
کراچی (جیوڈیسک) وزیر بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ رینجرز پر حملے بزدلانہ کارروائیاں ہیں جو کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن رکوانے کے لیے کی جا رہی ہیں لیکن دہشتگردی کے خلاف ٹارگٹ آپریشن بند نہیں ہوں گے۔
شاہراہ فیصل کراچی پر ملیر ہالٹ اور ملیر پندرہ کے مقام پر فلائی اوور کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر بلدیات واطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز پر دہشتگرد حملوں کا مقابلہ کیا جائے گا اور ٹارگٹڈ آپریشن اسی طرح جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کا شہر میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونا افسوس ناک بات ہے۔ سندھ حکومت کے ملازمین کے کرمنل ریکارڈ کو چیک کرنے کے لیے تمام ملازمین کی سکریننگ کی جائے گی جس میں حساس ادارے بھی تفتیش کریں گے۔
انہوں نے کہا ملیر ہالٹ فلائی اوور اور ملیر پندرہ پر عبداللہ مراد فلائی اوور پر ایک ارب روپے لاگت آئے گی جس سے ٹریفک کے مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان فلائی اوورز کی مدت تکمیل ایک سال ہے تاہم اسے 6 سے 8 مہینوں میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
