Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اصلاح ِ معاشرہ کیوں اور کیسے؟

July 23, 2015July 23, 2015 0 1 min read
Abuse for Parent
Abuse for Parent
Abuse for Parent

تحریر: عتیق الرحمن، اسلام آباد
مغرب کے معاشروں میں والدین کی رتی بھر بھی اہمیت اور قدر و منزلت نہیں کیوں کہ مغربی معاشرہ مادرپدر آزاد معاشرہ ہے۔ وہاں ہرفرد بشر اپنی من کی زندگی میں زندگی بسر کرتا نظر آتا ہے۔ سلسلہ نسب والد کی بجائے ماں کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔ وہاں پر خاندان کا اجتماعی تصور معدوم ہو چکا ہے۔ مغربی معاشرہ میں باپ بیٹا، ماں بیٹی ہر ایک اپنے ذاتی کام کے امور آزادانہ سرانجام دیتے ہیں اس سلسلہ میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔

یہی وجہ ہے کہ جب اس معاشرہ میں والدین بزرگ ہوجاتے ہیں اور اپنی ذاتی کام کرنے سے عاجز آجاتے ہیں تو ان کی اولا انہیں اولڈ ہائوس کی نظر کر آتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ ان کی اس عمر آخیر میں کوئی خدمت کرسکیں اور نہ ہی ان کو بوڑھے و بزرگ لوگوں کے ساتھ رہنے میں اپنی پرتعیش زندگی بسر کرنے میں لطف ملتا ہے۔(اگرچہ آج کل مغربی معاشرہ خاندان کے بندھن کی جانب لوٹنے کے لئے بے تاب ہی نہیں بلکہ عملاً اس کا آغاز بھی ہوچکا ہے) ستم ظریفی ہے کہ آج کا مسلم معاشرہ بھی مغرب زدہ ہوچکا ہے ۔مسلم معاشرہ مغرب کے تہذیب و تمدن اور اس کی عیش و عشرت سے ہمہ جہت متاثر ہوچکا ہے۔

اس سلسلہ کی متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔بہت سارے بیوروکریٹ ،اعلیٰ و اغنیا خاندان کے لوگ بھی اپنے والدین کو دھتکارتے اور گھروں سے بے گھر کرتے نظر آتے ہیں یا ان کی زندگی اجیرن کرتے ہیں گو یا کہ وہ زندہ رہ کر بھی موت کی عبرت ناک اذیت کو سہنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ذیل کی تحریر میں دوواقعات درج کرتاہوں ۔ایک واقعہ متعدد بار پیاس تحقیقاتی و سائنسی ادارہ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الرحمان کے لیکچر میں سنایا ہے اور یہ واقعہ باعث حیرت و تعجب ہونے کے ساتھ اولاد کے رویہ کی بدترین مثال پیش کرتے ہوئے مسلم معاشرہ کے ہر فرد کو خبردار کرتاہے کہ یہ وحشیانہ سلوک والدین کے ساتھ روارکھنے والے دنیا و آخرت میں بدترین و دردناک ترین عذاب سے ضروربالضرور دوچار ہوں گے۔دوسرا واقعہ خود راقم کے مشاہدہ میں آیاہے اور اس کو بعض وجوہ کے سبب فرضی تمثیل کے ساتھ ضبط تحریر کروں گا۔

Muslim Society
Muslim Society

ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ راول پنڈی کے مدرسہ اصحاب صفہ کے مہتمم قاری عبدالمالک صاحب بیان کرتے ہیں ان کے ہاں ایک بزرگ کا بہت آنا جانا تھا اور وہ صاحب ایک بڑے عہدہ ریٹائر تھے ۔اکثر و بیشتر اپنے بچوں کی بے پروائی کی شکایت کرتے تھے،وہ شراب و شباب کی محفلیں گھر میں سجاتے ہیں اور میں گھر سے آنے جانے میں خوف محسوس کرتاہوں گویا کہ میں گھر کے ایک کونے میں محصور ہوں۔چونکہ ان صاحب کی رہائش فیصل مسجد کے قرب و جوار میں رہائش تھی ۔قاری صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم کچھ دوستوں کی معیت میں ان کے گھر پر حاضر ہوئے تو دروازے پر دستک دی تو جب دروازے کھولا تو ہمیں غیر متوقع طور پر ان کے بچوں کا سامنا کرنا پڑا جن کے چہروں پر اذیت ناک شکنیں پڑچکیں تھیں۔

