Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خطرناک مضرمات ٣

June 11, 2021 0 1 min read
Supreme Court
Supreme Court
Supreme Court

تحریر : میر افسر امان

ہم نے پہلے دو حصوں میں شہزاد شامی صاحب کے مضمون کے عدالتی فیصلہ اور مضرمات کولیا تھا۔ اس آخری حصہ میں اقلیتوں کی تین فی صد آبادی کے لیے ایک اسلامی ملک کے ٩٧ فی صد بچوں کے حقوق کا جنازہ نکالنے کے لیے تین فیصد اقلیتوں کے فارن فنڈڈد این جی اوز دلیلیں دیتے پھرتے ہیں کو لیا ہے۔ جو کہ نانصافی کے زمرے میں آتا ہے۔ کچھ کالم نگاروں کی سوچ جن کو اسلام سے بیزاری اور مغر ب کی پیسے کی چمق نے دیوانہ بنا رکھا ہے، وہ اس دیوانگی میں پیسے کے پیچھے اور اس کی تلاش میں سر گرداں رہتے ہیں ۔مغرب نے اسلامی ملکوں میں اصلاح کے نام سے این جی اورز بنا رکھیں ۔اس کا مطلب غیر حکومتی ادارے ۔ ان این جی اوز کے ذریعہ یہ ایسے ڈالر کی تلاش میں مذہب بیزار کچھ لکھاریوں کو تلاش کرتیرہتے ہیں۔اسی کو اس حسہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس نانصافی سے ملک کے ٩٧ فیصد آبادی میں ہیجان پیدا ہوگا۔ اسے عدلیہ کو کسی مناسب فیصلہ سے ختم کرنا چاہیے۔

٣ـ محترمہ رتنا کماری ، بیوہ جسٹس رانا بھگوان داس ۔مذکورہ بالا دونوں غیرمسلم راہنما محروم وسائل اور پسماندہ لیکن اکثریتی دلت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ برصغیر کے ذات پات کے نظام میں یہ طبقہ کم ترین کہلاتا ہے ۔ پاکستان میں یہ مذہبی اقلیت اکثریت میں ہے ۔ اس کا نقطۂ نظر سامنے آنے پر مناسب سمجھاگیا کہ اعلیٰ برہمن اقلیتی ہندو کا نقطۂ نظر بھی سامنے آجائے ۔ بلندقامت اعلیٰ ذات کے جس برہمن کا نام ذہن میں آیا، وہ آنجہانی جسٹس رانا بھگوان داس تھے ۔ سال بھر قبل کسی اور نسبت سے ان کی بیوہ سے فون پر میری بات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ وہ اعلیٰ برہمن ہونے کے باوجود روایتی گھریلو پردہ دارخاتون ہیں۔ انھوں نے اپنی طرف سے بات کرنے کا اختیار اپنے بھائی جناب سبھاش چندرکو دیا تھا۔

سبھاش چندر صاحب مکینیکل انجینئر ہیں اور پاک پی ڈبلیو ڈی میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہ کرریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطالعہ میںاپنی مذہبی کتاب اُردو سندھی یا انگریزی میں نہیں ہندی رسم الخط میں ہے ۔ یوں آپ ان کے مذہبی ہونے کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ میں نے فون کیا تو رنگ ٹون پر ایک ہردل عزیز نعت اس ہندو کی طرف سے سننے کو ملی۔ ان کے سامنے میں نے مذکورہ سوال رکھ کر یہ وضاحت کردی کہ جواب میں جو موقف وہ اختیار کریں گے ، اسے بیوہ جسٹس رانا بھگوان داس کا موقف بھی سمجھا جائے گا۔لہٰذا وہ وہی جواب دیں جو محترمہ کے موقف کے قریب تر ہو۔اس وضاحت کے بعد سبھاش صاحب نے دونکاتی جواب دیا:
١ـ ماضی میں پورا برصغیر ایک بڑی اور تہذیب یافتہ ہند ووحدت تھی۔ یہاں صرف مقامی لوگ تھے اور انتہائی امیراور مہذب تھے ۔ اس کے برعکس حملہ آور تہذیب یافتہ اور امیر نہیں ہوتے ۔ابتدائی طور پر گنوار حملہ آوروں نے برصغیر کی تہذیب کو مسخ کرکے رکھ دیا۔ لیکن بعد میں آنے والے حملہ آوروہ لوگ تھے جنھوں نے تاج محل، قلعہ جات، باغات،مساجد وغیرہ بنا کر اس مقامی تہذیب میں مزیدنکھار پیدا کیا۔ یہ حملہ آوراب اس دھرتی کا حصہ بن گئے لہٰذا اس دھرتی کی کتربیونت میں یہ مکمل حصہ دار ہیں۔

