Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات تاخیر کیوں؟

August 19, 2015 1 1 min read
Municipal Elections
Municipal Elections
Municipal Elections

تحریر: ریا ض جاذب
صوبوں کے اندر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کب ہونگے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہ تو حکومتوں کے پاس ہے اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ کے پاس عدالت حکومتوں کی طرف اور عوام عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔حکومت اور الیکشن کرانے کا آئینی ادارہ ECP دراصل دونوں الیکشن کے انعقاد میں مخلص نہیں آخر ایسا کیوں ہے ۔ لوگوں کو ان کا آئینی حق نہیں مل رہا اور کوئی ایک سال سے نہیں پورے چھ سال سے عوام اپنے آئینی حق سے محروم ہیں ۔بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ملکی حالات نہیں بلکہ حکومتوں کی بددیانتی ہے۔ یہ انتخابات کب ہونگے اس کا تو ہمیں بھی پتہ نہیں تاہم مقامی حکومتوں کی اہمیت ، اختیارات کی مرکزی سطح پر منتقلی کا فائدہ اور برصغیرپاک ہند میں اس کی تاریخ اس کی آئینی حیثیت کے حوالے سے زیر نظر تحریر سے قارئین کو یقینی طور پر ان تناظر میں گاہی ہوگی۔سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ اس خطہء جسے برصغیرپاک و ہند بھی کہا جاتا ہے میں بلدیاتی نظام کی تاریخی پس منظر کیا ہے۔

برصغیر و پاک و ہند میں بلدیاتی نظام کی تاریخ۔ برصغیر پاک و ہند میں بلدیاتی اداروں کا باقاعدہ آغاز انگریز راج میں ہی ہوچکا تھا، اس حوالے سے ابتدائی قوانین اور ایکٹ بھی اسی دور میں منظر عام پر آچکے تھے، لیکن بلدیاتی نظام یہاں کسی نہ کسی صورت میں صدیوں سے موجود رہا ہے۔ 1688ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مدراس میں میونسپل کارپوریشن قائم کی جو برصغیر میں اپنی نوعیت کا پہلا انتظامی تجربہ تھا۔ 1842ء میں بنگال پریذیڈنسی میں کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ٹھکانے لگانے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، یہ اولین ذمہ داریاں تھیں جو اس انتظامی ڈھانچے کو سونپی گئیں۔ اسی طرح کے انتظامی ڈھانچے چار برس بعد 1846ء میں کراچی میں بھی قائم کئے گئے۔ سرکاری انتظامیہ نے 1850ء میں ابتدائی طور پر لاہور اور امرتسر میں بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔ 1862ئ میں برصغیر میں پہلا میونسپل ایکٹ منظورہوا۔

1882ء میں پہلی بار شہری اور دیہی مقامی حکومتوں کے حوالے سے لارڈ رپن کی حکومت نے قرار داد منظور کی۔ 1925ء میں ”سائمن کمیشن” کے نام سے ایک بورڈ ترتیب دیا گیا جس کی ذمہ داری یہ تھی کہ خودمختار مقامی حکومت کی گزشتہ برسوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور بہتری کے لئے تجاویز پیش کی جائیں۔ اس کمیشن کی تجاویز کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1935ء میں ہندوستان میں برطانوی حکومت نے صوبائی سطح پر مقامی حکومت کے خودمختار ڈھانچہ کی منظوری دے دی۔