بے رغبتی کے ساتھ ہمیں گھر میں داخل ہونے کی اجازت دی ۔جب ہم نے ان کو والڈ صاحب کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دینے کی کوشش کی تو ان کا لہجہ تلخ ہوگیا اور سب و شتم تک نوبت آگئی تو ہم نے رخصت ہونے کی اجازت طلب کرکے روانہ ہوگئے ۔قاری صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ بزرگ وقتاً فوقتاً بعد میں بھی حاضر ہوتے رہے اچانک طویل مدت ہوگئی تھی تو وہ صاحب نہیں آئے ہم پھر ان کی خیریت دریافت کرنے ان کے گھر پہنچے اور دستک دی تو دروازہ کھولا تو ہم نے محسوس کیا کہ ان صاحب کے بچوں کا رویہ مثبت و خوشگوار پایا،ایک لمحہ تو ہم سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا وجہ ہے کہ آج یہ خوشگور انداز سے استقبال کررہے ہیں یا تو یہ تبدیل ہوگئے ان کو اپنے ماضی پر ندامت ہوئی ہوگی اور انہوں نے بدمعاملگی سے توبہ کرلی ہوگی یا دوسری صورت یہی ہوسکتی ہے کہ یہ ہم خراب ہوگئے ہیں تبھی ہم سے اچھے رویہ سے پیش آرہے ہیں ۔بپرحال ہم جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے تو ہمارے اوسان خطا ہوگئے کہوہ ہمیں گھر کے ایک کونے میں لے کر گئے اور کہنے لگے یہ تمہارا دوست مرا پڑا ہے لے جائواسے اور اس کے جنازہ کا انتظام کرو اور پھر اسے دفن کردو کہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس قدر اولاد کی بے رغبتی و بے پروائی کی بدترین مثال کہیں نہیں ملتی اور یہ ہمارے مسلم معاشرہ کی مغرب زدگی کا ہی مظہر ہے جس کو ہمارا میڈیا اور حکمران مختلف طور و طریقوں سے فروغ دے رہے ہیں اور اس بدمعاملگی کو فروغ ملنے میں ہمارا نظام تعلیم و تربیت بھی اساسی کردار اداکررہاہے جس کے سبب اخلاقیات کا جنازہ نکل رہاہے۔اسی طرح اس قضیہ کو معاشرہ میں پنپنے کا موقع فراہم کرنے میں ہمارے مذہبی ذمہ داروں کا بھی بنیادی کردار ہے کیوں کہ وہ اس طوفان ِ بدتمیزی پر سردمہری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

