Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تحریک خالصتان ریفرنڈم 2020

April 30, 2018 0 1 min read
Referendum
Referendum
Referendum

تحریر : قادر خان یوسف زئی

دنیا بھر آباد سکھوں نے اپنی شناخت اور ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت کی اقلیتوں کے ساتھ جانب دارنہ رویوں کے سبب الگ ریاست کے لئے خالصتان 2020 ریفرنڈم کا اعلان کیا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں سکھ برداری کی جانب سے خالصتان 2020 ریفرنڈم کے لئے باقاعدہ تحریک کو منظم کیا جارہا ہے ۔ اس سے قبل بھارت میں آباد سکھوں کی جانب سے آزادی کی تحریک میں شدت آگئی تھی لیکن بھارت کی جانب سے فوجی آپریشن کر کے خالصتان تحریک اور سکھوں کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کرتے ہوئے فاشٹ نظریئے کو اپنایا تھا ۔ وقتی طور پر تحریک خالصتان کو دبانے کی کوشش کی گئی لیکن سکھ قوم بھارت کے ظلم و استبداد سے آزادی کی تحریک سے دست بردار اور اپنے جائز حقوق کے حصول کیلئے تیسرے درجے کی اقلیت بننے سے انکار کرچکی ہے ۔ بھارت نے پاکستان پر ایک بار پھر جھوٹے الزامات عائد کئے کہ پاکستان بیساکھی کے موقع پر آنے والے سکھوں کو بھارت کے خلاف استعمال کررہا ہے اور اس کی سرپرستی پاکستان کے حساس ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے کی جا رہی ہے ۔ پاکستان نے بھارت کے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے تمام جھوٹے الزامات رد کردیئے ہیں۔ پاکستان کسی بھی ملک میں کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی کو غیر جانب دار رکھنے کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے ۔ بھارت میں علیحدگی پسند تنظیموں کا وجود ابھی سے نہیں بلکہ تقسیم ہندوستان کے بعد سے ہی مختلف علیحدگی پسند تحریکوں نے بھارت میں انضمام کو جبری اور عوامی منشا کے برخلاف قرار دیتے ہوئے آزاد ریاست کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھنے کو ترجیح دی تھی۔ لیکن بھارت کی جانب سے تقسیم ہندوستان کے فارمولے کے برعکس جبری اقدامات کی وجہ سے کئی ریاستوں میں بھارت کے خلاف فکری و مسلح مختلف تحریکوں نے جنم لے لیا تھا اور بھارت کے خلاف کھل کر اپنی آزادریاستوں کے قیام کے لئے مزاحمت شروع کردی تھی۔

بھارت چالاک لومڑی کی طرح پاکستان کے خلاف سازشیں رچاتا رہتا ہے اور پاکستان کے خلاف سازشوں کی سرپرستی کرنا وتیرہ بنا لیا ہے ۔ اس لئے بھارت اپنی مذموم سازشوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے اپنی ریاستوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدت پسند رویہ تبدیل کرنے کے بجائے اپنی کوتائیوں و ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ تقسیم ہندوستان کے بعد ہی ریاست تامل ناڈو کی تامل علیحدگی پسند تحریک اور سکھوں کی ‘اکالی دل’ ،’ خالصتان ‘ جیسی تحریکوں نے بھارت کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کردی تھی ۔ خاص طور پر خالصتان تحریک کو دبانے کے لئے بھارتی فوج مظالم کی تاریخ رقم کرچکا ہے۔ سکھوں کی آبادیوں پر ٹینک چڑھانا ، تحریک کے رہنمائوں کے گھر و دفاتر پر چھاپے انہیں ماورائے قانون عقوبت خانوں میں رکھنا ، قتل عام اور انتہائی شرمناک عمل سکھوں کے مقدس ترین مقام ” گولڈن ٹیمپل” کو مسمار کردینا ، بھارتی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ سکھ قوم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور بھارتی ریاست کی دہشت گردی کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ بھارتی ہندو شدت پسند حکومت پرسکھ قوم اعتماد نہیں کرتی کیونکہ انہیں بھارت میں تیسرے درجے کا شہری بنا کر رکھا ہوا ہے۔

