Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

چمکا آمنہ کا چاند

December 23, 2015 0 1 min read
Muhammad
Rabiul Awwal
Rabiul Awwal

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ربیع الاول کے لغوی معنی پہلی بہار کے ہیں اِس ماہ کو تاریخ ِ انسانی میں خاص مقام حاصل ہے اِسی مہینے میں محسن انسانیت سرورِ دو عالم محبوب خدا ۖ کی ولادت با سعادت ہو ئی ربیع الاول ہجری سال کا اہم سنگِ میل اور تاریخ عالم میں نمایاں اور کلیدی مقام رکھتا ہے یہ وہ با برکت اور بہار آفرین مہینہ ہے جس کی آمد سے چمنستان دہر کی مرجھائی ہو ئی کلیاں کھل اُٹھیں خزاں رسیدہ گلستان سر سبز ، شاداب ہو گئے ۔اِسی ماہ میں نسلِ انسانی کے سب سے بڑے انسان جن پر انسانیت کو فخر ہے صدیوں سے دکھی تڑپتی سسکتی انسانیت جس مسیحا اعظم کے انتظار میں تھی وہ چاند اِسی ماہ حضرت آمنہ کے آنگن میں اِس شان اور تابناکی سے چمکا کہ کرہ ارض کا چپہ چپہ تو حید کے نور سے جگمگا اُٹھا ماہ ربیع الاول کو جو غیر معمولی تقدس عظمت اور شان ملی ہے اُس کی وجہ فخرِ دو عالم ، شافع محشر سرور کا ئنات سرور دو جہاں حادی عالم ، ساقی کو ثر ، سرور کونین ، فخرِ مو جودات صاحبِ لو ح و قلم نیرِ اعظم سیدِ عرب و عجم صبح درخشاں شاہِ امم محبوب رب العالمین سید المرسلین سرتاج الانبیاء بشیر و نذیر سراج منیر امام الانبیاء آفتاب دو عالم ۖ کا اِس ماہ میںحضرت آمنہ کے آنگن میں چاند بن کر طلوع ہو نا ہے ایسا چاند جو پہلے دن سے آج تک اور روزِ محشر تک غروب نہ ہو گا۔ جس کی چمک کو کبھی بھی اندیشہ زوال نہیں وہ عظیم مسیحا کہ جس کے قدموں سے اٹھنے والی خاک کے ذرے جس پر پڑ گئے وہ قیامت تک امر ہو گئے اِس ماہ سرور دو عالم ۖ کا صرف ظہور ِ قدسی نہیں ہوا بلکہ عالم نو طلوع ہوا تاریخ عالم نے نئے سفر کا آغا ز کیا اِسی ماہ میں حضرت آمنہ نے سعادت مند بیٹے کو جنم ہی نہیں دیا بلکہ ماد ر گیتی نے تاریخ ساز اور بے مثال انقلاب کو جنم دیا ۔

حضرت آمنہ شادی کے بعد جب کا شانہ اقدس حضرت عبداللہ اپنے خاوند کے رونق افروز ہوئیں تو نو ر محمدی ۖ حضرت عبداللہ کی جبیں سعادت سے حضرت آمنہ کے شکم ظاہر میں ظہور پذیر ہوا ۔ یہاں بھی نور محمدی ۖ کے جلوے نرالے تھے ۔ حضرت آمنہ فرماتی مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ میں حاملہ ہو گئی نہ مجھے بوجھ کا احساس ہوا ۔ جو اِن حالات میں دوسری عورتوں کو محسوس ہو تا ہے مجھے صرف اتنا معلوم ہوا کہ ایام ماہواری بند ہو گئے ہیں ۔ ایک روز میں خواب اور بیداری کے بین بین تھی کہ کو ئی آنے والا میرے پاس آیا اور پو چھا تجھے علم ہے کہ تو حاملہ ہے ؟ میں نے جواب دیا نہیں پھر اس نے بتایا تم حاملہ ہو اور تیرے بطن میں امت کا سردار اور نبی تشریف فرما ہوا ہے اور جس دن یہ واقعہ پیش آیا وہ سوموار کا دن تھا ۔ آپ فرماتی ہیں کہ حمل کے ایام بڑے آرام سے گزرے جب وقت پورا ہو گیا تو وہی فرشتہ جس نے مجھے پہلے خو شخبری دی تھی وہ آیا اور آکر مجھے کہا ترجمہ : یہ کہو میں اللہ واحد کی اِس کے لیے ہر حاسد کے شر سے پناہ مانگتی ہو ں ۔ اور پھر دو شنبہ کا دن اور صبح صادق کی ضیا بار گھڑی تھی سیا ہ رات کی سیاہی چھٹ رہی تھی دن کا اجالا پھیل رہا تھا جب آفتاب عالم سرور دو عالم مالک ِ دو جہاں آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفی ۖ کی ولادت با سعادت سے کائنات کے بے نو ر گو شے چمک اُٹھے آپ ۖ کی ولادت سے ابدی مسرتوں کا نو رچمکا صدیوں کی کثافت لطافت میں بدلی ایمان اور رشد و ہدایت کی ایسی بہار کا آغاز ہوا جس کو کبھی خزاں نہیں ایسی بہار جو ظلم و جبر اور جہالت کے اندھیروں میں غرق انسانیت کو حیات ِ جاودانی عطا کر گئی ۔

