Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قربانی کے احکام و مسائل

September 16, 2015September 16, 2015 0 1 min read
Sacrifice
Sacrifice
Sacrifice

تحریر: رضوان اللہ پشاوری
آنحضرتۖ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے عشرہ ذی الحجہ سے بہتر کوئی زمانہ نہیں۔ ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔(ترمذی، ابن ماجہ) قرآن مجید میں سورة الفجر میں اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور وہ دس راتیں جمہور کے قول کے مطابق یہی عشرہ ذی الحجہ کی راتیں ہیں۔ خصوصاً نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھنا ایک سال گذشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عید کی رات میں بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہنا بڑی فضیلت اور ثواب کا موجب ہے۔

تکبیرِ تشریق:
اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْد
نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے بعد با آواز بلند ایک مرتبہ مذکورہ تکبیر کہنا واجب ہے۔ فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت اور تنہا نماز پڑھنے والے اس میں برابر ہیں اس طرح مرد وعورت دونوں پر واجب ہے۔ البتہ عورت باآواز بلند تکبیر نہ کہے آہستہ سے کہے۔ (شامی) عید الاضحیٰ کے دن مذکورہ ذیل امور مسنون ہیں: صبح سویرے اٹھنا، غسل و مسواک کرنا، پاک صاف عمدہ کپڑے جو اپنے پاس ہوں پہننا، خوشبو لگانا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عید گاہ کو جاتے ہوئے راستہ میں باآواز بلند تکبیر کہنا۔

نماز عید: نماز عید دو رکعت ہیں۔ نماز عید اور دیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی تکبیر رکعت میں سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ پڑھنے کے بعد قرأت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد رکوع سے پہلے۔ ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے ہیں، پہلی رکعت میں دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں، چوچھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔ اگر دوران نماز امام یا کوئی مقتدی عید کی زائد تکبیریں یا ترتیب بھول جائے تو از دحام کی وجہ سے نماز درست ہوگی سجدہ سہوکی بھی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی نماز میں تاخیر سے پہنچا اور ایک رکعت نکل گئی تو فوت شدہ رکعت کو پہلی رکعت کی ترتیب کے مطابق قضاء کرے گا یعنی ثناء (سبحانک اللہم) کے بعد تین زائد تکبیریں کہے گا اور آگے ترتیب کے مطابق رکعت پوری کرے گا۔ نماز عید کے بعد خطبہ سننا مسنون ہے۔ خطبہ سننے کا اہتمام کرنا چاہیے خطبہ سے پہلے اٹھنا درست نہیں ہے۔

فضائل قربانی: قربانی کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ ۖ نے ہجرت کے بعد ہر سال قربانی فرمائی کسی سال ترک نہیں فرمائی۔ جس عمل کو حضور ۖ نے لگاتار کیا اور کسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی، حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں مثلاً آپ کا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے، علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا وجوب ثابت ہے۔ جو لوگ حدیث پاک کے مخالف ہیں اور اس کو حجت نہیں مانتے وہ قربانی کا انکار کرتے ہیں۔ ان سے جو لوگ متاثر ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پیسے دے دیئے جائیں یا یتیم خانہ میں رقم دے دی جائے یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ عمل کی ایک تو صورت ہوتی ہے دوسری حقیقت ہے۔ قربانی کی صورت یہی ضروری ہے، اس کی بڑی مصلحتیں ہیں، اس کی حقیقت اخلاص ہے۔ آیت قرآنی سے بھی یہی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔

قربانی کی بڑی فضیلتیں ہیں: مسند احمد کی روایت میں ایک حدیث پاک ہے حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ کے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپۖ نے فرمایا قربانی تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے، ان کے متعلق فرمایا اس کے ایک ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں رسول اللہ ۖنے ارشاد فرمایا: قربانی کے دن اس سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ قیامت کے دن قربانی ک جانور سینگوں، بالوں، کھروں کے ساتھ لایا جائے گا اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی سند لے لیتا ہے اس لئے تم قربانی خوش دلی سے کرو۔ ابن عباس فرماتے ہیں قربانی سے زیادہ کوئی دوسرا عمل نہیں الّایہ کہ رشتہ داری کا پاس کیا جائے۔ (طبرانی) رسول اللہۖ نے اپنی صاحبزادی فاطمة الزہرائ سے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی قربانی ذبح ہوتے وقت موجود رہو کیونکہ پہلا قطرہ خون گرنے سے پہلے انسان کی مغفرت ہوجاتی ہے۔