٢ـ میرے سوال کہ ”بعض لوگ تاریخ، مطالعہ پاکستان، اُردو، انگریزی وغیرہ میں اسلام کے تذکرے کی مخالفت کررہے ہیں…” انھوں نے پورا سوال سنے بغیر بات سمجھتے ہی میری بات کاٹ کر کہا:”نہیں نہیں، یہ غلط بات ہے ”۔اس کے بعد انھوں نے سختی سے اور زور دے کر کہا کہ حمد، نعت اور ایسی دیگر چیزیں ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ البتہ اوور ڈوز نہیں ہونا چاہیے جیسے کفار نے یوں کہا، یا کفار بُرے ہوتے ہیں”۔ میں نے واضح کیا کہ یہ پرانے نصاب میں تھا جسے نکال دیا گیا ہے ۔ میں نے مزید وضاحت کی کہ حمد،نعت وغیرہ یاد کرنے یا امتحان سے غیرمسلم طلبہ مستثنیٰ ہیں تو ان کا جواب تھا: ”کیوں مستثنیٰ ہیں؟ حمد، نعت میں کیا خرابی ہے ؟جناب یہ مسلم اکثریت کا ملک ہے اور مسلمان جب اپنے بچوں کو یہ پڑھاتے ہیں تو ہمارے بچے بھی پڑھ لیتے ہیں۔ جسٹس رانا بھگوان داس اسلامیات میں ایم اے تھے ۔ آج کے ہندستانی بنگال کی ہر دل عزیز وزیراعلیٰ ممتابنیرجی اسلامی تاریخ میں ایم اے ہیں۔صاحب! ان لوگوں کا مسئلہ کیا ہے ”؟

ججوں کا گروپ لے کر ہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملنے گئے ۔ جسٹس افتخارمحمد چودھری کی بحالی کا پہلادن تھا۔ انھوں نے جسٹس رانا بھگوان داس کو بھیج دیا۔ رانا صاحب نے آغازہی میں اِدھر اُدھر نظردوڑا کر ہمارے ایک باریش پروفیسر سے تلاوت قرآن پاک کرنے کو کہا۔مختصر سی مجلس تھی ،تلاوت نہ ہوتی تب بھی کوئی مضائقہ نہیں تھا۔

شعیب سڈل اور بعض کالم نگاروں کا مخمصہ
یہ مخمصہ جاننے کے لیے دو واقعات ذہن میں رکھ لیں۔ میں کبھی اپنے ادارے کی کونسل کا سیکرٹری تھا۔ اجلاس بلانا اور ا نتظام کرنا میرے ذمہ تھا۔ لاہور میں مقیم ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس صاحب کو فون کرکے کہا کہ فلاں تاریخ کو ایک روزہ اجلاس ہے ۔ آپ صبح کی پرواز سے تشریف لاکر شام کو واپس تشریف لے جاسکتے ہیں۔بولے : ”آپ دو دن کا اجلاس رکھیں ۔میں رات ادھر ہی رہ کر عزیزوں، دوستوں سے مل لوں گا”۔اپنے ڈائرکٹر جنرل جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کو بتایا تو انھوں نے مسکرا کر اجلاس دو دن کے لیے رکھ لیا۔ایک مسئلہ درپیش تھا جسے انٹرنیشنل اسلامی یونی ورسٹی کے بورڈآف گورنرز میں زیربحث آنا تھا اور بورڈ نے فیصلہ کرناتھا۔ میں نے ضروری سمجھا کہ بورڈ کے دوایک ارکان سے مل لوں۔لاہور کے ایک ریٹائرڈ وائس چانسلر کی خدمت میں حاضر ہوا جو بورڈ کے رکن تھے ۔ بات بغور سن کر اُنھوں نے مجھ سے مکمل اتفاق کیا۔ لیکن مسکراتے ہوئے صاف گوئی سے اعتراف کیا کہ میں آپ کے نقطۂ نظر کے درست ہونے کے باوجود اجلاس میں اس کے حق میں نہ صرف بولوں گا نہیں بلکہ خاموشی اختیار کروں گا۔

