Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حکمرانوں کی حکمت عملی آخر ہے کیا ؟؟

October 7, 2019 0 1 min read
Imran Khan
Imran Khan
Imran Khan

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

اکتوبر 2011 ء میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے میوزیکل کنسرٹ کی دُھنوں میں کپتان کی ”سونامی” کی ایسی رونمائی ہوئی کہ نہ صرف نوجوان سونامیے بلکہ ادھیڑ عمر بھی دِل تھام کے رہ گئے۔ اُس کے حسن کے ”لشکارے” نے سونامیوں کو ایسا مسحور کیا کہ نوجوان تو ایک طرف پرویز خٹک جیسے ادھیڑ عمر بھی تھرکنے لگے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر سوائے اُس کے حسن کے کوئی خبر ہی باقی نہ بچی۔ لکھاریوں نے اُس کی کشش پر ”قلم توڑ” کالم لکھے۔ کسی لکھاری میں اتنی جرأت ہی نہیں تھی کہ وہ کپتان کی سونامی کے خلاف قلم گھسیٹ سکے۔ڈال ڈال پھدکنے والے سیاستدان اُس کی بزمِ ناز میں جگہ پانے کے لیے بگٹٹ ہوئے۔ ایسی پذیرائی دیکھ کر رقیبانِ روسیاہ کو ہوش آیا اور اُنہوں نے بھی تلواریں سونت لیں۔ سونامی کا میک اَپ آہستہ آہستہ اترنے لگااور اندر سے اُس کے بھیانک چہرے کی جھلکیاں نمودار ہونے لگیں۔پھر 2o13ء میں گھمسان کا رَن پڑا جس میں رقیبوں نے سونامی کو چاروں شانے چِت کر دیا۔ اِس ہزیمت پر ایک معروف لکھاری نے لکھا ”سونامی گٹر میں بہہ گئی”۔ قصور شاید سونامی کا بھی اتنا نہیں تھا کہ اُس کی بزم میں جگہ پانے والوں نے ہی ”گنگا” میلی کر دی۔

سونامی کے عاشقِ صادق کو بھلا یہ کب قبول تھا، اِس لیے وہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتا سڑکوں پر نکل آیا۔ نعرہ تب بھی اُس کا یہی کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے۔ جب سڑکوں کی دھول چاٹنے کے باوجود ”کَکھ” نہ بن سکا تو عاشقِ صادق نے یوٹرن لیتے ہوئے سونامی کو داغِ مفارقت دے کر ”ریاستِ مدینہ” کی نوید سنا دی۔ تب ہم نے سوچا کہ کیا موسیقی کی دھنوں پر تھرکتے جسم ریاستِ مدینہ کی تشکیل کر پائیں گے؟۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب کپتان یوٹرن لیتے لیتے منزلِ مقصود تک پہنچ ہی گیا۔ یہ طے ہونا ابھی باقی کہ کپتان ”پیرنی” کی دعاؤں کے زیرِاثر ”منزلِ مقصود” تک پہنچا یا اپنے یوٹرنوں کی بدولت۔ اب کپتان کی محبوبہ ”تبدیلی”ہے، سونامی کا کہیں نام ونشان نہیں۔ ”تبدیلی” کا دعویٰ تھا کہ وہ 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدل کے دکھا دے گی۔ 100 دِن گزرے، 400 دِن بھی گزرے لیکن ”تبدیلی”

آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں

یہی وجہ ہے کہ اُتھل پُتھل جاری ہے۔ ادارے ”اِذنِ تبدیلی” کے منتظر، کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کب ”بستر بوریا” سمیٹنے کا حکم صادر ہو جائے۔ بیچارے وزراء بھی سہمے سہمے سے، گاڑیوں سے جھنڈے اتر نے کے خوف میں مبتلائ۔ قصور اِن کا بھی نہیں کہ تبدیلی صرف اپنے مشیران اور معاونینِ خصوصی کی ہی سنتی ہے۔

اُدھر ”تبدیلی”آرائشِ جمال میں مصروف اور اِدھر مولانا فضل الرحمٰن کا ”کھڑاک”۔ اُنہوں نے 27 اکتوبر کوڈی چوک اسلام آباد میں آزادی مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ”ملکی بقاء خطرے میں ہے، موجودہ حکومت کو ہر حال میں گھر جانا ہوگا۔ 27 اکتوبر یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے۔ گرفتاری کی صورت میں بھی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔ دھرنا ہوگا جو حکمرانوں کے گھر جانے تک جاری رہے گا”۔ مولانا آزادی مارچ میں 15 لاکھ شرکاء کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اُنہیں یہ بھی یقین کہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی بھی بالآخر اُن کے ساتھ آن ملیں گی۔ مولانا کا ماضی گواہ کہ وہ کچی گولیاں کبھی نہیں کھیلتے۔ اگر اُنہوں نے نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کی شرکت کے بغیرہی آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر دیا ہے تو ہمیں یقین کہ ”دمادم مست قلندر” کا موسم آن پہنچا۔

