Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حق و باطل کے درمیان عظیم معرکہ… غزوۂ بدر

July 3, 2015July 3, 2015 0 1 min read
Muhammad S.A.W
Ghazwa-e-Badar
Ghazwa-e-Badar

تحریر: رانا اعجاز حسین
بدر ایک بیضوی شکل کے میدان کا نام ہے جو پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہ میدان وادی یلیل میں ہے، اس کی لمبائی ساڑھے پانچ میل اور چوڑائی ساڑھے چار میل ہے۔ یہ مدینہ منورہ سے اسّی میل کی دوری پر ہے۔ دور رسالت مآب ۖ میں تجارتی شاہراہ اسی میدان سے ہوکر گزرتی ،مکہ اور مدینہ جانے کے راستے بھی اسی مقام پر ملتے۔ بحر احمر کا ساحل یہاں سے تقریباًدس میل کے فاصلہ پر ہے۔ اس میدان کے شمال اور جنوب میں دو سفیدی مائل پہاڑیاں ہیں ، جو ریت سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ بدر کے مقام کو آج جو اہمیت حاصل ہے اس کی وجہ حق اور باطل کا وہ معرکہ ہے جو ٠٢ھ میں رمصان کی سترہ تاریخ کو وقوع پذیر ہوا، اس وقوعہ میں حق کو بے مثال تاریخی فتح نصیب ہوئی اور باطل کو شرم ناک شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔ اس معرکے سے اسلام کی فتح و نصرت کا آغاز ہوا، اسلام پوری آب وتاب سے ظاہر ہونا شروع ہوا ۔اس طرح غزوہ بدرایک عظیم انقلاب کی بنیاد ثابت ہوا۔ غزوہ کا پس منظر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کے حوالے سے طلوعِ اسلام کی تحریک کا اجمالی جائزہ لیں۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ڈنکے کی چوٹ پر دین اسلام کی دعوت کا اعلان کیا۔قدرتی طور پر مکہ میں دو گروہ پیدا ہوئے۔پہلی جماعت ان لوگوں کی تھی جنہون نے دین اسلام قبول کیا، یہ تعداد میں تھوڑے تھے۔ دوسرا گروپ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے دین اسلام کو ماننے سے انکار کیا، یہ تعداد میں ذیادہ تھے۔ یہ دین اسلام کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ منکرین اسلام نے مسلمانوں پر جبر و تشدد اور ظلم وستم کے پہاڑ توڑنا شروع کیے۔ ایک طرف صبر و تحمل تھا اور دوسری طرف زور و جبر تھا۔یہ کشمکش تیرہ سال تک جاری رہی۔آخر کار مسلمانوں پر سرزمین مکہ تنگ سے تنگ تر ہوتی چلی گئی، تب وہ آہستہ آہستہ اور خاموشی سے چوری چھپے مدینہ کی جانب ہجرت پر مجبور ہوئے، یہاں تک کہ آخر میں محمد رسول ا للہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی حضرت ابو بکر صدیق کے ہمراہ مکہ کو خیر باد کہا اور مدینے کو آباد کیا۔ مکہ کے قریشیوں نے اب خانماں برباد تارکیں وطن کو مدینے میں بھی چین اور سکھ سے رہنے نہیں دیا۔

ہوا یوں کہ ہجرت کے دوسرے سال قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف لوٹ رہا تھا ۔اس تجارتی قافلے کے ساتھ پچاس ہزار اشرفیوں کا مال و اسباب تھا۔ مکہ کے ہر فرد نے اور ہر عورت نے اس تجارت میں اپنا سرمایہ لگایا تھا۔ یہ تجارتی قافلہ اس راستے سے لوٹ رہا تھا،جو مدینہ کے پاس سے ہوکر گزرتا تھا۔ چونکہ مال و اسباب ذیادہ تھا ، محافظ کم تھے اور اس وقت جو حالات رونما ہورہے تھے ، اس کے تحت قافلے کے لوگوں کو یہ ڈر تھا کہ مسلمان کہیں چھاپہ مار کر تجارتی مال واسباب لوٹ نہ لیں۔ ابوسفیان اس تجارتی قافلے کاسردار اور رہ نما تھا جو مدینہ کے پاس سے گزر رہا تھا ، اس نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے قافلے کو بدر کے درّے میںسے گزرنے سے پہلے ایک مقام پر ٹھہرادیا اور خود تن تنہا بدر کے شہر میں آیا، چونکہ وہ یہاں سے اکثر گزرا کرتا اس لیے وہ یہاں کے چپے چپے سے واقف تھا اور وہاں کے لوگوں کو بھی جانتا تھا۔ بدر کے شہر میں آکر وہ سب سے پہلے اس مقام پر پہنچا، جہاں ایک کنواں تھا۔ شہر کا کوئی نہ کوئی فرد ہر وقت وہاں موجود رہتا۔ ابو سفیان وہاں پہنچا۔ وہاں موجود افراد سے معلوم کیا کہ شہر کا سردار اس وقت کہاں ملے گا۔

