Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قلندری فقیروں کا رقص

May 24, 2016 0 1 min read
Raqas
Qalandar Raqas
Qalandar Raqas

تحریر : محمد اسلم انصاری
غالباً رقص کو اعضاء کی شاعری پہلی بار مرحوم جوش ملیح آبادی نے کہا تھا ۔اصولِ نغمہ یا فطری امنگ اور جوشِ مسرت میں تھرکنے اور ناچنے کے عمل یا کیفت میں جھومنا ا ور ناچناکو رقص کہلا تاہے۔ رقص لطیف انسانی جذبات اور ہاتھوں اور پیروں کی متوازن حرکات کی ہم آہنگی کا نام ہے رقص پاکستان کی ثقافت میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔آج سے کئی ہزار سال قبل اس خطے میں آباد موہن جودڑو کے شہر ی رقص کے بہت شوقین تھے جس کا ثبوت کھدائی میں برآمد ہونے والا رقاصہ کا کانسی کا مجسمہ ہے۔رقص کے مختلف لو ک انداز یہاں صدیوں سے رائج ہیں۔ پاکستان کے ہرخطے میں رہنے والوں کے اپنے مختلف لوک رقص ہیں جو خوشی کے اظہارسے بھرپور ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر حاضرین لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جن میں بھنگڑا، لڈی، سمی، لیوا،چاپ ،جھومر ،اٹن، خٹک ڈانس، چترالی ڈانس، ہوجمالواور دھمال قابل ذکر ہیں

دھمال اصطلاحاً قلندری فقیروں کا رقص کے نام سے معرو ف ہے۔ ۔ عرف عام میں درباروں اور مزاروں پر کیا جانے والا رقص جسے کچھ لوگ بے ہنگم رقص بھی کہتے ہیں، کو دھمال کہا جاتا ہے ۔دھمال کے حوالے سے اہل علم کی مختلف آراء ہیں ۔ جن میںایک رائے یہ بھی ہے کہ لفظ دھمال سنسکرت کے الفاظ دھرم اورآل سے ماخوذ ہے ۔دوسری رائے جو کہ علامہ شنہشاہ نقوی نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان کی ہے کہ لفظ ِدھمال “دہمیل” سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی “دس میل ” “لفظ ِ دہ میل” بھی اپنا ایک محبانہ پس منظر رکھتا ہے وہ یہ کہ حضرت سخی شہباز قلندر ، حضر ت امام سجاد سے بے پناہ محبت و عقیدت رکھتے تھے اسی وجہ سے روزانہ دس میل پیدل سفر کرکے حضرت امام سجاد کے مزار اقدس پر جا کرحاضر ی دیتے تھے۔شایدیہی وجہ ہے کہ حضرت سخی شہباز قلندر کے عقیدت مند” دہ میل”کے عقیدتی سفر کو ذہن میں رکھ کر ایک جگہ کھڑے کھڑے زمیں پر پائوں مارتے ہوئے تصوراتی دس میل کا سفرطے کر رہے ہوتے ہیں اور یہی عقید ت مند و ں کا والہلانہ عقید ت کا اظہار بھی ہے۔ اسی طرح یہ رائے حقیقت کے قریب تر لگتی ہے جو بعدمیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موجود ہ ‘”دھمال “‘ کی شکل اختیار کر گیا۔دھمال عشق و محبت اور جنون ِ وفاکا والہلانہ اظہار کا ذریعہ بھی سمجھاجاتاہے اور کسی شاعرنے لفظ ِ دھمال کو اپنی شاعری میں عشق و محبت کے استعارے کے طور کچھ یوں رقم کیا ہے۔

تُو نے دیکھی نہیں عشق کے قلندر کی دھمال
پائوں پتھر پہ بھی پڑ جائے تو دھول اُڑتی ہے
دھمال کا ذکر آتے ہی پاکستان کا کثیر الثقافتی صوبہ سند ھ کی بہت ہی مشہور و معروف قدیمی روحانی درگا ہ عالیہ حضر ت عثمان المروندی المعروف سخی لعل شہبازقلندر کا منظر طائرانہ انداز میں ہمارے خیالوں میں گردش کرنا شروع کردیتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ دھمال کا اہتمام حضرت سخی لعل قلندر کے مزار اقدس کیا جاتا ہے۔ سالانہ عرس پر ماہ ِ شعبان کے پہلے ہفتے سے دور دراز علاقوں سے عقیدت مند اور لمبی لمبی لِٹوں والے مستوار قلندری فقیر قافلوں کی صورت میںقلندری لباس( سرخ کا رنگ لباس) زیب تن کرکے، ہاتھوں میں سرخ جھنڈے لہراتے ہوئے ، بڑی دھوم دھام کے ساتھ مزار پر حاضر ہوکر ڈھول اور نقارہ کی تھاپ پر مستانہ وار رقص یعنی “دھمال” ڈالتے ہیں۔اس موقعہ پر غیرممالک سے بھی مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے آپکے عقیدت منداپنی عقیدت کے پھول نچھاور کرنے آتے ہیں۔

