Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پیشہ وارانہ اقدار وقت کی اہم ضرورت

September 6, 2017 0 1 min read
Aslam Faroqui
Aslam Faroqui
Aslam Faroqui

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
انسان سماجی حیوان ہے۔قدرت نے اسے کائنات میں موجود اٹھارہ ہزار مخلوقات میں اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ یہ درجہ علم و عقل اور قوت گویائی کے سبب ہے۔ انسان نے ہر زمانے میں بہتر زندگی گزارنے کی کوشش کی ہے اور اچھی قدروں پر عمل کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ انسان اپنی عقل اور اپنے مشاہدے سے سماج میں کچھ باتوں کو اچھا سمجھتا ہے اور کچھ باتوں کو برا۔ وہ برائی ترک کرکے اچھائی کو اپنانا چاہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ وہ جس سماج میں رہتا ہے وہاں دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ اور ایک دوسرے سے اچھا برتائو پیش کریں۔ اچھا برتائو اچھی قدریں کہلاتا ہے۔ قدر کیا ہے۔

انسان جس بات کو اچھا سمجھے وہ اچھی قدر ہے۔ مثال کے طور پر انسان صفائی کو پسند کرتا ہے گندگی کو نا پسند کرتا ہے اس طرح صفائی اچھی قدر ہے اور گندگی بری قدر۔ اسی طرح انسان ایمان داری ‘ ہمدردی’ سچائی’ وفاداری’ ایثار اور قربانی وغیرہ کو بھی اچھی قدریں تصور کرتا ہے۔ کسی بات کو ہم کن بنیادوں پر اچھا کہہ سکتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ کسی سنجیدہ سماج میں مذہب’ سماج ‘ملک کا قانون اور اپنے دوست احباب اور عزیز و اقارب جن باتوں کو اچھا کہہ دیں وہ اچھی قدریں ہیں۔ مذہب لوگوں کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ ملک کا قانون بھی زندگی کے حق کی طمانیت دیتا ہے اسی طرح سنجیدہ سماج بھی کسی کی جان لینے کو برا سمجھتا ہے۔ اس طرح زندہ رہنا اور زندگی کی راہیں ہموار کرنا اچھی قدریں ہیں یہی وجہہ ہے کہ لوگ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور کسی کے وقت پر کام آکر طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ انسان اپنے گھر سے جب باہر کی زندگی میں قدم رکھتا ہے اور کچھ پیشے اختیار کرتا ہے تو اس پیشے سے وابستگی کے دوران بھی اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اچھی قدریں پیش کرے۔ ہماری زندگی میں بے شمار پیشے ہیں اور لوگ چاہتے ہیں کہ ان پیشوں سے وابستہ افراد اچھی قدروں کی پاسداری کریں۔ آئیے دیکھیں کہ مختلف پیشوں میں اقدار کی کیا صورتحال ہے۔

پیشہ تدریس میں اخلاقیات: تدریس ایک معز ز پیشہ ہے۔ اساتذہ کے ہاتھ میں نوجوانوں کی تربیت کی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔ بچے اساتذہ کو اپنے رول ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر استاد غلطی کریں تو ان کے شاگرد بھی وہی غلطیاں کریں گے اور قوم کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔اسی لئے اساتذہ کو پیشہ تدریس سے وابستگی کے دوران اعلٰی اخلاق کا نمونہ پیش کرنا چاہئے اور بچوں کے لئے وہ ایک مثالی استاد بننا چاہئے۔ ملک کے سابق صدر اور دانشور اے پی جے عبدالکلام کا کہنا ہے کہ” اگر ملک کو رشوت سے پاک کرنا ہے اور خوبصورت ذہنوں والا ملک بنانا ہے تو میں شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ یہ کام تین سماجی گروہ کر سکتے ہیں۔ لڑکے کے والد والدہ اور استاد” ۔ سماج کی تعمیر میں اساتذہ اہم رول ادا کرتے ہیں۔

