Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سانحہ کوئٹہ کی فرد جرم‎

August 9, 2016 0 1 min read
Bomb Blast in Quetta
Bomb Blast in Quetta
Bomb Blast in Quetta

تحریر : عماد ظفر
کبھی کبھی موت اتنی ارزاں ہو جاتی ہے کہ کسی کے مرنے پر صرف اعدا و شمار گن کر پھر سے نئی اموات کا انتظار کیا جاتا ہے. کوئٹہ میں خود کش دھماکے نے 70 کے قریب افراد کو موت کی نیند سلا دیا. سول ہسپتال کوئٹہ میں برپا پونے والی یہ قیامت ایک بار پھر وطن کے “سلامتی کے ٹھیکیداروں ” کےکی دعووں کی نفی کرتی دکھائی دی. لیکن ہمیشہ کی طرح اسپن وزرڈز نے مہارت کے ساتھ ٹی وی سکرینوں پر قبضہ جمایا اور اس سانحے کو “را” کے کھاتے میں ڈال دیا.

حیران کن طور پر یہ سارے اسپن وزرڈ جو دفاعی تجزیہ نگار بن کر طوطے کی طرح ایک ہی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ سب را کا کیا دھرا ہے ان میں سے اکثر یا تو ریٹائرڈ جرنیل ہیں یا پھر ریٹائرڈ سرکاری منشی. اس سانحے میں را کا ہاتھ تھا یا کسی اور ایجنسی کا نہ تو مرنے والوں کو اس سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی ان کے لواحقین کو. کم بخت جتنی جلدی بیرونی دشمن طاقتوں کی ایجنسیوں کے ثبوت ہمارے دفاعی اداروں کو مل جاتے ہیں اگر اتنی ہی جلدی دہشت گردوں کے بارے میں معلومات بھی مل جائیں تو کیا ہی اچھا ہو. ہم کیونکہ لاشیں اٹھانے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ بس چپ چاپ لاشیں اٹھاتے ہیں اور اگلی لاشوں کے گرنے کا انتظار کرتے ہیں.اسی لیئے تو ہر اذیت ناک سانحے کے بعد بے گناہ نہتے افراد کا لہو بھی ہماری آنکھیں کھولنے سے قاصر ہے.اس قدر خون ریزی کے بعد دشمن کی کمر توڑ دی اور نوے فیصد علاقہ دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بیانات ایک طرف انتہائی بھونڈے اور بے معنی ہیں تو دو سری طرف ان کو من و عن تسلیم کرنے والے بھی عقل و دانش سے عاری ہیں.

دہشت گردی کے خلاف آپریشن اگر بلا تفریق ہوا ہوتا تو ہم چارسدہ میں یا بلوچستان میں یوں خون کی ہولی نہ دیکھ رہے ہوتے.سال رواں میں اب تک دہشت گرد حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 400 کے لگ بھگ ہے.یعنی دہشت گردی کا عفریت جوں کا توں موجود ہے. اور اس کی ایک بڑی وجہ ہماری قومی سلامتی کی وہ پالیسی ہے جسے ہم تبدیل کرنے پر ہرچند آمادہ نہیں. اس پالیسی کے تحت حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے دیگر دھڑوں کی افغانستان میں مدد کرنا اور وطن عزیز میں جہادی اور شدت پسندی تنظیموں کی مدد کرنا پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے اور عالمی طاقتوں کی پاور گیم میں ایک اہم کھلاڑی بھی بناتا ہے.البتہ اس کی قیمت عام بے گناہ اور نہتے شہری اپنے جسم کے چیتھڑوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں. بلوچستان کی اپنی ایک اہمیت ہے .بلوچ علحدگی پسندوں کی تحریک کی وجہ سے امن و امان ایف سی کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے.اور ہو سکتا ہے بھارت افغانستان ایران یا کسی بھی ایسے ملک کی ایجنسی کا اس میں ہاتھ ہو جس کو ہم سے شکایتیں ہیں.لیکن کیا سلامتی کے ٹھیکیداروں کی زمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ ایسے حملوں کی پیشگی اینٹیلیجنس معلومات رکھیں. اور آفرین ہے اس قوم پر جو سڑکیں خراب ہونے یا سیلاب آنے کی صورت میں وزیر اعظم اور وزرائے اعلی سے استعفے طلب کرتے ہیں لیکن ایسے سانحات کے بعد گونگوں کی طرح چپ کر کے آنکھیں موند لیتے ہیں.

