Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شرحِ طلاق میں خطرناک حد تک اضافہ کیوں

October 17, 2016 0 1 min read
Divorce
Endurance
Endurance

تحریر : رشید احمد نعیم پتوکی
دنیا میں لیڈرز ہوں’ سیاستدان ہوں’ حکمران ہوں’ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو’ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ’ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے’ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے’ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک’ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔

شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ لڑائی جھگڑے ،قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں۔ نیز قوت ِ برداشت نہ ہونے کی وجہ سے ہی اختلافات پیدا ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ کی حیات طیبہ میں ہے۔ ایک بار ایک صحابی نے رسول اللہ سے عرض کیا ”یارسول اللہ آپۖ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے” آپ نے فرمایا ”غصہ نہ کیا کرو” آپ نے فرمایا ”دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔

دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں” آپ نے فرمایا ” ان میںسے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان”۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔

یہ غصیلی طبعیت اور عدم برداشت کیا کیا گل کھلاتی ہے ؟؟؟۔اس کے کیا کیا نقصان ہوتے ہیں؟؟؟ اور ہماری معاشرتی زندگی کو کس طرح دیمک کی چاٹ رہی ہے؟؟؟ اس کی ایک جھلک چکوال سے کومل سعید کے ملنے والے مراسلے میں ملاحظہ فرمائیں۔وہ لکھتی ہیں”گذشتہ چند برسوں سے پا کستان میں طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضا فہ دیکھنے میں آ یا ہے ،ٹی وی پہ ہر روز کی خبروں میں یہ دیکھا جا تا ہے کہ میاں بیوی کی علیحد گی کے نتیجے میں عدالت نے بچوں کی حوالگی ماں کے سپرد کر دی ،بچے باپ کے پاس رہنا چا ہتے تھے ،ان بچوں کا رونا دھو نا ساری دنیا دیکھتی ہے۔جن کی ز ند گیوں کو خود ان کے والد ین اپنی انا کی خا طر برباد کر دیتے ہیں ۔ ہمارے معا شرے میں طلا ق کا موذی مر ض انتہا ئی تیز ی سے بڑ ھ رہا ہے ۔طلاق جا ئز کا موں میں سے اللہ پا ک کے نز دیک سب سے نا پسند یدہ فعل ہے ۔میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ،ایسا لباس جس کے نیچے تمام خا میاں چھپ جا تی ہیں ،اس رشتے کی خو بصورتی ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھو تہ کر نے اور برداشت کر نے میں ہے۔

Divorce
Divorce

اب برداشت نام کی چیز خواتین میں ہے نہ ہی مردوں میں باقی رہی ہے جسکی بناء پہ معاشرتی و ازدواجی بقاء ایک خطر نا ک صورت حال اختیار کر چکی ہے ،معمولی سی با توں کو جواز بنا کر ایک دوسرے کو سیکنڈوں میں چھوڑ دیا جا تا ہے ۔اسی ایک لمحے کی غلطی ساری ز ند گی کا پچھتاوا بن جا تی ہے ۔اس سارے معا ملے میں برباد ہو نے والے وہ خود تو ہو تے ہی ہیں اس کے سا تھ ساتھ ان کے بچوں کی ز ند گی ایک عذاب بن جا تی ہے ۔” غزالہ اپنے نام کی طرح خو بصورت اور سلیقہ مند تھی اس کے چہر ے کی سنجید گی ہر ایک کو متا ثر کئے بنا نہیں رہ سکتی تھی پہلی نظر میں ہی دل کے اندر گھر کر جا نے والی لڑ کی تھی ۔مگر قسمت میں ماں با پ کا پیار نہ تھا ۔اس کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد اس کے والد ین میں معمو لی سی با ت پہ لڑائی نے طو ل پکڑا اور نو بت طلا ق تک پہنچ گئی ایسے میں معصوم غزالہ ماں کی سپردگی میں آ گئی ۔غزالہ کا والد ایک سرکاری محکمے میں اٹھارہ گریڈ کا آ فیسر تھا۔

دولت کی ریل پیل تھی لہذا غزالہ کے والد نے اسلا م آ باد میں دوسری شادی کر لی جبکہ دوسری طرف اس کی ماں نے بھی کچھ عرصہ گزرنے کے بعد دوسری شادی کر کے گھر بسا لیا ۔لیکن اس کے سوتیلے باپ نے غزالہ کو ر کھنے سے انکار کر دیا ۔وہ معصوم کبھی دادی کے گھر ،کبھی نا نی کے گھر، کبھی کسی اور رشتے دار کے گھر ز ند گی کے عذاب جھیلنے لگی ،سو تیلے با پ کو کبھی کبھار گھر میں آنا بھی برداشت نہ ہوا اور اس نے اپنے گھر میں اس کا آ نا جا نا مکمل طور پہ بند کر دیا ۔دوسری جا نب غزالہ کا با پ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ ہنسی خو شی رہ رہا تھا اس نے ایک بار بھی اپنی بیٹی کا نہ سو چا اور اسے بے یارومدد گار چھوڑ دیا ۔غزالہ نے اسی کشمکش میں در در کی ٹھو کر یں کھا تے ہو ئے جوانی کی د ہلیز پار کر لی اس کی شادی محلے کے لو گوں نے کرائی مگر اٹھارہ گر یڈ کے آ فیسر با پ نے جواپنے ناک کی خا طر کئی غر یبوں کی مدد کر تا تھا اس نے اپنی بیٹی کو ایک د ھیلا تک نہ دیا۔

شادی کے بعد بھی قسمت کی دیوی غزالہ سے نا راض ہی رہی اس کا شوہر نہا یت غریب تھا شادی کے بعد پہلے بچے کی پیدائش پہ وہ با لکل بے کس تھی اس کی ماں نے اپنے شو ہر کی منت سما جت کی کہ کچھ دنوں کیلئے وہ بیٹی کو پاس رکھ لے تا کہ اس کی دیکھ بھا ل کر سکے اس وقت تو وہ مان گیا مگر اس کے گھر آ تے ہی ایسا سلو ک کیا گیا جیسے وہ بے چاری اچھوت ہو اس” عزت افزائی” کے باعث وہ بچے کی پیدائش کے دو دن بعد ہی اپنے گھرچلی گئی اور لو گوں کے گھروں میں کا م کر نے لگی ، پھریکے بعد دیگرے بچوں کی پیدائش پہ اس نے سب دکھ اکیلے ہی برداشت کئے مگر ماں باپ کے در پہ بھیک ما نگنے نہیں گئی ، اس صورت حال نے اسے جسما نی و ذہنی طور پہ بے حد کمزور کر دیا تھا ،اپنے بچوں کی خاطر اس نے لوگوں کے گھروں میں کام شروع کر دیا ذرا تصور تو کر یں کہ ایک اٹھارہ گر یڈ کاآ فیسرجس کے گھر میں نوکروں کی فو ج ہے، خود اس کی بیٹی بے کسی کے عا لم میں کسی کے گھروںمیں کا م کر تی تھی پھر اس کے دل میں اپنے ماں باپ کے بارے میں کیا کیا ارمان تھے شاید الفاظ اس کا احاطہ نہ کر سکیں۔ اسے ماں باپ کے اس طرح بے وقعت کر نے کے فعل نے اور غربت کے ظالم شکنجے نے مار دیا تھا ،زما نے کی بے اعتنا ئی سہتے سہتے وہ وقت سے پہلے ہی بوڑھی لگنے لگی اور اسی غر بت کی ماری غزالہ یر قان کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئی اس کی بیماری کی خبر سنتے ہی اس کی ماں ہسپتال پہنچ گئی اس کے باپ کی طرف پیغام بھیجا گیا تو جواب ملا کہ میرے پاس ٹا ئم نہیں ،ٹائم ملا تو آ جائوں گا۔

Marriage
Marriage

بہت دنوں بعد جب اس کا باپ ہسپتال پہنچا تو بستر پہ ہڈیوں کے ڈ ھا نچے میں تبد یل غزالہ آ نکھوں میں ہزاروں شکوئے لئے خشک ہو نٹوں سے فریاد کر تے ہو ئے بے پناہ روئی اور اسی حالت میں بے ہو ش ہو گئی ،ٹھیک دو دن بعد وہ اس ز ند گی سے چھٹکارا پا کر ابدی نیند سو گئی ،اس کے باپ کو معلوم ہوا تو اس نے اپنے آ فس میں یہ بتایا کہ ایک رشتہ دار کی وفات پہ جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔میرے پاس الفاظ نہیں کہ جن میں اس کے ما ں با پ کو احساس دلا سکوں کہ وہ ان کے جگر کا ٹکڑا تھی ،ان کی لڑائی کا نقصان ان دونوں کو نہیں ہوا کیو نکہ وہ دونوں اپنی ز ندگی میں اپنے بچوں کے سا تھ خوشی سے جی رہے ہیں مگر غزالہ جس کا قصور یہ تھا کہ اس نے ان کے گھر جنم لیا اسے نا کردہ گناہ کی سزا ملی ۔یہ تھا ایک ایسی معصوم لڑ کی کی ز ندگی تلخ سچ جس کے ماں باپ کی علیحد گی نے اس کی ز ندگی بر باد کر دی وہ جیتے جی مر تی رہی ،وہ پل پل آ ہوں اور سسکیوں میں سوتی جا گتی رہی اور مر تے دم تک اس کی و یران آ نکھوں میں ایک ہی سوال تھا کہ آخر اس کا قصور کیا تھا ،اگر اس کی پرورش نہیں کر سکتے تھے تو اسے دنیامیں لا نے کا حق بھی نہیں ر کھتے تھے یہ سوال اس کی ز ند گی کھا گیا مگر جواب کسی کے پاس بھی نہیں ۔یہ کہا نی یہی پہ بس نہیں ہو تی بلکہ اس کے چار معصوم پھول سے بچوں سے جا ملتی ہے جو ماں کی وفات کے بعد اسی طرح بے کس ہو گئے جیسے غزالہ اپنی ماں کے ہو تے ہو ئے بے کس ہو ئی تھی ،اس کے چار بچوں کو کو ئی اکٹھا نہ ر کھ سکتا تھا لہذا فیصلہ کیا گیا کہ چاروں بچوں کو تقسیم کر لیا جائے۔

