Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہیلو برادر

November 17, 2014 0 1 min read
Shahbaz Sharif
Shahbaz Sharif

تحریر ۔۔۔ شاہد شکیل
آج سے ٹھیک تیرہ ماہ قبل صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلی مسٹر شہباز شریف اپنے حکومتی سٹاف کے ہمراہ سرکاری دورے پر برلِن تشریف لائے بظاہر تو وہ سرکاری دورہ تھا لیکن ڈپلومیٹک انٹرنل افیئرز سے شاید ہی کوئی واقف ہو،اس کاررواں کے آنے اور جانے پر کروڑوں روپوں کا ضیاع ہوا جو ظاہر ہے ملک و قوم کی ملکیت ہیں،دورے کا اصل مقصد کچھ اور ہی تھا لیکن اٹھارہ انیس کروڑ پاکستانی عوام کا منہ ،کان اور آنکھیں بند کرنے کیلئے میڈیا میں جو بیانات دئے گئے شاید پاکستانی قوم اور میڈیا فراموش کر چکے ہوں لیکن ہر انسان کی یاداشت کمزور نہیںہوتی۔ مشترکہ کانفرنس میں مسٹر شریف اور ان کے ساتھیوں نے جرمنوں کے سامنے میز پر مکے مار مار کر بلند بانگ دعوے کئے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے چاپلوسی کی اور کشکول کا سہارا بھی لیا کہ ہم دہشت گردی کو ختم کرکے دم لیں گے

جرمن اپنا سرمایہ پاکستان میں لگائیں، ہمیں سستی بجلی مہیا کی جائے، سولر پلانٹ لگائیں،انرجی پلانٹ کیلئے ہم پانچ ہزار ایکڑ زمین دیں گے، ہماری حکومت سرمایہ کاروں کو سیفٹی فراہم کریگی، ہم نوجوان طبقے کو ہمہ وقت تیار رکھیں گے وغیرہ وغیرہ اورملک و قوم کا سرمایہ اس غیر ملک میں انویسٹ کرنے کے بعد چلے گئے وہ دن اور آج کا دن کسی جرمن کبوتر کے بچے نے بھی پاکستان میں پر نہیں مارا تو کون سا انرجی پلانٹ یا سولر پلانٹ ۔مسٹر شریف کی جرمنی آمد اور رخصتی کے بعد راقم نے کوشش کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا جس کا مختصر حصہ پیش خدمت ہے۔

کوشش۔ اکتوبر دو ہزار تیرہ میں صوبہ پنجاب کے وزیرِ آعلیٰ جناب محمد شہباز شریف جرمنی کے سرکاری دورے پر برلِن تشریف لائے اور ایک آعلیٰ سطحی کانفرنس میں شرکت کے دوران جرمن حکومت کو پاکستان میں ناسور کی طرح پھیلی دہشت گردی کے خاتمے اور توانائی کے بحران سے نجات پانے کا ایک سپیشل آئیڈیا پیش کیا۔کانفرنس میں ان کا موقف تھا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے جرمنی پاکستان میں بجلی کے بحران کو حل کرنے میں مدد کرے ،پاکستان میں دہشت گردی کے علاوہ توانائی بحران بھی کینسر کے مرض کی طرح پھیل چکا ہے اور بجلی ہی واحد حل ہے جس کے توسط سے دہشت گردی کو شکست دی جا سکتی ہے،اگر ہم بجلی کے بحران پر قابو پالیں تو دہشت گردی سے بھی پچاس فیصد نجات حاصل کر سکتے ہیں

مسٹر شریف نے تین سو جرمن اور مختلف ممالک سے آئے سرمایہ کاروں اور سفیران پر مشتمل اس تقریب میں کہا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے ہمارے تعمیراتی کارکن ،تیکنیکی ماہرین اور کمپنیز کے ملازمین آپ کے ساتھ کام کریں گے ،ہماری حکومت تعلیم اور روزگار کیلئے سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ انتہا پسندی پر قابو پایا جا سکے اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو،ہم چاہتے ہیں کہ ملک دہشت گردی کے اس موذی مرض سے نجات حاصل کرے اور ایک زندہ مملکت بنے،ہم جرمن سرمایہ کاروں کو جنوبی پنجاب میں پانچ سو ایکٹر زمین میگا سولر پلانٹ لگانے کیلئے مہیا کریں گے

