Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قائد کیسا پاکستان چاہتے تھے؟

March 19, 2014March 19, 2014 0 1 min read
Ali Imran Shaheen
Quaid-e-Azam
Quaid-e-Azam

مولانا حسرت موہانی تحریک پاکستان کے نمایاں ترین قائدین میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنا ایک مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ قائداعظم محمد علی جناح سے ملنے ان کے ہاں گیا۔ دربان نے روکا مگر میں اندر چلا گیا۔ اندرونی دروازہ ذرا سا کھولا تو میں نے قائداعظم کو اس وقت مصلے پر سجدے کی حالت میں پایا۔ انہوں نے سلام پھیر کر دعا شروع کی تو اس میں اسلامیان ہند کی آزادی کا درد تھا اور آنسووئوں سے ترتڑپ تھی۔

اس قائد کے بارے میں آج کئی لادین لوگ جنہیں عام طور پر سیکولر کہا جاتا ہے، یہ کہتے ہوئے نہیں چوکتے کہ قائداعظم کے نزدیک تو آزادی کے حصول کا مطلب محض انگریزوں سے چھٹکارا پانا تھا اور کچھ نہیں۔ اس کے بعد ہم نے جو ملک حاصل کیا ہے، اس میں اب اسلام نام کی کوئی چیز نہیں ہونی چاہئے، بلکہ یہاں جس کی جو مرضی ہو، اسے وہ کرنے کی آزادی ہونی چاہئے اور مذہبی لحاظ سے کسی قسم کا کوئی قانون یا پابندی عائد نہیں ہونی چاہئے۔ شاید یہ اس کا ہی تو شاخسانہ ہے کہ گزشتہ دنوں ہماری قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی ایک قرارداد جس میں شراب پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ،کو اسمبلی نے مسترد کر دیا حالانکہ ہم اپنے قائد کی زندگی کو دیکھیں تو اس حوالے سے ان کی رہنمائی صاف طور پر ہمارے سامنے ہے۔

پاکستان کے ممتاز جرنیل جنرل محمد اکبر خان (المعروف رنگروٹ) جنہیں 25 جون 1948ء سے 3 دن تک قائداعظم کے بیمار ہونے کے بعد ان کی خدمت و عیادت کا شرف بھی حاصل ہوا تھا کی کتاب ”میری آخری منزل” میں ایک ایسی گواہی درج ہے جو ان لادین یعنی سیکولرز کے لئے کسی موت سے کم نہیں۔ یہ گواہی انہی 3دنوں کے دوران کی ہے۔ جنرل اکبر نے اس مختصر سے عرصہ میں قائداعظم کے سامنے یہ معاملہ رکھا کہ ان کی فوج کا سربراہ انگریز ہے اور اس انگریز کی روایت پر آج بھی عمل کرتے ہوئے فوجی میسوں میںشراب کا عام چلن ہے۔ میری سفارش ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد ہمیں اس شراب پر پابندی عائد کر دینی چاہئے۔