یہ نو نہالوں اور نوجوانوں کو تعلیم و تربیت دیتے ہیں جس کی بنا بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لائق بنتے ہیں۔اساتذہ اپنے طلبا میں تحقیق اور تخلیق کا جذبہ پروان چڑھاتے ہیں۔ ان سب سے زیادہ اساتذہ اپنے طلبا کی شخصیت سازی اور کردار سازی کرتے ہیں۔ ایک طالب علم پر اس کے استاد کے اثر کا اندازہ کرنا مشکل کام ہے۔ عصر حاضر کے تیزی سے بدلتے منظر نامے میں اساتذہ کا کردار بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ دنیا میں تجارتی ذہن بڑھ گیا ہے۔ کوئی بھی کام کے پیچھے مالی منفعت دیکھی جارہی ہے۔تعلیم بھی تجارت ہوگئی ہے اور اسے کسی بازاری شے کی طرح خریدا اور بیچا جارہا ہے۔اسکولاور کالجس محض کوچنگ کے ادارے بن گئے ہیں۔ اور طالب علموں کو مخصوص مضامین میں تفصیلی کوچنگ دی جارہی ہے تاکہ آگے چل کر انہیں اچھے اداروں میں داخلہ مل سکے۔ تعلیم کا مقصد ایک بچے کی ہمہ جہت ترقی ہے۔ لیکن تعلیمی اداروں میںان کی ہمہ جہت ترقی پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ کھیل کود اور اخلاقیات پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تعلیمی ادارے اپنا احتساب کریں اور نوجوانوں میں بگڑتے اخلاق پر قابو پانے کے لئے ہنگامی اقدامات کریں۔اس کے لئے سب سے پہلے اساتذہ کو اپنے مضمون میں قابلیت کے علاوہ اخلاق کے اعلیٰ نمونہ بننا پڑے گا۔ اساتذہ کو حسب ذیل اخلاقی اقدار کا اظہار کرنا پڑے گا۔
١) ایک استاد زندگی بھر کا طالب علم ہوتا ہے۔ اسے کبھی یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اور نہ ہی وہ یہ سوچے کہ وہ اس قدر تجربہ کار ہے کہ بغیر تیار کرے وہ کلاس لے لے گا۔ ایک استادہ کو صرف نوٹس لکھانے کے بجائے اپنے سبق کو بہتر اور دلچسپ بنانے کے لئے نئے نئے طریقے سوچناپڑے گا اور انہیں کمرہ جماعت میں پیش کرنا پڑے گا۔

٢) ایک استادکو اپنے طالب علم کی ضروریات اور جذبات کے احساس رکھناہوگا۔ ہر طالب علم منفرد ہوتا ہے کسی میں خوبیاں ہوتی ہیں تو کسی میں خامیاں۔ ایک اچھا استاد اپنے ہر طالب علم سے بہتر مظاہر حاصل کرلیتا ہے۔
٣) ایک استاد کمرہ جماعت میں کبھی کسی طالب علم کو نالائق’کام چور وغیرہ القاب سے پکارتے ہوئے اس کی توہین نہ کرے۔ اس سے طالب علم کے دل و دماغ پرسنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس سے طالب علم کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں اوروہ اداس اور غمگین ہوکر خودکشی جیسے انتہائی اقدامات بھی کرسکتا ہے۔ ایک استاد کمرہ جماعت میں طلبا کو ایسا انداز سے نہ پکارے جس سے ان کے رنگ ‘قد یا کسی اور جسمانی کمی کا احسا س ہو۔ اس سے طلبا کے ذہنوں پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
٤) ایک استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبا سے مثبت سوچ کے ساتھ کام لیں۔ سزا بھی دیں تو ایسی کہ اس سے ان کی تعلیمی بہتری ہو۔ اگر طالب علم مسلسل غلط کام کر رہا ہے تو اس کے والدین کو طلب کیا جائے اور ان سے اس کے متعلق گفتگو کی جائے۔مارپیٹ کی سزا سے بالکلیہ بچا جائے کیوں کے یہ غیر اخلاقی ہے اور قانون کے خلاف بھی ہے۔ مارپیٹ کے ایسے واقعات سامنے آئے جس سے بچوں کی بینائی متاثر ہوئی ہو اور خون بھی نکلا ہو۔

