Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

معروف مصنفہ اور ادیبہ، ناول نگار بانو قدسیہ آپا کی باتیں

February 5, 2017February 5, 2017 0 1 min read
Bano Qudsia
Bano Qudsia
Bano Qudsia

تحریر : نور بخاری/ محمد عارف
معروف مصنفہ اور ادیبہ بانو قدسیہ کچھ روز علیل رہنے کے بعد 4 فروری 2017 ءکو لاہور میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر دنیا ادب میں بجلی بن کر گری ہے۔ ایسے محسوس ہوا ہے کہ جیسے بہت بڑا ادب کا باب بند ہو گیا۔ ادب کی دنیا میں بانو قدسیہ کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بانو قدسیہ کا شمار ملک کی قد آور شخصیات میں ہوتا تھا، ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا اسے پر کرنا ناممکن ہے۔ بانو قدسیہ پاکستان کا اہم سرمایہ تھیں، ان کی خدمات آئندہ نسلوں تک یاد رکھیں جائیں گی۔

تعارف: معروف مصنفہ اور ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 ءکو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آگئیں۔ عمر ابھی ساڑھے تین سال تھی۔ جب ان کے والد بدالزمان کا انتقام ہوگیا۔ پھر بانو قدسیہ کی والدہ ذاکرہ بیگم نے ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کیا۔

ابتدائی تعلیم: بانو قدسیہ آپا نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔ اصل میں ان کو بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا۔ سو پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کردیا۔ انہوں نے اپنی کلاس کے لیے اپنی ٹیچرز کے اصرار پر اپنا پہلا ڈرامہ لکھا۔ جس نے پورے اسکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ ڈرامہ تیس منٹ کے دورانیے پر مشتمل کرتے ہوئے لکھنا پانچویں کلاس کی بچی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ جو کہ کامیابی پر ہمکنار ہوا۔ اور پہلے انعام کا حقدار ٹھرا۔ یہ دھرم سالے میں گورنمنٹ کا سکول تھا۔ جہاں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بانو قدسیہ صاحبہ جاتی تھیں۔اس حوصلہ افزائی کے بعد انہوں نے باقائدہ لکھنا شروع کر دیا۔

تعلیمی اور قلمی سفر: بانو قدسیہ آپانے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور جب کہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا، جس وقت انھوں نے بی اے کا امتحان دیا اس وقت 47 کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی، گورداس پور اور شاہ عالمی اس آگ کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ ایسے میں بانو قدسیہ آپا بی اے کے پیپرز دینے کے لیے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے ان کا کنیئرڈ کالج نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔

بہت ہی برے حالات تھے۔ مسلمانوں کے لیے ایک طرح سے آزمائش تھی۔ کافی مشکل وقت تھا فسادات پھیلتے چلے گئے، بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ پتن پہنچیں۔ وہاں سے ایک قافلے کے ساتھ پاکستان کا سفر شروع کیا۔ بانو قدسیہ آپا کا آدھا قافلہ راستے میں ہی بچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہوگیا تھا، تین ٹرک پاکستان پہنچے، ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے، دوسرے رشتے دار قتل کردیے گئے تھے۔ بہت ہی مشکلات کاسفر تھا۔ جو کہ اللہ کے کرم سے طے ہو ہی گیا اور پھر پاکستان پہنچ کر جب انہیں بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انھیں کامیابی ملی تھی۔ 1949ءمیں انھوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے ا ±ردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے، دونوں کو پڑھنے اور لکھنے کا بہت شوق تھا۔

ایم اے ا ±ردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر ان کا پہلا افسانہ ”داماندگی شوق“ 1950ءمیں اس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ”ادبِ لطیف“ میں شائع ہوا۔ 1956ءمیں بانو قدسیہ آپا کی شادی معروف ڈرامہ نگار اشفاق احمد سے ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ہی دونوں نے مل کر ایک رسالہ ”داستان گو“ کا اجراءکیا، تمام کام خود کرتے تھے۔ چار سال تک کے عرصے کے بعد ”داستان گو“ کا سلسلہ بند کردیا۔

Bano Qudsia-Ashfaq Ahmed
Bano Qudsia-Ashfaq Ahmed

عملی کام: 3 جلد ہی دونوں نے ریڈیوں کے لیے لکھنا شروع کر دیا اور جب پاکستان میں ٹیلویڑن کا اجرا ہوا تو پی ٹی وی کے پہلے ایم ڈی اسلم اظہر نے اشفاق احمد صاحب کو ٹی وی کا سب سے پہلا پروگرام پیش کرنے کے لیے کہا۔ اشفاق احمد ٹی وی کے پہلے اناﺅنسر تھے۔ سب سے پہلا ڈراما ”تقریب امتحان“ ان ہی کا ہوا تھا۔ بانو قدسیہ آپا کہتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کے بہترین استاد اور رہنما تھے۔ انہوں نے ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی اور آگے بڑھنے پر بہت معاون رہے۔