اُدھر تحریکئیے بھی اپنا میمنہ میسرہ درست کرنے میں مصروف۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خاں نے کہا ”جمعیت علمائے اسلام میں اتنی ہمت نہیں کہ لاک ڈاؤن کرے اور اگر کوشش کی گئی تو خیبرپختونخوا سے کسی کو نہیں گزرنے دیں گے، کوئی بھی اسلام آباد نہیں پہنچ سکتا۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جے یو آئی رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے فہرستیں مرتب کر لیں”۔ وزیرِاعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ”ماسی مصیبتے” کے خیال میں 2 سیاسی جماعتیں مولانا کا کندھا استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ ماسی مصیبتے شاید لاعلم کہ جو شخص جَو کاشت کرکے، گندم کی اُمید رکھتا ہے، وہ احمق ہے۔ یہ تو مکافاتِ عمل ہے۔ اِسی ڈی چوک میں عمران نیازی نے مولانا طاہرالقادری کا ”کندھا” استعمال کیا۔ اب اگر نوازلیگ اور پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمٰن کا کندھا استعمال کرنے کی تگ ودَو میں ہیں تو اِس میں حرج ہی کیا ہے؟۔ مولانا نے تو اپنی حکمتِ عملی تیار کر رکھی ہے البتہ کپتان نے بغیر کسی حکمت عملی کے 126روزہ دھرنا دے ڈالا۔

مولانا کے مجوزہ دھرنے سے نجات کے لیے حکمرانوں کی حکمتِ عملی کیا ہے؟۔ اگر حکمتِ عملی وہی ہے جس کی بڑھک کے پی کے کے وزیرِاعلیٰ نے لگائی، تو پھر حکمران ابھی سے اپنے گھر جانے کا بندوبست کر لیں۔ جب عمران نیازی ڈی چوک دھرنے کے لیے نکلے تو نون لیگ کی حکومت نے انتہائی تدبر سے کام لیتے ہوئے اُن کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ ڈی چوک میں بھی کپتان اور مولانا طاہرالقادری کی شدید خواہش یہی تھی کہ حکومت پُرتشدد کارروائیاں شروع کر دے۔ اِسی لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ توڑے گئے، وزیرِاعظم ہاؤس پر حملہ کیا گیا، پی ٹی وی پر قبضہ کیا گیا، شاہراہِ دستور کے فُٹ پاتھوں کی اینٹیں تک اُکھاڑ لی گئیں، تھانے پر حملہ کرکے اپنے کارکنوں کو زبردستی چھڑوایا گیا، حتیٰ کہ سول نافرمانی تک کا اعلان کر دیا گیالیکن حکومت ٹَس سے مَس نہ ہوئی۔ چنانچہ مایوس ہو کر مولانا طاہرالقادری دو ماہ بعد ہی دھرنا چھوڑ گئے۔ جونہی کپتان کو سانحہ اے پی ایس پشاور کا بہانہ ہاتھ آیا، وہ بھی ”پھُر” ہو گئے۔ مغرور و متکبرفیصل واوڈانے مولانا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ” اڈیالہ اور اٹک جیل میں مولانا کا وزن کم کرنے کے لیے ایکسرسائز مشینیں لگا دی گئی ہیں۔ مولانا کو ایسا بٹھائیں گے کہ پھر اُٹھ نہیں سکیں گے”۔ عرض ہے کہ ایکسرسائز کا سب سے زیادہ شوق تو کپتان کو ہے۔ اُن کے ”پُش اَپس” بہت مشہور ہیں۔ یہ بھی طے کہ جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتاہے، خود ہی اُس میں گرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کل کلاں اڈیالہ جیل میں کپتان کو ہی اِن مشینوں کی ضرورت پیش آجائے۔ اُس صورت میںدُکھ ہو گا تو صرف اِس بات کا کہ فیصل واوڈا جیسے بَدزبان اور بَداخلاق ہی کپتان کے زوال کا باعث بنے۔