وہ اس سے جاکر ملا۔اس نے بتایا کہ ابھی کچھ دیر پہلے دو اونٹ سوار یہاں سے گزرے ، انہوں نے کنویں پر ٹھہرکر پانی پیا،اپنے اونٹوں کو بھی پلایا اور آگے بڑھ گئے۔ او سفیان اونٹوں کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا آگے بڑھا۔ کچھ دور چلنے کے بعد اسے اونٹوں کی تازہ لید نظر آئی۔ اس نے لید کا ایک گولا اٹھایا ،اسے توڑا اس میں گھاس کی بجائے گھجو ر کی گٹھلیاں نظر آئیں۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ اونٹ بدر کے نہیں بلکہ مدینہ کے ہیں، کیوں کہ مدینے والے اپنے اونٹوں کو گھاس کی بجائے کھجور کی گٹھلیاں کھلاتے ہیں۔اس نشاندہی پر وہ سمجھ گیاکہ مدینہ کے مسلم ان کے تعاقب میں ہیں، اور انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس نے خطرے کی گھنٹی محسوس کی۔اور تیزی سے بھاگتا ہوا اپنے قافلے میں جا پہنچا۔ ایک برق رفتار سانڈنی بردار کو اُجرت دی،اسے مکہ کی طرف دوڑایا تاکہ اہل قریش مدد کو پہنچیں۔سانڈنی سوار کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کے بعد قافلے کو بحر احمر کے کنارے کنارے ایک منزل کی بجائے دو منزل طے کرتا ہوا مکہ کی سمت کوچ کیااور اپنے قافلے کو مسلمانوں کی دسترس سے صاف نکال لایا۔ یہاں سانڈنی سوار نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم دستور کے مطابق سانڈنی کے کان کاٹے، ناک چیری، کجاوا الٹا، اپنا کرتا اگے سے پھاڑا اور بین کرنے لگا ”اے قریش کے لوگو! اے مکہ کے باسیو! اپنے تجارتی قافلے کی خبر لو، تمہارا تجارتی قافلہ مال و اسباب جو ابو سفیان کے قیادت میں آرہا ہے مقام بدر پر مسلمانوں کی زد میں ہے۔ وہ کسی بھی وقت اسے لوٹ سکتے ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ اس مال و اسباب میں سے تمہارے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے۔”