اس کی وضاحت انھوں نے یوں کی: ”دیکھیں ڈاکٹر صاحب! بورڈ کا اجلاس سال میں چار دفعہ ہوتا ہے ۔ وہ مجھے بلا کر دو دن اسلام آباد ٹھیراتے ہیں۔ میں پرانے دوستوں، عزیزوں سے مل لیتا ہوں اگر اجلاس میں مَیں نے انتظامیہ کی مخالفت میں آپ کے اصولی موقف کو سہارا دیا تو تین سال بعد مجھے وہ دوبارہ بورڈ کا رکن نہیں بنائیں گے ”۔ میں منہ لٹکائے واپس آگیا (میدانِ محشر میں ان دونوں واقعات کو میں اسی طرح بیان کروں گا)۔

اب آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ سرکاری وسایل پر قایم شعیب سڈل کمیشن نے معمولی سی رپورٹ پر تین سال کیوں لگائے ؟ انتہائی بڑے سانحے ، سقوطِ مشرقی پاکستان کا سراغ لگانے والے حمودالرحمٰن کمیشن نے اتنی بڑی ذمہ داری محض دو سال دس ماہ سے کم عرصے میں دیانت داری سے پوری کر دی تھی۔ ادھر ہمارے ممدوح اور تعلیمی امور سے مطلقاً نابلد پولیس افسرنے اپنے ڈیڑھ پائو گوشت کی خاطر درجنوں ماہرین تعلیم کی دس سالہ پروردہ بھینس ذبح کردی۔ کیوں؟ کون چھپا بیٹھا ہے اس پردہ زنگارگوں کے پیچھے ؟شعیب سڈل ہوں یا دیگر بیوروکریٹ، ان دوواقعات کی روشنی میں آپ کو ان ریٹائرڈ لوگوں کا مخمصہ سمجھ جانا چاہیے ۔

اب تو صورتِ حال دل گرفتہ ہوچکی ہے ۔ دورانِ ملازمت ان کا لوگوں واسطہ بین الاقوامی اداروں اور این جی اوز سے رہتا ہے ۔ برطانوی نوآبادیاتی اختیارات سے یہ لوگ علیٰ حالہ لیس ہیں، احتساب نہ ہونے کے برابرہے ۔ بے پناہ غیرجمہوری اختیارات استعمال کرکے بعض نے صحافیوں کا پورا ریوڑ پال رکھا ہوتا ہے جو کالموں، اخباری تجزیوں، ٹی وی مذاکروں میں ان لوگوں کی دیانت داری، حب الوطنی اور اعلیٰ افلاطونی صلاحیتوں کا نقش معصوم عوام کے ذہنوں میں ڈالتے رہتے ہیں۔ ریٹائر ہوکر یہ لوگ نماز روزہ تو کرتے ہوں گے لیکن ساری زندگی نوآبادیاتی حکم چلانے کے علاوہ کوئی فن یا ہنر نہیں جانتے ۔لہذا مصروفیت کے و ہی بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں جس کی دو مثالیں میں دے چکا ہوں۔ مصروف رکھنے کے اپنے اس فعل کو وہ ملک کی خدمت قراردیتے ہیں۔

