Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ممتاز قادری توہین رسالت اور اعلیٰ عدلیہ

March 16, 2016 0 2 min read
Malik Mumtaz Qadri,
Malik Mumtaz Qadri,
Malik Mumtaz Qadri,

تحریر: ظفر اعوان ایڈووکیٹ
مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ، سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بنچ کے سربراہ تھے ، جس نے ملک ممتاز قادری کیس میں ، وفاقی حکومت ( ھاں ! اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی حکومت ! ( جس کا دین ، آئین کے آرٹیکل ٢ کے مطابق اسلام ہے ) کی اپیل منظور اور ملک ممتاز قادری کی اپیل نا منظور فرمائی ، فیصلہ بھی بنچ کے سربراہ کا تحریر کردہ ہے ۔ مذکورہ فیصلے میں کیا ہے اور کیا نہیں ، اس کا ہم انشا ء اللہ تفصیل سے جائزہ لیں گے لیکن اس فیصلے کا مطالعہ کرتے ہوئے ، کوئی بھی شخص ابتدا ہی میں کھٹک جاتا ہے ، جب وہ دیکھتا ہے کہ فیصلے کا آغاز ہی اللہ تعالیٰ کے مقدس و متبرک نام سے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ فیصلہ یوں شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔Almighty Allah has ordained in the holy Quran that upon reciept of a news or information the men of faith ought to ascertain correctness of such news or information before they may act upon the same and that harm may be avoided if such news or information is got investigated in the first place.The following verses of the holy Quran are relevant in this regard :۔

۔ ازین بعد ، سورہ حجرات کی آیت ٦ ، سورہ نسا کی آیت ٩٤ اور سورہ نسا کی آیت ٨٣ کا انگریزی ترجمہ نقل کیا گیا ہے ۔( متعلقہ قرانی آیات کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں !)
۔سورہ الحجرات ، آیت ٦:مومنو !اگر کوئی بد کردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو ! کہ کسی قوم کو نادانی سے نقسان پہنچا دو پھر تم کو اپنے کئے پہ نادم ہونا پڑے۔سورہ النسا : آیت :٩٤۔۔مومنو ! جب تم خدا کی راہ میں نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرواور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو !سو خدا کے نزدیک بہت سی غنیمتیں ہیں ، تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو آئندہ تحقیق کر لیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو ، خدا کو سب کی خبر ہے !سورہ النسا : آیت نمبر ٨٣: اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند خاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہو جاتے۔

سورہ الحجرات کی مذکورہ بالا ّیت کی تفسیر و تشریح و پس منظر ( تفہیم القران جلد پنجم از سید ابو الاعلیٰ مودودی )یہ ہے کہ ولد بن عقبہ کو بنی المصطلق سے زکواة وصول کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ان کے علاقے میں پہنچے تو کسی وجہ سے ڈر گئے اور اھل قبیلہ سے ملے بغیر مدینہ واپس جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کردی کہ انہوں نے زکواة دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے ۔حضورۖ یہ خبر سن کر سخت ناراض ہوئے اور آپۖ نے ارادہ کیا کہ ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے دستہ روانہ کریں ۔بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ ۖ نے وہ دستہ روانہ کردیا تھا اور بعض میں یہ بیان ہوا ہے کہ آپ ٫ۖ روانہ کرنے والے تھے بہر حال اس بات پر سب متفق ہیں کہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ضرار ( ام المومنین حضرت جویریہ کے والد ) اس دوران میں خود ایک وفد لے کر حضورۖ کی خدمت میں پہنچ گئے اور انہوں نے عرض کیا کہ خدا کی قسم ! ہم نے تو ولید کو دیکھا تک نہیں کجا کہ زکواة دینے سے انکار اور ان کے قتل کے ارادے کا کوئی سوال پیدا ہو ، ہم ایمان پر قائم ہیں اور ادائے زکواة سے ہمیں ہرگز انکار نہیں ہے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