Raqas
Raqas

دھمال کے حوالے سے جی این بھٹ نے ” سرِ بازار می رقصم ” کے عنوان میں لکھتے ہیں :” آپ کے مزار پر تر ک صوفیا کرام کی طرح صوفیانہ رقص کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے جو دھمال کہلاتا ہے ۔ ترکی میں صوفیا ایک خا ص ردھم پر دف کے ساتھ دائر ے میں گھومتے ہیں اور مولانا روم کے اشعار پر محو رقص ہوتے ہیں ۔ دائرے میں ہو تا یہ رقص ان صوفیا پر ایک وجد اور خاص کیفیت طاری کر دیتا ہے ۔جس میں انسان کا روحانی وجود مادی وجود سے کٹ کر زمین و زماں کی ، وقت اور شعور کی رکاوٹوں کو عبور کرتا ہوا اپنے مرکز حقیقی یعنی ذات الہٰی کی طرف پرواز کرتا ہے اور یہی انسان کی روحانی معراج ہے ۔کہ جب وہ اپنے وجود کی نفی کرتے ہوئے لامکاں کی وسعتوں میں کھو جاتا ہے اور اپنے حقیقی مر کز کی طرف رجوع کر تاہے ۔ ترکی میں یہ رقص درویش کہلاتا ہے۔اس طرح برصغیر میں صوفیا کے ہاں دھمال کا رواج ہے۔ دھمال میں دف کی جگہ نقارہ بجایا جاتا ہے دھمال کے وقت نقارے کی آواز ایک خاص سُر پیدا کرتی ہے جس سے صوفی یا سالک وجد میں آجاتا ہے اور حلقہ باندھ کر محو رقص ہوتا ہے۔

صوفیا میں نیند غالب آنے لگتی ہے تو وہ اس غفلت کو دور کرنے کے لئے نقارہ پر چوٹ لگاتے ہیںاور دھمال ڈال کر غفلت کو دور کرتے ہیں ۔ جوش اور جذبہ قلندری رنگ کے ساتھ مل کر جب وجد و کیف میں آتا ہے تو زمین سے آسمان تک کیف و مستی کی کیفیت چھا جاتی ہے اور مست الست صوفی دھمال کے رنگ میں ڈوب کر فنا کی کیفت میں چلا جاتا ہے ۔ اس وقت زمین و زمان اور مکین و مکان سب اس کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں اور بقول اقبال ” ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر ” والی بات سامنے آتی ہے اور قلندر وقت کے احتیاج سے نکل وقت کی غلامی سے آزاد ہو کر وقت کو اپنا تابع کردیتا ہے۔دف یا نقارے کی آواز روح کے سکوت اور سالک کی غفلت کو توڑتی ہے روح کو بیدار کر تی ہے اور مست الحال صوفی جب دم مست قلندر کی لَے پر مدہوش ہوکر روحانی قوت کو بیدار پاتا ہے تو خوشی کے مارے دھمال ڈالنے لگتاہے۔ ۔ دھمال کی کیفیت میں اس کا جسم اپنے مادی وجود سے لاتعلق اور روح کی ازلی و ابدی طاقت اپنے رب کی معرفت حاصل کرنے کے شراب الست میں مدہوش ہو جاتی ہے۔حضرت لعل شہباز قلندر لکھتے ہیں ” سرود وسماع ” محبوب حقیقی تک لے جانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔رقص کے حوالے سے حضرت سخی لعل شہباز قلندر کی فارسی زبان میں ایک مشہور غزل جو زبان زد عام ہے جس میں رقص کی وجد کی روحانی کیفیت بیان کی گئی ہے، قارئین کی نظر کی جاتی ہے۔

نمی دانم کہ آخر چوں دم ِدیدا ر می رقصم مگر نازم کہ بایں ذوقے کہ پیش ِ یار می رقصم
تو آں قاتل کہ از بہر تماشا خون من ریزی من آں بسمل کہ زیر ِ ِ خنجر ِ خونخوار می رقصم
بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جانبازاں یہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم
خوشا رند ی کہ پا مالش کنم صدپارسائی را زہے تقویٰ کہ من باجبہ و دستار می رقصم
اگرچہ قطر ئہ شبنم نیوئید برِ سر ِ خار منم آں قطرہ شبنم بنوکِ خار می رقصم
تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم بہر طرزے کہ رقصانی منم اے یار می رقصم
سراپا بر سراپائے خود م از بیخودی قربان بگرد مرکز خود صورتِ پرکار می رقصم
مراطعنہ مزن اے مدعی طرزِ ادائیم بیں منم رندے خرابائی سرِ بازا ر می رقصم
کہ عشقِ دوست ہر ساعت دروں نارمی رقصم گاہے بر خاک می غلتم، گاہے بر خار می رقصم
منم عثمان ِہارونی کہ یارے شیخ ِ منصورم ملامت می کند خلقے و من بتر دار می رقصم