اب اس کے دو بیٹے مدرسے میں ایک بیٹی پھو پھی کے پاس اور دوسری چچا کر پاس ہے۔توکیا ان کو وہ پیار وہ سکون ملے سکے گا اس کا جواب ان کی ماں کی کہانی کی صورت میں آ پ سب کے سا منے ہے ؟؟؟۔ یہ صرف ایک غزالہ کی کہا نی نہیں ہمارا معا شرہ ایسے بچوں سے بھرا پڑا ہے جن کے والد ین کے غلط فیصلے ان کے بچوں سے جینے کا حق چھین لیتے ہیں ،کہیں پہ بیٹے کسی آ فیسر باپ کے ہو تے ہو ئے بھی دارالا مان میں ہیں تو کہیںپہ بیٹیاں کسی کے گھروں میں نو کروں کی طرح زند گی گزارنے پہ مجبور ہیں ۔طلاق جیسے نا پسندیدہ فعل سے ماں با پ کا کو ئی نقصان نہیں ہو تا ،شو ہر بھی مل جا تا ہے اور بیو ی بھی مگر ماں کی سچی و خا لص محبت اور با پ کی گھنی شفقت بچوں کو کو ئی اور نہیں دے سکتا ۔اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر یں لڑائی جھگڑوں کو طو ل نہ دیں اسی میں ان کے گھر کا سکون اور بچوںکا تحفظ ہے ورنہ دوسری صورت میں سوائے پچھتانے کے اور کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ اس رشتے کی مضبوطی اور پائداری عزت و اعتماد میں پوشیدہ ہے۔میاں بیوی میں جتنا زیادہ اعتماد ہو گا یہ رشتہ اتنا ہی زیادہ مضبوط ہوگا۔اور اس سے بھی بڑہ کر یہ بات بہت ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال کریں ایک دوسرے کی عزت کریں اور ہلکی پھلکی تلخی کو فوراً بھول جائیں تو طلاق تک کبھی نوبت نہیں آئے گی۔اسلام ہمیں آپس میں اچھے برتائو کا درس دیتا ہے۔ خلوص ِنیت،صلہ رحمی،اخوت،محبت اور چاہت کے ساتھ زندگی گزارنے کی تبلیغ کرتا ہے۔اسلام کایہ درس عظیم ہمیں کبھی بھی فرموش نہیں کرنا چاہیے کہ اگر کبھی کسی فریق سے رویے اور سلوک میں کوئی بھول چوک ہو جائے تو برداشت،صبر وتحمل،عفوودرگزر سے کام لے کر اس رشتے کی چمک کو ماند نہ پڑنے دیا جائے بلکہ عزت و تکریم، ادب واحترام اور حیاء کا ایسا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ اس بندھن کے حُسن کو چار چاند لگ جائیں کیونکہ یہ مسلمہ بات ہے کہ اسلامی اقدار و روایات پر عمل کرنے سے رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہو تا ہے۔

Rasheed Ahmad Naeem
Rasheed Ahmad Naeem

تحریر : رشید احمد نعیم پتوکی

Share this:
Tags:
bear divorce growth Rasheed Ahmad Naeem rate Risk World اضافہ برداشت خطرناک دنیا شرح طلاق
Hasina Wajid
Previous Post حسینہ واجد کی دھمکی !
Next Post سکاٹ لینڈ یارڈ کے فیصلے سے ایم کیو ایم کی سیاست پر اثرات
Scotland Yard and Altaf

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close