Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہمیں تم پہ ناز ہے پولیس زندہ باد

April 18, 2016 0 1 min read
Police
Terrorism
Terrorism

تحریر: ڈاکٹر مظہر
جب سے پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز ہو اہے، اب تک ہزاروں بے گناہ معصوم افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ، ان میں بزرگ ، جوان ، معصوم بچے اور خواتین سبھی شامل ہیں ویسے تو دہشت گردی کے تمام واقعات بھیانک خیز ہوتے ہیں مگر چند ایک ایسے واقعات رونما ہوئے جن کو دیکھ کر انسانیت بھی کانپ اٹھی ، ان میں سب سے زیادہ دل ہلا دینے والا واقعہ سانحہ پشاور اے پی ایس کا تھا ۔ اسی طرح ہمارے مقدس مقامات جن میں مساجد ، جنازہ گاہ، دربار ،چرچ ، مندر ، کالج اور یونیورسٹیوں کے علاوہ شہر کے چوک چوراہوں غرضیکہ کوئی ایسا شعبہ یا مقام نہیں بچا، جہاں دہشت گردوں نے اپنے ناپاک فعل سر انجام نہ دیئے ہوں ۔ خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے رونما ہونے والے واقعات کا سامنا سب سے پہلے ایسے محافظوں کو کرنا پڑتا ہے جو کہ ہمہ وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمنوں کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں اور جب کوئی دہشت گرد اپنا مکروہ فعل پورا کرنے کے لئے حملہ آور ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میری مراد محکمہ پولیس سے ہے۔

جن کے جوان دن کے چوبیس گھنٹے عوام کی حفاظت کے لئے جون کی تیز وتند دھوپ کی گرمی ہو یا دسمبر کی برف پوش سردی ،یہ اپنی ڈیوٹی پر کھڑے نظر آئیں گے ۔ جلسے جلوس ہوں یا احتجاجی ریلیاں /وزراء کا جی ٹی روڈ سے گذر ہو یا کسی جج کا پروٹوکول /مساجد میں جمعہ ،عیدکی نماز ہو یا چرچ کی عبادات /اہل تشہیع کے جلوس ہوں یا امام بارگاہوں کے باہر سیکورٹی کے انتظامات ۔غرضیکہ ہر چوک چوراہے اور پبلک مقامات پر ڈیوٹی سر انجام دینے کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آئیں گے ، اسی طرح چور ڈکیت اور اشتہاریوں کو پکڑنے کے لئے پولیس مقابلے ہوں،اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنا فرض نبھا نے میں مصروف عمل دکھائی دیں گے ۔

افواج پاکستان اگر ملکی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے تو محکمہ پولیس سرحد کے اندر ہر گلی ، محلے ، چوراہے ، بازار ، ادارے یعنی 18 کروڑ عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے ، اگر پاک آرمی دشمن کو سرحد عبور کرنے سے روک رہی ہے تو پولیس نے امن و امان کے قیام کا بیڑہ بھی اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا ہے ، اگر یہ کہا جائے کہ سب سے زیادہ حساس ترین فرائض یہ ادا کررہے ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔بلاشبہ ان کی وجہ سے ہی ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سورہے ہوتے ہیں ، جبکہ یہ رات بھر ہماری حفاظت کے لئے پہروں پر مامور ہوتے ہیں۔

Police
Police

دہشت گرد عناصر یا دشمن جب اپنے مکروہ فعل کے لئے ارادہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس علاقے میں تعینات پولیس جوان ، افسران اور تھانوںسے متعلق اپنا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں ،یہ لائحہ عمل وہ اپنی تخریب کاری کے لئے ان سے چھپ کرکریں یا ان کو گولیوں کا نشانہ بنا کرکریں ، ہر دو صورتوں میں اپنا ناپاک فعل سرانجام دینا ہوتا ہے ، ایسے کئی واقعات میں پولیس نشانہ بنی ۔ ماڈل ٹائون کا واقعہ ہو یا تھانہ لِلہ کا / کراچی کے حالات ہوں یا اٹک میں وزراء کا سیکورٹی رسک ،نشانہ ہمیشہ پولیس ہی بنی۔ بیسیوں واقعات میں ابتک سینکڑوں پولیس جوان اور افسر شہادت کے رتبے پر فیضیاب ہوچکے ہیں۔