دوسرا واقعہ ظلم و جبر اور طاغوتیت کی مثالوں میں آخری درجہ کی مثال ہے کہ تمام مظالم اس واقعہ کے سامنے ہیچ ہیں کہ اس واقعہ کا مرکزی کردار وہ بیٹی ہے جو اپنے والدین کا مان و سامان ہوتی ہے ۔بیٹی کا رشتہ ماں باپ سے اس قدر استوار ہوتاہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی ۔بیٹی سے والدین جس قدر محبت کرتے ہیں اس کا عشرعشیر بھی بیٹوں کو میسر نہیں ہوتا۔بیٹی جب ان کے گھر سے رخصت ہوتی ہے تو والدین کا جگر ٹکڑے ہوجاتاہے شاید اسی سبب غربت و تنگ دستی کے باوجود کوئی باپ اپنی بیٹی کو خالی ہاتھ رخصت کرنے میں شرم محسوس کرتا ہے اس کی یہ خواہش و آرزو ہوتی ہے کہ وہ بہتیرے جتن کرکے اور محنت کرکے اپنی بیٹی کے راحت و سکون کی خاطر کچھ اس کو ہدیہ دے(اگرچہ آج کل معاشرے میں جہیز کی لعنت اس قدر فروغ پاچکی ہے کہ جس کے باعث بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کرنے کی تمنادل میں لئے دنیا سے ہی رخصت ہوجاتے ہیں چونکہ ان کے پاس اس ناجائز خواہش کی تکمیل کی کوئی مناسب صورت نہیں ہوتی(اس رسم کے خلاف بھی مذہبی طبقہ کی غیر ذمہ داری باعث تاسف ہے)۔ٍٍ ایک بزرگ شخصیت(ن۔ذ) جن کی ولادت ہندوستان کے ضلع جالندھر میں ١٩٢٠ء میں ہوئی اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد تنگ دستیوں کے باعث اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے میں عاجز تھے اور انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔

Society
Society

انگریز سے آزادی کی تحریک میں پیش پیش رہے اور مسلم لیگ کے جلسوں میں مسلم ریاست کے حصول کی جدوجہد میں برابرشریک ہوتے رہے یہاں تک کے قائد اعظم کے ساتھ بھی ملاقات کا موقع میسر آیا۔اپنا سب کچھ ہندوستان میں چھوڑ کرآزادی کی پہلی ٹرین میں سوار ہوکر پاکستان ہجرت کر آئے ۔ان صاحب نے اپنی محنت و لگن کے سبب ہندستان اور پھرپاکستان میں اعلیٰ شخصیات کے ساتھ کام کیا تھا۔ان کو مغربی و شرقی ملکوں میں اسفار کے مواقع بھی میسر بھی آئے ۔اور پاکستان کے قرب و جوار کے ملکوں میں قریباً پندرہ سال تک سفارت کاری کے بھی فرائض انجام بھی دئے تھے .۔وہ وزیر اعظم نواز شریف کء مشیر بھی رہے تھے۔ اس دوران میں ان کی زندگی کا اولین مقصد یہی تھا کہ پاکستان اور اسلام کے تحفظ کے لئے شب وروز تگ ودو کرتے تھے ان کی عقابی نظریں ہر فرد ،ہر اخبار ،ہر حکومت،ہر نشریاتی ادارے پر جمی رہتی تھی کہ کوئی پاکستان یا اسلام کے پیٹھ مین چھپکے وارکرنے کی تاک میں تو نہیں بیٹھا ہوا۔اسی امر کا مظہر انہوں نے اپنی ذاتی ڈائری لکھنے کو معمول بنا لیا تھا اور پھر درجن بھر ہزاروں صفحات پر مشتمل کتب تصنیف کیں جن کے مطالعہ سے پاکستان اور اسلام کی محبت پھوٹتی نظر آتی ہے۔ ان کے بچے تعلیم یافتہ ہوکر امریکہ و برطانیہ میں حصول روزگار اور شادی کرکے رہائش پذیر ہوگئے۔مرور وقت کے ساتھ ان کی صحت ڈھلتی گئی اور ضعف غالب آتا گیا اور کمزوری کے سبب گرئے تو ہاتھ سے معذور ہوگئے ۔مگر اس کے باوجود ان کی ایمان و سلامتی کو سلام کرنے کو خود سے دل کرتاہے کہ وہ بیماری و تکلیف کے باوجود صوم و صلاة کے پابند رہے اور شب زندہ دار رہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے سہارا کرکے اپنے درپر سجدہ ریز ہونے کا وافر قیمتی وقت عنایت فرمایا ہے میں نے اپنا نماز تہجد سے لے کر رات سونے تک کے معمولات ترتیب دئے ہوئے ہیں۔