Taliban
Taliban

جن کا کام ان حملوں کی روک تھام اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنا ہے ان کی کوتاہی پر ایک لفظ تک نہیں بولتے. زندگی ایک نعمت ہے اور اس کا یوں قدم قدم پر ضائع ہونا یہ بنیادی سوال اٹھاتا ہے کہ کیا شہریوں کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی پہلی ترجیح نہیں ہے؟ چلییے مال کی حفاظت تو چھوڑیے اگر جان کی حفاظت بھی نہ مہیا ہو تو پھر ایک عام شہری کا ریاست کے ساتھ وابستگی یا وفادار رہنے کا کیا جواز بنتا ہے؟ یہ طالبان اور ان کے حمایتی اور دیگر جہادی تنظیمیں جو کشمیر کی آزادی سے لیکر دہلی کے لال قلعے پر پاکستانی پرچم لگانے کی بات کرتے ہیں کیا ان کو ریاستی امداد ملنا بند نہیں ہو سکتی؟ اگر تو کشمیر شدت پسند جماعتوں کے ساتھ اشتراک سے آزاد کروایا جا سکتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا. ستر برس کی یہ ناکام پالیسی اگر آج بھی ہم نے ترک نہیں کرنی تو ایسے لاتعداد سانحات برپا ہوتے رہیں گے. اگر طالبان کی افغانستان میں پشت پناہی جاری رہے گی تو یہ ناممکن ہے کہ وہاں سے کوئی جواب نہ آئے. سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر داد رسی کیلئے کس کے پاس جائیں کس کو جا کر جناح کا پاکستان دکھائیں جو لہو لہو ہے جس کے چہرے پر اتنے زخم ہیں کہ ان زخموں کے باعث اس کی شناخت بھی ناممکن ہو چکی ہے.

جناح نے کب یہ کہا تھا کہ ہمیں ایک دفاعی ریاست بننا ہے اور اقوام عالم کو بزور شمشیر فتح کرنے کیلئے شدت پسند نظریات اور تنظیمیں قائم کرنی ہیں. ہم عجیب لوگ ہیں یقین کیجئے ہم اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر کو جلاتے ہیں اپنے ہم وطنوں کو بارود کے ڈھیر میں خاکستر بناتے ہیں اور پھر خود ہی نوحہ کناں بھی ہوتے ہیں. کشمیر فلسطین میں ہونے والی زیادتیوں ہر غیض وغضب کا شکار ان کی آزادی کے نعرے مارتے خود اپنے ہموطنوں کی لاشوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں.دفاعی پالیسیوں میں غلطیاں ہوتی ہیں یہ ایک فطری بات ہے لیکن غلطی ایک یا دو بار ہوتی ہے بار بار نہیں.بار بار شدت پسندوں اور جہادیوں کے زریعے پراکسی وارز دوسروں کی سرزمین پر کرنے کے بعد آخر کیسے ہمارے پالیسی ساز یہ تصور بھی کر لیتے ہیں کہ وہاں سے کوئی جواب نہیں آئے گا. بین الاقوامی اور ملکی میڈیا اس حملے کو خود کش قرار دے کر کبھی شدت پسند گروہوں اور کبھی بیرونی سیکیورٹی ایجنسیوں کو اس سانحے کا مرتکب ٹھہرا رہا ہے.

