Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بکرے کی کہانی ,بکرے کے زبانی

September 23, 2014September 23, 2014 0 1 min read
Goat
Goat
Goat

تحریر: فرخ شہباز وڑائچ

میں ایک صاف ستھرے گھر میں رہتا تھا۔ میرا مالک بہت خوش اخلاق انسان تھا۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔ہر وقت میرا خیال رکھتا تھا۔ ابھی میں چھوٹا ساہی تھا جب میرے مالک نے میری دیکھ بھال شروع کی، وہ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا، مجھے وقت پر کھانا دیتا اور کبھی بلاوجہ مجھے نہیں ڈانتا تھا۔ میرے مالک کے دو چھوٹے بچے بھی تھے وہ بھی مجھ سے بے حد پیار کرتے تھے، پیار سے میری پیٹھ سہلاتے تو میں خوشی سے نہال ہوجاتا تھا۔ میں صبح سویرے خود ہی سیر کو نکل جاتا تھا۔ اور کچھ ہی دور رہنے والے اپنے دوستوں سے مل لیتا تھا۔

انہیں اپنے مالک کی باتیں سناتا تھا، اور پھر مقررہ وقت پر واپس آکر کھانا کھاتا تھا۔ اور دن بھر اپنے مالک کے گھر اور کبھی گھر سے باہر گھومتا رہتا تھا۔ ہرے بھرے پتے اور نرم گھاس کھا کر میں کافی صحت مند ہوگیا تھا۔ میرے مالک کے دونوں بچوں کا مجھ سے پیار بہت عجیب تھا۔ وہ اپنی زبان میں نہ جانے مجھے کیا کچھ سناتے رہتے اور میں چپ چاپ بس انہیں دیکھتا رہتا۔ وہ کبھی کبھی گھنٹوں میرے پاس بیٹھے رہتے تھے۔ اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے کبھی میری گردن کو پکڑنے کی ناکام کوشش کرتے اور سبھی میرے لمبے لمبے کانوں کو ہاتھ لگا کر خوش ہوتے تھے۔

میں اس گھر میں بہت خوش تھا مجھے انسان اچھے لگنے لگے تھے۔ میں سوچتا تھا یہ سب انسان کتنے پیارے ہوتے ہیں جو ہم جانوروں سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ میں نے کبھی اپنے دوستوں کی باتوں کا یقین نہیں کیا جو یہ کہتے تھے کہ انسان بہت برے ہوتے ہیں اور وہ جانوروں سے برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان کی ان باتوں کا اس لیے یقین نہیں کرتا تھا کیونکہ میں بہت شرارتی بھی تھا اور خوب شرارتیں کرتا تھا لیکن میرے مالک نے مجھے کبھی نہیں ڈانٹا تھا۔

میرا مالک بہت غریب آدمی تھا۔ وہ اپنی آمدنی سے بمشکل گزارا کرپاتا تھا۔ کچھ دنوں سے میں مسلسل یہ دیکھ رہا تھا کہ میرا مالک بہت پریشان رہنے لگا ہے۔ اس کی نظر جب بھی مجھ پر پڑتی تو وہ اداس اور غمگین ہوجاتا تھا۔ اگلی صبح میں معمول کے مطابق جب کچھ ہی دور اپنے دوستوں سے ملنے گیا۔ تو وہاں بہت کم تعداد میں میرے دوست کھڑے تھے۔ میں نے ایک قدرے بڑی عمر کے دوست سے جا کر پوچھا کہ سب کہاں چلے گئے تو اس نے مجھے ایک الگ ہی کہانی سنادی۔