اقتصادی امور کے وزیر مسٹر قاسم ایم نیاز نے کانفرنس میں بجلی کی بندش پر نہایت افسردہ اِلفاظ میں کہا کہ پاکستان میں اکثر مسلسل اور تقریباً تمام دن بجلی کی بندش قومی ایمر جینسی کی صورت اختیار کر گئی ہے ہم چاہتے ہیں کہ تین سال کے اندر اس بحران پر قابو پالیں(یہ دعوہٰ زرداری حکومت کے اقتدار میں آنے کے چند روز بعد مسٹر پرویز اشرف نے بھی کچھ ایسا بیان دے کر کیا تھا کہ دو ماہ کے اندر بجلی کے بحران پر قابو پالیں گے )آنے والے تین سالوں میں سو فیصد نتیجہ نہ آئے لیکن عوام روشنی دیکھیں گے اور جدید ٹیکنالوجی ہی اس بحران کا حل ہے۔

Technology
Technology

مسٹر شریف نے کہا کہ جرمنی میں سورج نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی بائیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے اسکے برعکس پاکستان سورج کی نعمت سے مالا مال ہے ہمارے پاس سورج ہے اور آپ کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور ایکسپرٹ عملہ جو پاکستان کو توانائی کے بحران سے نجات دلا سکتا ہے،ہم اچھے منافع اور سلامتی کا وعدہ کرتے ہوئے سرمایہ کاروں سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنی پروڈکٹس اور مارکیٹس پاکستان میں روشناس کرائیں ہم روکاوٹیں ہٹائیں گے وغیرہ وغیرہ اور تقریر کے اختتام پر ایموشنل ہو کر میز پر مکا مارتے ہو ئے کہا پاکستان جرمن دوستی زندہ باد۔یہ تمام بیانات ریکارڈڈ ہیں اور اگر قارئین کو کسی قسم کا شک ہو تو گزشتہ برس اکتوبر نومبر کے اخبارات یا ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں بڑے برادر بھی اپنے کاررواں سمیت جرمنی پدھارے اور چھوٹے برادر کی تقریر سے مشابہت رکھتے ہوئے وہی ڈائیلاگ ادا کئے جو گزشتہ برس چھوٹے نے مکے مار مار کر کئے تھے ،چین اور جرمنی کے بعد برطانیہ میں بھی ملک اور قوم کی ترقی کیلئے رٹے رٹائے اور گھسے پٹے اینٹیک بیانات دئے جس سے نہ تو ملک ترقی کر سکتا ہے اور نہ عوام کو روزگار ، توانائی ،صحت اور روٹی پانی مہیا ہو سکتی ہے، سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کوئی کیوں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے ؟بیرون ممالک میں عشروں سے رہائش پذیر پاکستانیوں نے اپنے ملک میں کئی بار سرمایہ کاری کی ، لیکن انہیں کاروباری نقصان سے زیادہ ذہنی و جسمانی نقصان کا سامنا کرنا پڑاان تکالیف اور نقصانات کا آغاز پاک سر زمین پر لینڈ ہونے کے بعد کسٹمز والوں سے ہوتا ہوا توانائی کے بحران، لاقانونیت، رشوت، کرپشن، چوری ،ڈکیتی ،بھتہ خوری ،اغوا برائے تاوان ،فرقہ بندی اور لاتعداد واقعات کے علاوہ دہشت گردی کے خوف پر ختم ہوتا ہے

ان حالات کے پیش نظر اگر کوئی پاکستانی اپنے ملک میں ایک روپے کا کاروبار نہیں کرنا چاہتا تو ایک غیر ملکی کیسے کسی غیر محفوظ ریاست میں لاکھوں کروڑوں ڈولرز یا یوروز انویسٹ کرے گا۔ حکومتوں کا اولین فرض ہوتا ہے ریاست اور عوام کا تحفظ ،جس ریاست کے عوام غیر یقینی زندگی بسر کرتے ہوں کہ نہ جانے کب کیا آفت آن پڑے وہاں سرمایہ کاری تو درکنار کوئی اس ریاست کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتا ،شریف برادران کو اگر اتنا ہی شوق ہے کہ بیرون ممالک کے افراد پاکستان میں سرمایہ کاری کریں تو پہلے ریاست کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں نہ کہ سیر سپاٹے کریں ،غیر ملکیوں کو مراعات دینے کی بجائے اندرونِ ملک عوام کیلئے روزگار کی راہیں ہموار کی جائیں مثلاً فیکٹریز یا انسٹیٹیوٹ وغیرہ کا سنگ بنیاد رکھا جائے جہاں وہ تعلیم و ہنر کے علاوہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں، تعلیم یافتہ اور ہنر مندافراد کو روزگار مہیا کیا جائے