بھارت میں سکھ قوم کے ساتھ زیادتیوں اور ریاستی جبر کے احوال سے قبل اگر ہم اجمالی جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ بھارت میں اس وقت کئی علیحدگی پسند تحریکوں نے مسلح مزاحمت کو اپنا یا ہوا ہے۔ بھارتی ہندو انتہا پسند ریاست ان تحریکوں کو طاقت کے زور پر دبانے کے لئے ہر ناجائز حربہ اپنانے سے گریز نہیں کرتی۔ بھارتی ذرائع ابلاغکے مطابق صرف آسام میں 34 علیحدگی پسند تنظیمیں ایسی ہیں جو 162اضلاع میں ریاست کے مقابلے میں مضبوط اور خود مختار ہیں اور ان اضلاع پر ان علیحدگی پسند تنظیموں کا مکمل کنٹرول ہے۔ شمال مشرقی بھارت کی سیون سسٹرز (سات بہنیں)کہلا نے والی سات ریاستیںآسام، تریپورہ، ہماچل پردیش، میزورام،منی پور، میگھالیہ اور ناگالینڈ،بہار، جھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، اڑیسہ،مدھیا پردیش، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش میں بڑی مسلح مزاحمتی تنظیمیں موجود ہیں ۔ جو بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے مزاحمت کررہی ہیں۔ ان تحریکوں میں نکسل تحریک جو مغربی بنگالی کے گائوں نیکسل باڑی سے شروع ہوئی تھی اس مزاحمتی تحریک کو کچلنے کے لئے بھارت نے طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا ۔ باغی چین کے عظیم انقلابی رہنما ماؤزے تنگ کے نظریات سے متاثر ہ ماؤسٹ یا ماؤ باغیوں کہلاتے ہیں۔ اس تحریک کے ہزاروں ماؤ باغی’عام شہری بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکا روں کے ریاستی طاقت کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران بھارتی فوج کے ایک ہزار سے زائد اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ بھارت کی مختلف ریاستوں میں نیکسل باڑیوں نے مسلح مزاحمت برپا کر رکھی ہے۔ بھارتی سکیورٹی ادارے ماؤ باغیوں کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تھا جو ناکامی سے دوچار ہوا اور ماؤ بغاوت کوختم نہ کیا جا سکا۔ ایک بھارتی ادارے ”انسٹی ٹیوٹ آف کونفیلکٹ مینیجمنٹ”کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں ماؤ باغی اپنی قوت بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں اوروہ خودکو مزید طاقتور بنانے کے لئے جہاں شمال مشرقی ریاستوں میں کئی علیحدگی پسند تنظیموں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں وہیں پورے ملک کے آزادی پسندوں کے ساتھ بھی تعاون کر کے اپنا دائرہ اثر وسیع کررہے ہیں۔ 70کے قریب ان علیحدگی پسند تحریکوں میں مندرجہ ذیل زیادہ منظم سمجھی جاتی ہیں۔