Abul Ala Maudud
Abul Ala Maudud

سید مودودی رقمطراز ہیں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نازک موقع پر جبکہ ایک بے بنیاد خبر پر اعتماد کر لینے کی وجہ سے ایک عظیم غلطی ہوتے ہوتے رہ گئی ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اصولی ہدایت دی کہ جب کوئی اہمیت رکھنے والی خبر جس پر کوئی بڑا نتیجہ مترتب ہوتا ہو ، تمہیں ملے تو اس کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ خبر لانے والا کیسا آدمی ہے ۔اگر وہ کوئی فاسق شخص جس کا ظاہر حال یہ بتا رھا ہو کہ اس کی بات اعتماد کے لائق نہیں ہے تو اس کی دی ہوئی خبر عمل کرنے سے پہلے تحقیق کر لو کہ امر واقعہ کیا ہے ۔سید مودودی مزید لکھتے ہیں :۔۔۔۔۔۔۔۔فاسق کی گواہی قابل قبول نہیں ہے ۔البتہ اس امر پر اھل علم کا اتفاق ہے کہ عام د نیوی معاملات میں ہر خبر کی تحقیق اور خبر لانے والے کے لائق اعتماد ہونے کا اطمینان کرنا ضروری نہیں ہے ، کیونکہ آیت میں لفظ ۔۔نبا ۔۔ استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق ہر خبر پر نہیں ہوتا بلکہ اہمیت رکھنے والی خبر پر ہوتا ہے ۔ اسی لئے فقہا کہتے ہیں کہ عام معاملات میں یہ قاعدہ جاری نہیں ہوتا ۔ مثلا آپ کسی کے ھاں جاتے ہیں اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں ۔اندر سے کوئی آکر کہتا ہے کہ آجائو ۔آپ اس کے کہنے پر اندر جا سکتے ہیں ، قطع نظر اس سے کہ صاحب خانہ کی طرف سے اذن کی اطلاع دینے والا فاسق ہو یا صالح ۔ اسی طرح اھل علم کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ جن لوگوں کا فسق جھوٹ اور بد کرداری کی نوعیت کا نہ ہو ، بلکہ فساد عقیدہ کی بنا پر وہ فاسق قرار پاتے ہوں ، ان کی شہادت بھی قبول کی جا سکتی ہے اور روایت بھی ۔محض ان کے عقیدے کی خرابی ان کی شہادت یا روایت قبول کرنے میں مانع نہیں ہے ۔۔۔۔

سورہ النسا :آیت ٩٤ کی تفسیر و تشریح اور پس منظر :۔۔۔۔۔۔۔۔۔سید مودودی ( تفہیم القران جلد اول ) اس آیت کی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں :۔۔۔۔۔۔۔ابتدائے اسلام میں ۔۔۔۔ السلام علیکم ۔۔۔۔۔ کا لفظ مسلمانوں کے لئے شعار اور علامت کی حیثیت رکھتا تھا اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دیکھ کر یہ لفظ اس معنی میں استعمال کرتا تھا کہ میں تمہارے ہی گروہ کا آدمی ہوں ، دوست اور خیر خواہ ہوں ، میرے پاس تمہارے لئے سلامتی و عافیت کے سوا کچھ نہیں ہے ، لہٰذا نہ تم مجھ سے دشمنی کرو اور نہ میری طرف سے عداوت اور ضرر کا اندیشہ رکھو! جس طرح فوج میں ایک لفظ شعار یا Passwordکے طور پر مقرر کیا جاتا ہے اور رات کے وقت ایک فوج کے آدمی ایک دوسرے کے پاس سے گزرتے ہوئے اس غرض کے لئے استعمال کرتے ہیں کہ فوج مخالف کے آدمیوں سے ممیز ہوں ، اسی طرح سلام کا لفظ بھی مسلمانوں میں شعار کے طور پر مقرر کیا گیا تھا ۔خصوصیت کے ساتھ اس زمانہ میں اس شعار کی اہمیت اس وجہ سے اور بھی زیادہ تھی کہ اس وقت عرب کے نو مسلموں اور کافروں کے درمیان لباس ، زبان اور کسی دوسری چیز میں کوئی نمایاں امتیاز نہ تھا جس کی وجہ سے ایک مسلمان سرسری نظر میں دوسرے مسلمان کو پہچان سکتا ہو۔

