
جدہ (جیوڈیسک) خلیجی عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے سے متعلق پیش کردہ تجویز پر عمل درآمد سے خانہ جنگی کا شکار ملک میں جاری خونریزی ختم نہیں ہوگی۔
جی سی سی کے موجودہ صدر ملک بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے جدہ میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اس تجویز کے بارے میں سنا ہے یہ تمام تر کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ہے لیکن اس سے شامی عوام کا بہنے والا خون تو بند نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل میں شامل 6 عرب ممالک شامی صدر بشارالاسد سے برسر پیکار حزب اختلاف اوران کی فورسز کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوئوں کے سب سے بڑے حامی ہیں اور وہ بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
اس کے لیے وہ امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کی بھی حمایت کر رہے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے روسی وزیر خارجہ کی شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔
جی سی سی کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کی ریاستیں باغیوں کی حمایت کی بنیاد پر اپنے خلاف کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔
