Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ریپ کی سزا پھانسی! منظور نہیں جب تک کہ۔۔۔۔

September 19, 2013September 19, 2013 0 1 min read
Police
Police
Police

16 دسمبر 2012ء کی رات ملک کی راجدھانی دہلی میںایک درد ناک واقعہ طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کا سامنے آیا۔ پولیس نے 6 وحشیانہ حرکت میں ملوث بدمعاشوں میں سے 4 کو چوبیس گھنٹوں میں گرفتار کر لیا تھا۔ گرفتار شدگان میں بس کا ڈرائیور رام سنگھ، اس کا بھائی مکیش، جم انسٹرکٹر ونے شرما اور پھل فروش پون گپتا شامل تھے۔ جلد ہی دیگر دو ملزمین کی شناخت بھی کر لی گئی۔ اس طرح کل چھ افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ مخصوص واقعہ کی فاسٹ ٹریک عدالت نے پیشی در پیشی اور سماعت در سماعت کے دوران معاملہ کے ہر پہلو کو سمجھنے اور غور و فکر کے بعد فیصلہ سنایا۔ فیصلہ وہی تھا جس کا مطالبہ متاثرہ کے والدین، سماجی تنظیمیں اور ملک کی عوام چاہتی تھی۔گرچہ یہ فیصلہ سنادیا گیا ہے لیکن ملزمین کو یہ حق حاصل ہے کہ اعلیٰ عدالت میں ایک بار پھر رحم کی فریاد کرتے ہوئے فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست دے سکیں۔ متاثرہ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا وہ انتہائی بدبختانہ اور شرمناک تھا، ساتھ ہی جس ذہنی اور جسمانی تکلیف کا وہ شکار ہوئی وہ بھی حد درجہ افسوس ناک تھا۔

متاثرہ کا ہر ممکن طریقہ سے علاج کیا جاتا رہا لیکن جسم میں پھیلے زہر کی وجہ سے آخر کار وہ اس دنیا سے چل بسی۔لہذا معاملہ ایک جانب اجتماعی آبروریزی کا ٹھہرا توہیں دوسری جانب قتل اور اقدام قتل کا بھی بن گیا ۔اس پورے واقعہ میں جس طرح عوام نے متاثرہ سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے، عمر قید یا پھانسی کی سزا تجویز کرنے جیسے معاملات سامنے آئے وہ بھی قابل ستائش ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ساکیت کی فاسٹ ٹریک عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج یوگیش کھنہ نے اس معاملے کو نادر ترین قرار دیتے ہوئے چاروں قصوروار اکشے ٹھاکر (28)، ونے شرما(20)،پون گپتا(19)اور مکیش سنگھ (26) کو موت کی سزا سنائی۔ جسٹس کھنہ نے پہلے چاروں ملزمین کو اجتماعی عصمت دری، قتل، اقدام قتل، غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنے اور شواہد مٹانے کا قصور وار قرار دیا تھا۔ اور بعد میں سزا کی نوعیت پر وکیل اتغاثہ اور دفاعی وکیل کی دلیلیں سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ معاملے کی سماعت تقریباً 9 مہینے میں مکمل ہوئی۔

چونکہ فیصلہ پر ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں لہذا فیصلہ آنے پر تمام ہی حق پسند افراد نے خیر مقدم کیا۔چھ میں سے چار کے خلاف پھانسی کی سزا طے ہوئی، وحشیانہ واردات کے اصل ملزم رام سنگھ نے 11مارچ کو تہاڑ جیل میں خود کشی کر لی۔ اور ایک کمسن ملزم کو جوینائل بورڈ نے 31 اگست کو قصوروار ٹھہرا کر اصلاح گھر بھیج دیا۔ اور یہی وہ کمسن مجرم ہے جس پر لڑکی کے ساتھ سب سے زیادہ وحشیانہ سلوک کرنے کا الزام ہے۔ کیا ریپ کی سزا پھانسی مناسب ہے؟ جبکہ : اس پورے واقعہ، فیصلہ اور حتی الامکان عمل درآمد کے باوجود سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا دیگر ریپ کے قصورواروں کو اس سے کوئی سبق حاصل ہوگا؟ کیا یہ اور اس طرح کے فیصلوں سے ریپ کی تعداد میں کمی آئے گی؟ اور یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے کہ آج ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں ہر آن ظلم و زیادتیوں کا بازار گرم ہے، یہاں لوگوں کے بنیادی حقوق کھلے عام سلب کیے جاتے ہیں، خاندانی نظام منتشر ہوا چاہتا ہے۔