لیکن لڑائیوں کے موقع پر ایک عجیب پیچیدگی یہ پیش آتی تھی کہ مسلمان جب کسی دشمن گروہ پر حملہ کرتے اور وہاں کوئی مسلمان اس لپیٹ میں آجاتا تو وہ حملہ آور مسلمانوں کو یہ بتانے کے لئے کہ وہ بھی ان کا دینی بھائی ہے ، السلام علیکم ۔۔ یا ۔۔ لا الہ الا اللہ۔۔ پکارتا تھا ، مگر مسلمانوں کو اس پر یہ شبہ ہوتا تھا کہ کہ یہ کوئی کافر ہے جو محض جان بچانے کے لئے حیلہ کر رھا ہے ، اس لئے بسا اوقات وہ اسے قتل کر بیٹھتے تھے اور اس کی چیزیں غنیمت کے طور پر لوٹ لیتے تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہر موقع پر نہایت سختی کے ساتھ سرزنش فرمائی ۔ مگر اس قسم کے واقعات برابر پیش آتے رھے ۔آخر کار اللہ تعالیٰ نے قران مجید میں اس پیچیدگی کو حل کیا ۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کی حیثیت سے پیش کر رھا ہے اس کے متعلق تمہیں سرسری طور پر یہ فیصلہ کردینے کا حق نہیں ہے کہ وہ محض جان بچانے کے لئے جھوٹ بول رھا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سچا ہو اور ہو سکتا ہے کہ جھوٹا ہو ۔حقیقت تو تحقیق ہی سے معلوم ہو سکتی ہے ۔تحقیق کے بغیر چھوڑ دینے میں اگر یہ امکان ہے کہ ایک کافر جھوٹ بول کر جان بچا لے جائے ، تو قتل کردینے میں اس کا امکان بھی ہے کہ ایک مومن بے گناہ تمہارے ھاتھ سے مارا جائے ۔اور بہر حال تمہارا ایک کافر کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بدرجہا زیادہ بہتر ہے کہ تم ایک مومن کو قتل کرنے میں غلطی کرو ۔

سورہ النسا ،آیت نمبر ٨٣ کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے سید مودودی رقمطراز ہیں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چونکہ ہنگامہ کا موقع تھا اس لئے ہر طرف افواہیں اڑ رھی تھیں ۔ کبھی خطرے کی بے بنیاد مبالغہ آمیز اطلاعیں آتیں اور ان سے یکایک مدینہ اور اس کے اطراف میں پریشانی پھیل جاتی ۔کبھی کوئی چالاک دشمن کسی واقعی خطرے کو چھپانے کے لئے اطمینان بخش خبریں بھیج دیتا اور لوگ انہیں سن کر غفلت میں مبتلا ہوجاتے ان افواہوں میں وہ لوگ بڑی دلچسپی لیتے تھے جو محض ہنگامہ پسند تھے ، جن کے لئے اسلام اور جاہلیت کا یہ معرکہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ تھا ، جنہیں کچھ خبر نہ تھی کہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ افواہیں پھیلانے کے نتائج کس قدر دور رس ہوتے ہیں ۔ان کے کان میں جہاں کوئی بھنک پڑ جاتی اسے لے کر جگہ جگہ پھونکتے پھرتے تھے ۔انہی لوگوں کی اس آیت میں سرزنش کی گئی ہے اور انہیں سختی کے ساتھ متنبہ فرمایا گیا ہے کہ افواہیں پھیلانے سے باز رہیں اور ہر خبر جو ان کو پہنچے ، اسے ذمہ دار لوگوں تک پہنچا کر خاموش ہوجائیں ۔