٥) ایک استاد کو اپنے طلبا کے لئے مثالی ہونا چاہئے۔ اور ایسا ہو کہ طلباء اس کی تقلید کریں۔ مثال کے طور پر ایک استاد اپنے طلبا سے کہتا ہے کہ کمرہ جماعت میں وہ فون نہ لائیں یا بند رکھیں جب کہ خود اس کا فون بار بار بجتا ہے اور وہ پڑھائی روک کر بات کرتا ہے تو وہ کیسے امید کرے گا کہ اس کے طلباء فون نہ لانے کی اس کی بات پر عمل کریں گے۔
٦) ایک استاد کو اپنے طالب علموں کا دوست’رہنما’رہبر اور فلاسفر ہونا چاہئے۔ استاد اور طالب علم کے درمیان رشتہ کلاس روم کے باہر بھی دوستانہ انداز کا قائم رہے۔ طلبا بہت سے شک و شبہات دور کرنا چاہتے ہیں استاد کو چاہئے کہ وہ الگ وقت دے کر کسی طالب علم سے اس کے شک وشبہات دور کرے۔طالب علم نصاب سے متعلق اور اس کی ذاتی زندگی کے کسی مسئلے سے متعلق سوال کرنا چاہتا ہے اگر استاد اسے وقت دے اور اس کے مسئلے پر گفتگو کرے تو طالب علم کے دل میں استاد کی محبت بڑھے گی اور وہ استاد کا ادب و احترام کرتے ہوئے اس کی ہربات مانے گا۔موجودہ دور میں کالج کے طلبا کے پیش نظر کئی مسائل ہوتے ہیں۔ اور انہیں تنائو کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ والدین اور وہ خود اپنے بارے میں پر امید ہوتے ہیں کہ اعلیٰ نشانات سے کامیابی حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ دوستوں کی صحبت’ مخالف جنس کی جانب رغبت اور انٹرنیٹ پر موجود اچھے برے مواد کو دیکھنے کی آزادی پر کنٹرول کرنا ایسے مسائل ہیں جن میں آج کے دور کا طالب علم گھرا ہوا ایک اچھا شفیق اور مہربان دوست صفت استاد طالب علم کے ان مسائل پر اسے اچھا مشورہ دے سکتا ہے۔ پیشہ وارانہ اخلاق میں استاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اوقات کی پابندی کرے اور کام برائے تنخواہ کام نہ کرے بلکہ دل و جذبے سے کام کرے۔ اس طرح مجموعی طور پر تعلیمی شعبہ میں کام کرنے والے اساتذہ بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مثالی استاد بن سکتے ہیں۔

