Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

چپ لگانے کا فیصلہ

May 6, 2015 0 1 min read
Women Violence
Siddique Prihar
Siddique Prihar

تحریر: محمد صدیق پرہار
ایک قومی اخبار کی رحیم یارخان سے خبر ہے کہ حکومت نے خواتین کو حراساں کرنے والے، تشدد کرنے والے شوہروں کی مانیٹرنگ کے لیے پائوںمیں کڑے لگی چپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیل اس خبر کی یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے رحیم یار خان سمیت پنجاب بھر میں حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے اب خواتین کو حراساں کرنے والے افراد تشدد کرنے والے سابق شوہروں اورایسی خواتین جنہوں نے اپنے خاوندوں کی جانب سے تشدد کرنے پر عدالتوں میں کیس دائر کر رکھے ہیں۔

ان مردوں کی مانیٹرنگ کے لیے ان کے پائوںمیں کڑے لگی چپ لگانے کافیصلہ کیاہے۔تاہم اس چپ لگانے کے احکامات عدالت جاری کرے گی۔جس کے لیے حکومت نے باقاعدہ صوبائی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔تاکہ حکومت کے اس اقدام کوکسی عدالت میں چیلنج نہ کیاجاسکے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے انقلابی اقدامات اٹھانے کے باوجودخواتین پرتشدد کے واقعات میں کمی نہ آسکی ہے۔اورعدالتوںمیں بھی خواتین پرتشدد کے کیسزلاتعدادچل رہے ہیں۔جس پرحکومت نے شوہروں کی مانیٹرنگ کے لیے چپ لگانے کافیصلہ کیا گیا ہے۔اس سلسلہ میں حکومت نے صوبہ بھرکی ضلعی حکومتوں اورقانونی ماہرین سے تجاویزطلب کی ہیں۔چارمئی کے ایک اورقومی اخبارمیں اسلام آبادسے خبر ہے کہ پنجاب حکومت نے خواتین کے تحفظ کابل لانے کا فیصلہ کیا ہے۔نئے قانون کے تحت ہرضلع میں خواتین پروٹیکشن آفیسرکاتقررہوگا۔خواتین کوچھیڑنے والے افرادکے جسم میں ٹریکنگ ڈیوائس لگے گی۔ٹریکنگ سسٹم سے ایسے افرادکے متعلقہ خواتین کے کام اورمصروفیات والے مقام پرآنے پرپابندی ہوگی۔

ایسی ڈیوائس لگانے کے لیے خواتین آفیسرز عدالت سے آرڈرحاصل کرنے کی مجازہوں گی۔اس سے پہلے اخبارات میں یہ خبربھی آئی تھی کہ حکومت نے فورتھ شیڈول میں شامل افرادکی نگرانی کے لیے ان کے جسموں میں چپ لگانے کافیصلہ کیا ہے۔اس سے بھی پہلے یہ خبرشائع ہوئی تھی کہ ایک خاتون عدالت میں پہنچ گئی تھی۔ اس نے اپنے خاوند کے خلاف دائر مقدمہ میں یہ موقف اختیارکیاتھا کہ اس کے شوہر نے اس کی جاسوسی کے لیے اس کے جسم میں ٹریکرلگارکھا ہے۔اس کے جسم سے ٹریکرنکالاجائے۔اس خاتون کادعویٰ سچاتھا یاجھوٹا۔ اس بارے توکچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم یہ خبرپڑھنے کے بعد پہلی مرتبہ اس بات سے آگاہی ہوئی کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اب کسی بھی انسان کی کسی بھی وقت جاسوسی کی جاسکتی ہے۔انسانوں، اداروں، محکموں، دشمنوں اورملکوں کی جاسوسی اب سے نہیں بہت پہلے سے کی جارہی ہے۔ملک کودشمن کے حملوں سے محفوظ رکھنے اوردشمن کے عزائم سے باخبررہتے ہوئے اس کے حملوں سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے کی غرض سے اس کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ملک دشمن عناصرکی سرگرمیوں پرنظررکھنے کے لیے بھی ان کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ایک رپورٹ کے مطابق ٢٦ خفیہ ایجنسیاں کام کررہی ہیں۔قارئین اخبارات میں اس طرح کی خبریں پڑھتے ہیں کہ فلاں شہرمیں اتنے دہشت گرد داخل ہوگئے ہیں۔ اہم تنصیبات اورمقامات کونشانہ بناسکتے ہیں۔