محکمہ پولیس وہ شعبہ ہے جس کے جوان اور افسر اپنی ڈیوٹیاں گولیوں کی بوچھاڑ اور خود کش دھماکوں کے عین وسط میں سر انجام دیتے ہیں، ایسا وقت بھی آتا ہے جب ملک دشمن عناصر اور تخریب کاروں کے ڈر ، خوف سے کوئی بھی شہری گھروں سے باہر نہیں نکل سکتا تو اس وقت بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرگولیوں کے نشانے پر ہونے کے باوجود اپنی ڈیوٹی کو فرض اور عوام کے تحفظ کی قسم کھانے کو پورا کرنے کے لئے میدان عمل میں آکھڑے ہوتے ہیں ۔وہ پولیس جوان جو کہ سیکورٹی تھریٹس ملنے والے مقامات پر بے دھڑک ڈیوٹی سرا نجام دے رہے ہوتے ہیں مگر ہم نے کبھی ان کے جذبات کی قدر نہیں کی اور نہ ہی کبھی انکو گلے لگایا۔ اس محکمہ میں کئی ایسے نامور سپوت پیدا ہوئے کہ جو اپنی بہادری ، دلیری اور فرض شناسی کی وجہ سے دشمنوں کے لئے دہشت کا نشان بن گئے ، وہ جہاں بھی گئے قانون شکن اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبورہو گئے ، یہی اصل میں وطن کی وفاداری ہے ، ایسے لوگ ہی دراصل خراج تحسین کے لائق ہیں۔

بہادری اور جرأت مندی ان کا اثاثہ اورشہادت ان کا زیور ہوتا ہے، دوسرے الفاظ میں مجھے کہنے دیں کہ ایسے نامور لوگ ہی اپنے شعبے میں قومی ہیرو ہوتے ہیں ، مثلاًایس ایس پی چوہدری محمد اسلم جو کہ کراچی میں دہشتگردوں کے خلاف وطن عزیز کی خاطر جام شہادت نوش کر گئے ، ڈی ایس پی حضروجو کہ اٹک میں وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ کی سیکورٹی پر مامور تھے وہ بھی دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے ، ایس ایس پی چوہدری محمد اسلم مرحوم و مغفور اور ڈی ایس پی حضروجیسے قومی ہیروز کی ہر ضلع میں شہادت کے شواہد ملتے ہیں ،جس پر ملک و قوم کو فخر بھی ہے اور محکمہ پولیس پر ناز بھی ہے ، یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محکمہ پولیس کے افسران و ملازمین کسی بھی مشکل گھڑی میں اپنی جان کے نذرانے دینے سے نہیں گھبراتے مگر افسوس کہ محکمہ پولیس کو عوام اور حکومتی سطح پر وہ پذیرائی اور قومی اعزازات سے نہیں نوازا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔

Policeman Shaheed
Policeman Shaheed

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم مجاہد اکبر خان صاحب نے یوم شہداء پولیس کے موقع پر پولیس جوانوں ، افسران اور شہداء کے ورثاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے کہ انہوں نے وطن کی مٹی کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہداء کی روحیں سوال کرتی ہونگی کہ ہم نے تو وطن کیلئے جان کے نذرانے دیئے مگر کیا ہماری قربانیوں کی قدر بھی کی گئی ، ڈی پی او جہلم صاحب نے مزید کہا کہ یہ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ شہداء کے بچوں کی کفالت اچھے طریقے سے کی جائے ، اس موقع پر انہوں نے محکمہ کی طرف سے شہداء کے ورثاء میں سرٹیفیکیٹس اور دیگر تحائف پیش کرکے ثابت کر دیا کہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور کبھی بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ، بلا شبہ ڈی پی او صاحب کا یہ کردار قابل تعریف اور لائق تحسین ہے ، مگر بحثیت پاکستانی ہم پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کیلئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں ، حکومت کو چاہیئے کہ وہ محکمہ پولیس میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کو پاک فوج کے جوانوں اور افسران کی طرح نوازیں،جس کے یہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں ،یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر پولیس نہ ہوتو انسانوں کی بستیاں بھی جنگلوں کا سا نمونہ پیش کرنے لگیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس شعبے کی پذیرائی کی راہ میں رکاوٹ کے کچھ اسباب ہیں۔

جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔ پہلی تجویز یہ کہ محکمہ پولیس کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیئے تاکہ کوئی سیاستدان پولیس کو اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھے اور ذاتی مفادات کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ دوسری تجویز دیگر محکموں کی طرح محکمہ پولیس میں بھی ڈیوٹی اوقات ہونے چاہیئے ، اس سے بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہوگا اور محکمے کا معیار بھی بلند ہوگا ۔ تیسری تجویز جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ ذرائع ابلاغ کو بھی پولیس کی کارکردگی کی حمایت کے لئے آگہی دینا ہوگی۔