پیشہ طب کے اخلاق Ethics in Medicine: زمانہ قدیم سے پیشہ طب سے وابستہ ڈاکٹروں کی سماج میں بڑی عظمت ہے۔ اور انہیں زندہ خدا سمجھا جاتا ہے کیونکہ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے وہ مسیحا کا لقب اختیار کر لیتے ہیں۔ تیسری صدی قبل مسیح میں چراکا نامی طبیب نے اطباء کے لئے کچھ اقدار پر مبنی اصول پیش کئے تھے جنہیں آج بھی طبیب اختیار کرتے ہیں۔ اس نے علاج کے چار مراحل بتائے تھے۔ طبیب’مریض’دوا اور پرہیز۔ طبیب کو صفائی کا خیال رکھے ہوئے مریضوں کا علاج کرنا ہوتا ہے۔ 460-370ق۔ م کے دوران بقراط نامی یونانی طبیب تھا اسے بابائے طب کہا جاتا ہے۔ اس نے مرض کے طبی معائنے پر زور دیا اور طبیبوں کے لئے اصول طب مرتب کئے۔آج بھی ڈاکٹروں کو ان کی تعلیم کی تکمیل پر ایک قسم کا حلف دلایا جاتا ہے۔اس حلف میں طبیبوں اور ڈاکٹروں کو پیشہ طب کے اعتبار سے چند اقدار کی پابندی کا عہد دلایا جاتاہے۔ بقراط کے حلف نامے کی تفصیلات اس طرح ہیں۔
١) اپنی صلاحیت کے مطابق مریضوں کا بہترین پیمانے پر منصفانہ علاج کرنا۔
٢) مریض کو دوران علاج کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانا۔
٣) حمل گرانے میں تعاون سے بچنا اور رحمدلی کی موت دلانے سے بچنا۔
٤) مریضوں خاص طور سے عورتوں کے علاج کے دوران رشوت طلب نہ کرنا۔
٥) مریضوں کے امراض کے بارے میں ممکنہ حد تک رازداری برتنا۔
٦) اپنے مفادات سے ذیادہ مریضوں کے مفادات کا لحاظ رکھنا۔
٧) اپنے ہم پیشہ ڈاکٹروں میں جو جس شعبہ کاماہر ہے اس کے لئے مریضوں کو چھوڑ دیناکے ان کاعلاج وہ کرے یہ نہ کرے۔
ہندوستان اور دنیا بھر کے ڈاکٹروں کے لئے اخلاق اور اقدار کے یہ اصول قائم ہیں لیکن عملی طور پر دیکھاجائے تو آج دنیا کے کئی ممالک میں اسقاط حمل اور رحمدلی کی موت جیسے جرائم کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ہندوستان میں بالراست طریقے سے موت کا راستہ کھول دینا جیسے ایسا مریض جس کے بچنے کی کوئی امید نہیں اور اسے زندگی سے ہی تکلیف ہورہی ہو تو اس کی زندگی بچانے کے آلات جیسے وینٹیلیٹر یا آکسیجن وغیرہ ہٹا لیا جاتا ہے جس سے مریض قدرتی طور پر بغیر زہر کے انجکشن کے موت کی آغوش میںچلا جاتا ہے اور اس کی تکالیف کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ جیسے طریقہ کار کو 2011ء سے منظوری دی گئی۔ یہ فیصلہ ارونا شان باگ نامی نرس کو موت دینے کے سلسلے میں دیا گیا جب کہ وہ 37سال سے مصنوعی آلہ تنفس پر تھی۔ پیشہ طب کی عظمت کے باوجود موجودہ دور میں ڈاکٹرس اپنے مریضوں سے بہت لوٹ مار کر رہے ہیں ۔ مریضوں سے غیر ضروری امتحانات کراتے ہیں اور فیس کے طور پر بھاری رقومات حاصل کرتے ہیں۔ میڈیکل ہال اور پیتھالوجیکل لیب سے ان کا گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور مریضوں کو ٹیسٹ کرانے اور غیر ضروری دوائیں لکھ کر روپیہ بٹورا جارہا ہے۔یہ اس لئے ہورہا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم کے لئے طالب علموں سے لاکھوں روپے کیاپیٹیشن فیس لی جارہی ہے۔ ایم بی بی ایس کے لئے پچاس لاکھ اور ایم ڈی کے لئے دو سے تین کروڑ لئے جارہے ہیں۔ تعلیم کے خاتمہ کے بعد یہ لوگ اپنا لگایا ہواروپیہ عوام سے لینے کی خاطر ان کا خون چوس رہے ہیں۔ کسی کی موت پر مریض کے رشتے دار ڈاکٹروں پر مقدمے دائر کر رہے ہیں اسی طرح خانگی دواخانوں میں یومیہ آمدنی کا درجہ برقرار رکھنے کے لئے بھی مریضوں سے من مانی رقومات لی جارہی ہیں۔دوا ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو تفریح کے لئے دور دراز مقامات کے ٹکٹ اور تحائف دے رہے ہیں تاکہ ڈاکٹر ان کی کمپنی کی دوا مریضوں کے لکھے۔ یہ تمام باتیں ان دنوں پیشہ طب میں سرائیت کر گئیںہیں جس سے پیشہ طب بدنام ہے لیکن مریض زندگی کے سامنے بے بس ہے وہ کچھ بھری کرے گا ڈاکٹر کا پیٹ بھرے گا اور علاج کرائے گا۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کے طبیب اور ڈاکٹر پیشہ طب کی عظمت بحال کریں اور پیشہ سے وابستہ اخلاق اور اقدار کی پاسداری کریں۔

