آ کسی شام چپکے سے میری دہلیز پہ آ
مجھے یقین تو آئے کہ تو میری منزل ہے
عادت نہیں پڑی ابھی تجھے بھلانے کی
اسی جہان میں اٹکا ہوا میرا دل ہے
بس اتنی سی بات پہ چھینی گئی ہے دلبری ہم سے
ہاں، تو ہی تو میری آرزووں کا قاتل ہے
بے سبب تو لوگ منزل سے بھی گذر جاتے ہیں
یہی بے خیالی میرے راستوں میں حائل ہے
ہم تو اپنا بھرم بھی چھپا کے رکھتے ہیں
سوال کرتے لبوں میں جواب شامل ہے
تحریر : عالیہ جمشید خاکوانی