بھارت میں علیحدگی پسند تحریکوں میں ریاست آسام میں یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ، نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ برچھا کمانڈوز، یونائیٹڈ لبریشن ملیشیا،مسلم ٹائیگر فورس، آدم سینا، حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد، گورکھا ٹائیگر فورس اور پیپلز یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ بھی قابل ذکرہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں لشکر عمر، البرق، الجہاد فورس، تحریک جہاداسلامی، حزب المجاہدین وغیرہ بھارتی قبضے کے خلاف سرگرم عمل ہیں جبکہ پنجاب میں ببر خالصہ انٹر نیشنل،خالصتان زندہ باد فورس، خالصتان کمانڈوز، بھنڈرانوالہ ٹائیگرز، خالصتان لبریشن فرنٹ، خالصتان نیشنل آرمی اور ریاست منی پورمیں پیپلز لبریشن آرمی، منی پور لبریشن ٹائیگر فورس، نیشنل ایسٹ مائنارٹی فرنٹ،کوکی نیشنل آرمی، کوکی ڈیفنس فورس اور ناگالینڈ میں نیشنل سوشلسٹ کونسل اور تری پورہ میں آل تری پورہ ٹائیگر فوس، تری پورہ آرمڈ ٹرائبل والنٹیئر فورس، تری پورہ مکتی کمانڈوز،بنگالی رجمنٹ اور میز و رام میں پروفیشنل لبریشن فرنٹ سمیت کئی تنظیمیں بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے مسلح مزاحمت کررہی ہیں۔ آسام میں ”یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام”،”مسلم یونائیٹڈ لبریشن ٹائیگرز آف آسام””بوڈو سکیورٹی فورس” مانی پور کے باشندوں کی ”پیپلزلبریشن آرمی آ ف مانی پور”، ریاست تری پورہ میں ”نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پور ہ”آل تری پورہ ٹائیگر فورس، میگھالیہ ریاست میں”نیشنل لبریشن کونسل”کام کر رہی ہے اور اسی طرح ایسٹ انڈیالبریشن فرنٹ ریاست آرنچل پردیش میں بھارتی تسلط کے خلاف مسلح مزاحمت کررہے ہیں۔کشمیر، منی پور ہ، آسام ودیگر ریاستوں میں نہ صرف علیحدگی پسندوں بلکہ عام شہریوں کے خون سے بھی ہولی ‘بے دریغ قتل عام ‘املاک کو جلانا’خواتین کی آبرو ریزی کی جاتی ہے۔ آسام ریاست کے حوالے سے بتایا جاتا ہے یہاں کے قدیمی باشندوں نے17 بار مغلوں کو شکست دی تھی ۔ آسام تقسیم ہندوستان کے فارمولے کو قبول نہیں کرتے ہیں ۔بھارتی حکومت 71کے بعد سے ابتک20ہزار آسامی کو قتل کرچکی ہے ۔آسام کی کل آبادی میں 30فیصد مسلمان آباد ہیں جو کشمیر کے بعد مسلمانوں کی دوسری بڑی ریاست ہے۔ آسام میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی گئی اور خصوصی ایکٹ اے ایس پی ایس اے اے لگا کر بھارتی سیکورٹی فورسز کے اختیارات میں بے انتہا اضافہ کردیا گیا جس کے نفاذ کے بعد آسام میں ہزاروں افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے جس سے بھارت کے خلاف علیحدگی پسندی کو فروغ ملا ۔آسام کے باشندے سمجھتے ہیں کہ دنیا کو بہت کم ہمارے بارے میں معلومات دی جاتی ہیں ۔ بھارت میں علیحدگی پسند تحریکوں کے حوالے سے خود بھارتی عوام کو سوچنا ہوگا کہ کیا بھارتی ہندو انتہا پسند ریاست ایسے لوگوں کی کمیونٹی کی تعمیر کررہے ہیں جو بھارت کے مضبوط مستقبل کی پیش گوئی کرسکتے ہیں۔ یا پھر کیا بھارتی عوام نے سنجیدگی سے یہ سوچا ہے کہ شمال مشرقی بھارت میں آزادی کی تحریک کیوں فعال ہے؟۔بھارت سے آسام کی آزادی تحریک کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟۔کیا آسام اگلا کشمیر بننے کے کنارے پر ہے؟۔کیا بھارت کی جمہوری و سیکولر ساخت مضبوط ہے جیسا کہ
اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے۔ نگالینڈ، کشمیری آزادی تحریک، خا لصتان اور تامل تحریک، نکسالائٹ، دراصل بھارت کا حقیقی جمہوری چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

