Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مذہب کے نام پرعوام کو دھوکہ دینے اورپیسے کمانے کاانوکھا کاروبار

March 13, 2013March 13, 2013 0 1 min read

ضلع رامپور، یوپی کے مِلَک بِچولہ نا م کے ایک گاؤں میں تقریباً چھ ماہ قبل ایک شخص نے اپنے کھیت میںخوابوں کی بنیاد پر چار محض بے اصل اور خالص فرضی قبریں بنا لی تھیں اور انہیں مزارات کہنے لگا تھا۔فرضی مزار ات کی آڑمیںجس شخص نے منصوبہ بندتجارت کاآغازکیاتھا وہ اسی مسلک سے تعلق رکھتاہے جومزاروں پرحاضری کوجائزنہیں سمجھتا۔ ابتدا میں مزارت سے فائدہ ہونے کی دو چار افواہیں بھی اڑادیں۔ نتیجتاً مٹی کے ان جھوٹے ڈھیرو ں پر جاہل عوام کی وہ آمد رفت شروع ہوئی کہ خدا کی پناہ! جمعرات کو آنے والوں کی تعداد چھ سات ہزارتک پہنچ جاتی تھی۔ یہی حالت پیر کو رہتی جب کہ دیگر دنوں میں بالخصوص عورتوں کی قطار چلتی رہتی۔نینی تال قومی شاہرا ہ گاؤں سے گزررہی ہے جس پر جمعرات اورپیر کو سخت ٹریفک جام لگنے لگا۔ قومی شاہراہ سے آدھا کلو میٹر گاؤں کی لمبائی ہے جس کے بعد ایک کلو میٹر جنگل کی طرف پاپلر (poplar) کے کھیت میں قبریں بنائی گئی تھیں۔ جمعرات اورپیر کو یہ پورا ڈیڑھ کلو میٹر کا راستہ پیدل اور دو پہیہ گاڑی کے لیے خاص رہتا جو کھچا کھچ بھرا چلتا۔ سہ پہیہ اور چہار پہیہ گاڑیوں کو پہلے ہی روک لیا جاتاتھا۔ جمعرات اورپیر کو اس پورے راستے پر چادر، شیرینی ، اگر بتی، تیل اور پانی کی بوتلوں کی سیکڑوں سے زیادہ دکانیں دونوں طرف لگی رہتیں اور کرائے پر روزانہ کی تیسیوں مستقل دکانیں مزاروں کے قریب الگ چلتیں۔

دو بیگھے میں سائیکل اسٹینڈ بنایا گیا اور دس سے پچیس روپے تک کرایہ طے کیا جس سے جمعرات کو بیس ہزار تک آمدنی ہوجاتی تھی ۔ جس کھیت میں قبریں بنائی گئی تھیں وہ ساٹھ بیگھے پر مشتمل ہے اور پورے کھیت میں لکڑی کھڑی ہے ، شہر رامپور کا اختر خاں اس کا مالک ہے، اسی نے مزار بنائے تھے مگر اس نے انتظام اپنے ہاتھوں میں نہ لے کر چاروں قبروں کو بیس ہزار مہینے پر گاؤں کے تین لوگوں کے ہاتھوں ٹھیکے پر اٹھادیااور جنہوںنے قبروں سے زبردست منصوبہ بند تجارت شروع کردی تھی ۔کچھ لوگ فائدے کی جھوٹی افواہیں اڑانے کے لیے کرائے پررکھے جو دن بھر ادھر ادھر چل پھر کر اندھوں کے ٹھیک ہوجانے ، پولیوزدہ کے خود چل کر گھر جانے اور کل ملاکر ہر آنے والے کو ”بڑا فائدہ ”ہونے کی خبریں پھیلاتے۔ چند نوجوان لڑکیاں آسیب زدگی اور پیشی کا ڈھونگ کرنے اور قبروں کے قریب خوب چیخ وپکار مچانے کے لیے ہائر کی گئی تھیں۔چار جاہل مزدور الگ الگ چاروں قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے بٹھائے گئے تھے جو ہر قبر کے پاس رکھی گولک میں آنے والوں سے زیادہ سے زیادہ روپے ڈلواتے۔ پانچ گولکیں رکھی گئیں، پچیس روپے میں عرضی نویس عرضی لکھتا اور اِن سب کی دو سو روپے دہاڑی طے کردی گئی۔ آمدنی سے انہیں کوئی مطلب نہیں تھا۔