2۔مذکورہقرآنی آیات کے حوالے کا مقصد؟: فیصلے کی عین ابتدا میں ان قرآنی آیات کے حوالے کا مقصد کیا تھا ؟ اور ان آیات سے مسٹر جسٹس کھوسہ کی دانست میں کیا ظاہر ہوتا ہے ؟ یہ قرن سے رھنمائی تھی یا قرآن کا ۔۔۔استعمال۔۔۔تھا؟معاملہ چونکہ قرآن کا ہے ، اس لئے ہم کوئی لگی لپٹی رکھے اور کسی معذرت کے بغیر یہ عرض کریں گے کہ مذکورہ قرآنی آیات کا مفہوم وہ نہیں جو مسٹر جسٹس کھوسہ نے نکالا ہے اور مکمل فیصلے کے تناظر میں یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں کہ وہ ملکی آئین اور قانون کے پابند ہیں اور دیگر کسی قانون کے نہیں ( اگرچہ ان کی یہ بات بھی غلط ہے ) لیکن فیصلے کی بنیاد مذکورہ قرنی آیات ( اپنی من مانی تعبیر کی رو سے ) کو بناتے ہیں ، اسی طرح یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ہمیں توہین رسالت وغیرہ جیسے معاملات میں جیورسڈکشن نہیں ہے

Quran
Quran

یہ وفاقی شرعی عدالت یا اسلامی نظریاتی کونسل کو حاصل ہے ، اور دوسری طرف سارے فیصلے کی بنیاد مذکورہ قرآنی آیات ( ان کی من مانی تعبیر ) پر رکھتے ہیں ! ع: خرد کا نام جنوں رکھ دیا ، جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ! 3۔۔۔۔ ممتاز قادری کو مجرم قرار دینے کے لئے ، فیصلے کی ساری عمارت ، سورہ الحجرات کی آیت ٦ کی من پسند تشریح پر کھڑی ہے ۔ مسٹر جسٹس کھوسہ نے قرآن کی مذکورہ آیت کو ۔۔۔ استعمال ۔۔۔ کر کے یہ فرض کر لیا کہ ( الف ) سلیمان تاثیر کی شاتم رسولۖ ہونے کی خبر غلط تھی ! ( ب ) ممتاز قادری نے اس خبر کی کوئی تحقیق نہیں کی ! ۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھنے سے پیشتر ، مذکورہ سورت کی آیت چھ کی طرف آئیے!اردو زبان میں استعمال ہونے والا لفظ ۔۔فاسق۔۔۔ عربی زبان کا۔۔۔۔ ہے اور اس کے ، معلوم و معروف معانی ہر کوئی جانتا ہے ۔ہم نے اس آیت کی تشریح کے لئے تفہیم القران سے رجوع کیا ہے لیکن خواہ کسی بھی کتاب تفسیر سے رجوع کر لیا جائے ، فاسق اور نبا کے معانی تبدیل نہیں ہو سکتے ۔فاسق کے معنی بد کردار ( اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ) کے ، اور ، نبا کے معانی کسی ۔۔ اہم خبر۔۔۔ کے ہیں ۔پس مختصر ترین لفظوں میں مذکورہ قرآنی آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو ۔ اب وہ ۔۔۔ اہم خبر ۔۔۔ کیا تھی ؟ اور لانے والا فاسق کون تھا ؟یہ معلوم کرنے کے لئے ، متعلقہ زمانی عرصہ ( چار جنوری سن دو ہزار دس سے قبل کا عرصہ ) کے حالات و واقعات کا جائزہ لیتے ہیں ۔