جنرل اکبر کے یوں توجہ دلانے پر قائداعظم نے فوری طور پر بستر علالت پر پڑے ہونے کے باوجود اپنے اے ڈی سی کو بلایا اور اسے کانفیڈریشن باکس لانے کو کہا۔ اے ڈی سی وہ باکس لے کر آیا تو آپ نے اپنی جیب سے چابی نکالی اور باکس کھول کر اس میں سے قرآن کریم کا نسخہ جو خصوصی طور پر مراکشی چمڑے سے جلد بند تھا، نکال کر اسے اس مقام سے کھولا جہاں انہوں نے پہلے سے نشانی رکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے وہ مقام کھولتے ہی جنرل اکبر کو مخاطب کر کے فرمایا۔ جنرل! یہ دیکھو قرآن مجید میں لکھا ہے کہ شراب و منشیات حرام ہیں۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ آپ حکم جاری کریں اور افسروں کو وارننگ دیں کہ شراب حرام اور منع ہے لہٰذا اب اس کا چلن بند کیا جائے۔ اس پر قائداعظم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ محمد علی جناح کا حکم قرآن مجید کے احکامات سے زیادہ موثر ہو گا؟ پھر اسی وقت سٹینو کو بلایا گیا۔ قائداعظم نے خود ایک مسودہ تیار کیا جس میں انہوں نے قرآن کی اس آیت (جس میںشراب و منشیات کو حرام قرار دیا جا کیا ہے) کی جانب توجہ دلا کر حکم لکھوایا کہ اسلام میںشراب و منشیات حرام ہیں۔ جنرل اکبر لکھتے ہیں کہ میں نے اس مسودے کے مطابق شراب نوشی بند کروانے کا حکم جاری کروایا جس پر میری ریٹائرمنٹ تک عمل بھی ہوتا رہا۔ قائد کی شراب کے حوالے سے یہ رائے کوئی اس دن قائم نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے 27 جولائی 1944ء کو راولپنڈی میں منعقدہ ایک تقریب میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پاکستان میں شراب پر یقینا پابندی ہو گی۔ یہ بات خورشید یوسفی نے اپنی کتاب” قائداعظم کے شب و روز” میں صفحہ 10 پر درج کی ہے۔

معروف تجزیہ نگار اور تاریخ نویس ڈاکٹرصفدر محمود لکھتے ہیں کہ قائداعظم کانفیڈریشن باکس ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے اور اس باکس میں قرآن مجید کا نسخہ بھی شامل تھا۔ جنرل اکبر کی عینی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ قائداعظم قرآن مجید پڑھتے اور ضروری مقامات پر نشانیاں بھی رکھتے تھے اگر انہیں موقع ملتا تو وہ یقینا اسلامی اصولوں کے نفاذ کے لئے اقدامات کرتے اور تصور پاکستان کو حقیقت کا جامہ پہناتے لیکن بدقسمتی سے موت کے بے رحم ہاتھوں نے قائداعظم کو ان کے وقت مقررہ پر دبوچ لیا اور تکمیل پاکستان کی جدوجہد ادھوری رہ گئی۔ پھر ملک پر جاگیردار، گدی نشین، موروثی سیاستدان، امراء اور جرنیل چھا گئے جنہوں نے پاکستان کو پاکستان نہ بننے دیا۔ کھلے ذہن اور صاف دل سے سوچئے کہ قائداعظم کی ہدایت پر پہلے یوم آزادی پر 15 اگست 1947ء کو مشرقی پاکستان میں مولانا ظفر عثمانی نے پاکستان کا پرچم لہرایا۔ مولانا ظفر عثمانی مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہر زادے تھے۔ کراچی میں پرچم کشائی کے لئے قائداعظم مولانا شبیر احمد عثمانی کو ساتھ لے گئے جن کا مولانا تھانوی سے گہرا تعلق تھا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ قائداعظم نے ایسا کیوں کیا؟ کیا پیغام دینا مقصود تھا؟ کیا وضاحت کی ضرورت ہے کہ قائداعظم کیا چاہتے تھے۔

بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے۔ 14 اگست 1947ء کو جب پاکستان معرض و جود میں آیا تھا۔ عین اس روز اپنے خطاب میں قائداعظم نے نبی کریم محمد رسول اللہۖ کو ہی اپنا رول ماڈل قرار دیا تھا۔ ان کے فروری 1948ء کے جاری کردہ اس پیغام جو انہوں نے امریکی عوام کے نام تھا، میں صاف اور واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور پاکستان کے دستور کی بنیادی اسلامی اصولوں پر ہی رکھی جائے گی۔

قیام پاکستان کی تحریک کے ایک معروف کارکن اور آج کے ممتاز دانشور کرنل (ر) اکرام اللہ بھی ہیں جو 23 مارچ 1940ء کے جلسے میں بھی بنفس نفیس شریک تھے۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ہمارے ساتھ یوم قرارداد پاکستان کے حوالے سے جو خصوصی گفتگو کی تھی، میں ہمیں بتایا کہ قائداعظم نے ان کی موجودگی میں قیام پاکستان سے پہلے 101 بار جبکہ قیام کے بعد 14 بار یہ کہا تھا کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہو گا۔

