Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پھول اور کانٹے

May 2, 2020 0 1 min read
Ruler
Ruler
Ruler

تحریر : طارق حسین بٹ شان

مسندِ اقتدار پر جلوہ افروز ہونے کے بعد دوست اور دشمن کی تمیز دم توڑ جاتی ہے۔جن کی قدرو منزلت ضروری ہونی چائیے تھی انہی کی قدرو منزلت گھٹ جاتی ہے اور جھنیں دیوار کے ساتھ لگایا جانا ضروری تھا وہ اہم فیصلوں کی روح بن جاتے ہیں۔سچ تو یہ ہے دوست صفِ دشمناں میں چلے جاتے ہیں اور موقع پرست قلب و نگاہ کا سکون قرار پاتے ہیں۔طوطا چشم جان سے عزیز بن جاتے ہیں کیونکہ جب سب کچھ ایک چھوٹی سی مٹھی میں بند ہو جائے تو پھر مخلص دوستوں کی ضرورت کیوں باقی رہے گی؟ ابتلائو آزمائش کی جان لیوا گھڑیوں میں جن کے بغیر سانس لینا دشوار ہوتاہے اب ان کا وجود ایک بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے کیونکہ اب مسندِ خدائی پر جلوہ نمائی کا کیڑاعظمت و حشمت کے اظہار کاراگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔دوست چونکہ ماضی کے واقعات کا رازدان ہوتا ہے اور بہت سی کمزوریوں کا عینی شاہد ہوتا ہے لہذا اسے راہ سے ہٹایا جانا ضروری ہو جاتا ہے تا کہ ماضی کے جھمیلوں سے جان چھوٹ جائے اور کمزوریا ں طشت از بام ہو نے سے بچ جائیں ۔دوست پھول کی بجائے ایک کانٹے کا روپ دھارن کر لیتا ہے لہذا کون ہے جو اپنے دل میں کسی کانٹے کا وجود برداشت کرے گا؟ کانٹے کا وجود تو خود بے چینی کی علامت ہو تا ہے لہذا اس علامت کو خانہِ دل سے نکالنا ضروری ہو جاتا ہے۔

اپنی نئی بے عیب ،با رعب اور پر وقار شخصیت کا پیکر شائد دوست کی موجودگی میں اس آب و تاب سے چمک نہیں سکتا جس کی آرزو انسان کے من میں مچلتی رہتی ہے ۔اختیارات کے کھلم کھلا استعمال کا احساس دوستوں کی دوری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے ۔ دوست کو محض اس لئے نظر انداز کرنا ضروری ہو تا ہے تا کہ حکمران خود کو ایک ایسے افسانوی پیکر میں پیش کر سکے جس کا حقائق سے دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ دوستوں میںبحث و مباحثہ اور بے تکلفی کا ماحول ہوتا ہے جس میں ایک دوسرے پر جملے بھی کسے جاتے ہیں لیکن حکمران بن جانے کے بعد یہ سب کچھ بدل جاتا ہے۔حسِ لطیف کا گلہ گھنوٹ دیا جا تا ہے ۔ بے تکلفی کی جگہ تقدس لے لیتا ہے اور تقدس کا تقاضہ ہوتا ہے کہ اب اپنی آواز کو نیچا رکھا جائے کیونکہ اونچی آواز ظلِ سبحانی کو ناگوار گزرتی ہے ۔

اب ظلِ سبحانی عقلِ کل قرار پاتے ہیں ۔ان کی بے سرو باتوں سے دانش کے پھول جھڑتے ہیں۔گورنر جنرل غلام محمد پر جب فالج کا حملہ ہواتھا تو ان کی بہت سی باتیں لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھیں لیکن ان بے سرو پا الفاظ پر بھی تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے تھے کیونکہ گورنر غلام محمد اقتدار کا سر چشمہ تھے اوراس چشمہ سے سیرابی کی حسرت دیوانوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی لہذاتوصیف سے مطلب براری کا کام لیا جاتا تھا ۔دوستوں کی قربانیاں،جدوجہد، ایثار اور احسانات اب قصہِ ماضی قرار پاتے ہیں،نئی حقیقتیں نئی دنیا ،نئی محافل اور نئی مجالس اپنی حقانیت کی خود گواہ ہوتی ہیں جس میں گزرے دنوں کے دوستوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔حکمران اب اظہارِ سچ کو اپنی ذات پر حملہ تصور کرتا ہے۔ اسے دوست کے سچ میں سازش کی بو آنا شروع ہو جاتی ہے

