Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مہاجرین کا عالمی دن اور مہاجرین کا المیہ

June 19, 2019 0 1 min read
Refugees
Refugees
Refugees

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

دنیا کے بہت سارے ممالک میں بڑھتے جنگی حالات، دہشت گردی ،کشیدگی، سیاسی بحران، نسلی امتیاز نیز قدتی آفات کے باعث روز بروز بڑھتی محاجروں اور پناہ گزینوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد کے تحت یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ 2001 ء سے ہر سال کے 20 جون کو محاجرین کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا ۔ جس کے پیش نظر اس دن دنیا بھر میں ان لاکھوں ، کروڑوںپناہ گزینوں کی بے پناہی کی جانب توجہ مبذول دلانا ہے ، جو اپنا ملک بحالت مجبوری چھوڑنے اور در در بھٹکنے پر مجبور ہوئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ یونائٹیڈ نیشن ہائی کمشنر فار ر یفیوجی اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس دن دنیا کے سو سے زیادہ ممالک میں محاجرین کا عالمی دن کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس ضمن میںاقوام متحدہ کے کمشنر برائے محاجرین فلیپو گرلینڈی نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ اور ظلم و ستم کی وجہ سے ہر ایک منٹ میں24 افراد گھر سے بے گھر ہو رہے رہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 4 کروڑ 37 لاکھ لوگ تارکین وطن کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،جبکہ مذید 2 کروڑ 75 لاکھ لوگ اپنے ہی ممالک میں بے سر و سامانی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے محاجرین نے گزشتہ 20 جون کو ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے اپنی سالانہ رپورٹ میںبتایا تھا کہ دنیا کے دو کروڑ دس لاکھ پناہ گزینوں کا تعلق تین ممالک شام، افغانستان اور صومالیہ سے ہے ۔ ہمارے ملک بھارت کی یاست آسام میں بھی اس ملک کے باشندوں کو جس طرح محاجر بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ، وہ بھی جبر و ظلم کی انتہا کو ثابت کرتا ہے ۔ اس ریاست کے ایک مسلم فوجی کو ان کی تمام خدمات کے اعتراف کے بجائے انھیں غیر ملکی بتایا گیا اور انھیں پریشان کیا گیا ۔ اس نے حکومت ہند کی منظم اور منسوبہ بند سازش کو ظاہر کر دیا ہے ۔اسرائیلی جارحیت کے باعث فلسطینی مسلمان بھی بڑی تعداد میںبے پناہی کے شکار ہیں ۔ ان اعداد و شمار سے پناہ گزینوں کی دشواریوں اور ان کی بے بسی اور بے پناہی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

ہر شخص کوخواہ وہ کسی بھی ملک کا باشندہ ہو، اسے اپنے وطن سے فطری طور پرمحبت ،وابستگی، والہانہ لگاؤ اور جذباتی رشتہ ہوتا ہے ۔وطن کی اہمیت اور اس سے انسیت کا اندازہ وطن سے دور جانے یا ہو جانے کے بعد ہوتا ہے ۔ اپنی خوشی سے کوئی بھی فرد اپنا وطن نہیں چھوڑتا ۔ کچھ تو مجبوریاں ہوتی ہونگی، یوں ہی کوئی،اپنے وطن سے بے وفا نہیں ہوتا۔ ایسے نا گزیر اورگفتہ بہ حالات بن جاتے ہیں کہ لوگ آنکھوں میں آنسو اور دل پر پتھر رکھ کر ہجرت کرنے پرخود کو مجبور پاتا ہے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے امریکہ میں بسے 70-75 سال سے تجاوز کئے جانے والے بزرگوں کو اپنے ملک ہندوستان کی یاد میں روتے ، بلکتے دیکھا ہے ۔ جن لوگوں نے تقسیم ہند کے وقت بڑے پیمانہ پر اپنے ملک کے اندر قتل و غارت گری دیکھی ، اپنی نظروں کے سامنے اپنے بچوں کو ذبح ہوتے اور اپنی ماں ، بہنوں کی رسوائیاں دیکھیں ، ایسے بدترین حالات میں ان لوگوں کے سامنے ہجرت مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔ لیکن وہاں پہنچے کے بعدیہاں کی آب وہوا میں ابھی پوری طرح رچ بچ بھی نہیں سکے تھے کہ1971 کے سقوط بنگلہ دیش نے ایک بار پھر انھیں در بدری پر مجبور کر دیا اور لوگ بڑی مشکلوں سے اپنی جان و مال اور عزّت وآبرو بچا کرمغربی پاکستان(کراچی) اس توقع کے ساتھ پہنچے کہ وہ اپنے اس اسلامی ملک میں مسلم ہم وطنوں کے ساتھ بہتر زندگی گزارینگے۔ لیکن الم ناک پہلو یہ تھا کہ انھیں یہاں بڑی مشکلوں سے شہریت تو مل گئی ، لیکن یہ ہمیشہ مہاجر کے مہاجر ہی رہے ۔