Muhammad S.A.W
Muhammad S.A.W

پورے مکہ میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، لہذا طے ہوا کہ جنگ کا طبل بجایا جائے اور اہل مسلمان کو ایسا سبق سکھایا جائے، جسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں۔ لہذا ایک ہزاربہادروں کا لشکر تیار کیا گیا ،جس کا سپہ سالار عتبہ بن ربیع تھا ۔ اس فوج میں چھ سو افراد زرہ پوش تھے۔ سو واروں کا ایک رسالہ تھا ۔یہ اسلحہ بند شتر سوار تھے۔ہتھیاروں سے لیس گھڑ سواروں کی تعداد دوسو تھی ۔اور ہتھیاروں سے لیس پیادہ فوج کی تعداد سو تھی۔ کھانے پینے کی وافر چیزیں ساتھ لی گئیں ۔ امرائے قریش میں سے عتبہ بن ربیع ، حارث بن عامر ،نصر بن الحارث،ابو جہل،امیہ بن خلف باری باری روزانہ دس دس اونٹ زبح کرتے اور اپنے ساتھیوں کی ضیافت کرتے۔دل بہلانے کا ساز و سامان ہمراہ تھا ۔ رات میں عیش و طرب کی محفلیں سجتیں ۔ غرض اہل قریش کا یہ لشکر بڑے طمطراق سے مدینہ کی طرف روانہ ہونے کے لیے تیار ہوا تاکہ تجارتی قافلے کو مسلمانوں سے بچا کر لایا جا سکے، ان سے دو دو ہاتھ بھی ہو جائیں اور انہیں سبق بھی سکھایا جائے۔فوج کی روانگی کے وقت دشمنان اسلام نے جن میں ابو جہل بھی تھا ، کعبے کی دیوار پر ہاتھ رکھ کر دعا مانگی کہ ”اے رب کعبہ…! دونوں میں سے جو دین تجھے زیادہ پسند ہو، دونوں لشکروں میں سے جو لشکر عالیٰ ہو ،دونوں جماعتوں میں سے جو جماعت ذیادہ تقوے والی ہو اور دونوں گروہوں میںسے جو گروہ ذیادہ معزز ہو ،فتح کا سہرا اس کے سر باندھنا۔” اہل قریش یہ دعا مانگتے وقت یہ جان رہے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور آپ ۖ کے اصحاب کرام(نعوذبا للہ) حق پر نہیں ہیں جبکہ وہ سب کفر اور شرک ،فسق و فجور میں مبتلا تھے۔

دشمنان اسلام کا فوجی قافلہ مکہ سے بدر کی جانب روانہ ہوا۔ ابھی قریش کا لشکر راستہ ہی میں تھا کہ دوسرے قاصد نے آکر خبر دی کہ ابو سفیان اپنے قافلے کو خطرے سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوا اور وہ عنقریب باحفاظت مکہ پہنچ رہا ہے۔اس خبر سے لشکر قریش میںاختلاف پیدا ہوا ۔ایک گروہ کہہ رہا تھا کہ اب لڑنے مرنے سے کوئی فائدہ نہیں ،مکہ واپس لوٹ چلو۔ مگر دوسرا گروہ واپس لوٹنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ ہر حال میں مسلمانوں کا مقابلہ کیا جائے۔ان میں ابو جہل پیش پیش تھا ۔اس اختلاف کی وجہ سے بنی زہرہ ،بنی احنس، بنی عدی بن کعب ، اور بنی ہاشم کے لوگ واپس لوٹ گئے۔ابو جہل، عتبہ ، امیہ بن خلف ،اور ان کے ہم خیال افراد مدینے کے مہاجرین و انصار کا زور توڑنے کے لیے بدر کی جانب بڑھے۔ اب ان کی تعداد نو سو پچاس تھی۔

نبی برحق محمد رسول اللہ ۖ حالات سے ہر وقت با خبر رہتے ۔ آپ ۖ کے علم میں یہ بات آچکی تھی کہ ابو سفیان کا قافلہ مدینے کے پاس سے گزر رہا ہے ۔اور اس قافلے کی مدد کے لیے اہل قریش کی مسلح افواج مدینے کی طرف روانہ ہوچکی ہے۔ یہ مدافعت کاوقت تھا،اپنادفاع کرناتھا۔ مدینے کے لوگوں کی جان ،مال واسباب، عزت آبرو، کی حفاظت کرنی تھی۔ لہذا آپۖ نے مہاجرین اور انصار کو ایک جگہ جمع کیا اور ان کے سامنے صورتحال رکھی کہ ایک طرف اہل قریش کا تجارتی قافلہ ہے جس کے پاس کروڑہا روپے کا مال و اسباب ہے، جو مدینے کی راستے مکہ کی طرف جارہا ہے اور دوسری طرف دشمنان اسلام کی فوج جنوبی راستے سے مدینے کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین سے مشورةً پوچھا کہ اس صورتحال سے ہمیں کس طرح نپٹنا چاہیے…؟ایک گروہ کی رائے تھی کہ قافلے کے ساتھ کم لوگ ہیں ، مال واسباب زر کثیر کا ہے ،اس پر ہلّہ بول دیا جائے اور ان کا تجارتی مال واسباب لوٹا جائے۔ دوسرے گروہ کا خیا ل تھا کہ دشمنانِ اسلام کی فوج سے ٹکر لی جائے، ان کا زعم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاک میں ملادیاجائے اور اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے ، آپ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی بصیرت کا بھی یہی فیصلہ تھاکہ اہل مکہ کے کافروں اور مشرکوں سے جنگ کرکے ان کی طاقت توڑدی جائے اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ تھی کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت بھی یہی تھی کہ حق کوحق کے ساتھ ثابت کیا جائے اور اور کفر و شرک کو جڑ سے کاٹ کر پھینک دیا جائے تاکہ حق کی حقانیت ظاہر ہو اور باطل باطل کے ساتھ ثابت ہو جائے۔ لہذا اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حتمی فیصلے اور دوسرے گروہ کے خیال کے مطابق اپنا دفاع کرنے کے لیے لگ بھگ تین سو مجاہدین کی فوج ترتیب دی گئی ۔ان میں سے صرف دو کے پاس گھوڑے تھے، کل ستر اونٹ تھے جن پر تین سو مجاہدین باری باری سوار ہوتے۔رسولِ اکرم ،نبی محترم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و سلم نے بذات خود اس فوج کی قیادت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے جانثاروں کے ہمراہ رمضان کی سولہ تاریخ کو مدینہ منورہ سے بدر کی جانب کوچ فرمایا۔ ہجرت کے دوسرے سال کا یہ ایک اہم ترین واقعہ ہے۔