دہشت گرد فلاں شہر میں واردات کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔فلاں شہر سے اتنے کلوگرام بارودبرآمد ہواہے۔ فلاں شہر سے بارودبھراٹرک پکڑا گیا ہے۔فلاں جگہ سے اتنا وزنی بم برآمدجسے ناکارہ بنادیا گیا ہے۔یہ سب کارروائیاں ان خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں پرہی ہوتی ہیں۔انسانوں، اداروں، محکموں، دشمنوں اورملکوں کی جاسوسی توبہت پہلے سے کی جارہی ہے۔ تاہم اس کے اندازاورطریقہ کارمیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلی آرہی ہے۔اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی جگہ یاانسان کی جاسوسی اب پہلے سے بھی آسان ہوگئی ہے۔کسی بھی انسان کی جاسوسی کس وقت کی جاسکتی ہے اورکس وقت نہیں۔ یہ آپ کسی بھی ایڈووکیٹ سے پوچھ سکتے ہیں۔ اس تحریر میں ہم اپنے قارئین کوصرف اتنا بتادیتے ہیں کہ کسی بھی انسان کی جاسوسی ہروقت نہیں کی جاسکتی۔خواتین کوحراساںکرنے والے افراد، ان پرتشددکرنے والے شوہروں اوران کوچھیڑنے والے مردوں کے جسم میں ٹریکنگ ڈیوائس یا ان کے پائوںمیں کڑے لگی چپ لگانے کا جوفیصلہ کیا گیا ہے۔اس پر عمل ہوتا ہے یانہیں ہوتا۔حکومت کے اس مجوزہ اقدام بارے ابھی تک کسی سیاستدان، کسی این جی اوز، کسی آئینی ماہر، کسی انسانی حقوق کے علمبردارکی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔حکومت پنجاب نے توتجاویزبھی طلب کی ہیں۔

Women Violence
Women Violence

ردعمل سامنے نہ آنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ہوسکتا ہے یہ سب شخصیات اس انتظارمیں ہوں کہ اس کی مزیدتفصیلات سامنے آجائیں پھر ردعمل دیا جائے گا۔ہوسکتا ہے کہ وہ اس کو اہمیت ہی نہ دے رہے ہوں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ یہ کہتے ہوں کہ حکومت جوکرتی ہے اسے کرنے دو۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ یہ سوچ رہے ہوں کہ حکومت کے اس اقدام سے ان پرتوکوئی اثرنہیں پڑے گا۔ اس لیے ردعمل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔پہلی بات تویہ ہے کہ حکومت کا یہ اقدام کام یاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔کیونکہ کسی بھی انسان کے جسم میں ٹریکر، ٹریکنگ ڈیوائس یاچپ لگانا نہ قانونی طورپردرست ہے اورنہ ہی اخلاقی طورپر۔جیسا کہ آپ اس تحریر میں پڑھ آئے ہیں کہ پنجاب حکومت نے اس سلسلہ میں صوبائی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ حکومت کے اس اقدام کوکسی عدالت میں چیلنج نہ کیا جاسکے۔ پنجاب حکومت ایسی قانو ن سازی میں کامیاب بھی ہوجائے تب بھی کسی بھی انسان کے جسم میں ٹریکر یا چپ لگانا اخلاقی طورپرکسی بھی طورپرمناسب نہیں ہے۔کسی بھی انسان کے جسم میں ٹریکر یاچپ لگانا اس کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے۔جن افرادکے جسموںمیں ٹریکر یاچپ لگی ہوئی ہوگی ۔ ان کی سرگرمیوںکو ایک کنٹرول روم میں دیکھا جارہا ہوگا۔انسان اپنی طبعی حاجت کے لیے ایسی جگہ بھی جاتا ہے جہاں اس نے تنہا ہی جانا ہوتا ہے۔ کوئی دوسرااس کے ساتھ نہیں جاسکتا۔جس کے جسم میں ٹریکریاچپ لگی ہوئی ہوگی۔وہ طبعی حاجت کے لیے کیسے جائے گا۔وہ توجائے گا کیونکہ وہاں جانے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں ہوگا۔جواس کی سرگرمیوںکوکنٹرول روم میں دیکھ رہے ہوں گے کیا وہ یہ منظردیکھ پائیں گے۔ایسا شخص جس کے جسم میں ٹریکریاچپ لگی ہوئی ہوگی ۔وہ اپنی بیوی سے اپنے ازواجی تعلقات بھی قائم نہیں رکھ سکے گا۔