خود کش حملہ تو یہ تھا اور اس مکروہ فعل کو سرانجام دینے والے کسی بھی بیرونی ملک یا اپنے پالے ہوئے شدت پسند اور جہادی سانپ ہو سکتے ہیں لیکن اس واقع کی فرد جرم ان پالیسی سازوں کے نام کٹنی چاھیے جو حفاظتی پروٹوکول میں بیٹھ کر یا بنکرز کے پیچھے بیٹھ کر ایسی داخلی اور خارجی قوی سلامتی کی پالیسیاں بناتے ہیں جن کے نتیجے میں یہ واقعات رونما ہوتے ہیں.اس ملک میں جہاد قتل عام دوسرے ممالک اور کفار کو نیست و نابود کرنے کی تعلیمات عام کرنے والے مزہبی اسکالر ہوں یا تجزیہ نگار ان سب پر بھی سانحہ کوئٹہ کی فرد جرم عائد ہوتی ہے. ہر سانحے کے بعد یہ جو شہید ہونے کا لقب یا عام شہریوں اور قوم کا حوصلہ بلند ہونے کے بیانات اور پیغامات داغے جاتے ہیں یا پھر فوٹو سیشن کیلئے ہسپتالوں کا رخ کیا جاتا ہے یہ سب اب بند ہونا چائیے. سول ہسپتال کوئٹہ ہو باچا خان یونیورسٹی یا آرمی پبلک سکول یا ایسے لاتعداد واقعات ان تمام سانحات میں مرنے والے نہ تو گھر سے کوئی جنگ لڑنے گئے تھے اور نہ ہی ان کو کسی شدت پسند درندے کے ہاتھوں مر کر اپنی بہادری ثابت کرنی تھی.نہ جانے کب قومی سلامتی کے ٹھیکیداروں کو یہ بات سمجھ آئے گی کہ موت کو گلوریفای کرنا دراصل زندگی سے منہ موڑنے کی دعوت دینا ہے.

Pakistan
Pakistan

اس سوچ کو بدلنے کیلئے گانے تیار کرنے کے بجائے سب سے پہلے ہتھیاروں کے بل پر دنیا مسخر کرنے کے نظریات کا پرچار بند کرنا ازحد ضروری ہے. خیر جب یہ پالیسی آج تک تبدیل نہیں ہوئی تو اب کیوں ہو گی .لیکن 14اگست کو جشن آزادی مناتے دفاعی پالیسی سازوں اور دیگر ہموطنوں سے کوئٹہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کی خالی آنکھیں خاموش سوال ضرور کریں گی. کہ یہ کیسی آزادی ہے جس میں جب اور جہاں چاہے وہاں شدت پسند تنظیمیں یا پھر بیرونی ایجنسیاں سینکڑوں افراد کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مسل کر قتل کر دیتے ہیں. اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں جیسے ملی نغموں پر لوحقین سوال ضرور کریں گے کہ پرچم کا سایہ کیا صرف دفاعی اور سیاسی اشرافیہ کیلئے ہی ہے جہاں ان کی جان و مال محفوظ بھی ہے اور سلامت بھی. یہ وطن تمہارا ہے سے مراد کیا صرف قومی سلامتی کے ٹھیکیداروں سے ہے کہ یہ وطن تمہارا ہے ہم ہیں خوامخواہ اس میں. ویسے بھی بلوچستان کے حصے میں سبز ہلالی پرچم میں سے نہ تو سبز رنگ آیا اور نہ ہی سفید بلکہ آج تک ان کے حصے میں اس پرچم کا ڈنڈا ہی آیا ہے. اور ڈنڈا بردار پالیسی سازوں کو اس گلی سڑی پالیسی کو اب دفن کر کے پالیسی بنانے کا کام ان کو دینا چاھیے جن کا یہ کام ہے.

سری لنکا جیسے ملک نے بھی دہائیوں تامل دہشت گردوں سے جنگ لڑی اور کامیاب ہوا جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سری لنکن دفاعی اور سویلین پالیسی سازوں نے اچھے اور برے دہشت گردوں کی تفریق کیئے بنا مکمل طور پر تامل باغیوں کے خلاف کریک ڈاون کیا اور نتیجتا یہ جنگ سری لنکا جیت گیا. اب سانحہ کوئٹہ جیسے واقعات کی روک تھام اسی صورت ممکن ہے جب شدت پسندی اور جہادی کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور دہشت گرد چاہے وہ کسی بھی جماعت گروہ یا دھڑے سے ہوں ان کے خلاف بھرپور کاروائی کی جائے. وگرنہ پاکستان اسی طرح بارود کے ڈھیر میں جلتا رہے گا اور مورخ لکھے گا کہ قومی سلامتی اور قومی وقار کے ٹھیکیدار اس وقت بھی نیرو کی طرح بنسری بجاتے ہوئے آنکھیں موندھے آرام فرما رہے تھے.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
blast Enemies Imad Zafar indictment Quetta tragedy terrorists خود کش دھماکے دشمن دہشت گرد سانحہ کوئٹہ فرد جرم
Iran
Previous Post امریکہ سے رقم کی منتقلی کا جوہری معاہدے سے تعلق نہیں: ایران
Next Post ایران میں پوکے مون گو پر پابندی عائد
Puky Moon Go

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close