
ماسکو (جیوڈیسک) روس اسرائیلی دھمکیوں کے باوجود شام کو جدید میزائل سسٹم دے گا ، یورپی یونین کی جانب سے شام پر عائد اسلحے کی پابندی کے خاتمے کی مذمت۔ روس نے مغربی ممالک اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود شام کو پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مطابق ایس 300 طیارہ شکن میزائل دفاعی نظام دینے کا اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایس 300 طیارہ شکن میزائل نظام سے شام میں گزشتہ دو سال سے جاری خانہ جنگی میں مداخلت کے خواہاں آشفتہ سروں کو روکنے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے یورپی یونین پر الزام عائد کیا کہ اس نے شام پر عائد اسلحے کی پابندی ختم کرکے دراصل جلتی پر تیل ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
روسی نائب وزیر خارجہ کے اس بیان سے چند دن قبل اسرائیلی وزیر دفاع نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس نے یہ میزائل دفاعی نظام شام کو بھیجا تو اسرائیل یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ اسے کیا اقدام کرنا ہے۔ یعلون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس 300 طیارہ شکن میزائل نظام کی شپمنٹس کو ابھی بھیجا نہیں گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ نہیں بھیجا جائے گا۔
انھوں نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ ان کے پاس روس کی جانب سے شام کو میزائل نظام نہ بھیجنے کی اطلاع کا منبع کیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل قبل ازیں شام کے اندر فوجی تنصیبات اور اسلحہ کے ڈپوئوں پر فضائی حملے کرچکا ہے اور اس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے لیے بھیجے جانے والے اسلحہ اور ہتھیاروں کو نشانہ بنایا تھا۔