پہلے توکسی بھی انسان کے جسم میں ٹریکر، ٹریکنگ ڈیوائس، پائوںمیں کڑے لگی چپ لگاناکسی بھی طورپرمناسب نہیں ہے۔اگرحکومت ایسا کرنا ضروری سمجھتی ہے ۔اورہرصورت میں ایساکرناہی چاہتی ہے تویہ ٹریکنگ ڈیوائس یاکڑے لگی چپ صرف ایسے افرادہی کونہ لگائی جائے جوخواتین کوحراساں کرتے ہیں، ان پرتشدد کرتے ہیں یاان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔یہ چپ یاٹریکنگ ڈیوائس متاثرہ خواتین کوبھی لگائی جائے۔تاکہ ان کی بھی مانیٹرنگ کی جاسکے۔کہیں وہ توایسا کام نہیں کرتیں جس کی وجہ سے ان کے شوہران پرتشددکرنے پرمجبورہوجاتے ہوں۔لڑکیوں کی شادی کرکے عدالتوں کے ذریعے تنسیخ کرالینااب فیشن بن چکاہے۔جس کے پاس اورکوئی جوازنہ ہوتوتشدد کرنے کاجوازبنادیا جاتا ہے کہ خاوند تشدد کرتاہے۔چاہے اس کے شوہر نے عدالت میں کیس دائر کرنے والی اپنی بیوی کوتھپڑ بھی نہ ماراہو۔کبھی کسی نے نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ جس طالب علم کو سبق بھی یاد ہو، اس نے سکول سے دیا گیا ہوم ورک بھی مکمل اورٹھیک ٹھیک کررکھا ہو، وہ وقت پر سکول بھی آتاہو اوروقت پرجاتاہو،سکول میں شرارتیں بھی نہ کرتاہو اس کو کسی ٹیچرنے سزادی ہو۔بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔مردوں کے جسموںمیں ٹریکنگ ڈیوائس یاکڑے لگی چپ لگانے کے وہ نتائج برآمدنہیں ہوں گے جوخواتین کے جسموںمیں لگانے سے سامنے آئیں گے۔مردوں کے جسموںمیں لگانے سے متاثرہ خواتین پرجب وہ تشدد کریں گے تبھی وہ تشدد کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔وہ یہ کام کسی اورسے بھی کراسکتے ہیں۔خواتین کے جسموںمیں چپ یاٹریکنگ ڈیوائس لگانے سے یہ فائدہ ہوگا کہ جوبھی ان کو حراساں کرے گا یا ان پرتشدد کرے گا وہی دکھائی دے گا۔خواتین پرتشدد کرنے والوں سے بھی زیادہ خطرناک افراداس ملک میںموجود ہیں۔ دہشت گرد خواتین پرتشدد کرنے والوں سے کسی بھی طورپرکم نہیں ہیں۔یہ ٹریکنگ ڈیوائس یاچپ ان کے علاوہ بہت سے کرداروںکولگائی جاسکتی ہے۔ یہ چپ تمام سرکاری ملازمین اورافسران کو لگائی جا سکتی ہے۔تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ کس وقت دفتر آتے ہیں۔ کس وقت دفترسے جاتے ہیں اوروہاں بیٹھ کرکیا کرتے ہیں۔

تمام محکموں اوراداروں کے فیلڈ سٹاف کوبھی یہ چپ لگائی جاسکتی ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ متعلقہ فیلڈمیں کس وقت جاتے ہیں وہاں کیا کرتے ہیں اورکس وقت وہاں سے واپس آجاتے ہیں۔ یہ چپ تمام سیاستدانوں کوبھی لگائی جاسکتی ہے تاکہ ان کی سرگرمیاں بھی حکومت کے سامنے رہیں۔یہ چپ یا ٹریکنگ ڈیوائس سماجی اداروںمیں کام کرنے والوں، صنعتی اداروںمیں کام کرنے والوں، صنعتوں کے مالکان اورمنیجر صاحبان، کاروباری شخصیات اوران کے پا س کام کرنے والوں،ٹرانسپورٹروں، گاڑیوں کے ڈرائیوروں، کنڈیکٹروںکوبھی لگائی جاسکتی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ اپنے کام پرکس وقت جاتے ہیں کس وقت واپس جاتے ہیں۔ یہ کیا کاروبارکرتے ہیں۔ان کی روزانہ کی آمدنی کیا ہے۔کیا یہ حکومت کوٹیکس اپنی آمدنی کے مطابق دیتے ہیں۔ ان تمام کرداروں کے جسموں میں ٹریکنگ ڈیوائس یا چپ لگانے کاایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ یہ معلوم ہوسکے گا کہ ان کی دیگر سرگرمیاں کیا ہیں۔سرکاری ملازمین اورافسران دفتری اوقات کے بعد کیا کرتے ہیں۔ سیاستدان اپنے حلقے کے عوام سے کتنا رابطہ رکھتے ہیں۔ ان کے اجتماعی اورانفرادی مسائل پرکتنی توجہ دیتے ہیں۔یہ سرکاری وسائل کااستعمال کس طرح کرتے ہیں۔این جی اوزکی سرگرمیاں کیا ہیں۔ان کے پاس کون کون سی شخصیات آتی ہیں۔ان سب کرداروں کی سرگرمیاں ملک کے خلاف تونہیں۔کیا ان کے تعلقات اوران کا اٹھنا بیٹھنا ملک دشمن عناصر کے ساتھ تونہیں۔چپ یاٹریکنگ ڈیوائس لگانے سے یہ سب کچھ ہوسکتا ہے تاہم اس سے ان تمام کرداروں کی ذاتی زندگی اجیرن ہوکررہ جائے گی۔ وہ کہیں بھی آزادی سے نہیںجاسکیں گے اورنہ ہی وہ کسی سے آزادی سے بات کرسکیں گے۔کسی بھی انسان کے جسم میں چپ یاٹریکنگ ڈیوائس لگانا اس کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے۔اس طرح کی جاسوسی ضروری ہے تو سی سی ٹی وی کیمروں کی طرح کی ڈیوائس انسانو ں کے جسموں میں نہیں تمام سرکای دفاتر، کاروباری مراکز،عوامی مقامات اوراہم تنصیبات پرنصب کی جائے۔

