Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پنجاب میں کپڑے کے بینرز پر پابندی، محنت کش پینٹرز بے روزگار

February 12, 2018 1 1 min read
Banners Ban in Punjab
 Banners Ban in Punjab
Banners Ban in Punjab

تحریر : ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر
ہمارے ہاں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی الجھن، پیچیدگی اور مشکل کا حل ڈھونڈنے کی بجائے غیبی امداد کے منتظر رہتے ہیں۔ سرکار کی تو خیر بات نرالی ٹھہری۔ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر رشوت دے کر فائز ہونے والے افراد کے مزاج مغلیہ دور کی یادیں تا زہ کر دیتے ہیں۔ حکومت وقت نے یہ وطیرہ بنا لیا ہے کہ کوئی مسئلہ جب تک مشکل اور پیچیدہ صورت حال اختیار نہ کر لے اس وقت تک حکومت کی دلچسپی صفر رہتی ہیں یاں البتہ معاملہ پوری طرح الجھ جائے، ہاتھا پائی ،احتجاج، گالم گلوچ،پولیس آرائی، آنسو گیس شیلنگ اور درجن بھر لوگ لقمہ اجل بن جائیں تو تھوڑی دیر کے لئے خواب غفلت سے بیدار ہو کر عوام کو طفل تسلی دیتے ہوئے پھر خواب خرگوش کے مزے لینے لگ جاتے ہیں۔ اب پیسہ پرستی کی روش نجی اور پرائیویٹ اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جو یقینا معاشرے کے زوال کا باعث ہو گا۔گذشتہ دنوں میں نے ایک کالم تعلیم پر لکھا جس میں بوائز ڈگری کالج لودھراں کے ایک حاضر سروس لیکچرار فرزند علی کو بے نقاب کیا جو سرکاری اوقات میں دی سٹی اسکول بہاولپور کیمپس کے پرنسپل فہد خلیل کے ساتھ ملی بھگت کر کے کئی سالوں سے دی سٹی اسکول بہاولپور کیمپس میں پڑھا رہا تھا۔ اس حوالے سے سرکاری اور نجی سطح پر سرزنش اور نشاندہی کی گئی تو یقین دہانی کروائی گئی کہ جلدکارروائی کی جائے گی دوسری جانب دی سٹی اسکول انتظامیہ نے کئی مہمل عذر تراشے ،تاہم قابل ذکر با ت یہ ہے کہ مذکورہ جرم کے مرتکب افراد اس بدعملی ، بد کرداری اور حرام خوری پر ایک فیصد شرمندہ نہیں تھے اور محسوس یوں ہوتا تھا کہ انہیں جب موقع ملا پھر اس منفی راستے پر چڑھ دوڑیں گے۔