ریاست میں پھیلی غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ہو گا تو پاکستانی ہی نہیں دنیا بھر کے لوگ سرمایہ کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے،سرمایہ کاری کا راگ الاپنے کی بجائے سیلابی صورت حال سے نمٹنا اشد ضروری ہے اگلے سال پھر سیلاب آئے گا اور بے گناہ لوگ بہہ جائیں گے ،کل کس نے دیکھا ہے آج کی بات کریں ،آج تھر میں قحط سے پانچ سو سے زائد معصوم بچوں کی اموات ہوئیں کس نے کیا کیا ؟ سندھ میں جو قحط پھیلا ہوا ہے یا ملک کے اندر غلیظ سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام ایڑیا ں رگڑ رگڑ کر مر رہی ہے انہیں دو ہزار کے چائنا اور کوریا کے بنے ہوئے لیپ ٹاپ اور ترکی سے بھیک میں ملی میٹرو بسیںنہیں مریض کو دوا علاج اورقحط زدہ افراد کو دو نوالے روٹی کی ضرورت ہے ،نہ کہ لیپ ٹاپ یا کھٹارہ بس کی۔

قحط میں بچوں کی اموات پر سندھ کے ایک مہان منسٹر کا بیان تھا بارشیں نہیں ہوئی ہم کیا کر سکتے ہیں لعنت ایسے انسان پر جو انہی مرنے والوں کی بدولت کرسی پر براجمان ہوا اور کہتا ہے ہم کیا کریں۔اپنے سپوک مین کے ذریعے میڈیا میں اوچھے اور نپے تلے بیانات یا ظاہری ہمدردی جتانے کی بجائے پریکٹیکل کریں ،کسی کو منہ زبانی نوٹس بھیج دینے سے مردے زندہ نہیں ہو جاتے،آج تک ان رہنماؤں نے سوائے نوٹس لینے یا دینے کے کبھی کوئی تعمیری کام بھی کیا ہے ؟ شراب اور چرس کے نشے میں دھت بغیر لائسنس کے اگر کوئی بس ڈرائیور سو افراد کو بٹھا کر بس ڈرائیو کرے گا تو مسافروں کو منزل پر کون پہنچائے گا ، ستاون افراد بس کے حادثے میں ہلاک۔نوٹس لے لیا۔

واہگہ بارڈر پر سیکیورٹی والوں کی غفلت اور نااہلیت سے ساٹھ افراد جان سے گئے ۔ نوٹس لے لیا۔ محرم میں دہشت گردی کا خطرہ۔نوٹس لے لیا۔جن افراد کو نوٹس بھیجے جاتے ہیں اگر واقعی ان کی کوئی اہمیت یا وقعت ہوتی تو دوبارہ ایسے حادثات رونما نہیں ہوتے ،جتنے نوٹس جمہوریت آنے کے بعد لئے اور دئے گئے اگر انہیں جمع کیا جائے تو ایک شہر ان ردی نوٹسوں سے بھر جائے،آج بھی نوٹس لئے دئے جاتے ہیںاور عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔

قوم جانتی ہے کہ یہ سب سیاسی لٹیرے ، چور اور ڈکیت ہیں دنیا کی کوئی پولیس ان کی شہہ رگ تک نہیں پہنچ سکتی،یہ قانون ہی وہ بنواتے ہیں جو غریب اور لاچار پر لاگو ہواور یہ خود اس قانون کی آڑ میں دنیا کا ہر جائز ناجائز عمل جاری رکھتے اسے روندتے اور مسلتے رہتے ہیں ،عوام اب جان چکی ہے کہ یہ سب نہ تو رہنما اور لیڈر ہیں بلکہ مافیا گینگ ہے جو ان پر زبردستی مسلط ہوگیا ہے اور کسی قیمت پر ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں جیسے ایک محاورہ ہے کہ میں کمبل کو چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑتا، ستر کی دہائی سے عوام اب رفتہ رفتہ عادی ہو چکے ہیں کہ ایک مافیا آتا ہے دوسرا جاتا ہے دوسرا جاتا ہے تو پہلے والا پھر آجاتا ہے، جونک کی طرح چمٹ کر عوام کا خون چوس رہے ہیں۔

Shahid Shakeel
Shahid Shakeel

تحریر۔۔۔ شاہد شکیل

Share this:
Tags:
diplomatic government Minister Official Shahbaz Sharif staff Tour حکومتی دورے سٹاف سرکاری شہباز شریف صوبہ پنجاب
Previous Post خیبر ایجنسی میں لیویز فورس کی سو سے زائد اسامیوں پر بھرتی جاری
Next Post شمال مشرقی نائجیریا میں خود کش دھماکا، 13 افراد ہلاک

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close