۔
4. ۔ نومبر2010میں سیشن کورٹ ننکانہ صاحب نے ایک 45سالہ عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالتۖ کے جرم میں موت کی سزا سنادی ۔جسکے خلاف آسیہ بی بی نے ، بعد ازاں ، عدالت عالیہ لاہورمیں اپیل دائر کی جس کی ابھی سماعت نہیں ہوئی تھی کہ آسیہ بی بی کی سزائے موت کے فیصلے پر پاکستان کے لا دین اور نام نہاد روشن خیال عناصر اور مغربی دنیا نے زبردست رد عمل کا اظہار شروع کردیا ۔ مغرب کے زبردست دبائو کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ نے اس سلسلے میں باقاعدہ بیان جاری کیااور آسیہ بی بی سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی اور توہین رسالتۖ کے قانون کی تنسیخ کا مطالبہ کیا۔۔۔ حالانکہ صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی اس ناپاک منصوبے پر پہلے ہی جاں فشانی سے عمل کر رہے تھے اور اگر ناگہانی طور پر آسیہ بی بی کا واقعہ رونما نہ ہواہوتا تو وہ اپنی اتحادی جماعتوں اور اپنے قابل اعتماد حلیف نواز شریف کی مدد سے اسے عملی جامہ پہنا چکے ہوتے ۔ آسیہ بی بی کے واقعے پر مغربی دنیا کے رد عمل ، پوپ کے مطالبے اور امریکی و یورپی حکومتوں کے براہ راست دبائو کو قبول کرتے ہوئے زرداری اور گیلانی انتہائی تابعداری اور وفادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حرکت میں آگئے اور زرداری ١ نے مقتول گورنر پنجاب کو شیخو پورہ جیل بھیجا ، متعلقہ خبر ملاحظہ فرمائیے !

٢١ء نومبر ( جنگ راولپنڈی ) گورنر پنجاب نے صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ کا دورہ کیا اور سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی سے ملاقات کرکے رحم کی اپیل حاصل کی تا کہ اسے فوری طور پر صدرمملکت کو بھجوایا جا سکے اور کرسمس سے قبل آسیہ کو رھائی مل جائے ۔ذرائع کے مطابق آسیہ کو رھائی کے بعد خاندان سمیت بیرون ملک بھجوا دیا جائے گا ۔ زرداری کی ہدایت پر آنجہانی مسٹر سلمان تاثیر نے شیخوپورہ جیل کا دورہ کیا ، جیل کے اندر ایک پریس کانفرنس سجائی اور وہاں منجملہ دیگر خرافات کے اس سزا کو سخت اور ظالمانہ قرار دیا اور جس قانون کے تحت آسیہ بی بی کو سزا ہوئی تھی ، اسے کالا قانون قرار دیا ۔ زرداری نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اب تک اندرون خانہ جو کام ہو رھا تھا ، اسے آگے بڑھاتے ہوئے ، فی الفور قانون توہین رسالت ۖ میں تبدیلی و ترمیم کے لئے ایک کمیٹی قائم کردی اور مزید مضحکہ خیز حرکت یہ کی کہ اس کمیٹی کا سربراہ ایک غیر مسلم کو بنا دیا ، اس بارے میں روزنامہ جنگ راولپنڈی کے ٢٦ نومبر کے شمارے میں شائع شدہ خبر ملاحظہ فرمائیے!
٢٦ ء نومبر ۔ ( جنگ راولپنڈی ) صدر زرداری نے توہین رسالت پر عمل درآمد کے طریق کار میں اصلاحات کے لئے کمیٹی بنا دی ۔

کمیٹی کے سربراہ وزیر اقلیتی امور جبکہ نامور سکالرز اور ماہرین اس کے ارکان ہوں گے ، کمیٹی سیاسی جماعتوں اور فریقوں کی مشاورت کے بعد حکومت کو سفارشات پیش کرے گی ۔
اسلام باد ( نمائندہ خصوصی ) صدر آصف علی زرداری نے توہین رسالت قانون پر عمل درآمد کے طریق کار میں اصلاحات کے لئے کمیٹی قائم کردی ہے ۔کمیٹی میں نامور سکالرز اور ماہرین شامل ہوں گے ۔کمیٹی وزیر اقلیتی امور کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے ۔ادھر اقلیتوں کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی نے ایوان صدر میں آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور آسیہ بی بی کیس کے بارے میں صدر کو رپورٹ پیش کردی ۔آسیہ بی بی کو توہین رسالتۖ کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے ۔رپورٹ میں ایسی دستاویزات شامل ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آسیہ بی بی کے خلاف توہین رسالت کا کیس ذاتی عناد پر مبنی ہے ۔۔۔ِ،