تلاوت ،مطالعہ تفسیر ،ذکر اذکار اور نمازوں کی ادائیگی کا وقت مقرر ہے جس کی خلاف ورزی کسی صورت نہیں کرتا۔انہوں نے اپنا گھر ایک بیٹی کے نام کردیا اور اپنی ذاتی گاڑی بھی ایک بیٹی کو گفٹ کردی تھی۔مگر افسوس وہ ہی بیٹیاں ان کی جان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑگئیں۔یہ حسرت و تمنا کرتی نظر آئیں کہ وہ یہ چاہتی تھی کہ جلد سے جلد یہ دنیا سے رخصت ہوجائیں ۔جس کے لئے مختلف اذیتی حربے استعمال کئے گئے تھے ۔جن میں ان کو کھانے بازار سے خریدنے پر مجبور کیا گیا گھر پر تیار شدہ کھانے میں سے ایک لقمہ بھی نہ ملتاتھا،انہیں معذور و کمزوری و نقاہت کے باوجود اپنے کپڑے خود دھونے ہوتے تھے،انہیں گھر کے ایک کمرہ میں محصور کردیا گیاتھا ،ان کے ساتھ کسی بھی فردبشر کی ملاقات پر پابندی عائد کردی گئی تھی،ان کے ساتھ کلام و سلام تک کی کوئی ممکنہ صورت بھی نہ ملتی تھی وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک گھر میں رہ کر بھی ان کی محبت بھری آواز اور ہمدردی سے محروم تھے،ان سے ملاقات کرنے والوں پر رکیک الزامات عائد کئے گئے اور کچھ کو دھمکا کران سے دور کردیا گیا ،مردوں اور عورتوں کے مابین اپنے والد کی ذات پر ذلیل قسم کے الزامات عائد کئے جاتے تھے۔

ان سب حرکتوں اور حیلوں کا سبب یا مقصد صرف اور صرف یہی تھا کہ ان کو زچ کیا جائے اور ان کو جیتے جی قبر جیسی تنہائی و تاریکی دنیا ہی میں چکھائی جائے ۔رب کریم ہی جانتا ہے کہ اس بیٹی کے دل میں کیا راز و مقصدتھا کہ جس کے سبب وہ اس قدر گھٹیا اور امتیازی سلوک اپنے مجبور و مقہور اور ضعیف والد کے ساتھ کرتی تھی۔بلآخر گذشتہ برس وہ نیک صفت بزرگ تقریباً٩٤ سال کی عمرپاکراپنی جان جان آفریں کے حوالے کرگئے (انا للہ و انا الیہ راجعون۔اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی قبر کو جنت کا بقعہ نور بنائے ۔آمین)یہ خبر مجھے ٹھیک ایک سال بعد معلوم ہوئی(کیوں کہ میں نے ان سے اپنا رابطہ صرف اس سبب سے منقطع کیا ہواتھا کہ ان کی بیٹی نے مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں تھیں اور میرا چونکہ ان کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہ تھا تب یہ قطع تعلقی لازمی ہوگئی تھی)۔ امر جو بھی ہو اسلام کا نام لینے والے کے لئے کسی طور پر بھی جائز و درست نہیں کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اس قدر ہتک آمیز سلوک کا رویہ اختیار کرے۔قرآن کریم میں بار بار والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دئی گئی۔