اس نے کہا: عیدالاضحی آنے والی ہے، اس میں مسلمان اللہ کے حکم سے جانور ذبح کرکے قربانی کی سنت پوری کرتے ہیں۔ ہم بکروں اور بکریوں سمیت اونٹ، بیل، بھیڑ وغیرہ کی بھی قربانی کی جاتی ہے۔ گزشتہ کل ایک بڑی سی گاڑی میں کچھ لوگ آئے اورہمارے مالکوں کو ہمارے ساتھیوں کی قیمت دے کر ساتھ لے گئے۔ تاکہ وہاں جا کر منڈی میں انہیں فروخت کیا جائے۔ ہم سب بھی اسی انتظار میں ہیں کہ نہ جانے کب کوئی آئے اور ہمیں اپنے ساتھ لے جائے۔ میں یہ سب سن کر حیران تو بہت ہوا۔ لیکن آہستہ آہستہ مجھے سب باتیں سمجھ میں آگئیں، مجھے اپنے مالک کے غمگین ہونے کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی کہ میرا مالک بھی مجھے یونہی ایک دن فروخت کرکے اپنے اوپر چڑھا ہوا بہت سا قرضہ اتارے تو دے گا لیکن میری جدائی کا سوچ کر وہ اداس اور غمگین ہوجاتا ہے۔ دن یونہی گزرتے رہے۔

آس پاس رہنے والے میرے سب دوست چلے گئے۔ لیکن میرے مالک کے پاس مجھے خریدنے کے لیے کوئی نہ آیا۔ شاید اس لیے کہ میں اکلوتا تھا۔ اور خریدنے والوں کو اکٹھے جانور خریدنے تھے۔ میرا مالک یہ صورتحال دیکھ کر اور پریشان ہوگیا تھا۔ آخر ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود مجھے لے جاکر شہر میں فروخت کرے گا۔

چنانچہ ایک دن صبح کو میرے مالک نے میرے گلے میں رسی ڈالی اور مجھے گھر کے دروازے تک لے آیا، اچانک مجھے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا، میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو میرے مالک کے دونوں بچے بھی مجھے پْرنم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ جیسے الوداع کہہ رہے ہوں۔ میں نے اپنے منہ سے مخصوص آواز نکال کر انہیں آخری بار دیکھا اور ہم رخصت ہوگئے۔

بکرا منڈی میں نہ جانے کہاں کہاں سے جانور لائے گئے تھے۔ بکرے خریدنے والوں کا بھی بہت ہجوم تھا، میرے مالک نے میرے سفید جسم پر مہندی لگائی ہوئی تھی۔ تاکہ میں خوبصورت نظر آئوں۔ ابھی میں منہ اٹھائے بکرا منڈی کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ دو ہٹے کٹے مشٹنڈے نوجوان، میرے مالک کے پاس آئے اور میرے بارے میں پوچھنے لگے۔ انسانوں کے ساتھ رہ کر مجھے ان کی باتیں سمجھ میں آنے لگیں تھیں۔ اچانک ان دونوں نوجوانوں میں سے ایک نے اپنے گندے ہاتھوں سے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور میرا منہ کھول کر دیکھنے لگا۔ مجھے اس کے ہاتھوں سے بدبو آرہی تھی۔

آخر اس نے میرے منہ میں موجود دانتوں کو دیکھ کر میرا منہ چھوڑ دیا۔ میں نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن ابھی میری آزمائش باقی تھی۔ میرا منہ چھوڑ کر وہ میری گردن پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ کبھی میری ٹانگ اور کبھی میری پیٹھ پر اپنے گندے ہاتھ لگا کر منہ سے کچھ بڑبڑاتا تھا۔ آخر کار وہ دونوں چلے گئے۔ اور میں نے شکر ادا کیا کہ ان کو میں پسند نہیں آیا۔

ان دونوں کے جانے کی دیر تھی، اب تو ہرکوئی مجھے دیکھنے آرہا تھا۔ میں ہرکسی کو اپنی آزمائش کروا، کروا کر تھک گیا تھا۔ بار بار منہ کھول، کھول کر میرے جبڑوں کو درد ہونے لگا تھا۔ نہ جانے یہ سب میرے منہ میں کیا تلاش کررہے تھے۔ خدا خدا کرکے رات کا وقت ہوا اور بکرا منڈی میں کچھ سکون نظر آنے لگا۔ میرا تھکن کے مارے برا حال ہورہا تھا۔ میرے مالک نے میرے گلے میں پڑی ہوئی رسی کے دوسرے کنارے کو اپنے پائوں سے باندھا اور خود وہیں لیٹ گیا۔ میں بھی وہیں بیٹھ کر اونگھنے لگا۔ اور نہ جانے کب مجھے نیند آگئی۔