Educational Institutions
Educational Institutions

برائیوں کو اب برائی نہیں سمجھا جاتا بلکہ وہ فیشن بن چکی ہیں۔” زناں “اور” ریپ “میں فرق کیا جاتا ہے، عفت و عزت کی زندگی گزارنا ایک عیب سمجھا جاتا ہے ذمہ داریاں بوجھ سمجھی جانے لگی ہیں یہی وجہ ہے کہ خاندانی رشتہ اور وہ جذبات سرد پڑتے جا رہے ہیں جو ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ نتیجتاً عریانیت اور فحاشی عام ہوچکی ہے، مذہبی گرو اور سنت معصیت سے بھری گندی دلدل میں لت پت ہیں، یہاں ولادت سے قبل ہی اولاد کو بے دریغ قتل کیا جاتا ہے اور ہر قسم کا ڈر اور خوف دولت کی ریل پیل میں ختم ہوا چاہتا ہے۔ مقصد حیات عیش پرستی میں تبدیل ہو چکا ہے، مذہبی بنیادیں یا تو نہایت کمزور ہیں یا نا ہیں ہی نہیں یہاں الحاد عام ہوا چاہتا ہے، جدیدیت ایک خاص پس منظر پیش کی جانے لگی ہے اور آخرت کا تصور نا پختہ بنیاد وں پراستوار ہے۔یہ اور ان جیسے بے شمار مسائل ہیں جہاں عام انسان رہتا بستا اور زندگی گزارتا ہے اس کے باوجودیہاں برائی کو برائی کہتے ہوئے نہ صرف ڈر محسوس ہوتا ہے بلکہ نشاندہی کرنے والوں کو ڈرایا اور دھمکایا بھی جاتا ہے۔ ان حالات میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ برائیوں کو روکنے کا ذریعہ کون بنے گا؟ حکومت، مذہبی گرو، سماجی خدمت گار، جدیدیت کے علمبردار، غیر حکومتی ادارے اور این جی اوز یا عام شہری؟ معاملہ یہ ہے کہ وہ تمام افراد اور حکومتی و غیر حکومتی ادارے جو برائیوں پر روک لگا سکتے ہیں، وہ خود برائی کو اس درجہ برائی تسلیم نہیں کرتے جو مطلوب ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ملزم جرم کر گزرتا ہے۔

لوگ واقف ہو جاتے ہیں،اُس لمحہ ہماری آنکھیں کھلتی ہیں لیکن قبل از وقت نہ ہمارے لیے وہ برائی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی درجہ میں جرم۔یہ وہ پس منظر ہے جس میں حکومت اور حکومتی ادارے چاہے وہ انتظامی امور سے تعلق رکھتے ہوں یا عدلیہ اور مقننہ میں سے ہوں، لیو اِن رلیشن پر پابندی کی بات نہیں کرتے۔ برخلاف اس کے لیو اِن رلیشن کو قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ ہومیو سیکسیو لٹی کو فرد واحد کا ذاتی معاملہ گردانتے ہوئے بتاتے ہوئے اجازت دی جاتی ہے، کو ایجوکیشن کو کسی بھی درجہ میں برائی کا ذریعہ نہیں مانتے، ڈریس کوڈ کو قید و بند کے متعارف سمجھتے ہیں، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں بڑھتی فحاشی و عریانیت پر قد غن نہیں لگاتے، شراب اور دیگر نشیلی اشیاء جو حقیقتاً برائی کی جڑ ہیں، پر پابندی نہیں لگاتے۔ ایڈس جیسے مہلک مرض پر قابو پانے کے لیے کھلے عام تعلیمی اداروں و دیگر مقامات پرمفت وہ چیزیں فراہم کی جاتی ہیں جس سے معاشرہ نہ صرف کھوکلا ہوتا ہے بلکہ انتہائی ذلت و پستی کا شکار بھی ہوتا ہے۔