بانوقدسیہ کے ناول، کہانیوں کے مجموعے اور دیگر کتابیں: بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب قابل ذکر ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں 2003ءمیں ”ستارہ امتیاز“ اور 2010 میں ”ہلالِ امتیاز“ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے اور اب انھیں کمال فن ایوارڈ سے نوازا جارہا ہے۔

٭ راجہ گدھ ٭ شہر بے مثال ٭ توجہ کا طالب٭ چہار چمن ٭ سدھراں ٭ آسے پاسے٭ دوسرا قدم ٭ آدھی بات ٭ دست بستہ٭ حوا کے نام ٭ سورج مکھی ٭ پیا نام کا دیا٭ آتش زیر پا ٭ امر بیل ٭ بازگشت٭ مردابریشم ٭ سامان وجود ٭ ایک دن٭ پروا ٭ موم کی گلیاں ٭ لگن اپنی اپنی٭ تماثیل ٭ فٹ پاتھ کی گھاس ٭ دوسرا دروازہ٭ ناقابل ذکر ٭ کچھ اور نہیں اور حاصل گھاٹ شامل ہیں۔بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، و ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981ءمیں شائع ہونے والا ناول ”راجہ گدھ“ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔ موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں، بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ، ان کے لیے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔

یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لیے محض اسی لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ”طریقہ نجات“ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔

لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ صاحبہ کے الفاظ:٭بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ” میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ کیا کسی پھول کو معلوم ہوا ہے کہ وہ کھلتا کیوں ہے؟ کسی پھل کو پتہ چلا ہے کہ وہ کیوں پکتا ہے؟ اور کیوں اس میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے؟ تخلیقی کاموں کا جس بندے کو علم ہو گیا کہ وہ کیوں لکھتا ہے تو میرے خیال میں وہ مشقت سے لکھتا ہے اور اس کا نام ہسٹری میں آ نہیں سکتا۔کہانی وارد ہو جاتی ہے۔ اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیسے آتی ہے۔ وہ چلتے چلتے وارد ہو جاتی ہے۔وہ خود ہی پکڑی جاتی ہے۔ خود ہی ذہن اسے پکڑ لیتا ہے اور خود ہی اس پر کام کرنے لگ جاتا ہے۔ جس طرح غزل نازل ہوتی ہے، آمد سے بھی زیادہ، میں کہتی ہوں نازل ہوتی ہے، تو پتہ تو نہیں ہوتا کہ کیسے شعر اتریں گے اور کیسے بن جائیں گے۔ بن جاتی ہے تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ تو پوری غزل ہی ہو گئی۔”

مختصر اقتباسات: بی بی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنسو بے روک ٹوک گالوں پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ مجھے کوئی خوشی راس نہیں آتی۔ میرا نصیب ہی ایسا ہے۔ جو خوشی ملتی ہے ایسی ملتی ہے گویا کوکا کولا کی بوتل میں ریت ملا دی ہو کسی نے۔ (اقتباس : توبہ شکن) میں نے انسان کو شہر بساتے اور حق مانگتے دیکھا ہے۔۔۔ جان لو صاحبو! جب کبھی سڑک بنتی ہے اس کے دائیں بائیں کا حق ہوتا ہے، جو مکان شہروں میں بنتے ہیں باپ کے مرتے ہی وارثوں کا حق بن جاتے ہیں۔ میرے ساتھ چلو اور چل کر دیکھو جب سے انسان نے جنگل چھوڑا ہے اس نے کتنے حق ایجاد کر لیے ہیں۔ رعایا اپنا حق مانگتی ہے، حکومت کو اپنے حقوق پیارے ہیں، شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے حق مانگتی ہے، استاد شاگرد سے اور شاگرد استاد اپنا حق مانگتا ہے۔اصلی حق کا تصور اب انسان کے پاس نہیں رہا، کچھ مانگنا ہے تو اصلی حق مانگو۔۔۔ جب محبت ملے گی تو پھر سب حق خوشی سے ادا ہونگے، محبت کے بغیر ہر حق ایسے ملے گا جیسے مرنے کے بعد کفن ملتا ہے۔( اقتباس: راجہ گدھ )
محبت سفید لباس میں ملبوس عمرو عیار ہے۔۔۔۔ ہمیشہ دو راہوں پر لا کھڑا کر دیتی ہے۔۔۔۔( اقتباس: راجہ گدھ )