Allah
Allah

دشمن آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا ۔ اس نے جگہ جگہ پڑاؤ ڈالا جو جنگی نقطہ نظر سے ذیادہ آہم تھی ، جہاں پانی کے کنوئیں تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بہ حالتِ مجبوری کنوؤں کے شمال مشرقی سمت میں ایک اونچے ٹیلے پر قیام فرمایا۔ جانبازوں نے وہاں ایک جھونپڑی یاسائبان بنا دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت سپہ سالار اعظم وہاں سے میدان جنگ کا مشاہدہ کرسکیں۔ حالات کا جائزہ لے سکیں اور وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کر سکیں۔ سائبان کے پیچھے دو برق رفتار سانڈنیاں باندھی گئیں تاکہ خدانخواستہ میدان جنگ کا نقشہ پلٹ گیا تو اور اہل اسلام کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا تو ایسے نازک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان پر سوار ہوکر مدینہ منورہ مراجعت کرسکیں۔ سامنے نشیب میں کفاران مکہ، مشرکین قریش اور دشمنانِ اسلام کا پر شکوہ لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ ان کی تعداد ،جاہ و حشمت ، ساز وسامان دیکھ کر اور یہ دیکھ کر کہ پانی پر دشمنوں کا قبضہ ہے، یہ جان کر کہ زمین ریتلی ہے ، جس میں پاؤں دھنس دھنس جاتے ہیں ۔ یہ سوچ کر کہ دشمن کے پاس سواریاں ہیں اور اپنے پاس سواریاں ہیں مگر ناکافی،یہ سوچ کر کہ دشمن اسلحہ سے لیس ہے اور یہاںتلوار ہے تو ڈھال نہیں اور ڈھال ہے تو تلوار نہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے مجاہدین کے حوصلے پست ہورہے تھے جو مدینہ منورہ سے نکلتے وقت یہ سوچ رہے تھے کہ انہیں زبر دستی موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے ۔ اب انہیں اپنی شکست اور موت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھائی دے رہی تھی۔ لہذا ان کی ڈھارس بندھانا ضروری تھا تاکہدشمن کا مقابلہ کرتے وقت وہ ثابت قدم رہیں۔نڈر اور بے خوف ہوکر دشمن کا مقابلہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت اس طرح تبدیل کی اور ان کی اس طرح اعانت فرمائی کہ اول رات میں بارش ہوئی ۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ تمام مجاہدین نہائے دھوئے ، جس سے وہ چست، چاق وچوبند ہوئے۔ تھکن اور خوف کی وجہ سے ان پر کسل مندی طاری تھی وہ دھل گئی۔ بارش سے دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ پانی کی قلت دور ہوئی۔مجاہدین نے چھوٹے چھوٹے ہوض بنا کر بارش کا پانی جمع کیا تاکہ وقت ضرورت کام آئے۔ بارش سے تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے پیروں کے نیچے کی ریت جم گئی ، جس سے ریت میں پیر دھنسنے کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہا۔ بارش سے چوتھا فائدہ یہ ہوا کہ دشمن نشیبی علاقے میں تھا ، اس لیے وہاں کیچڑ ہوگئی، جس سے ان کے سواروں اور سپاہیوں کے پاؤں زمیں پر جم نہیں پارہے تھے۔ بارش سے پانچواں فائدہ یہ ہوا کہ مجاہدین رات میں بے خوف ہوکر سوگئے ،اور صبح جب نیند سے بیدار ہوئے تب ان کے قلوب پر سکون طاری تھا۔ بارش نے انہیں قلب کااطمنان بخشا۔اس کیفیت کی وجہ سے ان کے دلوں میںدشمنوں کاخوف جاتا رہا۔اس طرح یہ بارش مسلمانوں اور مومنوں کے لیے باعث رحمت اور کافروں کے لیے باعث زحمت ثابت ہوئی۔ غزوہ بدر میں اہل ایمان کی فتح کا ایک اہم ترین سبب یہ بارش تھی جس نے ان کے دلوں کے وسوسوں کو دھوڈالا، اس سے ان کی ہمتیں بندھیں اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے۔
اگر بدر میں بارش نہ ہوتی تو کیا ہوتا… ؟ تمام کرہ ارض کی ہدایت اور سعادت کا نقشہ الٹ جاتا…! جس کا اشارہ نبی خاتم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ اللہ…!اگر خدام حق کی یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہوگئی تو اس کراہ ارض پر تیرا سچا اطاعت گزار کوئی نہیں رہے گا۔