بھارتی عوا م کو سوچنا ہوگا کہ بھارت میں علیحدگی کے لئے بہت سے آزادی کی تحریکیں کیوں ہیں؟۔یہاں ایک بات قابل توجہ بھی ہے کہ جہاں جہاں آزادی کی تحریکوں میں شدت پائی جاتی ہے وہاں سامراجی نظام انتہائی مضبوط دکھائی دیتا ہے۔جموں کشمیر میں کوئی صنعت قائم نہیں ہے۔ بھارتی پنجاب میں زراعت کی وجہ سے کافی گائوںمضبوط معیشت رکھتے ہیں ، لیکن وہاں بھی سامراجی نظام کی جڑیں کافی مضبوط کی گئی ہیں۔خالصتانی تحریک کو بھی اسی تناظر میں دکھا جاتا ہے کہ سامراجی نظا م کی کامیابی کے لئے ان کا استحصال معمول بن چکا ہے ۔ مزدور قوت کے ساتھ تنازعات اور مسلسل استحصال نے ہی بھارت میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دیا اور انہیں اپنے حقوق کے حصول کے لئے جبر و تسلط کے نظام کو خود پر حاوی کرنے سے روکنے کی کوشش کی ۔ جس بنا پر ہی ریاست سامراجی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے ایسے اقدامات کرتی ہے جس سے عصبیت ، فرقہ واریت اور جانبداری کا احساس جنم لیتا ہے ۔ احساس محرومی کی وجہ سے علیحدگی پسند تحریکیں اپنے حقوق اور تاریخی حیثیت کے مطابق ریاست سے جائز حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن انہیں بزور طاقت غلام بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جب بھارتی ہندو انتہا پسند چہرے پر نقاب سیکولر ازم او ر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے لبادے کے ساتھ ہو تو ظاہری نقاب کے پیچھے ظلم کا مکروہ چہرہ نمایاں ہو جاتا ہے۔

. ہم خا لصتانی تحریک اور کشمیر کی آزادی کی مزاحمت کو دیکھتے ہیںکہ سرمایہ داری اور صنعتی ترقی کی ترقی کے آڑ میں سامراجی نظام آہستہ آہستہ ان کی گرفت کو روک دیتا ہے، زمانے کے نظام کو برباد کر دیتا ہے، مزدور قوت کو آئے روز ایک نئے تنازعہ کا سامنا ہے جس میں مزدور اور حکومت کے درمیان خلیج وسیع ہوجارہی ہے ۔ کشمیر تا آسام اور تحریک خالصتان سمیت بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے والی تحریکوں کی ایک ہی کہانی ہے۔ بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے ہے ۔ بھارت اپنے ملک میں انتشار ، خلفشار اور بغاوت کے اسباب کو فرو کرنے بجائے پاکستان پر ہی اپنی ہر ناکامی کا ملبہ گرا کر اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتا ہے۔ بھارت اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کے بجائے پاکستان اور افغانستان سمیت کئی ممالک میں مذموم سازشوں کے ساتھ بے بنیاد پروپیگنڈوں میں مصروف ہے۔ چین ، افغانستان ، پاکستان میں دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ ، سیاسی عدم استحکام کے لئے لسانی ، مذہبی گروہ بندیوں کی سرپرستی کرنا اور بے بنیاد پروپیگنڈوں سے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوششیں دراصل بھارت کی بنیادی پالیسی بن چکی ہے۔

اقوام عالم کو دھوکہ دینے کے لئے بھارتی اپنے ہندو انتہا پسند رویوں پر پردہ ڈالنے کے لئے علیحدگی پسند تنظیموں کو خودمختاری کے حصول کی تحریکیں قرار دیتا ہے ۔ بھارت کا یہ جھوٹ تسلیم کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں کہ یہ علیحدگی پسند تنظیمیں دراصل بھارت کے جبر و تسلط سے آزادی چاہتی ہیں۔ بات یہاں صرف مقبوضہ کشمیر سے آسام تک محدود نہیں ہے بلکہ پنجاب سمیت دنیا بھر میں آباد سکھ قوم اپنے حق اور احساس محرومی سے نجات کے لئے بھارت کے جھوٹے سیکولر نقاب کو اتار کر آزادی و خود مختاری کے لئے مزاحمت کررہی ہیں۔ بھارت کی دوسری تحریکوں کے حوالے سے ریاست کی کمزوریوں اور جبر کو اس حوالے سے مانا جاتا ہے کہ بھارت کی دوسری ریاستوں کے ساتھ ان علاقوں میں ایک کمزور ثقافتی منسلک ہے اور ان کے اپنے رواج ہی مضبوط منسلک ہے۔بھارت اس بات کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر تنوع میں اتحاد کی علیحدگی پسند تحریکوں کو روکنے میں کامیاب ہوسکے۔جب کہ علیحدگی پسندبطور قوم کے طور پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے وسائل کا استحصال کیا جارہاہے اور ن کی ثقافت کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔خالصتان ریفرنڈم2020کا جب سے اعلان کیا گیا ہے اس وقت سے بھارتی ہندو انتہا پسند حکومت کی جانب سے خالصتان تحریک کو دبانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔

اندرا گاندھی کے حکم پر امرتسر میں سکھوں کی مقدس ترین مرکزی عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل کے خلاف ریاستی یلغار کے ردعمل میں 31اکتوبر1984میں بھارتی وزیر اعظم ان کے اپنے ہی سکھ محافظوں سنونت سنگھ اور بینت سنگھ نے قتل کردیا تھا ۔اس واقعے کے بعد پورے بھارت میں سکھ قوم کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا اس کا اندازہ صرف نیو دہلی میں آباد 20ہزار سکھوں کے قتل عام سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس میں اندراگاندھی کابینہ کے تین وزرا کو بھی ذمے دار قرار دیا گیا تھا۔تقسیم ہندوستا ن کے وقت ہی جواہر لال نہرو کے وہ خطوط کے راز کپور سنگھ نے پمفلٹ کے صورت میں افشا کردیئے تھے ۔جس میں جواہر لال نہرو نے بھارتی پنجاب کے تمام کمشنروں ، ڈپٹی کمشنروں کو احکامات دیئے تھے کہ سکھوں کے ساتھ درشت اور جرائم پیشہ قبیلے کے طور پر سلوک کریں ۔اگر کوئی سکھ پاکستانی پنجاب میں جانے کی کوشش کرے تو بلا جھجھک گولی مار دی جائے۔اکالی دل نے1947میں ہی نہرو سرکار کے خلاف تحریک چلانا شروع کردی تھی جسے دبانے کے لئے بزور طاقت ان گنت سکھوں کو قتل کیا گیا ۔ بھارت حکومت نے سکھوں کی یک جہتی کو کمزور کرنے کے لئے مشرقی پنجاب کو 1966میں ہریانہ ، ہماچل پردیش سمیت تین حصوں میں بانٹ دیا ۔مغربی پاکستان سے ہجرت کرنے والے سکھوں کو نیو دہلی و مشرقی پنجاب سے اس طریقہ کار آباد کیا گیا کہ وہ مشرقی پنجاب کی طرف نہ جا سکیں۔سکھوں کے ساتھ نا انصافیوں و قتل و غارت کی بڑی بڑی مثالیں موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سکھ قوم کی جانب سے مقبوضہ کشمیرریفرنڈم کی طرز پر دنیا بھر جون2020کو ایک عالمی ریفرنڈم منعقد کرنے اعلان کیا گیا ہے ۔ جس میں دنیا بھر میں آباد سکھ کیمونٹی اپنی رائے کے ذریعے اقوام عالم سے مطالبہ کرے گی کہ سکھ قوم کے تحفظ اور انسانی حقوق کے پامالی و نسل کشی کے خلاف بھارتی حکومت کو روکا جا سکے۔