سیاست میں اقدار: اردو کے مشہور شاعر علامہ اقبال نے کہا کہ” ممالک شاعر کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور سیاست دان کے ہاتھوں پروان چڑھ کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔” پالیٹکس کا لفظ یونانی لفظpolisسے بنا ہے جس کا مطلب قوم یا مملکت ہے۔ قدیم یونانی فلسفیوں ارسطو اور افلاطون نے اپنے سیاسی افکار میں مثالی ریاست کا نقشہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے مثالی ریاست کے قیام کے لئے سیاست کو ایک شاخ کے طور پر دیکھنے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مثالی ریاست کا نظام چلانے والے سیاست دان دانشور’دور اندیش اور مخلص ہونا چاہئے۔ مہاتما گاندھی نے مشورہ دیا تھا کہ سیاست اخلاقیات کا حصہ ہونا چاہئے۔ وہ خود بھی سادگی اور اخلاص کی اعلی مثال تھے۔انہوں نے ملک کی جدوجہد آزادی کی تحریک میں ستیہ اور اہنسا کے اصول اپنا ئے اور ملک کو آزادی دلانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔ یہ اصول آج بھی عوام اور سیاست دانوں کے لئے رہنما ہیں۔ ملک کی آزادی کے وقت عام خیال یہ تھا کہ اس ملک کے سیاست دان عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بے لوث ہو کر کام کریں گے۔ تاہم افسوس کی بات ہیکہ یہ نہیں ہوسکا۔آج سیاست رشوت خوری’جرائم اور لوٹ مار کا اہم ذریعے ہوگئی ہے۔ آج کسی بھی سیاست دان کو عوام معصوم نہیں سمجھتے۔ کیون کہ یہ زندگی بھر ناجائز طریقوں سے دولت بٹورتے ہیں اور انتخابات جیتنے کے لئے کالا دھن بے حساب خرچ کرتے ہیں اور انتخاب جیتنے کے بعد پھر اس رقم کو دگنی کرنے کے چکر میں عوام سے لوٹ مار کرتے ہیں اور سرکاری خزانے سے چوری چھپے دولت بٹورتے رہتے ہیں۔ سیاست دانوں کے بارے میں بے شمار لطیفے عوام میں مقبول ہیں ۔ جیسے ایمان دار سیاست دان۔ جب کہ سیاست میں ایمان داری دور دور تک نہیں ملتی۔

سیاست دانوں کے لئے اقدار:
١) سیاست دان شخصی طور پر ایمان دار اور بااخلاق ہو۔
٢) سیاست دان کو چاہئے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کا پابند ہو۔
٣) عوام کے مسائل سے آگہی رکھے اور ان کے حل کے لئے کوشش کرے۔
٤) مسائل کو ترجیحی بنیاد پر حل کرے۔ دلوں کو خوش کرنے والے وعدے نہ کرے اور ایسی اسکیمات پر عمل کرائے جس سے سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہو۔
٥) وسائل کے لئے بھر پور فنڈ دے اور انہیں مناسب ڈھنگ سے خرچ کرے۔
٦) فلاح و بہبود کی اسکیموں پر تیزی سے عمل کرائے۔
٧) بیرونی دبائو اور پارٹی کی جانب سے اندرونی خلفشار کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتاہو۔
٨) مسائل کے حل کے لئے اختراعی اسکیمات اور پروگرام شروع کرے۔
٩) قوانین کی پاسداری کرے۔ دوران الیکشن بھی دولت کے استعمال کے بارے میں شفافیت برتے۔
١٠)رشوت خوری اور اقتدار کے بے جا استعمال کو پروان چڑھنے نہ دے۔
١١) لوگوں سے ہمدردی رکھے’خاص طور سے سماج کے کمزور طبقات سے ہمدردی رکھے۔ اور خواتین کا احترام کرے۔
١٢) سیاست دانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ پارلیمنٹ’ اسمبلی اور مجالس مقامی اداروں کے وقار کی پاسداری کریں اور عوام میں بھی اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھیں۔
شہریوں کی بھی کچھ سیاسی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ وہ انتخابات کے وقت قابل اور اہل عوامی نمائیندوں کا انتخاب کریں۔ اور جب وہ عوامی نمائیندے منتخب ہوکر آتے ہیں تو ان کی کارگذاری پر نظر رکھیں اور انہیں اپنے فرض منصبی سے بھٹکنے نہ دیں۔ عوام اور سیاست دان مل کی ملک کی بہتر خدمت کرسکتے ہیں اور مناسب منصوبہ بندی اور ان پر ایمانداری اور خلوص نیت کے ساتھ عمل کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر لگایا جاسکتا ہے۔
محکمہ پولیس میں اقدار: محکمہ پولیس بھی ان دنوں عوام کے غیض و غضب کا شکار ہے۔ عوام کو شکایت ہے کہ جرائم کے خلاف عوام کی حفاظت کرنے کے بجائے غیر چند ملک دشمن پولیس کے عملے کے ارکان مجرمین سے ساز باز کرکے عوام کو انصاف دلانے سے روک رہے ہیں۔ ایسے میں محکمہ پولیس کی فرض شناسی دائو پر لگ جاتی ہے۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر عمل کرائے’علاقے میں امن کی برقراری کو یقینی بنائے اور تمام شہریوں کی زندگی ‘ان کی جائیداد اور حقوق کی حفاظت کرے۔ وزارت داخلی امور نے1985ء میں محکمہ پولیس کے لئے ضابطہ اخلاق ترتیب دیا۔ جس کے تحت پولیس کے ملازمین کو حسب ذیل اصولوں پر عمل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
١) دستور ہند سے وفا داری اور تمام شہریوں کے حقوق کو عزت دینا۔
٢) فرائض کی انجام دہی کے دوران جان کی قربانی دینے کے لئے تیار رہنا۔
٣) تمام قوانین کو لاگو کرنا چاہے ان کی اہمیت ہو یا نہ ہو۔
٤) بغیر کسی ڈر اور خوف ‘جانبداری یامخاصمت کے تمام قوانین کو لاگو کرنا۔
٥) شدید ضرورت کے وقت ہی طاقت کا استعمال کرنا اور اس میں بھی احتیاط کرنا۔
٦) اپنے حدود میں کام کرنا اور عدلیہ سے مداخلت نہیں کرنا اور نہ ہی ملزم کو سزا دینا۔
٧) یاد رہے کہ پولیس کے ملازمین بھی عوام کا ہی حصہ ہیں۔
٨) پہلے مرحلے میں ہی جرائم کی روک تھام کرنا نہ کہ جرم ہونے کے بعد اس کی تفتیش کرنا۔
٩) عوامی نمائیندوں کا اعتماد حاصل کرنا اور ان سے عزت حاصل کرنا۔ جن کی مدد کے بغیر پولیس کام نہیں کرسکتی۔
١٠) عوام کے غریب اور امیر دونوں طبقے سے ہمدردی سے پیش آنا۔ سماج کے بچھڑے طبقات او ر خواتین کے معاملات میں خصوصی توجہ دینا۔
١١) عوام سے دوستانہ ماحول میں کام کرنا۔
١٢) خانگی زندگی میں ایمانداری اور سلامتی رویہ اختیار کرتے ہوئے عوامی خدمت کے لئے دستیاب رہنا۔
١٣) مسلسل تربیت کے ذریعے کبھی بھی حرکت میں آنے کے لئے تیار رہنا۔
١٤) ذات پات’رنگ و نسل اور مذہبی بھید بھائو سے اوپر اٹھ کرعوامی خدمت کے جذبے کے تحت کام کرنا۔