بعض کالم نگاروں کا مخمصہ۔متفقہ نصاب تعلیم میں سے اسلام کے اخراج کی وکالت کرنے والے بیشتر کالم نویس بالعموم وہ لوگ ہیں جن کی گزربسر غیرملکی این جی اوز کے ‘ قشرالفوکہات’ پر ہے جو ہر موضوع پر لکھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے قارئین بھی جانتے ہیں کہ کس کا کس غیرملکی این جی اوسے کتنا تعلق ہے ؟ تعجب اس پرہے کہ چاروں صوبوں کے چوٹی کے درجنوں ماہرین تعلیم کو چیلنج کرے تو کوئی ماہر تعلیم اور وہ بھی کسی سلیقے سے لیکن وہ لوگ جنھوں نے کبھی کسی یونی ورسٹی سے سلیقے کی کوئی تعلیم حاصل نہیں کی، وہ بھی کالم نویسی کے ذریعے تعلیمی گمراہی پھیلارہے ہیں۔ روزنامہ دُنیا کے ایمبسڈر جاوید حفیظ صاحب نے البتہ بھولپن کے ساتھ لکھا۔ میرے استفسار پر بولے کہ نہ تو انھوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا ،نہ اس فیصلے سے متعلق حقائق کا انھیں علم تھا۔حقائق کا علم ہونے پر وہ چپ سے ہو گئے ۔ ان کا کہناتھا کہ کسی انگریزی اخبار کی خبر پر انھوں نے بس کالم لکھ دیا۔ یوںآپ اندازہ کر سکتے کہ نسلوں کو بنانے بگاڑنے کا کام اخبار ات میں کس رواروی میں ہوتا ہے ۔ میں نے اُمید اور گزارش کی کہ حقائق کا علم ہونے پر وہ اگلے کسی کالم میں اس کی تفصیلی وضاحت کردیں گے ۔

تو پھر مسئلہ کیا ہے ؟مذہبی اقلیتوں کے جن لوگوں کا ذکر سپریم کورٹ کے ٢٠١٤ء کے فیصلے میں ہے ، ان میں سے بیشتر کسی اقلیتی برادری کے نمایندے نہیں تھے ، مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی ہندو نشست پر مسلم لیگ اور اب تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ہیں تو ایسے شخص کے بھولپن پر مسکراہٹ ہی بکھیری جاسکتی ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ پرویز مشرف کی آئینی ترمیم کے بعد اقلیتی آبادیوں کی حقیقی نمایندگی خواب بن کر رہ گئی ہے ۔ سیاسی جماعتیں اپنے ساتھ قربت کی بنیاد پر ان لوگوں کو منتخب کرتی ہیں، اقلیتیں انھیں خود منتخب نہیں کرتیں۔ ان معصوم اقلیتوں کی حقیقی نمایندگی کسی اسمبلی میں نہیں ہے ۔ یہی حال سپریم کورٹ میں پیش دیگر لوگوں کا ہے جو ان کے محترم مذہبی نمایندے تو ہیں لیکن حقیقی زندگی میں اقلیتی آبادیوں کے نمایندے اور لوگ ہیں۔ کل سپریم کورٹ میں مسلمانوں کی نمایندگی مطلوب ہوئی تو کیا سپریم کورٹ مفتی عبدالقوی یا مولانا طاہر اشرفی کو بلانے میں حق بجانب ہوگی؟ کیا یہ لوگ مسلمانوں کے نمایندے قرار دیئے جاسکتے ہیں؟

قارئین کے سامنے اقلیتی کمیشن کے چیلارام کی رائے آچکی ہے ۔ ٣٠لاکھ دلت آبادی کے چوٹی کے دو نمایندوں کی رائے بھی دی جاچکی ہے ۔اعلیٰ ذات کے اعلیٰ ہندو عہدے دار کی رائے اور جسٹس رانا بھگوان داس کی مجموعی شخصیت بھی آپ کے سامنے ہے ۔ چیف جسٹس جیلانی نے جو فیصلہ سنایا تھا ،اس کا تجزیہ بھی آپ پڑھ چکے ہیں۔ مسئلہ چرچ پر حملے سے شروع ہوا جس میں دیگر اُمور شامل کرلیے گئے ۔ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ نصاب سے نفرت انگیزمواد نکالا جائے ۔ لیکن اب سپریم کورٹ نے فیصلے کا رُخ صوبوں کے متفقہ