اچانک تیز شور و غل سے میری آنکھ کھلی، سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہ تھا۔ اور منڈی میں پھر وہی چہل، پہل شروع ہوگئی تھی۔ آج مسلسل رش زیادہ ہوتا جارہا تھا۔ مجھے دیکھنے والوں میں ایک بوڑھا دو چھوٹے بچوں کے ساتھ آیا۔ وہ دونوں چھوٹے بچے بہت شرارتی تھے۔ ایک نے میرا سینگ پکڑ لیا اور دوسرا میری ٹانگ کھینچنے لگا۔ میرا غصہ کے مارے براحال ہوگیا۔ دل تو بہت چاہا کہ ایک ٹانگ آج ان دونوں کو ماروں لیکن اپنے مالک کو دیکھ کر رک گیا۔ اس بوڑھے نے بھی حسبِ معمول کانپتے ہاتھوں سے میرے منہ میں موجود دانتوں کو غور سے دیکھا اور چھوڑ دیا۔

میں دل میں سو چنے لگا کہ شاید میرے گندے دانتوں کو دیکھ کر میں انہیں پسند نہیں آتا اور بات بھی یہی تھی۔ میں ہمیشہ اپنے دانتوں کو صاف رکھتا تھا۔ یہاں شہر میں گندا پانی اور سوکھی سڑی گھاس کھا کر میرے دانتوں پر بہت میل جم گئی تھی۔ اور انہیں شاید سفید دانتوں والا بکرا چاہیے تھا۔ یہ دن بھی جیسے تیسے گزر گیا۔

Goat Market
Goat Market

آج منڈی میں میرا تیسرا دن تھا۔ میرے مالک کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ اول میں کسی کو پسند نہیں آتا تھا۔ اور جوپسند کر لیتا وہ میری قیمت سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا چلا جاتاتھا۔ آج بھی منڈی کا رش پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا تھا۔ مجھے مسلسل گندا پانی اور مرجھائی گھاس کھاتے ہوئے تیسرا دن ہوچکا تھا۔ لیکن میں نے اپنے مالک کی وجہ سے کوئی شکوہ نہ کرتا تھا۔ میرے مالک نے مجھے ہمیشہ اچھا کھانے کو دیا۔ آج مجھے اس کے مشکل وقت میں کام آنا تھا۔

حسبِ معمول آج بھی میرے منہ کو متعدد بار کھولا گیا۔ اور ہر آنے والے نے میرے دانتوں کو آنکھیں مٹکا، مٹکا کر دیکھا۔ میرا دل تو یہ چاہ رہا تھا کہ جو بھی میرے پاس مجھے دیکھنے کے لیے آئے میں خود ہی اس کے ہاتھ لگانے سے پہلے اپنا منہ کھول کر دکھا دوں۔

آج بھی میں کسی کو پسند نہیں آیا تھا وہ میری قیمت سن کر بھاگ جاتے تھے۔ ظاہر ہے کہ میں گائوں کا پلا بڑھا ایک صحت مند بکرا تھا۔ میرے مالک نے تو میری اچھی قیمت لگانی تھی۔ اور میں خوبصورت اتنا تھا کہ اکثر میرے منڈی والے ساتھی بکرے مجھے دیکھ کر آہیں بھرتے تھے کہ کیسا گھبرو جوان بکرا ہے۔

عید میںتھوڑے ہی دن رہ گئے تھے۔ آج منڈی میں مجھے چوتھا دن شروع ہوچکا تھا۔ میں آج کافی بن سنور کر کھڑا تھا۔ میرے مالک نے مہندی لگا کر خوب تیار کیا تھا۔ شام کا وقت قریب تھا کہ ایک بڑی عمر کا آدمی اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ میرے پاس آیا، مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگا اور میرے مالک سے میری قیمت پوچھی، وہ اپنے لباس اور وضع قطع سے امیر گھرانے کا لگ رہا تھا۔ آخر کار میں اسے پسند آگیا، میرے مالک نے قیمت لے کر میری رسی اس آدمی کو تھما دی۔ اور میرا مالک میری پیٹھ کو سہلانے لگا۔ میں سمجھ گیا کہ اب مجھے کسی اور کے ہاں جانا ہوگا۔ میرا مالک اب کوئی اور ہوگا۔ وہ آدمی مجھے اپنی کار تک لے آیا، اور ہم ایک مختصر سفر کے بعد ایک عالیشان گھر کے گیٹ پر جاکر رکے۔

