
لاہور (جیوڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ شہریوں سے قانون کے مطابق سلوک نہ ہوا تو ان کے حقوق متاثر ہونگے اور قانون ہاتھ میں لینے کا رحجان بڑھے گا، جس سے حکومت کیلئے امن و اما ن قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔
لاہو رمیں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام منصفانہ سماعت کے عنوان پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک منصفانہ حق سماعت کو قانون کی حکمرانی کے حوالے سے تسلیم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقدمات کی شفاف اور جلد سماعت کے بغیر انصاف کو انصاف نہیں کہا جا سکتا۔پاکستان میں انصاف کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے تمام متعلقہ طبقوں کی مشاورت کے بعد قومی عدالتی پالیسی مرتب کی گئی۔ اس پالیسی کا اہم ہدف عدلیہ کو مضبوط کرنا ہے تا کہ عدلیہ ادارتی اور انتظامی خود مختاری کو استعمال کرے اور ججز مقدمات کا فیصلہ منصفانہ اور شفاف انداز میں مکمل آزادی کے ساتھ کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کہ وہ رائج الوقت قوانین میں ترامیم کرے تاہم پالیسی کے تحت مقدمات میں درپیش تاخیر کو کم کرنے دیوانی اور فوج داری مقدمات کا فیصلہ جلد کرنے اور ملزم کے منصفانہ حق استعمال کو شفاف اور یقینی بنانے کیلئے مختلف اور ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے بنیادی حقوق کے اس پہلو کی اہمیت کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
