
لفظ خاموش ہیں دل اضطراب میں ہے
ایسا ظلم ڈھانے کا فتوی کس نصاب میں ہے؟
بتایا جائے کیوں نہیں مرتا کوئی پیارا حاکم کا
غریب کیلئے توامن بس خواب میں ہے
وقت کا فرعون آج پھر شباب میں ہے
خاتمہ ہے اس کا جو تیغ برق تاب میں ہے
عقیل کہے خلق خدا کہ دشمن نقاب میں ہے
سمجھے اگر کوئی تونقص سارا انتخاب میں ہے
عقیل احمد خان لودھی (وزیرآباد)