قربانی کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ہیں اس لئے اہل اسلام سے درخواست ہے کہ اس عبادت کو ہر گز ترک نہ کریں جو اسلام کے شعائر میں سے ہے اور اس سلسلہ میں جن شرائط و آداب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے انہیں اپنے سامنے رکھیں اور قربانی کا جانور خوب دیکھ بھال کر خریدیں۔ قربانی سے متعلق مسائل آئندہ سطور میں درم کئے جارہے ہیں

Eid Sacrifice
Eid Sacrifice

مسائل قربانی مسئلہ نمبر 1: جس شخص پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ یعنی قربانی کے تین ایام (١٠١١١٢ ذو الحج) کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا حلال مال یا اشیاء جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوتو اس پر قربانی لازم ہے، مثلاً رہائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان ہو خواہ تجارت کیلئے ہو یا نہ ہو اسی طرح ضروری سواری کے طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے علاوہ گاڑی ہوتو ایسے شخص پر بھی قربانی لازم ہے۔
مسئلہ نمبر 2: مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
مسئلہ نمبر 3: قربانی کا وقت دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک ہے، بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہوجانے کے بعد درست نہیں۔ قربانی کا جانور دن کو ذبح کرنا افضل ہے اگرچہ رات کو بھی ذبح کرسکتے ہیں لیکن افضل بقر عید کا دن پھر گیارہویں اور پھر بارہویں تاریخ ہے۔

مسئلہ نمبر 4:۔ شہر اور قصبوں میں رہنے والوں کے لئے عید الاضحیٰ کی نماز پڑھ لینے سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا درست نہیں ہے۔ دیہات اور گاؤں والے صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کرسکتے ہیں اگر شہری اپنا جانور قربانی کیلئے دیہات میں بھیج دے تو وہاں اس کی قربانی بھی نماز عید سے قبل درست ہے اور ذبح کرانے کے بعد اس کا گوشت منگواسکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 5:۔ اگر مسافر مالدار ہو اور کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے، یا بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے، یا کسی نادار آدمی کے پاس بارہویں تاریخ کو غروب شمس سے پہلے اتنا مال آجائے کہ صاحب نصاب ہوجائے تو ان تمام صورتوں میں اس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ نیز مسافر مالدار ہو دوران سفر قربانی کیلئے رقم بھی ہو اور وہ پندرہ دن سے کم عرصہ کیلئے رہائش پذیر ہونے کے باوجود بآسانی قربانی کرسکتا ہو تو قربانی کرلینا بہتر ہے۔

مسئلہ نمبر6:۔ قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا زیادہ اچھا ہے اگر خود ذبح نہ کرسکتا ہوتو کسی اور سے بھی ذبح کراسکتا ہے۔ بعض لوگ قصاب سے ذبح کراتے وقت ابتدائً خود بھی چھری پر ہاتھ رکھ لیا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کیلئے یہ ضروری ہے کہ قصاب اور قربانی والے دونوں مستقل طور پر تکبیر پڑھیں، اگر دونوں میں سے ایک نے نہ پڑھی تو قربانی صحیح نہ ہوگی۔ (شامی ٦٣٣)
مسئلہ نمبر 7:۔ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا ضروری نہیں دل میں بھی پڑھ سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 8:۔ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس کو قبلہ رخ لٹائے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے:
اِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَo اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَo لَا شَرِیْکَ لَہ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّّلُ المُسْلِمِینَ اَللّٰہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ اس کے بعد بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ کر ذبح کرے۔ (کذافی سنن ابی داؤد)
ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَخَلِیْلِکَ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِمَا الصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ
مسئلہ نمبر 9:۔ قربانی صرف اپنی طرف سے کرنا واجب ہے۔ اولاد کی طرف سے نہیں۔ اولاد چاہے بالغ ہو یا نابالغ، مالدار ہو یا غیر مالدار۔
مسئلہ نمبر10:۔ درج ذیل جانوروں کی قربانی ہوسکتی ہے:
اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا۔ بکرا، بکری، بھیڑ اور دنبہ کے علاوہ باقی جانوروں میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں بشرط یہ کہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب قربانی کی نیت سے شریک ہوں یا عقیقہ کی نیت سے، صرف گوشت کی نیت سے شریک نہ ہوں۔

گائے بھینس اور اونٹ وغیرہ میں سات سے کم افراد بھی شریک ہوسکتے ہیں اس طور پر کہ مثلاً چار آدمی ہوں تو تین افراد کے دودو حصے اور ایک کا ایک حصہ ہوجائے نیز اگر پورے جانور کو چار حصوں میں تقسیم کرلیں یہ بھی درست ہے۔ یا یہ کہ دو آدمی موجود ہوں تو نصف نصف بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کئی افراد مل کر ایک حصہ ایصال ثواب کے طور پر کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے، البتہ ضروری ہے کہ سارے شرکاء اپنی اپنی رقم جمع کرکے ایک شریک کو ہبہ کردیں اور وہ اپنی طرف سے قربانی کردے اس طرح قربانی کا حصہ ایک کی طرف سے ہوجائے گا اور ثواب سب کو ملے گا۔
مسئلہ نمبر11:۔ اگر قربانی کا جانور اس نیت سے خریدا کہ بعد میں کوئی مل گیا تو شریک کرلوں گا اور بعد میں کسی اور کو قربانی یا عقیقہ کی نیت سے شریک کیا تو قربانی درست ہے اور اگر خریدتے وقت کسی اور کو شریک کرنے کی نیت نہ تھی بلکہ پورا جانور اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اب اگر شریک کرنے والا غریب ہے تو کسی اور کو شریک نہیں کرسکتا اور اگر مالدار ہے تو شریک کر سکتا ہے البتہ بہتر نہیں۔

ایک جانور قربانی کرنے کیلئے خریدا، اگر اسکے بدلے دوسرا حیوان دینا چاہے تو جائز ہے مگر یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ دوسرا حیوان کم از کم اسی قیمت کا ہو اگر اس سے کم قیمت کا ہوتو زائد رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں بلکہ صدقہ کرنا ضروری ہے، ہاں اگر زبانی طور پر جانور کو متعین نہ کیا ہو بلکہ یہ ارادہ کیا ہوکہ اگر اچھی قیمت میں فروخت ہورہا ہو تو فروخت کردیں گے اس صورت میں اصل قیمت سے زائد رقم اپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ مسئلہ نمبر 12:۔ قربانی کا جانور گم ہوا، اس کے بعد دوسرا خریدا، اگر قربانی کرنے والا امیر ہے تو ان دونوں جانوروں میں سے جس کو چاہے ذبح کرے جب کہ غریب پر ان دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی۔

Eid ul Adha Cows Sacrifice
Eid ul Adha Cows Sacrifice

وضاحت: اگر کسی آدمی نے قربانی کیلئے جانور خدیدا اور خریدنے کے بعد وہ جانور قربانی کرنے سے پہلے گم ہوجائے تو صاحب حیثیت آدمی پر قربانی کیلئے دوسرا جانور خریدنا ضروری ہے کیونکہ اس پر قربانی شرعاً واجب تھی اور واجب ادا نہیں ہوا جبکہ فقیر آدمی پر دوسرا جانور خریدنا اور قربانی کرنا لازم نہیں تھا اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور بھی خرید لیا اب اگر مالدار اور غریب ہر دو کا پہلا گمشدہ جانور مل جائے تو امیر پر صرف شرعی واجب (قربانی) کا ادا کرنا لازم ہے۔ جس جانور کو ذبح کردے کافی ہے جبکہ غریب پر خود سے واجب کردہ دونوں جانوروں کی قربانی کرنا لازم ہے اس کی تفصیل یوں ہے کہ امیر آدمی پر نصاب کی وجہ سے قربانی واجب تھی اس نے وہ ادا کردی اس کے حق میں جانور متعین نہیں ہوا تھا اسے اختیار ہے کہ جس جانور کو چاہے ذبح کردے جبکہ غریب آدمی پر قربانی لازم نہیں تھی غریب نے از خود جانور خرید کر اپنے پر قربانی لازم کرلی اس بناء پر فقیر آدمی پر دوسری قربانی بھی لازم ہوئی لہٰذا غریب آدمی دونوں جانوروں کی قربانی کرے گا بخلاف مالدار کے کہ اس پر صرف قربانی لازم ہے جانور متعین نہیں ہے۔ دونوں جانوروں میں سے کسی ایک کی قربانی کردے تو کافی ہے۔

