک میں صحیح اسلام کا نظام حکومت قائم نہیں ہوتا عوام کی حالت نہیں بدلے گی۔ ملک کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔لہٰذا ملک میں وہ ہی پارٹی عوام کے دکھوں کا مداوا کر سکتی ہے جس کی پوری تنظیم کرپشن سے پاک ہے۔اس کے امیر کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی کرپشن سے پاک ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے۔ پروفیر غفور احمد نے بھٹوسے لے کرپرویز مشرف تک ملک کی خرابیوں کی کہانی اپنی ان کتابوں میں بیان کر دی ہے۔ مقتدر حلقے اس کہانی سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔۔مگر تاریخ کا یہ المیا ہے کہ مقتدر حلقے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتے؟ اللہ پاکستان میں کرپشن سے پاک سیاست دانوں کے ذریعے خوشحالی لائے آمین۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
books Jamaat-e-Islami Pakistani politics Prof. Ghafoor Ahmed story پاکستانی سیاست پروفیسر غفور احمد جماعت اسلامی کتابوں کہانی
AJK Legislative Assembly Members
Previous Post خون کے آخری قطرے تک پاکستانی ہیں: ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر
Next Post عالمی برادری کشمیر میں جاری مظالم کا نوٹس لے، سعید راجپوت
Saeed Rajput

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close