لقمہ اجل بن چکے ہیں ، ان میں بزرگ ، جوان ، معصوم بچے اورخواتین سبھی شامل ہیں ۔ویسے تو دہشت گردی کے تمام واقعات بھیانک خیز ہوتے ہیں مگر چند ایک ایسے واقعات رونما ہوئے جن کو دیکھ کر انسانیت بھی کانپ اٹھی ، ان میں سب سے زیادہ دل ہلا دینے والا واقعہ سانحہ پشاور اے پی ایس کا تھا ۔ اسی طرح ہمارے مقدس مقامات جن میں مساجد ، جنازہ گاہ، دربار ،چرچ ، مندر ، کالج اور یونیورسٹیوں کے علاوہ شہر کے چوک چوراہوں غرضیکہ کوئی ایسا شعبہ یا مقام نہیں بچا، جہاں دہشت گردوں نے اپنے ناپاک فعل سر انجام نہ دیئے ہوں ۔ خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے رونما ہونے والے واقعات کا سامنا سب سے پہلے ایسے محافظوں کو کرنا پڑتا ہے جو کہ ہمہ وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمنوں کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیںاور جب کوئی دہشت گرد اپنا مکروہ فعل پوراکرنے کے لئے حملہ آور ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میری مراد محکمہ پولیس سے ہے۔ جن کے جوان دن کے چوبیس گھنٹے عوام کی حفاظت کے لئے جون کی تیز وتند دھوپ کی گرمی ہو یا دسمبر کی برف پوش سردی ،یہ اپنی ڈیوٹی پر کھڑے نظر آئیں گے ۔

جلسے جلوس ہوں یا احتجاجی ریلیاں /وزراء کا جی ٹی روڈ سے گذر ہو یا کسی جج کا پروٹوکول /مساجد میں جمعہ ،عیدکی نماز ہو یا چرچ کی عبادات /اہل تشہیع کے جلوس ہوں یا امام بارگاہوں کے باہر سیکورٹی کے انتظامات ۔غرضیکہ ہر چوک چوراہے اور پبلک مقامات پر ڈیوٹی سر انجام دینے کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آئیں گے ، اسی طرح چور ڈکیت اور اشتہاریوں کو پکڑنے کے لئے پولیس مقابلے ہوں،اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنا فرض نبھا نے میں مصروف عمل دکھائی دیں گے ۔ افواج پاکستان اگر ملکی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے تو محکمہ پولیس سرحد کے اندر ہر گلی ، محلے ، چوراہے ، بازار ، ادارے یعنی 18کروڑ عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے ، اگر پاک آرمی دشمن کو سرحد عبور کرنے سے روک رہی ہے تو پولیس نے امن و امان کے قیام کا بیڑہ بھی اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا ہے ، اگر یہ کہا جائے کہ سب سے زیادہ حساس ترین فرائض یہ ادا کررہے ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔بلاشبہ ان کی وجہ سے ہی ہم اپنے گھروں میں سکون کی نیند سورہے ہوتے ہیں ، جبکہ یہ رات بھر ہماری حفاظت کے لئے پہروں پر مامور ہوتے ہیں ۔

Police Station Terrorists Attack
Police Station Terrorists Attack

دہشت گرد عناصر یا دشمن جب اپنے مکروہ فعل کے لئے ارادہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس علاقے میں تعینات پولیس جوان ، افسران اور تھانوں سے متعلق اپنا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں ،یہ لائحہ عمل وہ اپنی تخریب کاری کے لئے ان سے چھپ کرکریں یا ان کو گولیوں کا نشانہ بنا کرکریں ، ہر دو صورتوں میں اپنا ناپاک فعل سرانجام دینا ہوتا ہے ، ایسے کئی واقعات میں پولیس نشانہ بنی ۔ ماڈل ٹائون کا واقعہ ہو یا تھانہ لِلہ کا / کراچی کے حالات ہوں یا اٹک میں وزراء کا سیکورٹی رسک ،نشانہ ہمیشہ پولیس ہی بنی۔ بیسیوں واقعات میں ابتک سینکڑوں پولیس جوان اور افسر شہادت کے رتبے پر فیضیاب ہوچکے ہیں۔ محکمہ پولیس وہ شعبہ ہے جس کے جوان اور افسر اپنی ڈیوٹیاں گولیوں کی بوچھاڑ اور خود کش دھماکوں کے عین وسط میں سر انجام دیتے ہیں، ایسا وقت بھی آتا ہے جب ملک دشمن عناصر اور تخریب کاروں کے ڈر ، خوف سے کوئی بھی شہری گھروں سے باہر نہیں نکل سکتا تو اس وقت بھی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرگولیوں کے نشانے پر ہونے کے باوجود اپنی ڈیوٹی کو فرض اور عوام کے تحفظ کی قسم کھانے کو پورا کرنے کے لئے میدان عمل میں آکھڑے ہوتے ہیں ۔وہ پولیس جوان جو کہ سیکورٹی تھریٹس ملنے والے مقامات پر بے دھڑک ڈیوٹی سرا نجام دے رہے ہوتے ہیں مگر ہم نے کبھی ان کے جذبات کی قدر نہیں کی اور نہ ہی کبھی انکو گلے لگایا۔