کئی نسل جوان ہو گئی ، لیکن ان کی پہچان ہمیشہ پاکستانی کے بجائے مہاجر ہی کی رہی ۔ ایسے ہی کچھ مہاجروں کے بچے بڑے ہو کراپنے بہتر مسقبل کے لئے اپنے والدین کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک مثلاََ امریکہ، کناڈا، لندن، جرمنی اور آسٹریلیا وغیرہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ بظاہر ان کی زندگی عیش و آرام سے گزر رہی ہے ، لیکن ان پرانے لوگوں کو روحانی سکون اب تک نصیب نہیں ہو سکا ۔ امریکہ میں بسے ایسے کئی لوگ چند دنوں کے لئے سہی اپنے آبائی وطن کی مٹّی کو آنکھوں سے لگانا چاہتے ہیں ، جس جگہ ان کا بچپن گزرا ، پلے بڑھے ، کھیلتے کودتے سِن بلوغت کو پہنچے ،ان جگہوں کو عمر کی آخری دہلیز پر کھڑے لوگ، ایک بار صرف ایک بار دیکھنے کے لئے بے چین اور بے قرار ہیں ۔ لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ امریکہ کی شہریت حاصل کرتے وقت ان لوگوں نے چونکہ پاکستان کا پاسپورٹ سرینڈر کیا تھا ۔ اس لئے ایسے لوگوں کو ہندوستانی ایمبیسی ہندوستان کا ویزا نہیں دیتی ہے۔ اس لئے ایسے لوگ اپنے آبائی وطن کو دیکھنے ، اپنے رشتہ داروں سے ملنے اور اپنے آباو اجداد کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے کے ارمان دل میں لئے درد وکرب میں جی رہے ہیں ۔ ان باتوںکا ذکر جب کبھی نکلتا ہے تو آنسوؤں کے ساتھ یہ لوگ ہجرت در ہجرت کے کرب کو بیان کرتے ہی۔ایسے بعض لوگوں کو تو امریکہ میں، میں نے زار و قطار روتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سلسلے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ لمحوں نے خطا کی تھی ، صدیوں نے سزا پائی ۔

اس وقت سب سے بد تر حالت تقسیم ہند کے بعد مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)جانے والے ، بہار اور اتر پردیش کے ان اردو بولنے والوں کی ہے ، جنھوں نے یہاں ہونے والی خانہ جنگی کے وقت پاکستان کی ہمنوائی کی تھی ، انھیں سقوط بنگلہ دیش کے وقت سے یہ سزا دی گئی ہے کہ ان کی شہریت چھین لی گئی، گھر بار ، ملازمت ، تعلیم ، پاسپورٹ، سماج میں عزت و احترام سے بے دخل کر دیا گیا ۔ ایسے لوگوں کی مجموئی تعداد دو لاکھ سے بھی زیادہ ہے اور یہ لوگ بنگلہ دیش کے مختلف دیہی علاقوں میں لگا ئے گئے ایک سو سے بھی زائد کیمپوں میں جانوروں سے بھی بد تر زندگی اس امید پر گزار رہے ہیں کہ جلد ہی ان کا اپناملک پاکستان انھیں اپنی پناہ میں لے کر انھیں نہ صرف اپنا معزز شہری تسلیم کرے گا بلکہ ساری سہولیات دے گا ۔ لیکن حکومت پاکستان اپنے پریشان حال اور جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے ان شہریوں کو آئے دن ہونے والے ان کی ہمنوائی میں زبردست احتجاج اور مطالبات کے باوجود قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کی زندگی ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہے ، جو کسی نہ کسی طرح سقوط بنگلہ دیش کے بعد یہاں سے نکل جانے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان میں ٹھوکریں کھانے کے بعد امریکہ، کناڈا، لندن ، جرمنی وغیرہ میںسکونت اختیار کر چکے ہیں اور معاشی طور پر خود کفیل ہیں ۔ یہ لوگ اور ان کے قائم کردہ فلاحی ادارے ہر سال لاکھوں ، کروڑوں ڈالروں سے ان کی مدد کر ان کے جینے کا سہارا بنے ہوئے ہیں ۔حکومت بنگلہ دیش ایسے لوگوں کو کسی بھی طرح کے تعاون کرنے پر رضا مند نہیں ہے ۔ شکاگو میں مقیم جناب احتشام ارشد نظامی اس سلسلے کی ایک شاندار کڑی ہیں ۔