Kashmir
Kashmir

کرنل (ر) اکرام اللہ کی یہ روایت ایک ایسی سند ہے کہ جس سے انکار ممکن نہیں لیکن اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنے والوں کو کیا کہا جا سکتا ہے؟ قیام پاکستان کی تحریک کے دوران قائداعظم اس قدر دوڑ دھوپ میں لگے رہے کہ انہیں اپنی صحت کا بھی خیال رکھنے کا موقع نہ ملا۔ وہ ہڈیوں کا چلتا پھرتا ڈھانچہ بن چکے تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد ملک کو کشمیر کے مسئلہ نے گھیر لیا تھا۔ قائد نے بھارت سے کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے فوج کے سربراہ جنرل گریسی کو فوج کشمیر میں داخل کرنے کا حکم دیا لیکن اس نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ قائد کے اعصاب پر اگلا بڑا حملہ تھا۔

اسی عرصہ میں بھارت سے ہر روز ہزاروں شہیدوں کی لاشیں پاکستان پہنچ رہیں تھیں۔ ہر طرف آگ و خون کے دریا ابل رہے تھے۔ سارے ملک پر بھارت سے آنے والے ایک کروڑ مسلمانوں کو سنبھالنے، انہیں ملک کا حصہ بنانے کے لئے ہر طرف اس قدر دوڑ دھوپ تھی کہ کسی اور مسئلہ کا ہوش ہی نہیں تھا۔ بھارت کے ہندوئوں اور سکھوں کے مظالم ہر روز بڑھتے ہی جا رہے تھے جنہوں نے قائد کے زخمی اعصاب کو گھن کی طرح چاٹنا شروع کر رکھا تھا۔ بھارت نے پاکستان کے حصے میں آنے والا نہ صرف 75 کروڑ کا خزانہ دبا لیا تھا بلکہ حصہ میں آنے والا ایمونیشن، اسلحہ اور صنعتیں وغیرہ بھی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی ان مسائل کی ایسی دلدل میں دھنس کر رہ گیا تھا کہ ملک کے آئین و قانون کی جانب توجہ دینے کا کسی کو ہوش ہی نہ تھا اور سب اسی فکر میں مگن تھے کہ کیسے ملک کے حالات کو کچھ سدھار کر قدم آگے بڑھایا جائے۔

ان حالات میں قائد کی صحت اس قدر گر گئی کہ انہیں ڈاکٹروں نے ساری مصروفیات ترک کر کے تمام تر الجھنوں اور پریشانیوں سے دور کس صحت افزا مقام پر جا کر کچھ عرصہ رہنے کا مشورہ دیا۔ یوں قائد کے لئے بلوچستان کے علاقے زیارت کا انتخاب ہوا۔ وہ وہاں چلے تو گئے لیکن پاکستان کے قومی معاملات اور مشکلات و مسائل کی فکر انہیں یہاں بھی ہر دم گھیرے رہی تاآنکہ وہ یہیں اپنے رب سے جا ملے۔

قائد نے جو پاکستان لیا تھا، اس کی بنیاد تو صرف اور صرف دو قومی نظریہ پر رکھی گئی تھی۔ انہوں نے یہی بات لارڈ مائونٹ بیٹن سے ببانگ دہل کی تھی کہ ”ہندو اور مسلمان ہر لحاظ سے دو الگ قومیں ہیں جو ایک ساتھ کبھی نہیں رہ سکتیں لہٰذا اسلامیان ہند کو الگ وطن دیا جائے”۔ ان کے یہ الفاظ کہ ”پاکستان اس دن ہی بن گیا تھا جب برصغیر کے پہلے ہندو نے اسلام قبول کر لیا تھا” اور ان کا یہ کہنا کہ ”ہم ایسی ریاست چاہتے ہیں جسے ہم اسلام کی عملی تجربہ گاہ میں بدل سکیں”۔ آج بھی ان کی یہ باتیں نمایاں طور پر پڑھی اور سنی جا سکتی ہیں جو ان لادینوں (سیکولرز) کے عزائم کے راستہ میں ایسا بھاری پتھر ہے جسے اٹھانا بھی ان کے بس کی بات نہیں رہی۔