Zardari
Zardari

5 زرداری کے اس ارادے اور فیصلے کے بعد کہ آسیہ بی بی کی سزا معاف کرکے اسے بیرون ملک بھجوا دیا جائے ، عدالت عالیہ لاہور سے رجوع کیا گیا ، متعلقہ خبر ملاحظہ فرمائیے !
٣٠ ء نومبر ( جنگ راولپنڈی ) آسیہ بی بی کیس زیر سماعت ہے حکومت رھائی کے لئے کوئی قدم نہ اٹھائے :لاہور ھائی کورٹ آسیہ کی سزائے موت کے خلاف معاملہ زیر سماعت ہے ، آرٹیکل ٤٥ کے تحت رھائی کے لئے اقدامات ہو رہے ہیں تو تا حکم ثانی انہیں روک دیا جائے ۔عدالت
مزید سماعت چھ دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی گئی ۔6۔ قانون توہین رسالت میں ترمیم کے لئے ( جسے عمل درآمد کے طریق کار میں اصلاحات کا پر فریب نام دیا جارہا تھا ) قائم کردہ کمیٹی کی طرف سے پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شیری رحمان نے بطور MEMBER INCHARGE ، کے پرائیویٹ ممبر بل ( جوزرداری ، گیلانی اینڈ کمپنی کی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے ) پیش کیا ، متعلقہ خبر ملاحظہ فرمائیے! ٣٠ نومبر ۔( جنگ راولپنڈی ) اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی ) پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شیری رحمان نے توہین رسالت ۖ کے قانون میں ترمیم کے لئے قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبر بل جمع کرا دیا ہے اور اس بل کے تحت سزائے موت پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھا کر اقلییتوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ توہین رسالت کے قانون میں ترامیم پر گفتگو کے لئے آج شیری رحمان کی صدارت میں ایک کانفرنس بھی منعقد ہوگی جس میں وکلا ، سول سوسائٹی اور دانشور شرکت کریں گے ۔
7۔ قانون توہین رسالت میں ترمیم ( جس میں قیامت تک کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا ) کے لئے ، شیری رحمان نے جو بل پیش کیا ، اس کی STATEMENT OF OBJECTIVES AND REASONS میں ترمیم کی غرض و غایت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ ایک ڈکٹیٹر کا نافذ کیا ہوا (MAN MADE LAW ) قانون ہے ، پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش ہونے والا بل اپنے CONTENTS کے اعتبار سے زرداری ، گیلانی اور ان کے ہم نوائوں کے دل کی آواز اور رو ح کی پکار تھا۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قانون توہین رسالت کا نفاذ ضیا الحق مرحوم کا کوئی کارنامہ نہیں ، بلکہ فیڈرل شریعت کورٹ کا کارنامہ ہے جس کا کریڈٹ سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ جناب اسماعیل قریشی کو جاتا ہے ۔

8۔ چار جنوری کو سلمان تاثیر ممتاز قادری کے ھاتھوں جہنم واصل ہو گیا ۔اوپر پیراگراف ٤ سے لے کر ٧ تک میں نقل کردہ خبریں کیا کسی ۔۔۔۔ فاسق ۔۔۔۔ کی لائی ہوئی یا پھیلائی ہوئی خبریں تھیں ؟ جن کی تحقیق ضروری تھی ؟کیا زرداری ، گیلانی ، تاثیر یا شیری سے جو کچھ اخبارات نے منسوب کیا ، وہ جھوٹ تھا ؟ کیا ان میں سے کسی نے بھی کبھی اس بات کی تردید کی کہ فلاں بات ہم نے نہیں کی یا فلاں کام ہم نے نہیں کیا ؟ کیا رائے عامہ اخبارت اور ذرائع ابلاغ سے BUILD نہیں ہوتی ؟ ممتاز قادری کو کس بات کی تحقیق کی ضرورت تھی ؟ کیا اس بات کی کہ تاثیر نے یہ سب کچھ نہیں کہا ؟ کیا اس بات کی کہ وہ بد کردار نہیں ؟ کیا اسے یہ علم ہوتے ہوئے کہ گورنر ھائوس میں شراب چلتی اور خنزیر پکتا ہے ، تاثیر کے بارے میں مزید کسی اطمینان کی ضرورت تھی ؟ ممتاز قادری کا مسئلہ ( کسی بھی دوسرے مسلمان کی طرح ) تحقیق کا نہیں ، موقع ملنے کا تھا ، جونہی اسے موقع ملا اس نے اپنا فرض ادا کردیا ۔ 9 ۔فیصلے کے پیرا گراف 1 میں مذکورہ قرآنی آیات کا حوالہ دینے کے بعد ، مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ یوں گوہر افشاں ہیں :۔۔۔۔

