
ہم نے سنا ہے کہ فرانس میں پاکستان کی ایک ابھرتی ہوئی سیاسی پارٹی میں کافی عرصے سے باؤلی ہنڈیا پک رہی ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ کون سی باؤلی ہنڈیا ہے تو آپکی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتاتے چلیں یہ وہ ہنڈیا ہے جو سیاست کے چولہے پر پکائی جاتی ہے اس ہنڈیا میں جو اجزاء استعمال ہوتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
جنونی مصالحہ وافر مقدار
سازشی ہری اور سرخ مرچیں بے حساب
منافقت کی ہلدی حسب ضرورت
بے شرمی کا کری پاؤڈر حسب ِ ذائقہ
چوں چوں کا مربہ حسب ضرورت
کم ظرفی کا زیرہ حسب پسند
حسد کا دھنیا پاؤڈر جتنا چاہیں
میں میں کا تیل لا تعداد
چاپلوسی کا رنگ حسب پسند
زخموں پر چھڑکنے والا خاص نمک
عہدوں کا لالچ
جھوٹ اور خوشامد کا تڑکہ
قارئین آپ کو بتاتے چلیں زخموں پر چھڑکنے والے اس خاص نمک کی خاص بات یہ ہے یہ صرف سیاست دان قسم اور دوست نما کم ظرف لوگوں کے گھر وافر مقدار میں دستیاب ہو گا اس نمک کے حصول کے لیے ایسے لوگوں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے باؤلی ہنڈیا کی تیاری میں ایک خاص قسم کی چھری کا استعمال کیا جاتا ہے یہ چھری نفرت کی انتہائی شدت سے تیار کی جاتی ہے اور یہ وہی چھری ہے جو دوستوں کی پیٹھ پر گھونپنے کے کام آتی ہے آجکل اس پارٹی کے رہنما مرد و زن سب اس چھری کے استعمال میں دن رات مصروف ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنا پارٹی کے مفادات میں شامل ہے ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہماری ایک دوست نے اسی چھری کے وار سے زخمی ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا میں بھی اب ایسی بہت سی چھریاں جمع کر لوں گی کیونکہ اب سمجھ آیا ہے کہ اس چھری سے باؤلی ہنڈیا کے علاوہ کٹا کٹ بھی پکایا جا سکتا ہے تب بہت پیار سے ہم نے مشورہ دیا کہ چھوڑو سیاست کوئی ریسٹورنٹ کھول لیتے ہیں۔
تب وہ کہنے لگی چل ری تجھے کیا پتہ اس دہشت گردی کا اپنا ہی مزا ہے تو ہم نے حیران ہوتے ہوئے کہا ہمارے قائد خیبرپختونخوا میں دہشت گری کا مقابلہ کرنے کا درس دے رہے ہیں اور تم لوگ یہاں آپس میں دہشت گردی کرتے پھر رہے ہو اور ملک بچانے کے نعرے بھی لگا رہے ہو۔ تو وہ ہنس کر بولی قائد اپنا کام کر رہے ہیں اور ہم اپنا۔
خیر ہم بتا رہے تھے کہ ضبط کے پریشر ککر پر ایک مدت تک پکتی یہ ہنڈیا جب تیار ہوئی تو جس جس نے بھی کھائی وہ ایک جنونی کیفیت کا شکار نظر آتا ہے۔ عجب افراتفری کا عالم ہے پارٹی میں توڑ پھوڑ سیاسی ضرورت سمجھی جا رہی ہے مرد حضرات ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے دن رات سر توڑ کوششوں میں گرفتار نظر آتے ہیں۔
خواتین پر بھی باؤلی ہنڈیا کے اثرات نمایاں ہوتے نظر آ رہے ہیں وہ گھروں میں بیٹھ کر ہی خود ساختہ پارٹیاں تخلیق کر رہی ہیں اور عہدوں کو ریورڑیاں سمجھ کر فراخ دلی سے بانٹ رہی ہیں بھئی کوئی کچھ بھی سمجھے میں تو ایسی تمام خواتین کو سلامی پیش کروں گی جو کچھ وہ کر سکتی ہیں کم از کم وہ تو کر رہی ہیں اب تحریک انصاف کو اس کا کیا فائدہ ہے یہ سوچنے کی کس کو فرصت ہے۔
خیر میرا ذاتی خیال یہ ہے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر کوئی جہاں بھی کام کرنا چاہے کسی کے بھی ساتھ کام کرئے اسے آزادی سے کام کرنے دیا جائے کیونکہ ہم سب کا مقصد ایک ہے اور ہماری مثال سیاست کی ان نہروں جیسی ہونی چاہیے جنہیں بلاآخر ایک سمندر میں جا گرنا ہے۔
تحریر: سمن شاہ