ان سے بھی بد تر حالت تو اس وقت میانمار(قدیم نام برما) کے روہینگیائی مسلمانوں کی ہے ، جنھوں نے کبھی اس ملک برماپر ساڑھے تین صدی تک حکومت کی تھی اور ان کا سکّہ جس کے ایک جانب لاالٰہَ اِلّااللہ کندہ ہوتا، وہ چلتا تھا ۔لیکن جب 1784 میں برطانیہ نے مسلمانوں کے تسلط والے اس ملک پر اپنا قبضہ جمالیا تو یہاں کے مسلمانوں کو کمزور اور بے وقعت کرنے کے لئے یہاں بھی Divide and Rule کی پالیسی اپناتے ہوئے یہاں کے بدھسٹوں کے اندر مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بودیا گیا۔ جس سے یہاںظلم و بربریت کی کھیتی پوری لہلہا اٹھی ۔ 1947 کے آتے آتے ان روہیگائی مسلمانوں کی زندگی تنگ کر دی گئی ۔ 1949 میں چودہ فوجی آپریشن ہوئے ، جس میں بیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے ہلاک کر دیا گیا اور یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا ۔ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیائی مسلمان اپنی زندگی اور عزّت و آبرو بچانے کے لئے ہجرت پر مجبور ہوئے ۔ ایسے ہجرت کرنے والوں میں تقریباََ تین لاکھ لوگ بنگلہ دیش میں ، دو لاکھ کی تعداد میں پاکستان میں اور چوبیس ہزار کے آس پاس ملیشیأمیں پناہ لئے ہوئے ہیں ۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ایسے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ہونے والے خرچ کی ذمّہ داری UNHCR اور دیگر این جی اوز نے لے رکھی ہے ۔ ان کے علاوہ کئی لاکھ لوگ جو کسی وجہ کر ہجرت نہیں کر سکے وہ اپنے ہی ملک میں مہاجر بن کر مختلف کیمپوں میں تمام تر بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے ساتھ جو ظالمانہ رویۂ اختیارکیا گیا ہے ، ان پر اس وقت پوری دنیا کے برقی ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر روہینگیائی مسلمانوں پر امن کے پیامبر مہاتما بدھ کے پیروں کاروںکے ذریعہ ظلم و بربریت اورجبر و استبداد کی خبریں چھائی ہوئی ہیں ۔ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو انسانیت سوز اور وحشیانہ سلوک ہو رہا ہے ، جس کے باعث وہ اپناملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران محاجرین کی جو تعداد تھی ، اس وقت یہ تعداد بھی تجاوز کر چکی ہے اور عالمی مسئلہ بن چکا ہے لیکن افسوس کہ اس بہت اہم مسئلہ کے تدارک کے لئے بہت سنجیدگی سے غور فکر کی کوئی کوشش نظر نہیں آ رہی ہے ، جس سے اس مسئلہ کے بڑھتے جانے کا اندیشہ ہے ۔ جو غیر انسانی اور انسانی حقوق کی پامالی ہے ۔

Dr Syed Ahmad Quadri
Dr Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ : 9934839110

Share this:
Tags:
Human Rights refugees terror World World Day انسانی حقوق دنیا دہشت گردی عالمی دن
Agha Siraj Durrani
Previous Post اسپیکر کے تحفظ کیلئے سندھ اسمبلی کی بے توقیری
Next Post کشمیر اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ
Kashmiris

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close