Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مقصد حیات۔۔ ۔۔!

February 19, 2015 0 1 min read
Purpose Life
Purpose Life
Purpose Life

تحریر : عمران احمد راجپوت
قارئین دنیا میں انسان جب تک اپنی حقیقت کو نہیں سمجھ پائے گا وہ گمراہیوں کے گھپ اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔ قارئین جب کسی بھی حقیقت یا سچائی کا علم جاننا ہوتا ہے تو دوہی عوامل کے ذریعے اُسے صحیح طور پر جانا اور پہنچانا جاتا ہے۔ یعنی ایک تو اُس کی ابتداء سے شروعات کر کے صحیح حقیقت اور صحت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے یا پھر اُس کی صحیح حقیقت اُس کے تخلیق کارسے معلوم کی جاسکتی ہے ۔دونوں ہی راستے عمدا اور قابلِ بھروسہ ہوا کرتے ہیں۔اور اگر یہ دونوں راستے ایک ہی حقیقت بیان کررہے ہوں تو سمجھیں کے کامیابی مل گئی ۔ پس اسی طرح انسان بھی ان دو راستوں پر چلتے ہوئے اپنے مقصدِ حیات کوپہنچ سکتاہے اور اپنی علمی تحقیق و ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی وہ شناخت کھوج سکتا ہے جو اُس کے تخلیق کار نے اسے اشرف المخلوقات کہہ کر علم و تحقیق کے دروازے اُس کے لئے کھول دیئے ۔ قارئین ہم نے سوچا اِس موضوع پر ایک مفصل بحث کریں اور اپنے قلم کوپُرذور جنبش دیںتاکہ شعورِ آگاہی قارئین تک پہنچا ئی جا سکے لیکن پچھلے دنوں ہمیں علامہ نیاز فتح پوری صاحب کی کتا ب من و یزداں پڑھنے کا موقع ملاجس میں تقریباً تفصیل کے ساتھ اِس موضوع پر گفتگو کی گئی ہے جومیرے لئے کافی سحر انگیز ثابت ہوئی ،ہم سمجھتے ہیں یہ کتاب شعورِ انسانی کے لئے ایک نایاب تحفہ ہے ہم اپنے قارئین کو رائے دینگے وہ اس کتاب کا ایک بار ضرور مطالعہ کریں لہذاخاکسارنے سوچا کہ ہمارا قلم اس طرح مفصل اور لائق تحسین گفتگوں قارئین کے سامنے پیش نہ کرسکے گا۔ تو کیوں نہ ہم علامہ صاحب کے قلم سے نکلی اُس حقیقت کا کچھ حصہ موضوع کی مناسبت سے اپنے قارئین کے سامنے رکھیں جو کہ خدمتِ انسانی کے ساتھ ساتھ ایک قابل تحسین قدم ہے ۔ لہذاہم نے کچھ تصریحات کے ساتھ علامہ صاحب کے قلم سے لکھی ایک نایاب تحریر آپ قارئین کو پیش کر رہے ہیں۔

قارئین اکثر لوگوں کے ذہین میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ خدا نے دنیا کو کیوں پیدا کیا۔۔؟ قارئین یہ سوال خالص مذہبی ہے،یعنی یہ جستجو اُسی شخص میں پیدا ہوسکتی ہے جو خدا کے وجود کا قائل ہے اور اُسکا پایا جانا تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ایک سوچ منکر ِ خدا (ملحد)کی بھی ہے، اور جو منکرِ خدا ہے وہ کون اور کس نے کی گفتگو نہیں کرتا بلکہ اُس کی تلاش یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم کیونکر ظہور میں آیا اور اس کے اندر انسان کی حیثیت کیا ہے۔جب کہ اس کے برعکس ایک پابند مذہب انسان چونکہ خدا کو بالکل اُسی طرح خالق و مالک مانتا ہے جو ہر شے پر قادر ہے جس نے “کُن فیاکُن” کے ذریعے پل بھر میں جو چاہا بنادیا جب چاہا مٹادیا ۔ اس لئے اصولاً اس کے سامنے کیونکر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ ایک قادر و مطلق اور مختارِکل ہستی کو ہر وقت قدرت و اختیار حاصل ہے کہ جب چاہے بغیر کسی ذریعہ سبب کے اپنے ارادہ سے ہزار عالم پیدا کردے اور جب اُس کے جی میں آئے آناً فاناً محو کردے۔ لیکن ایک منکر چونکہ دنیا کی پیدائش کو کسی ہستی کے ارادہ سے متعلق نہیں سمجھتا بلکہ اُس کو مخصوص اسباب سے وابستہ جانتا ہے اور تدریجی ارتقاء کا قائل ہے اِس لئے لا محالہ اُسے غور کرنا چاہئے کہ اصول آفرینش کیا ہیں اور کن اسباب کے تحت کائنات نے موجودہ شکل اختیار کی ہے۔

