
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اس نے انسانوں کو پیدا کر کے نہ صرف ان کی ضروریات ہی پوری کیں بلکہ ان کی روحانی رہنمائی اور ہدایت کا سامان بھی کیا ہےاس کےلئے اپنے نبی اور رسول بھیجے ان پر انسانوں کی ہدایت کے لئے کتابیں نازل فرمائیں قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے جو قیامت تک تمام زمانوں اور تمام انسانوں کےل ئے رہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔
اس مقدس کتاب میں قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں ہیں انبیاء اکرام کی قربانیوں اور ان کی اللہ کی طرف سے نازل کردہ مسلسل آزمائشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ـ جہاں اس میں تمام باتیں نبیوں سے منسوب ہیں۔
ان کی عمر بھر ریاضت اور بدلے میں تمام عمر قربانیاں اپنی اپنی امت کا غم کہ وہ لوگ وہ کچھ جانتے تھے جو عام لوگ نہں جانتے تھے اور وہ اپنے آباء و اجداد کے دین سے ہٹنے کیلیۓ تیار نہیں تھے۔
جبکہ انبیاء اکرام ان کا انجام جانتے ہوئے انہیں لا الہ اللہ کیلیۓ پکارتے رہے ـ یہاں تک کہ کسی کو قتل کیا گیا کسی کو آگ میں ڈالا گیا کسی کو دیس نکالا دیا گیاـ کسی اپنے پیارے لاڈلے نبی کو طویل بیماری کی صورت آزمایا ـ کسی کے بیٹے کے گلے پے چھری رکھوائی تو کسی کی بیوی کو معصوم بچے کے ساتھ لق ودق صحرا میں تنہا چھوڑنے کا حکم دیا تا کہ اللہ کا گھر آباد ہو سکے ـ آج دین حق کی پکار دینے والوں کے نام قرآن پاک میں قیامت تک محفوظ رکھ کر ان کے ذکر کو بلند و ارفع کردیا گیا ـ ان کی زندگی ان کے نام کو پائیندہ کر دیاگیا ـ سخت آزمائش میں گزرنے والے تمام لوگ آج ہماری سوچ میں زندہ ہیں۔
جبکہ دوسری طرف اکثریت میں دولت میں طاقت میں ہونے کے باوجود وہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کیلیۓ نیست و نابود ہو کر تاریک راہوں میں گم ہو گئے جو انہیں پریشان کرتے تھے ـ ان کیلیۓ مصائب پیدا کرتے تھے ـ قرآن پاک میں کچھ خواتین کا بھی ذکر ہے قرآن میں سورت مجادلہ میں اشارتا ایک خاتون کا ذکر ہے جنہیں انکے خاوند نے انہیں طلاق دے دیـ پرانے رواج کے مطابق ـ نبی پاک ﷺ سے فریاد اور تصفیہ مانگتے ہوئے ان کی خاموشی پے وہ براہ راست اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے اور پرانا نظام وہیں منقطع ہو جاتا ہے ـ طلاق کینسل ہوجاتی ہے ـ سبحان اللہ حضرت آسیہ جنہیں دنیا میں ہی آپ ﷺ کی جنت میں بی بی بننے کی خوشخبری سنا دی گئی تھیـ اتنی بڑی سعادت اس لئے ملی کہ اس خاتون نے رب کہلانے والے فرعون کی خدائی سے انکار کرتے ہوئے موسیٰ کے رب کو مانا تھا ـ حضرت مریم کا تذکرہ بہت تفصیل سے بیان کیا گیا۔
اسکی حکمت گزرتے وقت کے ساتھ سمجھ آ رہی ہے ـ کہ دنیا میں قیامت تک خواتین ے اس قسم کی آزمائشیں آتی رہیں گی ـ قرآن پاک میں مذکور ہر واقعہ نشاندہی کرتا ہے اس وقت ان واقعات پے لوگوں کے تاثرات اور اس کے بعد اللہ کی گواہی اور حضرت عیسیٰ کا کلام کرنا ـ گویا ان لوگوں کیلیۓ تھا جنہوں نے بی بی مریم کی پاکدامنی پے شبہہ کیا تھاـ اس کے بعد بی بی عائشہ کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا کہ جب وہ قافلےسے بچھڑ گئیں اور چند گھنٹے بعد ایک صحابی کے ساتھ واپس آئیں تو ان گزرے ہوئے چند گھنٹوں کو منفی سوچ رکھنے والوں نے کوئی اور ہی رنگ دے کر پورے قافلے میں بات کو پھیلا دیا ـ سنی سنائی بات ایک کے بعد دوسرا پھر تیسرا چوتھا الغرض ہر کسی نے آگے بڑھ چڑھ کربیان کیا گویا سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ـ قرآن پاک نے بی بی عائشہ کیلیۓ گواہی دیتے ہوئے کہا کہ جب تک 4 بندے آنکھوں سے کسی گناہ کو ہوتے نہ دیکھ لو ـ اس کی گواہی مت دو ـ حضرت عائشہ کیلیۓ زندگی کا وہ ایک آزمائش کا مہینہ قرآن میں درج ہے ـ سب اس بات کو بڑھا چڑھا کر آپﷺ کی دشمنی میں بیان کر رہے تھے ـ بندہ بندہ ایک ہی بات کو پورے وثوق سے بیان کرتا اور اس پے انگشت نمائی کرتا دکھائی دے رہا تھا۔
دوسری طرف آپﷺ گہرے صدمے سے دوچار تھے ـ اللہ کے حکم کے منتظر یہاں تک کہ ایک دن حضرت عائشہ سے کہا کہ اگر سچ میں جو لوگ کہہ رہے ہیں وہ خطا ہوگئی ہے تو بتا دو ـ ساری دنیا میں ایک طوفان بپا تھا ـ حضرت ابو بکر کا گھرانہ کرب کے دور سے گزر رہا تھاـ اللہ کو رحم آیا اور ان منافقین کو سخت الفاظ میں پکارتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بہتان لگانے سے پہلے تصدیق کر لیا کرو ـ اہل ایمان کیلیۓ یہ ازحد ضروری ہے اسلام کا یہ کلیہ آج بھی مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ بدلتے ہوئے وقت نے ہمارے ذہنوں کو مغربیت کی جانب مائل کر رکھا ہے۔
جہاں پرانی قدریں احترام باہمی عزت وقار کا کوئی تعلق باقی نہیں رہ گیاـ لیکن اللہ نے اپنے تمام انبیاء کو اورکچھ بیبیوں کو مشکل دور میں سے آزمائش کا نام دے کر مبتلا ضرور کیا لیکن پھر اپنی محبت سے توجہ سے ان کے بارے میں پھیلائے ہوئے ابہام کو وقت کے ساتھ واضح یوں کیاـ کہ بی بی عائشہ آپ کے وصال کے بعد 50 سال تک اسلام کیلیۓ مؤثر ادارہ سمجھی جاتی تھیںـ مولانا طارق جمیل صاحب فرماتے ہیں کہ جب آپ پر وار دین کی جانب آنے پر کیا جائے تو سمجھ لیں کہ شیطان پیچ وتاب کھارہا ہےـ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے معاملات سنوارنے کیلیۓ قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق دےـ آمین
قران میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
تحریر : وقار النسا، پیرس