جس طرح سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کسی بھی واردات کے بعد ملزما ن کی شناخت ہوجاتی ہے۔اس طرح کی ڈیوائس ان مقامات پر نصب کرنے سے ان اداروں اوردفاتر کی مانیٹرنگ آسان ہوجائے گی۔اس سے بھی معلوم کیا جاسکے گا کہ کون کس وقت آتا ہے اورکس وقت جاتا ہے۔ کاروباری مراکزمیں کاروبارکیسا ہورہا ہے۔کیا حکومت کو ٹیکس آمدنی کے مطابق دیا جارہا ہے یا نہیں۔ایسی ڈیوائس ایسی جگہوں پرلگائی جائیں کہ وہ آسانی سے کسی کونظربھی نہ آسکیں اوراپنا کام بھی بغیر کسی رکاوٹ کے کرتی رہیں۔اس کا کنٹرول روم مقامی، صوبائی اور قومی سطح پرہونے چاہییں۔اس طرح کی ڈیوائس بجلی کے کھمبوں اورمیٹروںمیں بھی لگائی جائے تاکہ بجلی چوروںکواس کی مدد سے پکڑا جاسکے اوربجلی چوری کو روکا جاسکے۔تمام ٹرانسپورٹ اور مسافر ٹرانسپورٹ میں بھی اس طرح کی ڈیوائس لگائیں جائیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ کس رفتار سے چلائی جارہی ہے۔مسافروں سے کرایہ کس تناسب سے وصول کیا جارہا ہے۔ حکومت کے مقرر کردہ شیڈول کے مطابق وصول کیا جارہا ہے یا اس سے زیادہ وصول کیا جارہا ہے۔تمام ہوٹلوں میں بھی اس طرح کی ڈیوائس لگائی جانی چاہیے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ ان ہوٹلوںمیںکس طرح کے لوگوں کی آمدورفت ہے۔اس طرح کی ڈیوائس ریلوے اسٹیشنوں اورریل گاڑیوںمیں بھی لگائی جائے اس سے ریلوے کے نظام کو آسانی سے مانیٹر کیا جاسکے گا۔بینکوں سمیت تمام مالیاتی اداروںمیں بھی اس طرح کی ڈیوائس لگائی جائے تاکہ وہاں کی سرگرمیوں کو بھی براہ راست ماینٹر کیا جاسکے۔ہوائی اڈوں اور ہوائی جہازوںمیں بھی ایسی ڈیوائس لگائی جانی چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ جہاں بھی ضروری ہواس طرح کی ڈیوائس لگادی جائے۔اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس سے کسی کی ذاتی زندگی پرکوئی اثرنہ پڑے۔ کسی بھی انسان کی ذاتی زندگی کے راز نہ کھلنے پائیں۔اس بات کو ضرور مدنظررکھا جائے کہ اس اقدام سے کسی بھی انسان کی شخصی آزادی سلب ہوکرنہ رہ جائے۔

Mohammad Saddiq Perhar
Mohammad Saddiq Perhar

تحریر: محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Share this:
Tags:
Mohammad Saddiq Perhar Punjab Government surveillance torture women Women Violence پنجاب حکومت تشدد خواتین مانیٹرنگ
Younis Khan And Don Bradman
Previous Post یونس خان ڈان بریڈ مین کے ہم پلہ آ گئے
Next Post میرپور ٹیسٹ میں پاکستان کی بنگلادیش کے خلاف بیٹنگ
Azhar Ali

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close