لیکن بہر حال اس بات میں ایک مذہبی انسان کا نقطہ نظر منکر کے نقطہ نظر سے بالکل علیحدہ اور واضح ہے اس لئے اگر مندرجہ بالا سوال دونوں کے سامنے پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ دونوں کا جواب ایک دوسرے سے مختلف ہوگا۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا واقعی دونوں اس سوال کا جواب دینے کے اہل ہیں ۔۔؟ ایک مذہبی شخص جو پیدائش ِ عالم کے لئے کسی علت و سبب کے وجود کو ضروری نہیں سمجھتا وہ نتیجہ و غایت پر غورو فکر کرنے کا مستحق کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔یعنی جب اس نے یہ تسلیم کرلیا کہ خدا قادر مطلق ہے وہ جو چاہے پیدا کردے اور جب چاہے فنا کردے تو پھر کیوں کا سوال کیسا۔۔اس قسم کی چوں چراں تو اسباب و علل سے متعلق ہوا کرتی ہے اور جب وہاں سِرے سے اُس کا انکار کیا جاتا ہے تو استفسار کیونکر ہوسکتا ہے۔؟ البتہ ایک منکر خدا کے متعلق خیال ہوسکتا ہے کہ اُس نے اس پر غور کیا ہوگا۔ لیکن اگر انصاف سے پوچھئے تو کہنا پڑے گا اِس “کیوں” کا جواب نہ خدا کا اقرار کرنے والا دے سکتا ہے نہ انکار کرنے والا ۔ کیونکہ جس طرح مذاہب نے بہت سے رازوں سے پردہ نہیں اٹھایا اُسی طرح سائنس بھی ابھی تک بہت سے معمہ کو حل نہیں کرسکی۔ یعنی اگر ایک پابند ِ مذہب شخص یہ نہیں بتا سکتا کہ کائنات کے پیدا کرنے سے خدا کا کیا مقصود ہے تو بڑے سے بڑا سائنسداں بھی نہیں بتا سکتا کہ مادہ و قوت کے اس ہیجان کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ لیکن قارئین کس قدر حیرت ناک بات ہے کہ ان رازوں کا معمہ حل نہ کرنے کے باوجود دونوں اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اصرار کرتا ہے کہ وہی حق پر ہے اُسی کی بات سچ ہے حالانکہ اِن میں سے کسی کے پاس کوئی ادانیٰ دلیل بھی اس دعوے کے لئے موجود نہیں ۔ قارئین جہاں تک دنیا میں اہلِ مذاہب کی بات ہے تو اُن میں ایک جماعت تو علماء ظواہر کی ہے جو اپنے آپ کو مخصوص شریعت کا پابند کہتے ہیں اور جو مذاہب کو صرف ان کتابوں سے سمجھنا چاہتے ہیں جو اُن کے بعدمیں آنے والے اسلاف لکھ گئے ہیں اور جن کی بناء پر سوسائٹی کا نظام مقرر کیا جاتا رہاہے۔ دوسری جماعت اہلِ تصوف کی ہے جنھوںنے اپنے مسلک کا نام شریعت نہیں بلکہ طریقت رکھا ہے۔ اور جو تمام مسائل کو روحانیت سے سمجھنا اور سمجھانا چاہتے ہیں ، مسلمانوں میں موجوداول الذکر جماعت کے پاس اس سوال کا کھلا ہوا جواب موجود ہے اگر وہ اِس طرف دھیان دیں تو اُن کو زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن نے کھلے ہوئے الفاظ میںواضح طور پر اس سوال کا جواب دیا ہے (یعنی ہم نے انسان و جنات کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ عبادت کریں۔۔القرآن) اوراگر آج لفظ عبادت کی صحیح کیفیت و ہیئت متعین ہوجائے تو ایک مسلمان کے پاس اِس سوال کا جواب دینا کوئی مشکل نہیں رہے گا۔ قارئین یہی وہ نقطہ ہے جس کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر کسی بھی طرح اِس نقطے کی الجھی گدھی کو سلجھالیا جائے تو دنیائے عالم میں مثبتِ انسانی کا ایسا انقلاب برپا ہوجائے کہ شاید پھر کسی تحریکِ جادواں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