دراصل بدر میں جس رات بارش ہوئی اس سے پہلے سائباں میں اللہ کے رسول محمدۖ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر ، دین اسلام جو دین حق ہے ، کی بقاء کے لیے عجز و انکساری کے ساتھ گڑ گڑا کر ، رو رو کر دعا مانگ رہے تھے ، بہ وقت دعا محویت اور بے خودی کا یہ عالم تھا کہ کاندھوں پر سے چادر مبارک گرگر پڑتی اور آپ کو خبر تک نہ ہوتی۔آپۖ کی اس دلی بے قراری پر یارِغار ِ رسول ابو بکر صدیق نے دربار رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ… ! اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ وفا کر کے رہے گا، آپ خاطر جمع رکھیں ۔ اپنے بے قرار دل کو قرار دیں …!
آپ صلی اللہ علیہ و سلم دعا مانگ رہے تھے : اے اللہ …! یہ قریش ، یہ با طلانِ حق کیل کانٹوں سے لیس ہوکر غرور و نخوت کے ساتھ یہاں آئے ہیں تاکہ تیرے رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو جھوٹا ثابت کریں،اے اللہ …!تیری نام لیوا مٹھی بھر جماعت اگر اگر آج ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پر تیرا اطاعت گزار اور عبادت گزار کوئی نہ ہوگا…!اللہ تعالی نے آپ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی دعا کو اس طرح شرفِ قبولیت عطاء فرمایا کہ اس کے جواب میں بارش ہوئی جس نے فتح کو شکست میں اور شکست کو فتح میں تبدیل کیا۔اس کے علاوہ ایک ہزار ملکوتی طاقتیں بھیجنے کی بشارت دے کر مہاجرین اور انصار کی مٹھی بھر جماعت کی مدد کی۔ سورہ انفال کی آیت ٦٥ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے،اس کا اردو مفہوم یہ ہے کہ ”میدان جنگ میں اگر بیس مجاہدین ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو کافروں پر غالب آسکتے ہیں۔” یعنی ایک مرد مجاہد تنہا بیس کافروں سے نبرد آزماہوسکتا ہے۔ غور کیجئے ، معلوم ہوگا کہ ثابت قدمی کا انحصار حوصلے پر ہے، حوصلے کا دارومدار طاقت پرہے اور قوت ایمانی وہ ملکوتی طاقت ہے جو جسم میں بجلی بھر دیتی ہے، حوصلہ بڑھاتی ہے ، ہمت بندھاتی ہے، جس میدا ن جنگ میں مرد مجاہد دشمن کے سامنے ڈٹ جاتاہے۔اس طرح ایک ایک مجاہد بیس بیس کافروں پر بھاری ہوتا ہے۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم باہر تشریف لاتے ہیں فوج سے مخاطب ہوتے ہیں کہ تم اس وقت ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کے ذمہ دار ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس خطاب سے ان کے دلوں میں ولولہ انگیز جذبہ پیدا ہوا کہ ہم ہی وہ واحد جماعت ہیں جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی خاطر لڑ رہے ہیں ۔ باقی سب اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں ۔اس جوش اور ولولہ کے باعث ایک ایک آدمی کو ہزار ہزار آدمی کی قوت حاصل ہوتی ہے اور جان پر کھیلنے کو آمادہ ہو جاتا ہے۔،،