Ayub Khan
Ayub Khan

پاکستان میں بلدیاتی نظام۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں 3 مختلف ادوار میں مقامی یا بلدیاتی اداروں کا وجود نظر آتا ہے۔ پاکستان میں 1958 سے 1969ء کے مختصر عرصہ میں نومولود مملکت، جمہوری اور فوجی حکومتوں کے تجربے سے گزر چکی تھی۔ فوجی حکومت نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو معطل کر دیا تو اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی کہ عوامی سطح پر ایک ایسا انتخابی حلقہ تشکیل دیا جائے جو جمہوریت کی عدم موجودگی سے پیدا ہو جانے والا خلا پْر کر سکے، اسمبلیوں اور صدر کے انتخاب کے ساتھ فوجی حکومت کو جمہوری بنیاد بھی فراہم کرے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے فیلڈ مارشل ایوب خان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بلدیاتی نظام ”بنیادی جمہوریت” کے نام پر متعارف کروایا جس کے تحت ملک میں پہلی مرتبہ 1962ء میں بلدیاتی ادارے قائم ہوئے۔

بعدازاں پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں 1972ء سے 1977ئ تک بلدیاتی انتخابات کروانے یا ان اداروں کو آگے بڑھانے سے گریز کیا اوران اداروں کو مقامی انتظامی ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے چلایا گیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے بعد جنرل ضیاء الحق نے فوجی مارشل لائ لگایا تو انہوں نے بھی 1979ء میں دوسری بار بلدیاتی آرڈیننس کی مدد سے مقامی بلدیاتی اداروں کا نظام متعارف کروا کر بلدیاتی انتخابات کروائے جو عملی طور پر 1999ء تک کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے۔ضیائ الحق کا دور حکومت ختم ہونے کے بعد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی دو دو بار حکومتیں بنیں لیکن اس دوران بلدیاتی ادارے کبھی فعال اور کبھی پابندیوںکے زیر عتاب رہے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی مداخلت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے تو انہوں نے پہلے سے رائج بلدیاتی اداروں کو توڑ کر مقامی حکومتوں کا نیا نظام متعارف کروایا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا جس میں لفظ ”مقامی حکومت” کا استعمال کیا گیا اور اس سے مراد یہ تھی کہ تیسرے درجے کی حکومت کے اصول کو قبول کرکے آگے بڑھا جائے۔ اگرچہ یہ نظام فوجی حکومت کی جانب سے سامنے آیا جس کے پیچھے کچھ ذاتی مفادات بھی تھے لیکن اس کے باوجود اس نظام میں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جو خصوصی اہمیت کی حامل تھیں۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے اور عوامی مسائل کے حل میں اس سے بڑھ کر کوئی مضبوط نظام تاحال موجود نہیں ل

Local Governments
Local Governments

مقامی حکومتوں کی اہمیت۔ مقامی حکومتوں کی اہمیت لوگوں کو روز مرہ کی بنیادی ضروریات فراہم کرتی ہے۔ یہ کمیونٹیز کے مستقبل کے لئے منصوبہ بندی بھی کرتی ہے،مقامی حکومت دیہی علاقوں، دیہات، قصبوں یاشہروں میں رہنے والوں کی زندگیوں پرمثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔مقامی حکومت مقامی اتھارٹی کی ایک قسم ہے جس میں بنیادی تعلیم اور صحت کے حکام بھی شامل ہوتے ہیں تاکہ علاقائی سطح پر بہتری لائی جا سکےـمقام حکومت کے ادارے اور نمائندے کمیونٹی کو جوابدہ ہو تے ہیں۔مقامی حکومتی نظام کا مقصد بجٹ کی شفافیت، سماجی احتساب، شہری آوازاور کارکردگی کی مینجمنٹ کے ذریعے سیاسی طور پر مستحکم معاشرے کی تخلیق کرنا ہے،افسر شاہی کے نظام کے بجائے تین سطحی حکومت یعنی ڈسٹرکٹ کونسل/ کارپوریشن۔میں تحصیل میں میونسپل کمیٹی۔ اوریونین کونسلز کا نظام۔