Islam
Islam

عام طور پر عبادت کا مفہوم نہ صرف اسلام بلکہ تمام دیگر مذاہب میں وہی ہے جسے پوجا پاٹ یا پرستش سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ دنیا میں کوئی فعل ارادہ اور نتیجہ سے بے نیاز نہیں ہوسکتا اس لئے ہر شخص کا خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو فطری حق ہے کہ وہ ان دونوں باتوں پر غور کرے ، یعنی یہ کہ وہ کس ارادہ و نیت سے خدا کی پوجا کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ جو غرض و غایت اس نے سمجھ رکھی ہے وہ عبادت سے کس حد تک پوری ہوتی ہے۔ مذہبی اقوام میں بلا استشنا ء کوئی قوم ایسی نہیں ہے جو اس ارادے و نیت سے عبادت نہ کرتی ہو کہ اُس سے خدا خوش ہوگا۔ اور وہ ہماری مشکلات کو دور کرے گا پھر اگر واقعی کبھی کسی کے مصائب دور ہوجاتے ہیں تو وہ اس کو اُسی عبادت کا نتیجہ خیال کرتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ اپنے آپ کو ہی موردِ الزام ٹھہراتا ہے کہ صحیح طور پر جو حق ِ عبادت کرنے کا تھا وہ ادا نہ کرسکا۔ جس بنا پر خدا کی خوشنودی حاصل نہ ہوسکی،قارئین اس بات میں شک نہیںکہ جس حد تک انسان کے جذبات و تاثرات کا تعلق ہے اِس خیال سے اُس انسان کو کافی تسکین ملتی ہے اور وہ مایوسی کا مقابلہ آسانی سے کرسکتا ہے لیکن جب سوال جذبات کی دنیا سے علیحدہ ہوکر صرف علمی تحقیق کا ہوتا ہے یا کسی ایسے شخص کی تسکین کا جو کسی شے کا وجود بغیر علت و دلیل سے ماننے کے لئے تیار نہیں تو لا محالہ غور کرنا پڑتا ہے کہ عبادت سے خدا کا خوش ہونا کیا معنی رکھ سکتا ہے اور خدا کی خوشی یا رضامندی کا ہمارے دنیاوی حالات و اسباب سے کیا تعلق ہے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے حقیقتِ خدا کا مسئلہ سامنے آتا ہے یعنی یہ کہ جب تک ہم کو پہلے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ خدا کیا ہے اُس کے وجود کی حقیقت کیا ہے اُس وقت تک نہ ہم عبادت کی کوئی علمی توجیہہ کرسکتے ہیں اور نہ اس سے کسی نتیجے کے پیدا ہونے پر حکم لگا سکتے ہیں۔

قارئین خدا کے متعلق انسان کا اولین تصور بالکل وہی ہے جو دنیا کے کسی مستبد بادشاہ و حکمراں کے متعلق ہوسکتا ہے، یعنی خوشامد و تعلق سے خوش ہونا ، تحائف و نذرانہ قبول کرکے نظرِ خاص رکھنا اور سرتابی و نافرمانی کرنے والے سے غضب ناک ہوکر سزائیں دینا ۔ اس میں شک نہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ نفس خدا کی ماہیت و حقیقت پر بعض مذاہب کے خیالات زیادہ بلند و لطیف ہوگئے ہیں۔ لیکن جس حد تک پرستش کا تعلق ہے خدا کی ہستی اب بھی وہی خوش یا ناخوش ہوجانے والی بتائی جاتی ہے اور اپنے بندوں کو سزا یا انعام دینے سے بدستور دلچسپی رکھتی ہے۔ ایک طرف تو یہ بتایا جاتا ہے کہ خدا زماں و مکاں سے علیحدہ احساس و تاثیر سے بیگانہ اور بے نیاز مطلق ہے اور دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ وہ برہمی و خوشنودی کا محل ہے اور انعام و انتقام کا جذبہ اس کے اندر پایاجاتا ہے، میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایک ہی وقت میں خدا کو دو متضاد صفات کے ساتھ جوڑنا کس طرح ممکن ہے اور اِس کی خوشنودی یا برہمی کیا معنی رکھ سکتی ہے جبکہ وہ خود نہ کسی چیز سے متاثر ہوتا ہے اور نہ اُسے پوجا پاٹ یا پرستش کی ضرورت ہے۔بعض اہلِ مذہب کہتے ہیں کہ عبادت سے خدا کو خوش کرنے کا مفہوم خود اپنی اصلاح ہے ،جو بالکل درست بات ہے، لیکن یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ عبادت سے جو اپنی اصلاح وابستہ ہے وہ ہمارے اعمال و افعال سے بھی کوئی تعلق رکھتی ہے یا نہیں۔۔؟ یعنی محض ہمارا عبادت کرلینا کافی ہے یا اُسی کے ساتھ اپنی زندگی میں بھی تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ظاہر ہیکہ محض عبادت خواہ کسی صورت میں ہو بے کار ہے اگر وہ ہمارے اخلاق و اعمال پر اثر انداز نہیں ہوتی، اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ عبادت کا مدعا اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنا ہے اور اُسی کو خدا کی خوشنودی سے تعبیر کیا گیا تاکہ لوگوں کو اس طرف توجہ ہو اور وہ اُسے ترک نہ کربیٹھیں۔