وہیں دوسری طرف ویسٹران ائیزیشن کو خوبی گردانتے ہوئے ہر سطح پر نقل کیا جاتی ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ واقف ہیں کہ جن کی نقل کی جارہی ہے اسی معاشرے میں بہت پہلے خاندانی نظام منتشر ہو چکا ہے، لاوارث اور حرام اولادوں کی تعداد ہر آن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ نتیجتاً وہاں بھی اور یہاں بھی کرائم ریٹ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔افسوس کا مقام ہے کہ اسذلت و پستی کی زندگی گزارنے اور معاشرے میں بڑھتی برائیوں سے واقفیت کے باوجود اہل علم اور عوام کسی بھی سطح پر متذکرہ موضوع پر سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اور اگر کوئی ان موضوعات پر گفتگو کرتا ہے تو اس فکر اور اس سے وابستہ افراد کو دقیانوسی، غیر مہذب اور متشدد جیسے القاب سے معتارف کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں کیا یہ ممکن ہے کہ “زنا” اور” ریپ” کے واقعات رک جائیں یا ختم ہو جائیں؟ ظلم کے پرستا یہی طریقہ اختیار کرتے آئیں ہیں : حالات کے پس منظر میں جب کبھی آبروریزی کا واقعہ یا واقعات سامنے آتے ہیں تو کبھی معصوم تو کبھی شاطر دماغ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بھی “ریپ”کے مجرمین کے لیے اسلامی قانون نافذ ہونا چاہیے۔

Allha
Allha

لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے کی بھی زحمت کی کہ اسلامی قوانین میں زنا کی سزا سنگسار کیوں ہے؟ کیا اسلامی قانون کی رو سے جو شخص بھی زنا کا مرتکب ہوگا وہ سنگسار ہی ہوگا گرچہ وہ تمام برائیاں، ظلالتیں اور گمراہیاں جو زنا کا ذریعہ بنتی ہیں ایسے ہی جاری رہیں جس طرح آج ہمارے ملک میں عام ہیں؟کیا ان ذرائع پر پابندی لگائے بغیر ہی یہ قانون نافذ ہو جائے گا؟ یا ان ذرائع پر بھی وہی قانون اور حکومت و ریاست پابندی لگائے گی جو زنا کی سزا سنگسار بتاتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا کہ برائیاں تو اسی طرح عام ہوتیں جس طرح آج ہمارے درمیان چار سو موجود ہیں، ان پر کسی سمت سے کوئی پابندی بھی عائد نہ ہوتی، اس کے باوجود زنا کے مرتکب لوگوں کو سنگسار کیا جاتا،تو کیا اس پس منظر میں یہ سزا خود ایک عظیم ظلم نہ ٹھہر تی؟ کیا یہ گمان کہ وہ خدا جو انسانوں سے ان کے ماں باپ سے بھی حد درجہ محبت کرنے والا ہے نعوذ بااللہ انسانوں پر ایسا ظلم کرسکتا ہے؟نہیں ! ایسا نہیں ہے، واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس برائی کو ختم کرنا چاہتا ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی سے دوچار کرنے والی ہیں۔

اسی لیے قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایات واضح الفاظ میں آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ رہتی دنیا تک کے انسانوں کو فراہم کردی ہے ،کہا کہ:”اے نبیۖ ، ان سے کہو کہ آ ئو میں تمہیں سنائوں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے، اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جائو خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی، اور کسی جان کو، جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے، ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو”(الانعام:١٥١)۔یہ وہ موٹی موٹی خرابیاں اور برائیاں ہیں جن کا تذکرہ بطور تذکرہ نہیں ہے بلکہ اسلامی نظام و حکومت کی موجودگی میں ان پر ہر ممکن گرفت کی جائے گی، برائیوں کو فروغ دینے والے ہر ممکن ذریعہ پر روک لگائی جائے گی، ساتھ ہی خدا اور آخرت کے اسلامی تصور سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے گا۔