Muhammad
Muhammad

بقول میاں محبوب احمد اِس کائنات رنگ و بو میں بہت ساری بہاریں مہکیں اور خزاں کا شکار ہو گئیں بہت سے سورج ابھرے اور فنا کے گھاٹ اُتر گئے بہت سے چاند چمکے اور پھر گہن گئے بہت سے پھول کھلے اور مرجھا گئے ہاں ایک بہار ایسی کہ جسے جان ِ بہاران کہیئے خزاں اُس کے کبھی قریب نہ آسکی ایک سراج ِ منیر ۖ ایسا کہ غروب کی سیاہیاں اس سے آنکھیں نہ ملا سکیں ۔طلعت و زیبا ئی کا ایسا پیکر کہ کو ئی دھند اس کے جلوئوں کو گہنا نہ سکی ایسا رشک ِ گلستان کہ جس کے تلوئوں کو چوم لینے کا شرف رکھنے والی پیشانیاں بھی مرجھانے سے محفوظ رہیں وہ جان بہاراں سراج ِ منیر بدر فلک ِ رسالت فخر ِ گلزار نبوت ہمارے آقا ہمارے مو لیٰ ہمارے حادی ہمارے راہبر حضرت محمد ۖ ہیں جو ہر مومن کی نظر کا نور روح کا قرار اور دل کا سرور ہیں اور معروف سیرت نگار مولانا شبلی نعمانی نے اپنی عقیدت کا اظہار کر تے ہو ئے پھولوں اور ہیرے جواہرات جیسے الفاظ جو عشق ِ رسو ل ۖ میں لپٹے ہو ئے نظر آتے ہیں بارگاہِ رسالت ۖ میں پیش کئے ہیں ۔ آپ کا انداز تحریر ملاحظہ فرمائیں ”چمنستان دہر میں بار ہا روح پرور بہا ریں آچکی ہیں چرخ نادرہ کار نے کبھی کبھی بزمِ عالم اِس شان سے سجائی کہ نگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئیں لیکن آج کی تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیر کہن سال دہر نے کروڑوں برس صرف کئے سیارہ گان فلک اِسی دن کے انتظار میں ازل سے چشم براہ تھے چرخ کہن مدت ہا ئے دراز سے اسی صبح جان نواز کے لیل و نہار کی کروٹیں بدل رہا تھا کارکنان قضہ قدر کی بزم آرائیاں عناصر کی حدت طرازیاں ، مہہ و خورشید کی فروغ انگیزیاں ابر و بار کی تر دسیاں ، عالم اقدس کے انفاس پاک ، توحید ابراہیم ، جمال ِ یوسف معجز طرازلی مو سیٰ ، اِسی لیے تھی کہ یہ متاع ہا ئے گراں بہا تا جدار عرب و عجم کے دربار گہر بار میں کا م آئیں گی ۔

