
کراچی (جیوڈیسک) سیاسی افق پر حکومت مخالف جماعتوں کا دوبارہ غلبہ ہونے اور مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کم نہ ہونے سے مایوس سرمایہ کاروں کی سائیڈ لائن پر رہنے کو ترجیح کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی حصص کی تجارتی سرگرمیاں متاثر رہیں۔
کاروبارمیں اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کے اثرات غالب رہے جس سے انڈیکس کی 30000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی، مندی کے سبب 52 فیصد حصص کی قیمتیں کم ہو گئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے 8 ارب 56 کروڑ 54 لاکھ 47 ہزار 327 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال برقرار رہنے کی وجہ سے سرمایہ کاری کے بیشتر شعبے سائیڈ لائن رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں جس کی وجہ سے کاروباری حجم میں بھی کمی کا رحجان غالب ہو گیا ہے۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 29 لاکھ 26 ہزار510 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر 92.55 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے 9 لاکھ 92 ہزار 214 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 14 لاکھ 40 ہزار 163 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 4 لاکھ 94 ہزار 134 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کے اثرات کو زائل کرتے ہوئے مارکیٹ کو مندی سے دوچار کر دیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 21.93 پوائنٹس کی کمی سے 29993.87 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 30.37 پوائنٹس کی کمی سے 20581.62 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 108.88 پوائنٹس کی کمی سے 48759.86 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 23.42 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 11 کروڑ 50 لاکھ 30 ہزار 870 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 409 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 173 کے بھائو میں اضافہ، 212 کے داموں میں کمی اور 24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