بکرا آگیا، بکرا آگیا۔ گھر کے سب بچے اونچی اونچی آواز میں چلا کر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ ہر کوئی اشتیاق سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ گھر کے صحن کے ایک کونے میں مجھے باندھ دیا گیا۔ گھر میں موجود بچے بہت حد تک شرارتی واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے ایک لمحے کے لیے بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ کوئی میرا سینگ پکڑتا تو کوئی میری ٹانگ کھینچتا۔ کوئی میرے کانوں پر مارتا تو کوئی میرے بالوں کو کھینچتا۔ آخر کب تک برداشت کرتا۔

میں نے ایک بچے کو ہلکی سی ٹکر ماری یہ دیکھ کر مجھ سے سارے بچے دور ہٹ گئے۔ میں نے سکون کا سانس لیا، کم بخت جب سے آیا ہوں کسی نے نہ پانی کا پوچھا، نہ کھانے کا ، میرا غصہ دو بھر ہوگیا تھا۔ میں نے نظر اٹھا کران بچوں کو دیکھا۔ تو مجھے دور ایک چھوٹا سا بچہ نظر آیا۔ جو بہت محبت سے میری طرف دیکھ رہا تھا، اس نے گھر میں پڑی گھاس لا کر میرے سامنے ڈالی، اور پانی بھی لا دیا۔ میں نے ممنونیت بھری نظروں سے اس بچے کو دیکھا اور دل میں خوش ہوا کہ چلو کوئی تو ہے میرا خیال رکھنے والا۔ عید میں صرف ایک روز باقی تھا۔

ایک بڑی بی میرے پاس سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے لائی اور بار بار میرے منہ میں ڈالنے لگی۔ میں نے سوچا ان شہر والوں کو یہ بھی پتا نہیں کہ ایک بکرے کو کیا کھانا دیا جاتا ہے، میں نے وہ سوکھے ٹکڑے نہیں کھائے اور زور زور سے آوازیں نکالنے لگا۔ وہ بڑی بی غصے میں آگئیں اور بولیں: اسکے نخرے تو دیکھو، نہ کچھ کھاتا ہے، نہ پیتا ہے بس بول بول کر دماغ کھا جاتا ہے۔ میں پہلے ہی گائوں کو یاد کر کے بہت اداس تھا۔ اوپر سے اس بڑی بی کی باتیں سن کر بہت افسوس ہونے لگا۔ دل توچاہا ایک زور دار ٹکر اس بڑی بی کو بھی جڑدوں۔ لیکن صبر کیا۔ اور کچھ نہ کہا۔ شام کو سب گھر والے اکھٹے ہوکر مجھے دیکھنے آئے۔ تو ایک چھوٹا بچہ کہنے لگا۔ ”امی اسکا دودھ کب نکالیں گے”؟مجھے یہ سن کر دل ہی دل میں بہت ہنسی آئی۔ اور سب گھر والے بھی ہنسنے لگے۔ جب سب گھر والے چلے گئے تو وہی کل والا بچہ جسے سب گھر والے حارث کہہ کر بلاتے تھے۔

وہ میرے پاس آیا۔ پیارسے میری کمرکو سہلانے لگا۔ اور پھر رسی کھول کر مجھے باہر گھمانے کے لئے لے گیا۔ میں جہاں جاناچاہتا وہ میری رسی ڈھیلی چھوڑ دیتا تھا۔ اسے مجھ سے پیار ہوگیا تھا۔ وہ دن میں کئی بار گھر کے صحن میں آکھڑا ہوتا اور مجھے دیکھتا رہتا۔ وہ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ میری قربانی کا دن نزدیک آرہا تھامجھے پتا چل گیا تھا کہ مجھے اللہ کی راہ میں قربانی کے لئے چناگیا ہے۔ میں جنت میں جائو ں گا۔ اور وہیں عیش اور مزے سے رہوں گا۔حارث مجھ سے مانوس ہو گیا تھا۔حارث نے چاند رات کو میری طرف اشارہ کرتے ہوئے اداسی بھرے لہجے میں اپنے بابا کو مخاطب کیا۔”بابا کیا یہ ہمیشہ ہمیشہ ہمارے پاس نہیں رہ سکتا۔۔؟