میرا حکومت سے سوال یہ ہے کہ ایسے سنگین جرم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی میں تاخیر کیسی؟کیا پرنسپل لودھراں ڈگری کالج رائو ارشاد کے علم میں نہیں ہے کہ ایک جرم کی سرپرستی اور مجرم کی چشم پوشی کر رہے ہیں۔ڈائریکٹر کالجز ملتان قاسم شاہ کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ ایسے غیر قانونی کاموں کا انسداد کریں۔ جانے کب وزیر اعلیٰ پنجاب اس شکایت کا نوٹس لیں گے جس کا اندراج 8اکتوبر2017 کو کمپلینٹ نمبر cmo-202898کے تحت کروایا گیا؟ یہ تو ماضی قریب کا ایک واقعہ تھا ایسے ہزاروں واقعات قلم کار تلاشنے میں سرگرداں ہیں ۔مجھے آج کے کالم میں ان مزدور، غریب اور مجبور و بے بس و بے کس پینٹرز کی بات کرنی ہے جو بد قسمتی سے پنجاب کے شہری ہیں اور ان کا روزگار کپڑے کے بینرز لکھنا ہے۔19دسمبر 2017کو جاری کیے گئے سرکاری حکم نامے میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے )کو ہدایت کی گئی تھی جس کی روشنی میں کپڑے کے بینرز لکھنے اور تشہیری مقصد کے لئے آویزاں کرنے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ۔حکم عدولی کی صورت میں سزا،جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔یہ احکامات بہاولپور سمیت سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا،ساہیوال، گوجرانوالہ،فیصل آباد، ملتان اور راول پنڈی پر لاگو ہوں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس کا متبادل پینافلیکس اور ایل ای ڈی کی شکل میں دیا گیا ہے۔میں ہمیشہ یہ گوش گزار کرتا رہتا ہوں کہ مسائل کے حل ، مسائل میں کمی اور مسائل کے خاتمے کے لئے کوشش کی جانی چاہئے۔حکومت کی بات کریں تو ہر مسئلے غیر سنجیدہ نظر آتی ہے۔ میں بڑی باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے کہ جب کوئی مسئلہ معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اور آسانی سے حل ہو سکتا ہے ایسے میں حکومت پراسرار اور غفلت سے بھرپور خاموشی سادھ لیتی ہے۔معاملہ بگڑتا جاتا ہے، نوبت ہاتھا پائی،احتجاج، پولیس آرائی،آنسو گیس شیلنگ اور درجن بھر لوگوں کے جاںبحق ہونے تک جا پہنچتا ہے۔پھر وزیروں اورمشیروں کو خواب غفلت سے چند لمحوں کے لئے ہوش کی دوا دی جاتی ہے جس کا اثر عارضی ہوتا ہے۔وہ میڈیا پر آکر سو فیصد جھوٹے اور حقائق کے منافی بیانات دیتے ہیں ۔ان بیانات کا نتیجہ خاک نکلنا ہے۔ بات ہو رہی تھی ہنر مند پینٹرز کے روزگار چھن جانے کی۔ شنید یہی ہے کہ یہ احکامات وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے موصول ہوئے ہیں۔ مجھے ان کی نیت پر ہرگز شک نہیں۔ ممکن ہے انہوں نے کچھ اچھا سوچ کر یہ قدم اٹھایا ہومگر ان غریب اور روزانہ کی بنیاد پر روزی کمانے والوں کو متبادل کیا دیا ہے؟کیا ان کی کوئی مالی امداد کی ہے کہ یہ پینٹرز حضرات کوئی اور کاروبار کر لیں۔انہیں آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے ہیں یا پھر ان کی نوکریوں کا کوئی بندوبست کیا ہے؟ ہر سوال کا جواب صر ف ”ناں” میں ہے۔

‘مرتا کیا نہ کرتا’ کے مصداق ان مزدور پینٹرز نے پنجاب کے مختلف شہروں میں پر امن احتجاج کیا۔جس پر پولیس کی جانب سے ہراساں کیا گیا اور کچھ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔میں نے کالم کے شروع میں ایک سرکاری نوکر”فرزند علی”کا ذکر کیا جو دن دیہاڑے سالوں تک دھڑلے سے پنجاب حکومت کی دھجیاں اڑاتا رہا ہے اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی،نہیں ۔ حکومت پنجاب کا یہ دہرا معیارکیوں؟فرزند علی بوائز ڈگری کالج لودھراں میں انگریزی کا لیکچرار ہے اور شام میں ایک اکیڈمی چلاتا ہے جس کی آمدن لاکھوں میں ہے۔ کیا موصوف نے یہ ذاتی کاروبار شروع کرنے سے قبل حکومت پنجاب سے اجازت نامہ لیا؟، نہیں جناب،کون پوچھتا ہے؟ کیا فرزند علی اپنی اکیڈمی کا انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں؟ ، نہیں۔ وجہ یقینی طور پر یہی ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔کیا فرزند علی کی اکیڈمی سرکاری طور پر قانونی ہے، نہیں۔اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غرباء پر پورا اختیار رکھتے ہیں مگر بڑی مچھلیوں اور مگر مچھوں کو چھوٹ ہے۔

بہاولپور میں تقریباً 200افراد کی روزی روٹی کپڑے کے بینرز لکھنے سے جڑی ہے۔ان رزق حلال کمانے والے ہر مزدور کے گھر میں آٹھ سے دس افراد ہیں جن کے کفیل وہ ہیں۔اس طرح 200 سو خاندان کے تقریباً سولہ سترہ سو افراد کی حالت فاقوں تک جا پہنچی ہے۔یہ تو ایک شہر کی بات ہوئی،پابندی بہاولپور کے علاوہ آٹھ اور شہروں پر بھی لگائی گئی ہے جن کی آبادی بہاولپور سے خاصی زیادہ ہے۔اس فیصلے سے تقریباً 25000 ہزارسے 30000ہزارافراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں جن میں خواتین ، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔

گذشتہ دنوں ملتان میں پولیس اہلکاروں نے غریب پینٹروں کو نہ صرف ہراساں کیا بلکہ بی سی جی چوک کے قریب کام کرنے والے محمد توحید، محمد شاہد اور محمد شفیق نامی پینٹروں کو پولیس تھانہ ممتاز آباد نے گرفتار کیا اور چند گھنٹے تھانے میں ڈرانے، دھمکانے کے بعد چھوڑ دیا۔ملتان آرٹسٹ اینڈ پینٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر ناصر شاداور بہاولپور پینٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ساجد علی مسن اس معاملے پر بے حد فکر مند ہیں اور معاملے کا پر امن حل چاہتے ہیں ،دیگر شہروں کے صدور بھی محاذ آرائی نہیں چاہتے ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں۔بہاولپور اور ملتان سمیت دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔تاحال حکومت پنجاب کے سر پر جوں تک نہیں رینگی،ممکن ہے مستقبل میں کوئی بہتر لائحہ عمل سامنے آ جائے۔

دیکھا جائے تو پینٹنگ،خطاطی یا بینرز لکھنے کے لئے خوش نویسی سیکھنی پڑتی ہے جسے سیکھنے میں سالہا سال لگتے ہیں۔صاحب ثروت لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں جبکہ مزدور ،مجبور اور غریب طبقہ اپنے بچوں کو کوئی ہنر سکھانا بہتر خیال کرتا ہے۔یہ ہنر مند ہاتھ بلاشبہ آرٹسٹ لوگ ہیںاور یہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں جانتے۔یہ پینٹرز قیام پاکستان سے اس کاروبار سے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پال رہے ہیں۔ اگر سرکار کی یہ پابندی یونہی برقرار رہی تو یہ لوگ اپنے خاندان سمیت خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔مجھے قابل اجمیری کا
ایک شعر یاد آگیا۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے )ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔جس کی بنیادی سروسز میں گرین سروسز،ریڈ سروسز اور برائون سروسز شامل ہیں۔میری معلومات کے مطابق گرین سروسز میں شہر کی ہریالی، سرسبزہ، پارک، پھول اور باغبانی کا فروغ شامل ہے۔ ریڈ سروسز میں آئوٹ ڈور تشہیر کو تین مختلف انداز میں تقسیم کر کے اس کے ٹیکس اور دیگر چارجز مقرر کیے گئے ہیں ان میں سڑکوں اور چوراہوں پر لگے بڑے بڑے پینافلیکس بورڈز شامل ہیں ان میں مین روڈ، اندرون شہر کا علاقہ اور شہر کے قرب و جوار کو تقسیم کیا گیا ہے۔برائون سروسز کو کھیل اورتفریح کے مواقع مہیا کرنے ، کھیلوں کے میدان اور سامان کی فراہمی اور جسمانی ورزش و کسرت کا شوق پیدا کرنا اور جم وغیرہ کے قیام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ محکمہ مذکورہ ذمہ داریاںکس حد تک ادا کر رہا ہے مگر یہ بات طے ہے کہ مختلف شہروں میں پی ایچ اے کے ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زسمیت دیگر اہل کاروں کی جیبیں گرم کی جاتی ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ پینٹرز سے گھر وں میں فاقہ ہو یا وہ خود کشی کر لیں۔

میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ کچھ عرصہ قبل پنجاب حکومت نے وال چاکنگ اور سرکاری و نجی املاک سمیت تمام جگہوں پر بغیر اجازت کسی بھی قسم کا بینر یا اشتہار آویزاں کرنے پر سخت پابندی عائد کر دی تھی۔جس کا مقصد ایسے مواد کی تشہیر کو روکنا تھا جو کسی انتشار کا باعث ہو۔یقینی طور پر فرقہ واریت کو ہوا دینے والا مواد بینرز یا کسی اور شکل میں تشہیر کے لئے آویزاں نہیں کیا جانا چاہئے ۔کوئی بھی ذی شعور اس بات کی اجازت نہیں دے گا مگر بات یہ ہے کہ کیا یہ تمام پینٹرز تخریبی مواد پر مبنی بینرز تحریر کر رہے ہیں۔ایسا ہر گز نہیں ہے ۔یہ حکومت پنجاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کھلی ناکامی ہے کہ وہ ایسے افراد کو تلاش نہیں کر پاتے جو جرم کا مرتکب ہوتا ہے لہذا آسان حل یہی ہے کہ بینرز پر پابندی لگا دی جائے یہ سوچے بغیر کہ جو لوگ بے روزگار ہوں گے وہ کیا کریں گے او ران پر کیا قیامت گزرے گی۔معلوم نہیں کہ پی ایچ اے شہروں کو خوبصورت بنانے کی کوشش کر رہا ہے یا اس کا مقصد بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر قابو پانا ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو غریب پینٹرز سے ان کا روزگار چھین لیا گیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو کماتے ہیں وہ روزانہ گھر کے اخراجات پر خرچ ہو تا ہے ۔
مجھے یہاں کراچی میں واقع ایک فلائی اوور کا ذکر کرنا ضروری محسوس ہو رہا ہے۔بلوچ کالونی فلائی اوور دنیا کا پہلا فلائی اوور تھا جہاں ٹریفک سگنل لائٹس نصب کی گئی تھیں۔جب اس فلائی اوور پر ٹریفک کی روانی شروع ہوئی تو کچھ عرصہ بعد ہی کریک نمایاں ہونے لگے۔فوراً ماہر انجینئرز طلب کیے گئے انہوں نے مشاہدہ کر کے رپورٹ دی کہ فلائی اوور ٹریفک کی روانی کے لئے ہوتے ،وہاں ٹریفک سگنل اور گاڑیوں کا رکنا وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے کریک پڑے۔ یوں حقیقی وجہ جان کر فلائی اوور کا کریک حصہ گرا کر تعمیر کیا گیا اور ٹریفک سگنل کا نظام وہاں سے ختم کر دیا گیا۔ اب وہ فلائی اوور بہترین کام کر رہا ہے۔
سچی بات ہے کہ اچھی حکمرانی ناپید ہوتی جا ر ہی ہے جس کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔

سفارشی کلچر تیز رفتاری سے اپنا مقام بنا رہا ہے ۔مجال ہے کہ کوئی مناسب اور قابل انسان کسی بڑے عہدے پر دکھائی دے۔اعلیٰ عہدوں پر فائز انسان نما فرشتے کسی کی داد رسی اور فریاد سننے کو تیار نہیں۔ اگر ارباب اختیار نے پاک سر زمین کے معصوم شہریوں کو حلال روزگار سے محروم کیا تو پھر یہ کہنا درست ہو گا کہ وہ ”فرزندوں”کے سہولت کار کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اگر چاہیں تو ہزاروں گھروں کا چولہا بجھنے سے بچا سکتے ہیں۔ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صحیح معنوں میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے بھی حکم نامہ جاری کریں یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ کھوج لگائیں کہ فرقہ واریت پر مبنی بینرزکون لکھتا ہے۔ پولیس کی آنکھ سے جرم پوشیدہ نہیں ہو سکتے اور جہاں پولیس خود چشم پوشی کرے وہاں سمجھ جائیں کہ پولیس کی مٹھی گرم کی جا رہی ہے۔ اگر پینٹرز برادری سے کوئی اس جرم کا مرتکب ہو تو اسے سخت سزا دی جائے ۔اس حوالے پینٹرز ایسوسی ایشن آپ کے ساتھ ہے۔ میں کالم کے آخر میں خرم پیرزادہ کی ایک نظم تمام صاحب اختیار کی نذر کروں گا۔

کہا نہیں تھا تم سے میں نے
تتلی کو مت ہاتھ لگانا
اب تم اپنے سر کو جھکائے
دونوں ہاتھ مسلتے کیوں ہو
تتلی تو بے جان پڑی ہے
اور تمھارے ہاتھ رنگے ہیں

Dr. Syed Salahuddin
Dr. Syed Salahuddin

تحریر : ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر

Share this:
Tags:
ban banners problem Punjab Unemployment بینرز بے روزگار پابندی پنجاب مسئلہ
Zainab Murder Case
Previous Post زینب قتل کیس کے ملزم عمران پر فرد جرم عائد
Next Post تھانہ گلیانہ کے علاقے میں ڈکیٹیوں میں ملوث گینگ گرفتار
Malka

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close