۔ لہذا اس کی سرد مہری کا آغاز ہو جاتا ہے۔اب یک نوالہ یک پیالہ دوستوں میں ان دیکھی خلیج حائل ہو جاتی ہے۔ کتنا عجیب ہے کہ غریب الوطنی کے کڑے دنوں میں جن دوستوں کے کندھوں پر سوار ہو کر انسان اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتا ہے اقتدار کی مسند پر جلوہ افروز ہوتے ہی ان سے نظریں پھیر لیتا ہے ۔اب وہ ظلِ سبحانی بن جاتا ہے اور دوستوں کو منگتوں اور بھیک منگوں میں شمار کرنا شروع کر دیتا ہے جسے صرف خود ستائی کا نام ہی دیا جاسکتا ہے۔دوست اب بھی اس کے ہمدرد اور خیر خواہ ہوتے ہیں لیکں اقتدار کی مسند ان معنوں کوبدل کر رکھ دیتی ہے۔ دوستوں کو اب مفاد پرست افراد کا گروہ سمجھا جاتا ہے جن کا مقصدِ اولی ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے؟کیا واقعی ہر انسان بکائو مال ہوتا ہے ؟ اگر واقعی ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر جان لیوا گھڑیوں میں انھیں سینے سے لگا کر کیوں رکھا جاتا ہے اور ہمہ وقت ان کی خدمات سے استفادہ کیوں کیا جاتا ہے؟با صفا دوست بکائو مال نہیں ہوتے بلکہ خدا کی انمول نعمت ہوتے ہیں یہ الگ بات کہ حکمرانی کا نشہ انسان کو کھرے اور کھوٹے میں تمیز کے جوہر سے محروم کر دیتاہے۔

حکمران اپنے مخالفین کو بے دست وپا کرنے اور ان کی آواز کو دبانے کی خاطر انھیں زندانوں کے حوالے کرتے ہیں تو اس میں کسی کو کوئی حیرانی نہیں ہہوتی لیکن جب قدم سے قدم ملا کر چلنے والے مخلص دوست زندا نوں کے حوالے کر دئے جائیں تو پھر سوال تو اٹھے گا ۔مخالفین کا وجود حکمرانوں کیلئے کسی کانٹے سے کم نہیں ہوتالہذا مخالفین کا مقام جیل کی بلند و بالا فصیلیں اور اس کے تنگ و تاریک درو دیوار ہوتے ہیں۔ مخالفین بے رحم حکمرانوں کی ذات سے پناہ مانگتے ہوئے جلا وطنی پر مجبور ہو جاتے ہیں یا اپنی زبان بند کر لیتے ہیں۔مخالفین کا کرب اور ان کا درد حکمرانوں کی نظر میں بالکل بے وقعت ہوتا ہے لہذا ان کے بارے میں اس کا دل نہیں پسیجتا ۔مخا لفین چیختے چلاتے رہتے ہیں لیکن وہ انھیں بد دیانت ، چور ، خائن ،لٹیرے اور ملک دشمن کہہ کر ان کی گردنیں ناپتا رہتا ہے۔اس کے حامی اس کے ایسے بے سرو پا نعروں پر تالیاں پیٹتے ہیں جو اس کے ظلم و جبر اور آمرانہ اندازِ حکومت میں مزید سختی پیدا کر دیتا ہے۔

دوست رخصت ہوجاتے ہیں تو ان کی جگہ ابن الوقت نشستیں سنبھال لیتے ہیں جن کا واحد ہدف حاکمِ وقت کی نگاہوں میں معتبر قرار پانا ہوتا ہے۔ایسے افراد کسی نظریے سے کوئی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی چرب زبانی سے ایک ایسے مقام پر متمکن ہو جاتے ہیں جو صرف با وفا اور با صفا انسانوں کے لئے مختصص ہوتا ہے۔با صفا دوستوں کی رخصتی حکمرانوں کے زوال کی پہلی اینٹ ہوتی ہے لیکن حکمران اسے دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ دو ست بچھڑتے جاتے ہیں تو خوشامدی شاخِ چمن پرسجے ثمر سمیٹنے شروع کر دیتے ہیں ۔شطرنج کی ساری بازی پلٹ جاتی ہے ۔ نئی صف بند ی کے بعد چند نئے مہرے سجائے جاتے ہیں لیکن ابتلاء کی گھڑی کی نموداری کے ساتھ ہی یہ مہرے یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مہرے کبھی بساطِ سیاست پر سجے ہی نہ تھے۔انسان اپنی سجائی گئی بساط پر ایستادہ مفادی مہروں کو ڈھونڈنے نکلتا ہے لیکن اسے مہرے کہیں نظر نہیں آتے کیونکہ ان کا مقصد مفادات سمیٹنا ہوتا ہے کھڑا رہنا نہیں ہوتا ۔ وہ اپنا الو سیدھا کر کے نئے گھر کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اور یوں با صفا دوستوں کو گنوانے والا حکمران حسرت و یاس کی تصویر بنا یہ سب کچھ دیکھنے کا کرب سہتا ہے۔اب اسے با صفا دوستوں کی یاد بہت ستاتی ہے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لہذا یہ معرکے کوئی حیران کن نہیں ہوتے۔ ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے راتوں رات صفِ دشمناں میں چلے جاتے ہیں تو نو واردنِ سیاست کی حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں لیکن وہ جن کی نظروں سے ایسے مناظر پہلے بھی کئی بار گزرے ہوتے ہیں انھیں کوئی حیرانی نہیں ہوتی۔ پاکستان میں ذاتی دوستوں کی قربانی سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں جن کا تذکرہ اگلے کالم میں ہو گا۔،۔

Tariq Hussain Butt Shan
Tariq Hussain Butt Shan

تحریر : طارق حسین بٹ شان
(چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال

Share this:
Tags:
decisions power Rulers subhani tolerance اقتدار برداشت حکمران سبحانی فیصلوں
Corona Karachi Cases
Previous Post کورونا: کراچی سے 24 گھنٹوں میں مزید 376 کیسز رپورٹ
Next Post یونس کے بعد یوسف بھی شعیب اختر کے معاملے پر بول پڑے
Muhammad Yusuf

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close