خالصتان تحریک بھارت کا داخلی معاملہ ہے ۔ لیکن تقسیم ہندوستان کے بعد سے بھارت نے کئی ریاستوں پر جبراََ قبضہ کیا اور کئی ریاستوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا ۔ جس کی وجہ سے بھارتی ریاستوں میں احساس محرومی نے مسلح مزاحمت کا روپ دھار لیا ۔ بھارت نے یہ رویہ اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا اور اسی مذموم منصوبے کے تحت مسلم اکثریتی ریاست کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں انتہا پسند فوجیوں کو مسلط کردیا گیا جہاں بھارتی سیکورٹی فورسز نے ظلم و بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے ۔ نوجوان ، بوڑھے ، خواتین وہاں محفوظ نہیں ، بچیوں کی عصمتیں تار تار کیں جا رہی ہیں ، یہاں تک کہ اب ریاستی منصوبے کے تحت مسلم کشی و مسلمانوں کو بیدخل کرنے کے لئے منظم طور فاشٹ ریاستی منصوبے کے تحت ، خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے بعد معصوم آصفہ جیسی بچی کے ساتھ گھنائونے زیادتی و قتل کے واقعات کئے جا رہے ہیں ، آصفہ کے مجرموں کو ریاست کی پشت پناہی حاصل ہے ، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مجرموں کی رہائی کے لئے مظاہرے اور معصوم آصفہ کے اہل خانہ کو خوفزدہ کیا جارہا ہے ۔ معصوم آصفہ کے لئے انصاف طلب کرنے والی خاتون وکیل کو بھی کھلے عام دہمکی دی جارہی ہے۔

اسکول طالبات و نہتے عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے۔ ان حالات میں جب بھارت میں آباد دیگر قومیتیں اپنی ریاست کے جبر و ظلم کو دیکھتی ہیں اور ان واقعات کے ساتھ اپنا موازنہ کرتی ہیں تو اس حوالے سے ان تحریکوں کے تحفظات میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ بھارت میں مسلح مزاحمتیں چند ہفتوں ،مہینوں یا کچھ برسوں کی پیدا وار نہیں ہیں بلکہ بھارت کا معتصبانہ رویہ شروع دن سے ہے ۔ ان حالات میں پاکستان اس بات پر عمل پیرا ہے کہ کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوام عالم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھارت میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر اپنا کردار ادا کرے بھارت کو پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کے لئے اپنے انتہا پسندوں کو بھیجنے سے روکے ، لائن آف کنٹرول پر سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کے خلاف اقوام متحدہ کی قرا دادوں کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ بلوچستان ، کراچی اور پختونخوا میں دہشت گردی کے لئے دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے نیٹ ورک افغانستان سے ختم کرائے ۔ بھارتی حکومت میں مختلف ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے اصل اسباب و مسائل پر توجہ دے ۔ ریاستی کوتائیوں اور جانبدار پالیسیوں کے نتیجے میں اٹھنے والی مزاحمتی تحریکوںکی ذمے داری بھارتی حکومت پرعائد ہوتی ہے ، اسی طرح سکھ قوم کے ساتھ بھارتی حکومت استحصالی رویہ اپنائے ہوئے ہے اسے مذاکرات کی میز پر حل کرے ۔ اگر بھارتی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ سکھوں کے ساتھ اس کا رویہ درست اور بہتر ہے اور تحریک خالصتان کا یجنڈا درست نہیں ہے تو پھر اقوام کے سامنے ریفرنڈم 2020بھارت میں بھی منعقد کرائے ، مقبوضہ کشمیر کی عوام کو بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائے دہی استعمال کرنے دے ۔ جبر و طاقت کے بے جا استعمال سے کسی بھی قوم کو دبایا نہیں جا سکتا چاہے وہ کشمیری مسلمان ہوں ، سکھ یا ہندو دلت ہوں ، آسام ہو یا دیگر ریاستوں کی مظلوم قومیں ۔۔جبر سے کسی بھی قوم کو وقتی طور دبایا تو جاسکتا ہے ، اُسے ختم نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہی قانون ِ قدرت ہے۔ بھارت پڑوسی ممالک میں مداخلت اورپنے شدت پسند و انتہا پسند رویئے کو ختم کرے ۔ پاکستان کی طرح کسی بھی مملکت میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی ہی خطے میں امن کی کنجی ہے۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
India pakistan Qadir Khan Yousafzai referendum separation بھارت پاکستان ریفرنڈم علیحدگی
Imran Khan
Previous Post عمران خان کا نئے پاکستان کے لیے گیارہ نکات کا اعلان
Next Post ایک اور شکار
Khawaja Asif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close