بظاہر یہ بیان بہت دانشمند اور پر اثر ظاہر ہوتا ہے، لیکن اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ انسان کی اصل گمراہی یہ ہے چونکہ اہلِ مذہب نے ہمیشہ یہی لوگوں کو سمجھایا کہ خدا کی خوشنودی ہی حاصل کرنا عین مدعا ہے اس لئے یہ بات کبھی ان کے ذہین میں آئی نہیں کہ عبادت کا تعلق خود اپنی اصلاح اعمال سے ہے اور اگر ہم اپنی زندگی میں کوئی تغیر نہ پیدا کریں تو عبادت بیکار ہے۔ اس کا نتیجہ ایک طرف تو یہ ہوا کہ عبادت نام قرار دیا گیا صرف چند مخصوص حرکات و مراسم کا اور دوسری طرف لوگوں کے اخلاق پر یہ خراب اثر پڑا کہ خدا کو عبادت سے خوش رکھنے کے اعتماد پر وہ دنیا وی معاملات میں ہر قسم کے بد عنوانی پر آمادہ ہوگئے اور اخوت انسانی و ہمدردی کا جذبہ جو نظامِ تمدن کی جان ہے اُن کے اندر ضعیف ہونے لگا۔اگر اس امر پر زور دیا جاتا کہ خدا تمھاری عبادت سے خوش نہیں ہوتا بلکہ تمھاری اصلاح و ترقی سے خوش ہوتا ہے اور عبادت کا مدعا بھی یہی ہے تو شاید دنیا کی حالت آج دوسری ہوتی۔۔۔۔۔ہر چند بعض عبادت کی ماہیت و غایت بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعلان بار بار کیا ہے لیکن چونکہ عبادت و پرستش میں حیات بعد الموت کی راحت کا خیال بھی شامل کردیا گیا ، اس لئے اس دنیاوی زندگی میں اس کا نتیجہ خاطر خواہ برآمد نہیں ہوا اور عام طور پر لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اصل زندگی تو مرنے کے بعد ہی شروع ہوگی اور چونکہ عبادت کے بعد دِلی اطمینان ہوہی گیا ہے اس لئے دو روزہ زندگی کی اصلاح میں کیا سرکھپا یا جائے ۔قارئین میری رائے میں انسان اور انسانیت کے لئے یہی سب سے خطرناک بات ہے کہ یہ دنیا فانی ہے انسان فانی ہے اور بقا اُس زندگی کو حاصل ہے جو مرنے کے بعد شروع ہوگی اور اسی کو سنوارنے کی ضرورت ہے گویا انسانوں کا یہ اجتماع سرائے کے مسافروں کا اجتماع ہے جسے صبح یا شام منتشر ہوجانا ہے پھر ظاہر ہے کہ جب تعلیم یہ ہوگی تو انسانوں میں آپس میں کیا ہمدردی پیدا ہوسکتی ہے اور دنیاوی زندگی کی ترقی و اصلاح کے لئے کون سا جذبہ کام کر سکتا ہے۔

Imran Ahmad Rajpoot
Imran Ahmad Rajpoot

تحریر : عمران احمد راجپوت
Email:alirajhhh@gmail.com
کراچی

Share this:
Tags:
life man nature pen purpose reality service World انسان حقیقت حیات دنیا قدرت قلم مقصد
Peshawar– Breaking News – Geo
Previous Post پشاور میں تین افراد کی لاشیں ملی ہیں، جنہیں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
Next Post مظفر گڑھ : گد پور کے علاقے میں پانی کا پائپ ہائی ٹرانسمیشن لائن سے ٹکرا گیا، 7 مزدور کرنٹ لگنے سے جاں بحق۔
Muzaffargarh– Breaking News – Geo

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close