اس نظام میں مقامی طور پر منتخب رہنماؤں کا تعین کرنا اوربیرونی تعینات بیوروکریٹس کا اختیارکو ختم کرنابھی اہم ہے ۔محکمہ کے آپریشن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا حق دینا ورناقص کاردگی والے اداروں کی مقامی کونسلوں کی جانب سے کاروائی کرنامناسب طریقے سے رجسٹرڈ شہری گروپوں کی ایلوکیشن کرنا تا کہ وہ مقامی کونسلوں کے ‘ترقیاتی بجٹ تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں”بنیادی خدمات( میونسپل سروسز)کی براہ راست فراہمی”بلدیاتی نظام کوجمہوریت کی بنیاد کہا جاتا ہے. دنیا کے ہر بڑے ملک میں بلدیاتی نظام قائم ہے.جہاں میئر اور کونسلرکے پاس شہر کے مکمّل اختیارات ہوتے ہیں۔بعض شہروں میں پولیس بھی میئر کے ماتحت ہوتی ہے،بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے لیکن یہ بدقسمتی کی انتہا ہے کہ ملک میں جب بھی سیاسی جماعتیں بر سر اقتدار رہیں انہیں بلدیاتی انتخابات کرانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی .جمہوریت کا مطلب ہے۔

عوام کی حکومت عوام کیلئے، لیکن حیرت کی بات ہے کہ 21ویںصدی میں جمہوریت کی چمپئن جماعتیں اور جمہوری حکومت 200سالہ پرانا کمشنری نظام تھوپنا چاہتی ہیاور کمشنراور ڈپٹی کمشنر کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے اختیارات دے رہے ہیں۔تعمیر اور ترقیاتی کام بلدیاتی نظام سے ہی ممکن ہے اور یہ کام بلدیاتی نمائندوں کا ہے، ایم این اے اور ایم پی اے کا کام نہیں۔بلدیاتی نظام عام آدمی کی دسترس میں ہے اور وہ اپنے علاقے کے مسائل اس نظام کی بدولت ہی حل کرسکتا ہے،عوام کے دیرینہ مسائل کاحل بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات میں ہیں۔ حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے اس وجہ سے خائف ہیں کہ اس سے فنڈز اور اختیارات نچھلی سطح پر عوام کو منتقل ہوجائیں گے جس سے ان کے ایم این ایز اور ایم پے ایز کی اہمیت کم ہوجائیگی۔سیاسی جماعتوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ بلدیاتی ادارے ہی جمہوریت کے سب سے بڑے محافظ بن سکتے ہیں کیوں کہ ان سے عوام کا براہ راست رابطہ رہتا ہے اور ان کا وجود ان کے لئے جمہوریت کے تسلسل کے احساس کا نام ہے جو انہیں ملک کے انتظام میں براہ راست شرکت کا احساس دلاتے ہیں کیونکہ بلدیاتی ادارے کے ذمہ داران سے عوام اپنے اپنے علاقوں میں براہ راست رابطے میں رہتے ہیں۔

Delayed
Delayed

جو کسی قومی یا صوبائی اسمبلی کے ممبر سے ممکن نہیں۔ لیکن برا ہو ہمارے ہاں رائج بد عنوانی اور وسائل پر قابض اور اپنے دسترس میں رکھنے کی خواہشات کا جو سیاسی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات سے گریز کی طرف مائل کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب کے شہری علاقوں میں صحت وصفائی کی صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے۔ بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کا ہی ساخشانہ ہے۔ بلدیاتی نظام ہو تا تو شہر کایہ حال نہ ہو تا ،وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ملک میں فوری طورپر بلدیاتی انتخابات کرواکر شہری سہولتوں کا نظام مقامی حکومت اوران کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرے۔

ختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ایک آئینی تقاضا۔ حکمرانوں کا طرز سیاست ہے کہ یہاں اختیارات صرف بڑے ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گئے ،عوامی نمائندے اختیارات کی عوام تک منتقلی سے گھبراتے ہیں۔ جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک حکومت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کا ایک متفقہ آئین بھی ہے، قانون بھی ہے، محکمہ جات بھی قائم ہیں۔ مسائل کا گلہ دبانے کے لیے مجاز افسران بھی ہیں،قدغن لگانے، جرائم کی روک تھام، عوامی شکایات کے ازالے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارے اور منتخب نمائندے بھی موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سسٹم ڈلیور نہیں کررہا،عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔ کیوں نہیں مل رہا؟

اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں سب سے بڑی وجہ اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلی ہے، مرکز صوبوں اور صوبے اضلاع کو اختیارات منتقل نہیں کر رہے۔ یہ عجیب تضاد ہے اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعہ وفاق سے صوبوں کو اختیارات تومنتقل کر دئیے گئے۔ مگرمرکزی حکومتیں مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل کرنے سے پہلو تہی کررہی ہیں۔ حالانکہ یہ ایک ایسا قانونی تقاضا ہے جس کی صراحت آئین کرتا ہے، صوبے پابند ہیں وہ مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے ضروری قانون سازی کریں۔ منتخب اداروں کو درکار ضروری وسائل اور انتظامی اختیارات تفویض کریںتا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات میسر ہو سکیں۔ اس حقیقت سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ مقامی حکومتوں کا نظام اپنی فعالیت، اثر پذیری اور مثبت نتائج کیاعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اختیارات کی عدم مرکزیت کا اصول اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح ہے جس کے تحت وفاقی اکائیوں کو 1973 آئین میں دی گئی ضمانت کے تحت بالآخر خودمختاری تو دے گئی۔

National Assembly
National Assembly

لیکن اراکین قومی اسمبلی اپنی اصل ذمہ داری یعنی قانون سازی سے زیادہ افتتاحی تختیاں لگوانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دے کر ٹھیکیداری کا چسکا لگادیا گیا۔ کمیشن کے نام پر کمائی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہے حقیقت یہ ہے مقامی حکومتوں کے قیام کی راہ میں رقم بٹورنے کے سواکوئی دوسری رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ یوں صوبوں میں برسراقتدار ریاستی جماعتیں وفاق سے اپنے لیے تو مزید اختیارات اور وسائل کی فراہمی پر اصرار کرتی ہیں، لیکن انہیں شاید یہ گوارا نہیں کہ مقامی سطح پر عوام اپنی تقدیر کے مالک خود بن سکیں۔ مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی میں پاکستانی جمہوریت کی مثال کسی ایسے درخت کی سی ہے جس کی جڑیں دھرتی میں پیوست ہی نہیں۔ یہ طے ہے حکومتوں کی کامیابی عوامی مسائل کے ادراک اور حل میں ہے۔ جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک حکومت مضبوط نہیں ہو سکتی۔

ضرورت اس امر کی ہے حکومت کو جہاں اپوزیشن جماعتوں سے بے تحاشاتنقید کا سامنا ہے وہاں اگر وہ کھلے دل سے سوچے۔ وہ اس ملک، اس عوام کے مسائل کے حل کا بیڑا حقیقی معنوں میں اٹھا لے۔ وہ اختیارات کی حقیقی منتقلی یقینی بنا دے۔ وہ بلدیاتی انتخابات کراکر اس کے ثمرات کو عام آدمی تک پہنچا دے تو مجھے یقین ہے حکومت ہر طرح کے سیاسی بحران سے نکل آئے گی۔ اس سے نظام بھی مضبوط ہو گا۔

Riaz Jazib
Riaz Jazib

تحریر: ریا ض جاذب
riazjazib@gamil.com

Share this:
Tags:
delayed government Judiciary Municipal elections Punjab Sindh بلدیاتی انتخابات پنجاب تاخیر حکومت سندھ عدلیہ
Previous Post دہشت گردوں کی شناخت میں مدد دینے والے کیلئے انعام مقرر
Next Post بھارت پاکستان کو اندرونی و بیرونی جارحیت کا نشانہ بنا رہا ہے‘ ایم آر پی
Jashne Azadi Cermoney

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close