آج کی صبح و ہ صبح جہاں نواز وہ ساعت ہمایوں وہ دور فرخ فال ہے کہ آج توحید کا غلغلہ بلند ہوا ۔ بت کدوں میں خاک اُڑنے لگی نفرت و کدورت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑنے لگے ، محبت اوراخوت کے پھول مہک اُٹھے چمنستان سعادت میں بہار آگئی شبستان حیات جگمگا اُٹھی اخلاق ِ انسانی کا آئینہ پر تو قدس سے چمک اُٹھا ابراہیم کی دعا قبول ہو ئی نطق عیسٰی کی تبشیر وجو دمیں آئی کبھی نہ غروب ہو نے والا آفتاب افق سے نکلا جمعیت خاطر اور اطمینان قلب کے لیے ٹھوس عقیدے اور جا مع نظام و دستور کی کمی پو ری ہو گئی ۔ اِس رات ایوان ِکسرٰی کے چودہ کنکرے گر گئے آتش کدہ فارس بجھ گیا دریائے سا وہ خشک ہو گیا لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان ِ کسٰری ہی نہیں بلکہ شانِ عجم شوکت روم اوج ِ چین کے قصر ہا ئے فلک بوس گِر پڑے آتش کدہ فارس ہی نہیں بلکہ آتش کدہ کفر آزر کدہ گمراہی سرد ہو کر رہ گئے صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی لت کدے خاک میں مل گئے شیرازہ مجوسیت بکھر گیا نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے توحید کا غلغلہ اٹھا چمنستان سعادت میں بہار آگئی ہدایت کی شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اخلاق انسانی کا پر تو قدس چمک اٹھا یعنی یتیم عبداللہ جگر گو شہ آمنہ شاہِ حرم حکمران عرب فرماں روائے عالم شہنشاہ کو نین ۖ عالم قدس سے عالم امکاں میں تشریف فرما ہو ئے (شبلی نعمانی سیرت النبی ) حضرت آمنہ فرماتی ہیں جس رات مسیحا کا ئنات کی ولادت با سعادت ہو ئی میں نے ایک نور دیکھا جس کی روشنی سے شام کے محلا ت جگمگا اُٹھے یہاں تک کہ میں اُن کو دیکھ رہی تھی۔ دوسری روا یت میں ہے جب پیارے آقا ۖ کی ولادت با سعادت ہو ئی حضرت آمنہ سے ایک نو رنکلا جس نے سارے گھر کو بقعہ نور بنا دیا ہر طرف نو ر ہی نور نظر آتا تھا ۔

حضرت آمنہ فرماتی ہیں جب آپ ۖ اس دنیا میں تشریف لا ئے تو آپ ۖ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے اور آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے آپ ۖ کی ناف پہلے سے کٹی ہو ئی تھی ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں آپ ان لوگوں سے روایت کر تی ہیں جو ولادت با سعادت کے وقت موجود تھے ۔ کہ مکہ میںایک یہودی رہتا تھا جب نبی کریم ۖ کی ولادت باسعادت کی رات آئی تو اُس یہودی نے قریش کی ایک محفل میں جاکر پو چھا کہ اے قریش کیا آج رات تمھارے ہاں کو ئی بچہ پیدا ہوا ہے ؟ اہل قریش نے اپنی لا علمی کا اظہار کیا تو اس یہودی نے کہا میری با ت غور سے سنو اور یاد کر لو اِس رات آخری امت کا نبی پیدا ہو گا اور اے اہل قریش وہ تمھارے قبیلے سے ہو گا اور اس کے کندھے پر ایک جگہ با لوںکا گچھا ہو گا لوگ یہ بات سن کر اپنے گھروں کو چلے گئے اور گھروالوں سے پو چھاتو انہیں بتا یا گیا کہ آج رات عبداللہ بن عبدالمطلب کے ہاں ایک فرزند پیدا ہو ا ہے جس کو محمد ۖ کے بابرکت نام سے موسوم کیا گیا ہے تو لوگوں نے جا کر اُس یہودی کو بتایا اس نے کہا چلو اور مجھے مو لود دکھائو چنانچہ وہ اسے لے کر حضرت آمنہ کے گھر آئے انہوں نے حضرت آمنہ کو کہا کہ ہمیں اپنا فرزند دکھا ئو ۔ وہ بچے کو اُ ٹھا کر اُن کے پاس لے آئیں انہوں نے اِس بچے کی پشت سے کپڑا ہٹایا وہ یہودی بالوںکے اُس گچھے کو دیکھ کر غش کھا کر گِر پڑا جب اُسے ہوش آیا تو لوگوں نے پو چھا تمھیں کیا ہو گیا تھا ؟ تو اُس نے حسرت سے کہا کہ بنی اسرائیل سے نبوت ختم ہو گئی ا ے اہل قریش تم خو شیاں منائو اِس مولود مسعود ۖ کی برکت سے مشرق و مغرب میںتمھاری عظمت کا ڈنکا بجے گا ( السیرة النبویہ )۔