نبی کریم ۖ نے بھی والدین کے ساتھ اچھے برتائوکا حکم دیا یہاں تک کے کافر و شقی والدین کے ساتھ بھی ادب کے ساتھ گفتگو کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے۔مگر افسوس کہ آج یہ دونوں بزرگ دنیا سے تو پردہ فرماچکے ہیں اور وہ قبر کے پر تال میں اتار دئیے گئے ہیں ۔لیکن یہ یاد رہے کہ جنہوں نے اپنے والدین کے ساتھ اس طرح کا بہیمانہ سلوک کا معاملہ روا رکھا تھا وہ دنیا کی زندگی میں اس کا نقصان و ازالہ ضرور بالضرور بھگتیں گے ۔آخرت میں دردناک انجام ان کا مقدر ہے ،جہنم کی آگ ان کی منتظر ہے ۔اور جو لوگ اب بھی اپنے والدین کی نافرمانی کررہے ہیں یا ان کو اولڈ ہائوس (جو اب پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں قائم ہوچکے ہیں ) میں والدین کو چھوڑ آتے ہیں یا والدین کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں اسباب جو بھی ہوں وہ یاد رکھیں کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا ۔ بزرگ والدین کسی طرح اپنی زندگی دکھ سکھ کے ساتھ بسر کرجائیں گے مگر ایسے بیٹے اور بیٹیوں کی دنیا میں زندگی اجیرن و تنگ ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت میں اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔یاد رہنا چاہیے دنیا کی زندگی ،مال و دولت کی فراوانی،عیش و عشرت کے لمحات ،حسن و جمال یہ سب کچھ فانی ہے جن کے سبب والدین کو ٹھکرادیا جاتا ہے۔

قران و سنت میں متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ حسن معاملہ کا حکم دیا گیا ہے۔معاشرے کی اکثریت یا تو واقف ہی نہیں یا پھر غفلت کی نیند سورہے ہیں اور خود کو جہنم کا ایندھن بنانے پر مصر نظر آتے ہیں۔یہاں چند آیات و احادیث کے ترجمے پیش کیے جارہے ہیں۔سورہ بنی اسرائیل میں اللہ نے فرمایا کہ اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔اگر ان میں سے ایک یا دونو بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک بھی نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا اور عجزونیاز سے۔سورہ نساء میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور والدین کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آئو۔سورہ لقمان میں فرمایا کہ تو میرا شکراداکرو اور اپنے والدین کا بھی۔احادیث میں وارد ہوا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعد روایت کی حدیث ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے نبی کریمۖ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ۖ اللہ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندہے؟آپۖ نے فرمایا کہ نماز کی ادائیگی اپنے وقت پر من نے پوچھا پھر کون سا؟ آپۖ نے فرمایا کہ والدین سے اچھا سلوککرنا،من نے پوچھا پھر کون سا؟آپۖنے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہادکرنا۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضورۖ نے فرمایا :اس کی ناک غبار الود ہو ،اس کی ناک خاک آلود ہو ،اس کی ناک خاک آلود ہو(یعنی ذلیل و رسوا ہو)کسی نے عرض کیا یا رسول اللہۖ کون ہے؟حضورۖ نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوکو یا ایک کو پڑھاپے کے وقت پایا پھر (پھر ان کی خدمت کرکے )جنت میں داخل نہ ہوا۔حضور ۖ کا فرمان ہے کہ والدین اولاد کے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی اگر اولاد نے ان کی خدمت کی اور حسن نے سلوک کا معاملہ کیا تو جنت میں داخل ہوں گے اور اگر ان کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آیا یا پھر ان کی نافرمانی کی تو یہ کافی ہے اس کے جہنم جانے کے لئے۔ایک حدیث پاک میں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالی کی رضا والد کی رضامندی میں ہے اور رب کی ناراضگی بھی والد کی ناراضگی میں ہے۔رب ذوالجلال سے عاجزانہ دعاہے کہ ہمیں اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے اور ان کے توسط سے ہمارا ٹھکانا جنت مقرر ہوجائے۔

Atiq Ur Rehman
Atiq Ur Rehman

تحریر: عتیق الرحمن، اسلام آباد
atiqurrehman001@gmail.com
03135265617

Share this:
Tags:
Abuse Atiq-ur-Rehman life Parent parenting Society tolerance بدسلوکی برداشت زندگی والدین
Nawaz Sharif
Previous Post وزیراعظم نواز شریف آج شام 7 بجے قوم سے خطاب کریں گے
Next Post جرائم میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سندھ پولیس کی رپورٹ غیرتسلی بخش قرار
Police

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close