٢
نصاب ِ تعلیم کی طرف موڑ دیاہے ۔ حالانکہ نئے نصاب میں نہ صرف نفرت انگیز مواد نہیں ہے بلکہ پانچوں بڑی اقلیتوں کے لیے الگ نصابی کتب ہیں۔ یہ نصاب تو مسلمانوں کے لیے ہے جس سے اقلیتوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے ؟

آگ سے کھیلنے کا عمل اورممکنہ بھیانک نتائج۔ ایک اعلیٰ افسر نے انکشاف کیا: ”موجودہ قضیے میں سپریم کورٹ کا نوٹس ملا تو ہم سٹپٹا کر رہ گئے ۔ ہمارے علم میں پہلی دفعہ آیا کہ ٢٠١٤ء میں کوئی فیصلہ ہوا تھا اور ٢٠١٨ء میں کوئی یک رکنی کمیشن بنا تھا۔ ”آپ پورا فیصلہ پڑھ لیں ،تعلیم کا کوئی نمایندہ عدالت میں نہیں تھا جو بتاتا کہ مسئلے کی نوعیت یوں نہیں، یوں ہے ۔لہذا یہ نتیجہ نکالنا غلط نہ ہوگا کہ اس یک طرفہ فیصلے پر سپریم کورٹ نے عمل درآمد کر نے کا کہا تو حکومتیں عمل کی پابند ہوں گی۔ نصاب سے اسلامی مواد نکال دیا جائے گااور ٩٦ فی صد مسلمانوں میں بے چارگی کا گہرا احساس ہوگا۔ سامنے سپریم کورٹ کے جج نہیں ہوں گے۔

جسٹس جیلانی کا فیصلہ تو جسٹس منیر کی طرح تاریخ کرے گی لیکن لوگ سمجھ لیں گے کہ ہندو ،مسیحی اور غیرملکی این جی او ملک کو سیکولر بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔بے چارگی کا احساس وقت کے ساتھ گہرا ہوتا چلا جائے گا۔ مقدمے کے نام نہاد مسلمان فریق ایک طرف رہیں گے اور مسلمانوں کے غیظ و غضب کارُخ اقلیتوں کی طرف ہوگا۔ ملک بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے ،موقع ملتے ہی کبھی گوجرہ جیسے واقعات تو کبھی ملتے جلتے دیگر واقعات وقوع پذیر ہوسکتے ہیں۔ڈالردینے والے ممالک اور ادارے اپنی پالتو این جی او، ان کے خوشہ چینوں اور دیگر چہیتے “ریاستی افراد ” کو گھیرگھار کر اس نقطے پر لے آئے ہیں جس کا نتیجہ رہی سہی، مذہبی ہم آہنگی کے انہدام کی شکل میں نکل سکتا ہے جسے کوئی سمجھ دار مسلمان ہرگز پسند نہیں کرتا۔ مذہبی اقلیتوں کے وہی شہری حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔ یہ ہم مسلمانوں کو اسی طرح عزیز ہیں جیسے اپنے دیگر مسلمان بھائی بند۔ کیا محترم جسٹس گلزاراحمد صاحب یہ نکتہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ معصوم اقلیتی آبادیوں کے جان ومال کو دائو پر لگانے کی تیاریاں مکمل ہیں (iqbal.malik888@gmail.com)

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
Columnist decisions report rights supreme court حقوق رپورٹ سپریم کورٹ فیصلے کالم نگار
Defense Budget
Previous Post ملکی دفاعی بجٹ 74 ارب سے زائد اضافے کے بعد 1373 ارب روپے تک جا پہنچا
Next Post بجٹ میں میک اپ، شیمپو اور پرفیومز بھی مہنگے کر دیے گئے
Makeup

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close