Prophet-Muhammad-PBUH
Prophet-Muhammad-PBUH

شاعر دربارِ رسالت ۖ حضرت حسان بن ثابت کو پر وردگار نے لمبی زندگی عطا کی تھی زندگی کے ابتدائی ساٹھ سال کفر اور جہالت میں گزرے اور پھر جب قدرت مہربانی ہو ئی تو ساٹھ سال بحیثیت ایک سچے مومن کے زندگی گزاری آپ شہنشاہِ دو عالم فخر، موجودات باعث ِ تخلیق کا ئنات شافع محشر ، محبوب رب العالمین ، سید المرسلین رحمة العالمین ، امام الاولین و الاخرین صاحب قاب و قو سین مو لائے کل ختم الرسل محسن انسانیت رہبر انسانیت سرور کا ئنات شہنشاہِ دو عالم ۖ کی ولادت باسعادت کے بارے میں فرماتے ہیں ۔میری عمر ابھی سات آٹھ سال تھی مجھ میں اتنی سمجھ بوجھ تھی کہ جو میں دیکھتا اور سنتا تھا وہ مجھے یا د رہتا تھا ایک دن صبح سویرے ایک اونچے ٹیلے پر یثرب میں ایک یہودی کو میں نے چیختے چلاتے ہو ئے دیکھا وہ یہ بات باا واز کہہ رہا تھا اے گروہ یہود سب میرے پاس اکٹھے ہو جائو وہ اس کا اعلان سن کر بھاگتے ہو ئے اس کے پاس جمع ہو گئے اور اس سے پو چھا بتائو کیا بات ہے تو اُس نے کہا وہ ستارہ طلوع ہو گیا ہے جس نے اِس شب کو طلوع ہو نا تھا جو بعض کتب قدیمہ کے مطابق احمد ۖ کی ولادت کی رات ہے ۔ کعب احبار کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں دیکھا کہ اللہ تعالی نے حضرت مو سیٰ کو نبی کریم ۖ کی ولادت سے آگاہ کیا تھا اور مو سیٰ نے اپنی قوم کو وہ نشانی بتائی تھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ ستارہ جو تمھارے نزدیک فلاں نام سے مشہور ہے جب اپنی جگہ سے حرکت کرے گا تو وہ وقت محمد مصطفی ۖ کی ولادت کا ہو گا اور یہ بات بنی اسرائیل میں ایسی عام تھی کہ علماء ایک دوسرے کو بتاتے تھے اور اپنی آنے والی نسل کو اس سے خبردار کر تے تھے۔