In the following paragraphs of this judgment it shall be highlighted as to i how the accused person in this case had acted on the basis of nothing but hearsay without getting his information ascertained , verified or investigated and, as Almighty Allah has warned , he has brought harm not only to another person but also to himself .Verily such are the consequences when Almighty Allah,s warnings or commands are not headed to .

اردو ترجمہ یہ ہوگا کہ ملزم نے محض اور محض سنی سنائی بات پر ، بغیر اپنی معلومات کی تصدیق اور تحقیق کئے ، عمل کیا اور جس طرح اللہ جل شانہ نے متنبہ فرمایا ہے ، اس نے دوسرے شخص کو بھی اور خود کو بھی نقصان پہنچایا ، بلا شبہ اللہ تبارک تعالیٰ کے انتباہات اور احکام کو نظر انداز کرنے کے یہی نتائج نکلتے ہیں ! 10۔ پیرا گراف نمبر 1در اصل فیصلہ اور Operative partہے اور بعد کے پیراگراف ، اس کے دلائل ! عدالتی حلقوں میں ایک لطیفہ عرصہ دراز سے گردش کرتا ہے کہ کوئی وکیل صاحب کسی قتل کیس میں دلائل دے رھے تھے ، جج صاحب ان کے دلائل سے تنگ آتے ہوئے بولے ،Mr.Advocate! you argue this way or that way , i am going to convict you ! اگرچہ مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے یہ الفاظ نہیں دہرائے ہوں گے مگر دل میں وہ یہی کہ رھے ہوں گے کہ خواجہ شریف اور میاں نذیر اختر صاحبان !آپ خواہ کچھ بھی کہیں ، میں ممتاز قادری کی اپیل خارج کرنے پر تلا بیٹھا ہوں ! پیراگراف ٤ تا ٧ کا مطالعہ ایک بار پھر فرمالیں ، اور پھر اس سوال کا جواب دیں کہ کیا ممتاز قادری نے کسی سنی سنائی بات پر بغیر تصدیق و تحقیق کے عمل کیا تھا ؟ ساری دنیا میں شور مچا ہوا تھا ، عیسائیوں کا مذہبی پیشوا ہمارے معاملات میں مداخلت کرکے اسیہ کی رھائی اور قانون توہین رسالت میں ترمیم کا مطالبہ کر رھا تھا !زرداری ٹولہ ( نواز شریف کی حمایت کے ساتھ ) قانون توہین رسالت میں ترمیم کرنے پر آمادہ تھا !اسمبلی میں بل تک پیش کردیا گیا تھا ! سارے ملک میں شور مچا ہوا تھا !لاہور ھائی کورٹ نے ایک حکم امتناعی بھی جاری کردیا تھا !تاثیر نے علی الاعلان قانون توہین رسالت کو کالا قانون کہا تھا !اس سب کچھ کے بعد ممتاز قادری کو کس بات کی تصدیق اور تحقیق کی ضرورت تھی