اِن تمام مراحل سے گزرنے کے بعد بھی اگر کوئی زنا کا مرتکب ہوتا ہے، اس وقت اس کو کھلے عام سنگسار کیا جائے گا۔اس لیے کہ مجرمین کو سزا ملے اور اس لیے بھی کہ دیگر افراد منظر کو دیکھ کر برائی کی شدت سے نہ صرف متعارف ہوں بلکہ اس کے قریب بھی نہ جائیں۔ درحقیقت یہ وہ برائی ہے جو نہ صرف متاثرین اور اس میں ملوث افراد کے درمیان اپنے خبیث اثرات چھوڑتی ہے بلکہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے فکری و عملی ہلاکت کا بھی سبب بنتی ہے۔ لہذا پہلے برائی کی شدت سے متعارف کرایا، اس کے پھیلائو پر گرفت کی گئی، اور بعد میں انجام سے ڈرا نے کے علاوہ یہ بھی بتا دیا کہ دراصل یہ اللہ کی واضح ہدایات و حدود ہیں، ان سے گریز صرف وہی شخص و اقوام کر سکتی ہیں جو سمجھ بوجھ سے کام نہ لیں۔ اس کے برخلاف اگر برائی میں لذت محسوس کی جائے، ذرائع پر گرفت نہ کی جائے، اور پھر بھی “ریپ “کی سزا پھانسی یا اسلامی قوانین پر عمل درآمد کی صدا بلند کی جائے تو ایسے لوگ ہی دراصل ظلم کے پرستار کہلائیں گے۔ لیکن اگر ماحول ساز گار ہوچکا ہو۔

Quran Pak
Quran Pak

دلوں میں خوف خدا بیٹھ گیا ہو، جہنم کی ہولنا کیوں اور جنت کے خوشنما مناظر سے لوگ نہ صرف واقف بلکہ ایمان بھی لے آئے ہوں یا حالات یہ ہوں کہ لوگ بیعت لے رہے ہوں، تو قرآن حکیم فرماتا ہے کہ :”اے نبی، جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اپنے ہاتھ پائوں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی، اور کسی امرِ معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی، تو ان سے بیعت لے لو اور اْن کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کرو، یقینا اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے(الممتحنہ:١٢)۔ یہ وہ تعلیمات اور حالات ہیں جن میں نہ صرف اللہ تعالیٰ لوگوں کی مغفرت فرمائے گا بلکہ تبدیلی افکار و اعمال کے نتیجہ میں ایک صالح معاشرہ بھی وجود میں آئے گا۔

یہی وہ حالات ہیں جن کی آج شدت سے کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ لیکن “سوچنے سمجھنے والے دماغ “یا تو مسلہ اور اس کے حل سے واقف نہیں یا نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض و حسد کے نتیجہ میں قرآنی تعلیمات و سنت رسولۖ کی روشنی میں مکمل طور پر عمل درآمد کا جذبہ نہیں رکھتے یا پھر وہ چاہتے ہی نہیں کہ ان تعلیمات کو متعارف و نافذ کیا جائے۔ حالات کے پس منظر میں یہ وہ بڑی رکاوٹ ہے جو کسی بھی مسلہ کا واضح اور حتمی حل پیش نہیں کر سکتی۔ اس کے باوجود ہدایت کے خواہشمند و طلبگاروں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اور اے نبیۖ ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھ پکارتا ہے، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ (یہ بات تم انہیں سنا دو) شاید کہ وہ راہِ راست پالیں”(البقرہ:١٨٦)۔
تحریر : محمد آصف اقبال

Share this:
Tags:
barbaric capital family God humanity Mohammad Asif Iqbal rape اللہ انسانوں پھانسی خاندانی ریپ محمد آصف اقبال وحشیانہ
Kanwal
Previous Post اسلام آباد واقعے کی ملزمہ کنول کی پولیس کیخلاف مقدمے کی پر سماعت ملتوی
Next Post بار بار بولنے پر شہلا رضا نے نصرت سحر عباسی کو ایوان سے باہر نکال دیا
Shehla Raza Nusrat Saher

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close