تعلق تو چھتری ہے۔۔۔۔ ہر ذہنی ، جسمانی ، جذباتی غم کے آگے اندھا شیشہ بن کر ڈھال کا کام دیتی ہے۔۔۔۔(اقتباس:حاصل گھاٹ)
ایک انسان دوسرے انسان کی محبت کو کبھی نہیں جیت سکتا۔ کچھ عرصہ کے لیے شرابور ضرور ہو سکتا ہے مگر مکمل طور پر اس بارش میں نہیں رہ سکتا۔
بانو قدسیہ کے فیس پر فین کی جانب سے کچھ تاثرات
شبینہ ضمیر
کافی اچھی سوچ ہوتی ہے ان کی تحریر میں، مجھے بہت پسند آتی ہیں۔ حقیقت ہوتی ہے جو میں سوچتی ہوں۔ ان کی تحریر سے ان کا تجربہ نظر آتا ہے۔ وہ صرف عورتوں کی نہیں مردوں کی سوچ کو بھی خوبصورتی سے پیش کرتی ہیں۔
نمرہ فرقان
بانو قدسیہ صاحبہ کے بارے میں بس اتنا کہوں گی کہ یہ اردو ادب کی خوش قسمتی ہے کہ خدا نے بانو قدسیہ جیسے نایاب ہیرے سے اسے نوازا ہے۔ ان کے اک انٹرویو میں ان کے لکھنے کے آغاز اور ان کی محنت کے بارے میں پڑھا تھا اور بہت متاثر ہوئی تھی۔۔ان کی بہت سی تحریریں پڑھی۔۔ راجہ گدھ جیسی شاہکار تحریر پھر کبھی نظر سے نہ گزری۔ آپ کی اردو ادب کے لیے خدمات قابل قدر ہیں۔

صلیحہ عزیز ; بانو آپا ہمارے لک کی ایک خاموش سایہ دار درخت کی ماند ہیں جن کی خوشبو سے ہم فیضیاب ہور رہے ہیں. اللہ ان کو صحتیاب رکھے. آمین

مایام اعوانرائٹر کہلوانے کے لیے اپنی تحریروں کو لوگوں کے دلوں میں اتارنا ضروری ہے اور یہ فن بانو قدسیہ آپا سے بہتر کوئی نہیں جانتا..ہماری نوجوان نسل کو ان کی تحریریں پڑھنے کی اشد ضرورت ہے..میری دعا ہے کہ ادب کے آسمان کا یہ چاند ہمیشہ سلامت رہے..آمین

شمائلہ زاہد بانو قدسیہ علم او ادب کا چھپا ہوا خزانہ تھیں لیکن انہو نے اس قمیتی علم کو لوگو تک آسانی سے منتقل کیا بے شک انکی ہر تحریر سبق آموز ہوتی ہے اللّ? انکو صحت او تندرستی عطا فرما ئے ،آمین

ارم فاطمہ:بانو قدسیہ آپا دنیائے ادب کا ایک روشن ستارہ ہیں. ان کی ادبی خدمات بھلانا ناممکن ہے. ان کا شہرہ آفاق ناول “راجہ گدھ” انسانی نفسیات پر بہت گہرا مطالعہ پیش کرتا ہے. اللہ ان کی ادبی خدمات سے سب کو مستفید ہونے کی توفیق عطا فر مائیں آمین

Bano Qudsia Novels
Bano Qudsia Novels

مونا شاہ قریشی:بانو قدسیہ ادبی دنیا کا وہ رخشندہ تر ستارہ ھیں جنکی آب و تاب سے ادب کے دیجور حصے روشن ھیں..بوجہ انداز تحریر دہر میں انکی پہچان سب سے اعلی اور مستثنی ھے..انکی ہر تحریر سے انکی جودت واضح ہوتی ھے .اللہ عزوجل انکے قلم کی قوی برقرار رکھے، آمین

فری ناز خان: بانو قدسیہ آپا ہمارے اردو ادب کا ایک روشن ج?لملاتا ہوا درخشاں ستارہ ہیں. آپ پاکستانی ادب کی ایک ممتاز ترین شخصیت ہیں. آپ کے افسانوں میں ذیادہ تر رشتوں کی نزاکت اور حقیقت پسندی کے عنصر نمایاں پائے جاتے ہیں.آپ معاشرتی مسائل کی صحیح معنوں میں عکاسی اور ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں. آپ نے افسانہ ،ناول ،ڈرامہ الغرض کوئی صنف ایسی نہیں جہاں کمال جوہر کا مظاہرہ نہ کیا ہو….

خنیس الرحمن: بانو قدسیہ آپا علم و ادب کا خزانہ تھیں۔اپنے قلم سے لوگوں کی تربیت کرتی رہیں ہیں.

ثناءواجد: اردو زبان سے دلچسپی رکھنے والا اور اردو ادب کو پڑھنے والا کون ہوگا جو بانو قدسیہ کے نام سے واقف نہ ہو.اپنی زندگی کی پانچ دہائیاں انہوں نے اردو ادب کے نام کی ہیں. بانو قدسیہ اردو و پنجابی ادب کا ایساچمکتا ستارہ ہے جو نئے لکھنے والوں کے لئے روشنی دکھانے کا سبب بن سکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ سی ایس ایس کے سلیبس میں ان کا ناول راجہ گدھ شامل ہے اگر یہ کہا جائے کہ وہ ایک انسٹیٹیوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

تحریر : نور بخاری/ محمد عارف

Share this:
Tags:
Bano Qudsia Death Novelist pakistan انتقال بانو قدسیہ پاکستان
Bano Qudsia
Previous Post ممتاز ناول نگار بانو قدسیہ انتقال کر گئیں
Next Post کراچی انسانوں و عمارتوں کا جنگل بن گیا، عالم علی
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close