Blasphemy
Blasphemy

؟کیا یہ سب باتیں ۔۔ سنی سنائی۔۔۔ HEARSAY کے زمرے میں آتی ہیں ؟کیا اخبارت میں چھپنے والی خبروں اور ریڈیو ٹی وی پر نشر ہونے والی خبروں پر ۔۔ فاسق۔۔۔۔ کا اطلاق ہوتا ہے ؟ٹی وی چینل جیل کے اندر تاثیر کی پریس کانفرنس LIVE دکھا رہے ہیں ، کیا ناظرین کو یہ تصدیق و تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ واقعی جیل کی تصویر ہے ؟ کیا پریس کانفرنس میں نظر آنے والا شخص واقعی سلیمان تاثیر ہے ؟ جو الفاظ وہ سن رھے ہیں کیا وہ الفاظ واقعی سلیمان تاثیر کے ہیں ؟ اور کیا یہ سب دیدہ و شنیدہ ۔۔سنی سنائی ۔۔۔ کے زمرے میں آتا ہے ؟سورہ الحجرات کی آیت ٦ کا کون سا تقاضا تھا جو ممتاز قادری نے پورا نہیں کیا ؟اور اگرچہ تفصیلی تبصرہ تو فیصلے کے متعلقہ پیرا گرافس میں آئے گا لیکن یہاں چلتے چلتے مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی آگاہی کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ قانون توہین رسالت کے قانون کو ۔۔۔ کالا قانون ۔۔۔ کہنا ، سب و شتم کی انتہا ہے ، واقعات اور مثالیں تو اور بھی بہت ساری ہیں ( جو اپنے موقع پر آئیں گی ) لیکن سیدنا فاروق اعظم کی ایک مثا ل یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے کہ توہین رسالت کیا ہے ؟ایک مسلمان اور یہودی اپنا مقدمہ لے کر حضور اکرم ۖا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور روداد بیان کی ۔حضور ۖنے فیصلہ یہودی کے حق میں صادر فرمایا ۔ مسلمان ( جس کا ایمان کامل نہ تھا ) کو اطمینان نہ ہوا اور وہ سیدنا فاروق کے پاس حاضر ہوا اور انہیں روداد سنا کر فیصلہ چاہا ۔حضرت عمر نے فرمایا ، بیٹھو ، میں تمہارا فیصلہ کرتا ہوں ۔

اندر گئے ، تلوار نکالی ، اور اس سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نبیۖ کے فیصلے پر عمر سے فیصلہطلب کرتے ہو ، تو لو! یہ ہے میرا فیصلہ ! اور یہ فرماتے ہوئے اس کا سر تن سے جدا فرمادیا۔حضور کو خبر پہنچی تو انہوں نے مقتول کے خون کو ساقط قرار دیا ۔وہ مسلمان کلمہ گو تھا ، اس نے نبی کریم کی ذات کو تو نشانہ نہیں بنایا تھا !محض ایک فیصلے سے مطمعن نہ ہو کر دوسرا فیصلہ چاہا تھا ۔۔۔ لیکن ۔۔ عمر نے ( جن کے بارے میں نبی کریمۖ کا ارشاد ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا توعمر ہوتے ) اسے توہین رسالت گردانتے ہوئے ، ایک کلمہ گو شاتم کا سر تن سے جدا کردیا !نبی اکرعم ۖ کے فیصلے پر اگر دوسرا فیصلہ چاہنا توہین رسالت( محض توہین رسالت نہیں ، قرآن کی روشنی میں کھلا کھلا ارتداد ہے ) تو نبی کریم ۖ کے وقت سے نافذ قانون کو کالا قانون کہنا اور اس کی ترمیم کا مطالبہ کرنا انتہا درجے کی توہین اور واضح ارتداد ہے ۔تاثیر محض شاتم ہی نہیں ، مرتد بھی تھا اور اس کی حمایت کرنے والوں کا شمار بھی اسی کیٹیگری میں ہوتا ہے ۔ ( جاری ہے )

تحریر: ظفر اعوان ایڈووکیٹ

Share this:
Tags:
decisions government justice qadri Studies جسٹس حکومت فیصلے مطالعہ ممتاز قادری
Texas flood
Previous Post امریکا: ٹیکساس اور لوزیانا میں سیلاب سے معمولات زندگی درہم برہم
Next Post سرفراز مرچنٹ نے حکومت کو معلومات دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی : پرویز رشید
Pervaiz Rashid

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close