ماسی مصیبتے نے کہا ”سیاسی نبض شناس عوام کی نبض کو کیوں سمجھ نہیں پارہا؟۔ عوام میں آپ کی پذیرائی تبھی ممکن ہے جب آپ اپنی آواز مظلوم کشمیریوں کے حق میں بلند کریں”۔ بجا! کہ مولانا فضل الرحمٰن سیاسی نبض شناس تھے اور ہیں۔ اِسی لیے ہمیں یقین کہ اُنہوں نے بہت سوچ مجھ کے ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا۔رہی مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے کی بات، تو یہ کام اُن گفتار کے غازیوں کا ہے جو جنرل اسمبلی میں خوب گرجے برسے، داد بھی سمیٹی۔ ایئرپورٹ پر” فقید المثال” استقبال سے لطف اندوز بھی ہوئے۔ اُنہوں نے استقبالی مجمعے سے خطاب میں فرمایا ”بشریٰ بیگم کا شکریہ جس کی دعاؤں سے یہ سب کچھ ممکن ہوا”۔ اگر یہ سب کچھ محترمہ بشریٰ بیگم کی دعاؤں کی کرشمہ سازیاں ہیں تو پھر اُن سے استدعا کہ وہ اپنی دعاؤں سے مقبوضہ کشمیر بھی آزاد کروا دیں۔ ویسے اگر کسی کو علم ہو تو ہمیں بھی بتا دے کہ موجودہ دورۂ امریکہ میں کیا پایا، جس کا جشن منایا جا رہا ہے؟۔ٹرمپ آج بھی مودی کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑا ہے۔سوائے چین، ترکی، ملائشیا اور ایران کے (جو کشمیر کے معاملے پر پہلے بھی ہمارے ساتھ تھے) کسی ملک نے پاکستان کی حمایت میں بیان نہیں دیا۔ او آئی سی اور اقوامِ متحدہ آج بھی الگ تھلگ، پھر کیا صرف اِس بات پر جشن منائیں کہ وزیرِاعظم نے کہا ”کوئی ساتھ دے نہ دے، ہم کشمیر کے ساتھ ہیں”۔ وزیرِاعظم امریکہ میں کہہ چکے کہ وہ حملے میں پہل نہیں کریں گے اور نہ ہی جنگ کوئی آپشن ہے۔ پھر ہماری حکمتِ عملی ہے کیا؟۔ کیا صرف خالی خولی بڑھکیں یا ایٹمی جنگ کی دھمکی جس پر وزیرِاعظم کبھی عمل نہیں کریں گے البتہ بھارت اِس بیان کو ضرور اچھالے گا۔

کشمیر کی حسین وادیاں، پربتوں کی شہزادیاں، سفید لباس میں ملبوس آسمان کی رفعتوں کو چھوتے برف پوش پہاڑ، گنگناتے جھرنے، بَل کھاتی ندیاں، پھلوں کے بوجھ سے سجدہ ریزدرخت، پھولوں سے مہکتے باغات، مرغانِ خوش الحان کے مسحور کُن گیت، آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا قدرتی حسن اور مائیں، بہنیں، بہوئیں، بیٹیاں، بچے، بوڑھے، جوان، سبھی کسی مسیحا کے انتظار میں کہ آج جنت نظیر وادی کی ساری رونقیں ماند۔ جابجا سفاکوں کے ڈیرے، موذیوں کے ظلم وستم کی دلوں کو چیرتی المناک داستانیں۔ بستیاں مِٹ رہی ہیں، قبرستان آباد ہو رہے ہیں۔ سلگتے کشمیر کا کاسۂ اُمید لہوسے لبریز۔ کشمیر کی بیٹی آنکھوں میں ویرانیاں لیے محمد بِن قاسم کے انتظار میں، مائیں جگرگوشوں کے لاشے سمیٹے نعرہ زَن ”کشمیر بنے گا پاکستان”۔ نیلے پانیوں کی یہ سرزمین لہورنگ لیکن ہمیں وزیرِاعظم کا فقید المثال استقبال کرنے اور اُنہیں ہار پہنانے سے ہی فرصت نہیں۔ کشمیر کی بیٹی سوال کرتی ہے کہ آخر حکمرانوں کی حکمتِ عملی ہے کیا؟۔

Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Tags:
fraud pakistan politicians Prof Riffat Mazhar Ruling tsunami پاکستان حکمران دھاندلی سونامی سیاستدان
kashmir March
Previous Post ایل او سی کے قریب جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا دھرنا جاری
Next Post ناموسِ رسالت، آزادی، یا مہنگائی مارچ
Maulana Fazlur Rehman

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close