احتجاج لازم ہے
کل اگرچہ روئے تھے
پھِر بھی آج لازم ہے
ظلم کے رواجوں پر
احتجاج لازم ہے
خاک و خون جِسموں کا
بے قرار روحوں کا
اور اداس نسلوں کا
کچھ عِلاج لازم ہے
احتجاج لازم ہے
اِس دکھوں کی نگری پر
شامِ بدنصیبی پر
صبح ِ نامرادی پر
سکھ کا راج لازم ہے
احتجاج لازم ہے
تحریر : ساحل منیر
