لاہور: اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ محمد زبیر صفدر نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت گرفتار طلبہ پر قائم کئے گئے جعلی اورجھوٹے مقدمات ختم کرے، طلبہ کے خلاف انتقامی کارروائیاں ختم نہ کی گئیں تو آج مال رود پر دھرنا دیں گے، پنجاب حکومت وائس چانسلر مجاہد کامران کی پشت پناہی کرکے جمعیت کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہ اسلامی جمعیت طلبہ کو ہر آمر کے دور میں دبانے کی کوششیں کی گئی لیکن جمعیت کو ختم نہیں کیا جاسکا ، جابرانہ ہتھکنڈے جمعیت کی دعوت کو ختم نہیں کر سکے ،پنجاب کے وزیرقانون اور وزیر تعلیم براہ راست جمعیت کو نشانہ بنا رہے ہیں،جس کے نتائج کسی بھی صورت میں مثبت نہیں ہوں گے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد مشروط طور پراحتجاجی دھرنا ختم کر رہے ہیں ، کراچی سے خیبر ، کوئٹہ سے کشمیر تک اسلامی جمعیت طلبہ کے سینکڑوں کارکنان وائس چانسلر مجاہد کامران کی جانب سے کئے جانے والے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کی وجہ سے اشتعال میں ہیں،اس موقع پر سابق طا لب علم رہنما امیر العظیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے لاکھوں سابق طلبہ ، طلبہ حقوق کی جدو جہد میں جمعیت کے شانہ پشانہ کھڑے ہیں ۔ پنجاب یونیورسٹی کا مسئلہ کسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر جنرل مشرف سے چاپلوسی کے ذریعے یونیورسٹی کے سیاہ و سفید کا مالک بنا لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں سے بھی بھرپور نوازشیں وصول کیں ، اور ان کے آگے سر تسلیم کم کیا، سابق طالب علم رہنما ء حافظ سلمان بٹ نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل ایوب خان ، ضیاء الحق ، مشرف نے جمعیت کو ختم کرنے کے لئے سرکاری مشنری کا بے دریغ استعمال کیا ، رسوائی کے سوا انہیں کچھ نہیں ملا ،اسلامی جمعیت طلبہ ہر آمر کی پالیسیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور غلط پالیسیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اسی لئے ان کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی ہے ،موجودہ نام نہاد جمہوری حکومت طلبہ کے جائز مطالبات کو منظور کربنے کی بجائے پابند سلاسل کر رہی ہے، لیکن ان کے علم میں ہے کہ جمعیت کو کبھی بھی ایسے ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جا سکا۔ ناظم اسلامی جمعیت لاہور مدثر احمد شاہ نے کہا کہ پنجاب حکومت اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال روک دے اور فی الفور طلبہ کے خلاف کی جانے والی انتقامی کارروائیاں بند کرے ۔ حکومت نے انتقامی کارروائیاں بند نہ کیں تو آج پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے ، تمام تر حالات کی ذمہ دار پنجاب حکومت کی ہوگی اور اس کے بعد انتظامیہ سے مذکرات کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے۔