وہب بن زمعہ کی پھوپھی کہتی ہیں کہ جب حضرت آمنہ کے ہاں شہنشاہِ دو جہاں ۖ کی ولادت با سعادت ہو ئی تو آپ نے حضرت عبدالمطلب کو اطلاع دینے کے لیے کسی کو بھیجا جب وہ شخص خوشخبری لے کر خانہ کعبہ پہنچا تو عبدالمطلب حطیم میں اپنے بیٹوں اور قوم کے مردوں کے درمیان بیٹھے تھے جب آپ کو پو تے کی خوشخبری سنائی گئی کہ حضرت آمنہ کے ہاں بیٹا پیدا ہو ا ہے تو حضرت عبدالمطلب کی خوشی اور مسرت کا کو ئی ٹھکانہ رہا آپ فوری طور پر حضرت آمنہ کے ہاں آئے تو حضرت آمنہ نے پیدائش کے وقت جو نو ر کی برسات اور انوار وتجلیات کا مشاہدہ کیا اور آوازیں سنیں بتایا تو حضرت عبدالمطلب بہت خو ش ہو ئے ننھے حضور ۖ کو پکڑ اور کعبہ شریف میں گئے وہاں کھڑے ہو کر بارگاہ ِ الہی میں شکر اور دعائیں کیں اور جو انعام اس نے فرمایا تھا اس کا شکر ادا کیا ابن واقد کے بقول اس با برکت اور خو شی کے موقع پر حضرت عبدالمطلب کی زبان پر یہ اشعار جاری ہو گئے ۔ سب تعریفیں اللہ تعالی کے لیے جس نے مجھے پاک آستینوں والا بچہ عطا فرمایا ۔یہ اپنے پنگھوڑے میں سارے بچوں کا سردار ہے اِسے بیت اللہ شریف کی پناہ میں دیتا ہوں ۔

Khana E Kaba Wall
Khana E Kaba Wall

یہاں تک کہ اس کا طاقتور اور توانا دیکھوں میں اس کو ہر دشمن اور ہر حاسد آنکھوں کے گھمانے والے کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ۔حضرت عباس فرماتے ہیں کہ حضو ر ۖ جب پیدا ہو ئے تو آپ مختون تھے اور ناف کٹی ہو ئی تھی یہ معلوم کر کے آپ ۖ کے داداحضرت عبدالمطلب کو بڑا تعجب ہوا اور فرمایا کہ میرے اِس بچے کی بڑی شان ہو گی ۔ حضرت عبدالمطلب فرماتے ہیں جس رات ننھے محمد ۖ کی ولادت باسعادت ہو ئی اُس رات میں کعبہ میں تھا میں نے بتوں کو دیکھا کہ سب بت اپنی جگہ سے سر بسجود سر کے بل گر پڑے ہیں اور دیوار کعبہ سے یہ آواز آرہی ہے مصطفی ۖ مختار پیدا ہوا، اُسکے ہاتھ سے کفار ہلاک ہوں گے اور کعبہ بتوں سے پاک ہو گا اور وہ اللہ کی عبادت کا حکم دے گا جو حقیقی بادشاہ اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔بلا شبہ حضرت آمنہ کے آنگن میں چمکنے والے چاند اور مہکتے والے پھول کی خوشبو سے سارا عالم معطر اور روشن ہو گا ۔حفیظ جالندھری صاحب نے اِس حقیقت کو کس خوبصورت عقیدت بھرے انداز میں بیان کیا ہے ۔

ربیع الاول امیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا
دعا ئوں کی قبولیت کو ہا تھوں ہاتھ لے آیا

ضیفوں بے کسوں ، آفت نصیبوں کو مبارک ہو
یتیموں کو غلاموں کو غریبوں کو مبارک ہو

مبارک ہو کہ ختم المرسلین تشریف لے آئے
جناب رحمتہ للعالمین تشریف لے آئے

بصد انداز یکتائی بغایت شان زیبا ئی
امین بن کر امانت آمنہ کی گود میں آئی

سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی
سلام اے فخر ِ موجودات فخر نو ع انسانی