پولیس کے لئے مندرجہ بالاسنہری اصول ہیں ۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جارہاہے کہ موجودہ زمانے میں پولیس فورس میں رشوت عام ہوگئی ہے۔ پولیس ملازمین رشوت لے کر مجرمین کو چھوٹ دے رہے ہیں۔ اس سے عوام انصاف سے محروم ہورہے ہیں۔ سماج میں پھیلی منشیات کی لعنت’جسم فروشی کی لعنت وغیرہ کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کے بجائے پولیس والے ہفتہ وصول کرکے اس طرح کے جرائم کو ڈھیل دے رہے ہیں۔ سڑک پرکاروبار کرنے والوں اور تاجرین کو ذبردستی چالان کیا جاتا ہے اور حقیقی مجرمین کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کسی واقعہ کے بعد ایف آئی آر درج کرنے میں پولیس ٹال مٹول کرتی ہے کیونکہ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد اس کیس پر تحقیقات لازمی ہوجاتی ہیں۔ لوگ تنگ آکر ایف آئی آر درج کرانے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ پولیس کی صفوں سے غلط کردار کے افسران کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں راہ راست پر لایا جائے۔ ملک میں اگر پولیس اپنے فرض منصبی کو بہتر طور پرنبھائے تو جرائم کم ہوانہیں راہ راست پر لایا جائے۔ ملک میں اگر پولیس اپنے فرض منصبی کو بہتر طور پرنبھائے تو جرائم کم ہونگے اور عوام چین و سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں گے۔

کچھ پیشوں کے لئے درکار اقدار کے اس مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں ہر پیشہ مقدس ہے اور اس سے ایمان داری لازمی ہے۔ مقولہ مشہور ہے کہ فرد کی اصلاح سے سماج کی اصلاح ممکن ہے۔ اصلاح کے لئے کبھی سزا و جزا کا پہلو بھی ضروری لگتا ہے کہ خاطی کو سخت سزا دی جائے اور اچھا کام کرنے والے کی ستائش کی جائے تو سماج میں اقدار تیزی سے پروان چڑھ سکتے ہیں اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد

Share this:
Tags:
Human professionals time values انسان اہم ضرورت پیشہ وقت
Badin
Previous Post بدین کی خبریں 6/9/2017
Next Post ملکہ کی خبریں 6/9/2017
Malka

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close