اس محکمہ میں کئی ایسے نامور سپوت پیدا ہوئے کہ جو اپنی بہادری ، دلیری اور فرض شناسی کی وجہ سے دشمنوں کے لئے دہشت کا نشان بن گئے ، وہ جہاں بھی گئے قانون شکن اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبورہو گئے ، یہی اصل میں وطن کی وفاداری ہے ، ایسے لوگ ہی دراصل خراج تحسین کے لائق ہیں ، بہادری اور جرأت مندی ان کا اثاثہ اورشہادت ان کا زیور ہوتا ہے، دوسرے الفاظ میں مجھے کہنے دیں کہ ایسے نامور لوگ ہی اپنے شعبے میں قومی ہیرو ہوتے ہیں ، مثلاًایس ایس پی چوہدری محمد اسلم جو کہ کراچی میں دہشتگردوں کے خلاف وطن عزیز کی خاطر جام شہادت نوش کر گئے ، ڈی ایس پی حضروجو کہ اٹک میں وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ کی سیکورٹی پر مامور تھے وہ بھی دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے ، ایس ایس پی چوہدری محمد اسلم مرحوم و مغفور اور ڈی ایس پی حضروجیسے قومی ہیروز کی ہر ضلع میں شہادت کے شواہد ملتے ہیں ،جس پر ملک و قوم کو فخر بھی ہے اور محکمہ پولیس پر ناز بھی ہے ، یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محکمہ پولیس کے افسران و ملازمین کسی بھی مشکل گھڑی میں اپنی جان کے نذرانے دینے سے نہیں گھبراتے مگر افسوس کہ محکمہ پولیس کو عوام اور حکومتی سطح پر وہ پذیرائی اور قومی اعزازات سے نہیں نوازا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم مجاہد اکبر خان صاحب نے یوم شہداء پولیس کے موقع پر پولیس جوانوں ، افسران اور شہداء کے ورثاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے کہ انہوں نے وطن کی مٹی کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہداء کی روحیں سوال کرتی ہونگی کہ ہم نے تو وطن کیلئے جان کے نذرانے دیئے مگر کیا ہماری قربانیوں کی قدر بھی کی گئی ، ڈی پی او جہلم صاحب نے مزید کہا کہ یہ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ شہداء کے بچوں کی کفالت اچھے طریقے سے کی جائے ، اس موقع پر انہوں نے محکمہ کی طرف سے شہداء کے ورثاء میں سرٹیفیکیٹس اور دیگر تحائف پیش کرکے ثابت کر دیا کہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور کبھی بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ، بلا شبہ ڈی پی او صاحب کا یہ کردار قابل تعریف اور لائق تحسین ہے ، مگر بحثیت پاکستانی ہم پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کیلئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں ، حکومت کو چاہیئے کہ وہ محکمہ پولیس میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کو پاک فوج کے جوانوں اور افسران کی طرح نوازیں،جس کے یہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں ۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر پولیس نہ ہوتو انسانوں کی بستیاں بھی جنگلوں کا سا نمونہ پیش کرنے لگیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس شعبے کی پذیرائی کی راہ میں رکاوٹ کے کچھ اسباب ہیں، جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔ پہلی تجویز یہ کہ محکمہ پولیس کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیئے تاکہ کوئی سیاستدان پولیس کو اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھے اور ذاتی مفادات کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ دوسری تجویز دیگر محکموں کی طرح محکمہ پولیس میں بھی ڈیوٹی اوقات ہونے چاہیئے ، اس سے بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہوگا اور محکمے کا معیار بھی بلند ہوگا ۔ تیسری تجویز جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ ذرائع ابلاغ کو بھی پولیس کی کارکردگی کی حمایت کے لئے آگہی دینا ہوگی۔

Dr Mazhar mishar
Dr Mazhar mishar

تحریر: ڈاکٹر مظہر

Share this:
Tags:
child doctor man police proud Universities انسانیت بچے پولیس زندہ باد یونیورسٹیوں
Pasmindah Baizai Sub Division-Mohmand Agency
Previous Post پسماندہ بائیزئی سب ڈویژن
Next Post سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹیس جاری ہونے کے باوجود 13 کروڑ کے غیرقانونی ٹینڈرز جاری
Badin News

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close