تاریخ کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر دنیا کو بے وقوف بنانے والوں کو قائد کی وہ باتیں ضرور پڑھنی چاہئیں جو ان کے چھپانے سے نہیں چھپ سکتیں۔ قائداعظم نے شیلانگ (آسام) کے مقام پر خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے کھل کر کہا تھا کہ ”ہر مسلمان کے پاس قرآن کریم کا ایک نسخہ ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنی رہنمائی خود کر سکے” (بحوالہ: قائداعظم،تقاریر و بیانات جلد سوم) کیا یہ سیکولرز کبھی قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں…؟ ہمارا خیال ہے کہ ہرگز نہیں… ورنہ ان کے سارے اشکال تو خود ہی دور ہو جائیں کیونکہ قرآن اپنے پڑھنے والے کو کبھی اندھا نہیں چھوڑتا اور یہی قائد کا ذاتی فکر و تجربہ تھا۔ جسے وہ دوسروں تک بھی پہنچاتے تھے۔ انہیں قرآن سے کس قدر محبت تھی، اس کا اندازہ جناب منیر احمد منیر کی کتاب ”دی گریٹ لیڈر” کے حصہ اول سے بھی بخوبی ہوتا ہے جس میں جناب قائد کا ایک واقعہ درج ہے جو ایک ذاتی گواہی کی بنیاد پر عبدالرشید بٹلر کے انٹرویو میں موجود ہے۔ عبدالرشید جو قائد کے ساتھی محافظ بٹلر تھے، نے ذاتی مشاہدہ میں بتایا ہے کہ ایک شب قائد مطالعہ کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کبھی پانی اور مانگا اور کبھی چائے۔ میں رات بھر مشاہدہ کرتا رہا کہ قائد اسی عرصہ پر کبھی کھڑے ہو جاتے اور کبھی بیٹھ جاتے اور کبھی قرآن پر سر جھکا کر غور و فکر کرتے اور کبھی اسے غور غور سے پڑھتے اور پھر اس پر نظریں جھکا کر اور آنسو بہا بہا کر دعائیں کرنا شروع کر دیتے تھے۔

یہ تو چند گواہیاں ہیں، وگرنہ قائد کی زندگی تو ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جناب قائد نے اپنے ساتھیوں میں مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی جیسے عظیم مجاہد کو بھی شامل کر رکھا تھا۔ مولانا دائود غزنوی کو انہوں نے پنجاب میں قیام پاکستان کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے متعین کیا تو مولانا عبداللہ بہاولپوری کو سندھ میں اس مشن پر روانہ کیا۔

قائد کی ساری زندگی اسلام سے محبت اور اس کی بنیاد میں ملک بنانے اور اس بنیاد پر ملک کو بنانے سنوارنے کے خواب دیکھتے ہی گئی جو ان سیکولرز کے لئے کسی طمانچے سے کم نہیں۔ یہ سوال تو کبھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا کہ قائد اپنی موجودگی میں تحریک پاکستان کے ہر جلسے میں پاکستان کا مطلب کیا …لاالہ الا اللہ …کا ترانہ خود پڑھوایا اور اس کا خود اہتمام کروایا کرتے تھے۔ آخر اس کا مطلب کیا تھا۔

Ali Imran Shaheen
Ali Imran Shaheen

تحریر:علی عمران شاہین

Share this:
Tags:
laws orders pakistan people quaid e azam احکامات پاکستان قائداعظم قانون قوم
Fifa World Cup
Previous Post قطر نے فیفا ورلڈ کپ 2018 کی میزبانی کیلئے 20 لاکھ ڈالر رشوت دی، برطانوی اخبار
Next Post سلسلہ اشرفیہ کی عظیم روحانی شخصیت
Mazar Shareef

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close