اس کی مثال غزوہ بدر کا ایک بے نظیر واقعہ ہے۔ ایک طرف طاقت اور قوت کا پہاڑ ابو جہل تھا، جس نے اپنے آپ کو زرّہ بکترمیںچھپا رکھا تھا۔ اس کی صرف دو آنکھیں نظر آتی تھیں۔ دوسری طرف عفرا کے دو کم عمر بیٹے معوذ اور معاذ تھے، جنہوں نے ابھی زندگی کی بہاریں نہیں دیکھی تھیں، جن کی مسیں ابھی بھیگی نہیں تھی۔ ابوجہل کے سامنے ان کی حیثیت بالکل ایسی تھی جیسے ہاتھی کے سامنے چیونٹی۔مگر ان دو کم عمر مجاہدین نے ابو جہل کی دونوںآنکھوں پر تاک کر ایسا نشانہ مارا کہ خاک و خون میں تڑپنے لگا۔ آخر کار عبداللہ بن مسعود نے اس کا سر تن سے جدا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قدموں میں لاکر ڈالا ان بچوں کے اندر نیزہ اٹھانے کی طاقت کہاں سے آئی…؟ ابو جہل کو جان سے مارنے کا حوصلہ کہاں سے آیا؟ دراصل یہ وہ ملکوتی توانائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بجلی کی طرح بھر دی اور اسلام کے سب سے قوی ، جری اور ظالم دشمن کو بے بس اور ناتواں ہاتھوں سے ہلاک کروایا۔اور جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے جاں نثار صحابہ کے ہمراہ ٠٢ھ میں رمضان کی ١٦ تاریخ کو مدینے سے بدر کے لیے روانہ ہوئے، دوسرے روز یعنی ١٧ رمضان کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن جنگ ہوئی، جس میں اللہ تعالیٰ کی استعانت سے حق حق کے ساتھ اور باطل باطل کے ساتھ ثابت ہوا۔ حق کی جیت نے کفر اور شرک کو جڑ سے کاٹ کر پھینک دیا۔

غزوہ بدر تاریخ کی ایک سچائی ہے، جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ اسلام کا حقیقی عروج اسی غزوہ سے شروع ہوا۔کیوں کہ حق و باطل کے اس معرکے میں کافروں اور مشرکوں کو شکست دینے کے بعد مسلمان محض جلاوطن اور خانماں برباد مہا جر نہیں تھے بلکہ ان کے پاس ایک آزاد ریاست تھی اور وہ ایک زندہ اور آزاد قوم کی مانند مدینے میں رہ رہے تھے۔رمضان المبارک کی اہمیت کا اندازہ غزوہ بدر کے کے اس بے مثال تاریخی واقعے سے لگائیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک میں نوع انسانی کے لیے صرف دستورِحیات ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ اسی ماہ مکرم میں اس کے نفاذ کی راہ بھی ہموار کر دی۔

Rana Aijaz
Rana Aijaz

تحریر: رانا اعجاز حسین
ای میل:ra03009230033@gmail.com
رابطہ نمبر:0300-9230033

Share this:
Tags:
Islam Rana Aijaz اسلام اللہ حق ہجرت
Narendra Modi
Previous Post غالب تو حق نے ہی آنا ہے
Next Post ضلع کورنگی کو بلدیاتی مسائل سے پاک بنانے کے لئے کوشاں ہیں: ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کورنگی
Quratulain Memon

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close