بابا نے حارث کے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا پیارے بیٹے کل ہم اسے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہو گا۔اس سے اللہ جی خوش ہوں گے۔اللہ جی کیوں خوش ہوں گے بھلا۔حارث کے ننھے ذہن میں سوال آیا۔”بیٹے اس لیے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اپنے لاڈلے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم ملا تو جوان بیٹے کی قد و قامت،اسکی خوبروئی اور اسکی محبت پر اللہ کی رضا غالب آ گئی۔ خود اپنے بیٹے کے ہاتھ پاؤں رسیوں میں جکڑ لئے اور اللہ کے تئیں عقیدت بھری محبت کا اظہار کرتے ہوئے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے حلق پر چھری چلا دی۔اللہ کو ابراہیم سے امتحان لینا مقصود تھا اور وہ اس میں کامیاب ہو گیا۔جس طرح نار نمرود ابراہیم علیہ السلام کو جلا نہ سکی اسی طرح اللہ کے حکم سے اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چل رہی چھری اس کے جسم سے لہو کا ایک قطرہ بھی بہا نہ سکی۔

جنت سے جانور منگایا گیا جسے حضرت اسماعیل کی جگہ ذبح کرکے خون بہایا گیا۔ تب سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ امت مسلمہ کے فرزند ہر سال 10ذی الحجہ کو کسی جانور کی قربانی پیش کرکے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ یہ پست حوصلہ تیرا کیا ساتھ دیں گے ادھر آ زندگی تجھے ہم جی لیں گے”حارث کو اس کے سوال کا جواب مل گیا تھا۔چلو بیٹے اب سو جائو صبح جلدی اٹھنا ہے،صبح عید قربان ہے۔ سب بچوں نے رنگ برنگے پیار ے لباس پہنے ہوئے تھے۔ وہ بہت خوش نظر آرہے تھے۔ کسی کو میرا خیال تک نہ آیا۔ لیکن حارث عید کے دن بھی مجھے کھانا اور پانی دے رہا تھا۔ آج وہ اداس لگ رہا تھا، ، وہ میرے بارے میں بہت جذباتی ہوگیا تھا۔

سب مرد عید کی نماز پڑھ کر آئے۔ اور مجھے گھر کے صحن میں ہی ذبح کرنے کا ارادہ کرنے لگے۔ میرے گلے سے رسی کو نکال دیا گیا۔ مجھے زمین پر لٹا کر اللہ کے حضور اسکی رضا مندی کے لئے ذبح کیا جانے لگا۔ میں نے آخری بار جسے دیکھا۔ وہ نعمان تھا۔ کمرے کی کھڑکی سے جھانکتا ہوا وہ مجھے اپنی بھیگتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ کہ وہ مجھے آخری بار دیکھ رہا ہے۔ میں نعمان سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا۔ لیکن کچھ نہ کہہ پایا۔ میں اسے کہنا چاہتا تھا کہ شکر یہ نعمان، میراخیال رکھنے کا، مجھے باہر سیر کروانے کا، مجھے پانی پلانے کا، اداس مت ہو، میں نہ سہی میرا کوئی نہ کوئی دوست پھر آئے گا، ہر سال آتا رہے گا۔ تم بس ہر سال اسی طرح اپنے قربانی کے بکرے کا خیال رکھ کر اسے رخصت کردیا کرنا۔۔۔۔

Farrukh Shahbaz Warraich
Farrukh Shahbaz Warraich

تحریر: فرخ شہباز وڑائچ

Share this:
Tags:
boy God Love order sacrifice young اللہ بیٹے جوان حکم عقیدت قربان محبت
Syria
Previous Post شام میں بمباری و جھڑپوں میں 70 افراد ہلاک
Next Post ہانک کانگ میں’’حقیقی جمہوریت‘‘ کی بحالی کے لئے ہزاروں طلبا سڑکوں پر نکل آئے
Hong Kong

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close