ٹھیکے داروں کی ان سب کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ قبروں سے ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک مہینے پر آمدنی ہونے لگی۔راقم السطورکو گولک کے نگراں ہندو برج لال نے بتایا کہ شام کو پیسے میرے ہی سامنے گنے جاتے تھے۔ جمعرات اورپیر کو ہرگولک میں نو سے دس ہزار اور عام دنوں میں ڈیڑھ سے دو ہزار روپے نکلتے۔ اس نے مزیدبتایاکہ ایک دن ایک شخص ایک گولک اٹھا کرلے بھاگا جس کے بعد دوسو روپے دن دہاڑی پر مجھے نگراں رکھا گیا۔ مزاروں سے متصل گاؤں کے ہندوؤں کا شمشان گھاٹ ہے، سامنے ہی مردہ جلتاہے، وہیں ایک تالاب ہے، ایک سمادھی بھی بنی ہے۔ہم نے جب گائوں کے لوگوں سے رابطہ کیاتوانہوںنے بتایاکہ غالباً ٹھیکے داروں کی طرف سے قبروں کے قریب پانچواں مزار بنانے کا بھی ڈھونگ رچا گیا۔ موٹر سائیکل سے ایک شخص آیا اور قبروں کے پاس دوچار لمبی لمبی سانسیں کھینچ کر بولاکہ پانچواں مزار یہاں ہے۔ منصوبہ پہلے سے طے تھا چنانچہ قبروں کے پاس موجود مجاوروںنے ایک چادر وہاں ڈال دی، چراغ اور اگر بتی بھی سلگادی، پھر اچانک ایک نوجوان لڑکی قبر کے پاس آئی اور اس نے وہاں پیشی لینی شروع کردی مگر گھنٹے بھر میں یہ سارا ڈرامہ دیکھ کر مزارو ں پر آئے کچھ لوگوں کو شک ہوا۔ نتیجتاً ڈھونگی کی جم کر دھنائی کردی گئی۔ یہ دیکھ کر لڑکی بھی پیشی چھوڑ کر کھیتوں کی طرف بھاگ گئی۔ چاروں قبروں کے پاس درختوں پر ہزاروں عرضیاں اور منتوں کے لال ہرے کپڑے بندھے ہوتے تھے۔
ٹھیکے داروں نے اپنی شاطر دماغی سے مزاروںسے ہونے والی آمدنی بہت بڑھالی تھی جسے دیکھ کر زمین مالک کے منہ میں پانی آنے لگااور اس نے کرایہ بڑھانے کی غرض سے دوبارہ نیلامی کی بات کہی اور نہ ماننے پر پولیس بازی بھی کی مگر نتیجہ یہ ہوا کہ ٹھیکے داروںنے بیس ہزار بھی دینا بند کردیے۔جب زمین مالک نے دیکھا کہ ہر مہینے کے بیس ہزار بھی گئے اور مزار کے نام پر دو بیگھے زمین بھی جاتی رہی تو اس نے قبروں کو فرضی اور غلط کہنا شروع کردیااور انہیں ختم کرنے پرآمادہ ہ ہوگیا مگر اب نہ ٹھیکے دار سننے کو تیارتھے اور نہ مزاروں پر آنے والے جاہل عوام۔ اس نے مفتی شہرمفتی سید شاہد علی سے بھی مدد مانگی اورا س سلسلے میں مفتی صاحب سے کئی ملاقاتیں کیںمگرمفتی صاحب نے کوئی بھی تعاون نہیں کیا۔ ہمارے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ دو مہینے سے مفتی صاحب یہی کہتے چلے آرہے ہیں کہ میں پہلے اعظم خاں سے بات کرلوں۔راقم السطورنے بھی اس اہم قضیے کے سلسلے میں مفتی شہرمفتی صاحب مذکورسے ملاقات کی اورناگفتہ بہ صورت حال ان کے سامنے رکھی توانہوںنے مجھ سے بھی تقریباً یہی بات کہی ۔ انہوںنے کہا کہ جو لوگ مزاروںسے پیسہ کمارہے ہیں وہ پرانے قاتل قسم کے لوگ ہیں ، انہیں براہ راست ٹچ کرنا آسان نہیں، ہم اُنہیں اوپر سے کنٹرول کریں گے۔
غرض مزاروں کے نام پر یہ بد عتِ حرام اور سراسر مشرکانہ ڈھکوسلا ضلع کے بلا امتیاز تمام بڑے مفتیوں اور قاضیوں کی ناک کے نیچے تقریباً ساڑھے چار پانچ ماہ تک زوروشور سے چلتا رہاکہ نہ کسی طرف سے کوئی مخالفت ،نہ فتوی اور نہ تقریر۔عوام الناس اورکم پڑھے لکھے افراد گمراہ ہوتی رہے ،لٹتے رہے اور دین ومسلک فروشی کاکاروبارخوب خوب گرم رہا۔اگران جھوٹے مزاروں کے خلاف شروع ہی میں کسی بڑے عالم کی طرف سے مخالفت ہوجاتی تو یہ فتنہ فوراً دفن ہوجاتا اور پورا ایک کمبھ کا میلہ نہ بنتا۔شروع میں اس کے لیے اترپردیش کے اقلیتی امورکے وزیراعظم خاں سے بھی بات کرنے کی ضرورت نہ تھی۔مگرمفتی صاحب مذکورنے صرف حیلہ بازی سے کام لیااوراس اہم مسئلے میں بالکل بھی دل چسپی نہ دکھائی ۔یہ مسئلہ اتنا مشکل اور پیچیدہ نہیں تھا جتنامفتی صاحب مذکورنے بنادیاتھا ۔حالانکہ اگروہ چاہتے تویہ فتنہ آسانی سے دبادیتے کیوں کہ موصوف قبلہ کے اعظم خاںسے بھروسے مند تعلقات ہیں۔مگرہرہرقدم پہ دین دین اوراسلام اسلام کی رٹ لگانے اورعوام کے سامنے ہمیشہ حلال وحرام کانعرہ بلندکرنے والے مذکورہ شہرمفتی اورعلاقے کے دیگرسینئرعلماخاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے ۔لوگوںکو بلا وجہ امیدیں دلاکر ان کا وقت خراب کرتے رہے اور انہیں گمراہ کرتے رہے ۔
بہر حال ایک ماہ کے شدید اضطراب اورہرطرف سے ہاتھ پیرمارلینے کے بعد اللہ کا نام لے کر میں نے ایک سخت مضمون ان فرضی مزاروں کے خلاف لکھاجسے یوپی اور دہلی کے مختلف اردواخباروں کو بھیجا، بشکل پوسٹر اور پمفلٹ اردو اور ہندی میں شائع کیا اور اُسے شہر ودیہات کی مسجدوں میں چسپاں کیا، بریلی اور رامپور کے علما سے فتوے لکھوا کر انہیں مختلف اخبارات کو ارسال کیا، پوسٹر کی شکل میں چھپوایا ، مسجدوں میں ائمہ سے کہہ کہہ کر تقریریں کروائیں اور ان کی خبریں اخبارات کو دیں۔ بعد میں اس گاؤں کے پردھان اور کچھ دیگر لوگ حمایت اور رابطے میں آئے توا نہیں لے کر ہم نوجوان علما، ائمہ، حفاظ نے چونتیس پینتیس افراد کے وفدکی شکل میں ایک پرامن احتجا ج کیااور ضلع کے ڈی ایم کو میمورنڈم دیا۔ پھر زمین مالک بھی رابطے میں آیا جو خود بھی فرضی مزاروں سے پریشان چل رہاتھا۔ ہم نے اسے مفتی شہرسید شاہد علی رضوی صاحب کے ہاتھوں پر توبہ کرنے اور توبہ نامے کو اخبارات میں چھپوانے کا مشورہ دیا۔ اپنی اس حرکت پرشرمندہ ہوااورتوبہ کرنے پر راضی ہوگیا مگر جب اسے لے کر ہم سید صاحب قبلہ کے پاس گئے تو سید صاحب کے ذہن میں معلوم نہیں کیاحکمتیں اورمصلحتیں تھیں ،نتیجتاً ہمارا منصوبہ ناکام رہااورسیدصاحب کی ذات سے ہم کوسخت مایوسی کاسامناکرناپڑا۔پتہ نہیں توبہ کروانے میں ان کوکیاتامل تھا۔
بہر حال اب ہم نے مزید کوشش کی اور فرضی مزاروں سے جڑے لوگوں کے لیے ایک خالص دینی اپیل بشکل پوسٹر جاری کردی۔ اس مہم میں شہر کے نوجوان علما ، ائمہ، حفاظ نے بڑا ساتھ دیا۔اس میں خاص طورپر مولانا مزمل حسین رضوی فاضل الجامعة الاسلامیہ رامپورقابل ذکرہیں ۔فرضی مزاروں کے خلاف ہمارے احتجاج کی وجہ سے فرضی مزاروں پر آنے والوں کی تعداد میں اسی فیصد کمی آگئی اوردو ٹھیکے دار بھی ٹوٹ گئے۔ صرف ایک ٹھیکدارحَسین ولد چھوٹے بچا۔ہم نے شہر ودیہات میں مذکورہ مزارات کا جھوٹا ہونا بھی خوب مشتہر کردیانتیجہ یہ ہواکہ ملک بچولہ گاؤںکے لوگ بھی تقریباً سب مخالف ہوگئے۔
اب قارئین کویہ خوش کن خبر سناتے ہوئے فرحت ہورہی ہے کہ حکمِ شرع سے آگاہی کے بعد گاؤں کے ہی لوگوں نے بغیرکسی مزاحمت بلکہ انتہائی پر امن اور خالص دینی جذبے سے اُن چاروں قبرنمامٹی کے ڈھیروں کواپنے ہاتھوں سے کھودکرختم کردیااور وہاں کی زمین کاشت کے لیے پہلے ہی کی طرح مکمل طریقے سے ہموار کردی گئی۔لگ بھگ آدھے بیگھہ کھیت میں گز بھراونچا مٹی کاپٹان کرکے اُس کے چاروں کونوں پر ایک ایک قبر بنائی گئی تھی مگراب قبروں کے ساتھ وہاں کی ساری مٹی بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے گاؤں کے مختلف ضرورت مند اٹھاکرلے گئے جب کہ پٹان کے ارد گرداینٹوںسے بنی دیوار توڑکراُس کی اٹھارہ بیس ہزار اینٹیںگاؤں کی ایک زیرِ تعمیر مسجدمیں رکھ دی گئیں۔

ان جھوٹے مزاروں کوختم کرانے میں ضلع کے چندنوجوان علما وائمہ کی خاص کاوشیں رہیںجب کہ سینئر علما کی طرف سے مسلسل مایوس کن خاموشی رہی ۔ اُ ن کے حرام اوربدعتِ ابلیسی ہونے کی ضلعی سطح پردوٹوک انداز میںپہلی آواز اٹھائی اوراُ س کے بعد مسلسل ڈیڑھ دومہینے شہرودیہات میں سخت فرضی مزارمخالف تشہیری مہم چلاکر عوام کی نظروں میں اُن چادرپوش مٹی کے ڈھیروں کوقطعاً بے حرمت کردیاجس کا نتیجہ یہ ہواکہ دھیرے دھیرے لوگوں نے وہاں جاناچھوڑدیا۔جمعرات اورپیر کوجہاں چارپانچ ہزارتک پبلک آجاتی تھی وہاں بفضلہ تعالی صرف دوتین مہینے میں ویرانی کااُلو بولنے لگا۔بالآخرایک دن گاؤ ں کے ہی باشندگان (جن میں عرفان نیتاگرام پردھان اورناظم بھائی قابلِ تعریف ہیں جو پہلے ہی سے فرضی مزاروں کے سخت خلاف تھے)نے اُنہیںزمین سے کھرچ کرصاف کر دیا۔
آغازِمخالفت کے بعد علاقے کے ایک مدرسے کے مہتمم حضرت مولاناقاسم صاحب کی حلقہ جاتی تقریریں بھی موثرثابت ہوئیں ۔ مزاروں کے جلدختم ہوجانے کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ قبریں چوں کہ زمین مالک کی سادہ لوحی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض مکاری اورتجارتی نقطۂ نظرسے بنائی گئی تھیں جنہیںاُ س نے بڑھتی انتظامی ضرورت کے تحت جلدہی ماہانہ بیس ہزارکی رقم پر ٹھیکے پراٹھادیاگیاتھا،مگرکرایہ بڑھانے کے مطالبے پر زمین مالک اورٹھیکے داروں میں ناچاقی پیدا ہو گئی۔مزید یہ کہ ٹھیکے داروں نے یہ دعوی کردیاکہ جس جگہ قبریں بنی ہیں خاص کراُ س کے سامنے متصل ڈیڑھ بیگھہ جگہ جہاںکرایے پر دکانیں لگتی ہیں (یہ جگہ مبینہ طورپرزمین مالک کے کھیت کاحصہ تھی) وہ کاغذاتی اعتبارسے گرام سماج کی زمین ہے لہذاہم کرایہ کیوں دیں۔

نتیجتاً زمین مالک کرایہ ٔ مزارات ودکاکین کے ساتھ قبضۂ زمین سے بھی خود کوبے دخل محسوس کرنے لگا جس کے بعدوہ مزاروں کوختم کرنے پر آمادہ گیا۔مگراب براہ ِ راست ٹھیکے دارآڑے آگئے، دوسری طرف زمین مالک پبلک کی بے تحاشہ آمدورفت دیکھ کربھی ہدمِ مزارات کے تصورسے دہشت کھاتاتھاجیساکہ ناچیز کے باربار اکسانے پر وہ اِ س اظہارکرتاتھا،لیکن بعدمیں جب نوجوان علماکی مسلسل مخالفت کی وجہ سے دھیرے دھیرے خودپبلک ہی نے وہاں جاناچھوڑدیااوراِس طرح اُن سے آمدنی ختم ہوگئی توزبردستی کے ٹھیکے دار بھی کنارہ کش ہوگئے۔نتیجتاًحالات ہموارپاکرایک دن گاؤ ں کے ہی لوگوں نے متحدہ طورپر اُنہیں بذاتِ خود کھودکرپھینک دیا۔گاؤں کی جامع مسجد کے امام مولاناسید واجدعلی نے راقم کوبتایاکہ انجانے میں اِکا دُکالوگ آج بھی آجاتے ہیں مگرجب اُنہیں مزاروں کے ختم کردیے جانے کی بات بتائی جاتی ہے تووہ گاؤں کے کنارے ہی سے واپس چلے جاتے ہیں ۔آخرمیںایک باراوراس بات کی وضاحت نہایت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ خوابوں کی بنیادپراپنے ہی ہاتھوں سے اپنے کھیت میں اکھٹے چار مصنوعی مزارات بناکرمنصوبہ بندتجارت کرنے والازمین مالک ا س مسلک کے تعلق رکھتاہے جس کے یہا ںمزارات پرحاضری کوبدعت سمجھاجاتاہے۔

Share this:
Tags:
Cheat earn Religion دھوکہ کمانے مذہب
Ahlla
Previous Post دریاؤں کی روانی : زندگی کی فراوانی
Next Post نوشتۂ دیوار
King Genghis Khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close