Raqas
Raqas

ترجمہ” ٭مجھے نہیں معلوم کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں ناچ رہاہوں ، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہو ں کہ اپنے یار کے سامنے ناچتا ہوں ۔٭تو وہ قاتل ہے کہ تماشے کے لئے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خونخوار خنجر کے نیچے ناچتا ہوں۔ ٭اے محبوت ! اور تماشادیکھ کہ جانبازوں کی بھیڑ میں ، سینکڑوں رسوائیوں کے سامان کے سر بازار ناچتا ہوں۔ ٭واہ! مے نوشی کہ جس کے لئے میں نے سینکڑوں پارسائیوں کو پامال کر دیا، خوب! تقویٰ کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ ناچتا ہوں۔٭اگر چہ شبنم کا قطرہ کانٹے پر نہیں پڑتا لیکن میں شبنم کا وہ قطر ہ ہوں کہ کانٹے کی نوک پر ناچتا ہوں۔٭تو ہر وقت جب بھی مجھے نغمہ سناتا ہے ، میں ہر بار ناچتا ہوںاور جس طرز پر بھی تو رقص کراتا ہے ، اے یا ر میں ناچتا ہوں۔٭سر سے پائوں تک جو میر ا حال ہے اس بیخودی پر میں قربان جائوں ، کہ پرکار کی طرح اپنے ہی گرد ناچتا ہوں۔٭اے ظاہر دیکھنے والے مدعی ! مجھے طعنہ مت دے میں تو شراب خانے کا مے نوش ہوں کہ سرِ بازار ناچتا ہوں۔٭عشق کا دوست تو ہر گھڑی آگ میں ناچتاہے ، کبھی تو میں خاک میں مل جاتا ہوں ، کبھی کانٹے پر ناچتا ہوں۔ میں عثمان ہارونی شیخ حسین بن منصور حلاج کا دوست ہوں ، مجھے خلق ملامت کرتی ہے اور میں سولی پر ناچتا ہوں “۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مستوار قلندری فقیروں کے دائرئہ دھمال میں حیدر ی ملنگ بھی شامل ہونے لگے۔ اس سے دائرہ دھمال کو میزید وسعت نصیب ہوئی ۔پاکستان میں جشنِ مالودِ کعبہ ، جشن امام عالی مقام اورجشن ِ ولادتِ عباس کے نام پر محافل کاانقعاد کیا جاتاہے ۔ولادت کی ان محافل میں ملک کے نامور کلاسیکل گائیکوں کو خصوصی طور پر مدعو کیاجاتا ہے۔ جن میں سئیں لعل حسین ،اسد امانت علی خان،استاد شفقت علی خان کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان کلاسیکل گائیکوںکی فنکارانہ مہارت اور حیدری ملنگوںکا نعرئہ مستانہ “بولو بولو سخی لعل قلندرمست علی حیدر اور پنج نعرہ پنجتنی سوالکھ نعرہ حیدری” کی گونج سے محفل میں دھمال کو عروج بخشا جاتا ہے ۔ محفل حیدری و قلندری رنگوں کی قوس قزح سے مزین ہو جاتی ہے ۔ اب وسیب کے حسین ثقافتی رنگوں میں دھمال کو شامل کرنے سے نہ صرف ثقافت کے خوبصورت رنگوں میں اضافہ ہو اہے بلکہ اس سے مزید دھمال کو بامِ عروج بخشا گیاہے۔شاعر جاویدعابد شفیعی اپنی طویل نظم میں دھمال کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں۔

بھر کے حسین رنگ ثقافت کے رنگ میں بخشا عروج اور بھی ہم نے دھما ل کو
وسیب میںشادی و بیاہ کے تقریبا ت میں جہاں دیگر لوک رقص کا اہتمام کیا جاتا ہے وہاں بالخصوص چوکی کی محفل کا اختتام دھمال ڈال کر کیاجاتا ہے۔

Aslam Ansari
Aslam Ansari

تحریر : محمد اسلم انصاری
0307-6544391
maslamly79@yahoo.com

Share this:
Tags:
devotion pakistan Poor پاکستان ثقافت رقص عقیدت
Karachi
Previous Post سید شاہ علی برقع پوش رادھنوی (میرٹھ) کا 3 روزہ عرس کا آغاز آج سے ہو گا
Next Post بھمبر کی خبریں 24/5/2016
Speech

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close