سلام اے ظلِ رحمانی سلام اے نور یزدانی
تیرا نقش ِ قدم ہے زندگی کی لوح ِ پیشانی

سلام اے سر وحدت اے سراج بزم ِ ایمانی
زہے یہ عزت آفزائی زہے تشریف اَرزانی

ربیع الاول میں صرف آپکا ظہور ِ قدسی نہیں ہوا بلکہ عالم نو طلوع ہوا ننھے محمد ۖ نے جیسے ہی کر ہ ارض پر قدم رکھا اُسی وقت سے تاریخ انسانی ایک شاندار دور میں داخل ہو گئی آپ ۖ کے آنے سے حضرت آمنہ کا آنگن ہی روشنٍ نہیں ہوا پو ری کا ئنات کا ذرہ ذرہ چمک اُٹھا ایک عظیم انقلاب کا آغاز ہوا صدیوں سے انسانیت کی آنکھوں میں مضطرب خواب کو تعبیر ملی آپ ۖ کی آمد سے زمین ارجمند اور آپ ۖ کی پائیگا ہ کے بوسے سے آسمان بلند ہو گیا آپ کے چہرہ اقدس سے نور اور ہدایت کے چشمے پھوٹے جن کی روشنی سے کائنات کو روشنی ملی آپ ۖ کے آنے سے ہی دنیا کو شرف انسانی کا حقیقی اندازہ ہوا ورنہ آپ ۖ کے آنے سے پہلے حضرت انسان جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں صدیوں سے ٹامک ٹویاں مار رہا تھا اور وہ خود اپنی پہچان اور شان سے غافل تھا اسی بے خبری میں وہ اُس نے ہزاروں جھوٹے خدا بنا رکھے تھے صنم کدوں میں جھوٹے معبودوں کے سامنے سجدہ ریز تھا ہر طاقتور اور چمکنے والی چیز کو اپنا خدا بنا رکھا تھا سورج چاند تاروں کی چمک پہاڑوں کی بلندی سے متاثر ہو کر انہیں خدا کا درجہ دے رکھا تھا ۔ راجوں شہنشاہوں نوابوں سرداروں اور طاقتور انسانوں کی طاقت اور اقتدار سے متاثر ہو کر انہیں خدا کے اوتار کا درجہ دے رکھا تھا نسل در نسل انسان جہالت اور ظلم کی پستیوں میں ڈوب چکا تھا ڈر خوف اُس کی فطرت کا حصہ بن چکا تھا جنوں بھوتوں کو سجدے کر رہا تھا ۔

اور پھر محسن انسانیت نے آکر انسان کو بتایا کہ تیری حرمت کعبہ سے زیادہ ہے تیری ذات رازِ الٰہی ہے تو امانت الٰہی کا حامل ہے محسن ِ انسانیت کی تعلیمات سے جہالت اور گمراہی کے سیاہ اندھیرے دور ہو گئے اور انسان جو اپنے ہی ہاتھوں بنائے ہو ئے بتوں کی پو جا کر رہا تھا آج اُس کی عظمت وہیبت سے پہاڑ سمٹ کر رائی بنے ہو ئے تھے جو انسان ، بتوں مو رتیوں بھوت پریت کے واہموں خوف سے نیم جان تھا اب صحرا و دریا اُس کی ٹھوکر سے دو نیم بو ئے جا رہے تھے حضرت آمنہ کے آنگن میں اُترنے والے چاند کی روشنی سے دنیا میں انقلاب آگیا سرور کائنات ۖ نے جس ٹھوس عقیدے اور جامع نظام کی بنیاد رکھی وہ تاریخ انسانی کا عظیم ترین حقیقی انقلاب ہے اگرچہ دنیا میں اور بھی بہت سارے انقلاب آئے اور اپنی مدت پو ری کر کے چلے گئے لیکن تاریخ عالم کی پو ری معلوم تاریخ میں صرف ایک بار ہی پہلی اور آخری بار ایسا انقلاب برپا ہوا کہ تیس برس کے قلیل عرصے میں چند افراد نہیں پورا معاشرہ اپنے ظاہر باطن اور کر دار میں ایسی حقیقی اور واضح تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ اِس معاشرے کے کردار کی روشنی سے پور ی دنیا فیض یاب ہو تی ہے حضرت آمنہ کے گھر چمکنے والے چاند محسن انسانیت ۖ کی تیریسٹھ سال کی زندگی کا ایک ایک لمحہ صدیوں کی راہنمائی کا سامان فراہم کر تا نظر آتا ہے اور یہ عمل روز محشر تک اِسی طرح جاری رہے گا ۔

Professor Mohammad Abdullah Bhatti
Professor Mohammad Abdullah Bhatti

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
help@noorekhuda.org
03004352956

Share this:
Tags:
History humanity Love Rabiul Awwal shine انسانیت تاریخ جگمگا ربیع الاوّل محبوب
12 Rabi ul Awal Lighting
Previous Post 12 ربیع الاول اور حب رسول کا تقاضا
Next Post سپہ سالار امنۖ
Salaar E Aman

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close