مسئلہ نمبر 13: قربانی کے جانور میں اگر کئی شرکاء ہیں تو گوشت وزن کر کے تقسیم کریں۔
مسئلہ نمبر 14: بھیڑ بکری جب ایک سال کی ہوجائے، گائے بھینس دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کا تو اس کی قربانی جائز ہے اگر اس سے کم ہے تو جائز نہیں۔ ہاں دنبہ اور بھیڑ (نہ کہ بکرا) اگر اتنا موٹا تازہ ہوکہ سال بھر کا معلوم ہوتو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔موجودہ دور میں جانوروں کو تول کر (وزن کر کے) خرید و فروخت کرنا بھی جائز ہے ایسی قربانی بلاشبہ درست ہے۔

مسئلہ نمبر 15: قربانی کا جانور اگر اندھا ہو، یا ایک آنکھ کی ایک تہائی یا اس سے زائد روشنی جاتی رہی ہو، یا ایک کان ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹ گیا ہو،یا دم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹ گئی ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔
گائے اور بھینس کے دوتھن یا بکری کا ایک تھن خشک ہوچکا ہو یا پیدائشی طورپر نہ ہوں تو ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں۔
مسئلہ نمبر 16:۔ اسی طرح اگر جانور ایک پاؤں سے لنگڑا ہے یعنی تین پاؤں سے چلتا ہے چوتھے پاؤں کا سہارا نہیں لیتا تو ایسے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں، ہاں اگر وہ چوتھے پاؤں سے سہارا لیتا ہے لیکن لنگڑا کے چلتا ہے تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔
مسئلہ نمبر 17: قربانی کا جانور خوب موٹا تازہ ہونا چاہیے، اگر جانور اس قدر کمزور ہوکہ ہڈیوں میں گودا بالکل نہ رہا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

بعض لوگ موٹا تازہ جانور محض دکھلاوے یا ریاء و نمود کیلئے خریدتے ہیں ایسے لوگ قربانی کے ثواب سے محروم ہوتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ موٹا تازہ جانور تلاش کرتے ہوئے محض ثواب کی نیت کریں۔
مسئلہ نمبر 18: اگر کسی جانور کے تمام دانت گر گئے ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے اور اگر اکثر دانت باقی ہوں کچھ گر گئے ہوں تو قربانی جائز ہے۔
اگر کسی جانور کی عمر پوری ہو اور دانت نہ نکلے ہوں تو بھی قربانی ہوسکتی ہے تاہم اس سلسلہ میں صرف جانوروں کے عام سودا گروں کی بات معتبرنہیں ہے بلکہ یقین سے معلوم ہونا ضروری ہے یا یہ کہ خود گھر میں پالا ہوا جانور ہو تو اس کی قربانی کی جاسکتی ہے۔
مسئلہ نمبر 19: جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 20: اگر کسی جانور کے سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ چکے ہوں اس طور پر کہ دماغ اس سے متاثر ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں اور اگر معمولی ٹوٹے ہوں یا سرے سے سینگ ہی نہ ہوں جیسے اونٹ تو بلا کراہت جائز ہے۔
اسی طرح گائے بکری وغیرہ کے اگر پیدائشی سینگ نہ ہوں تو اسکی قربانی بھی جائز ہے۔
مسئلہ نمبر 21: خارش زدہ جانور کی قربانی جائز ہے، البتہ اگر خارش کی وجہ سے بے حد کمزور ہوگیا ہو تو پھر جائز نہیں۔
مسئلہ نمبر 22: اگر قربانی کے جانور میں کوئی ایسا عیب پیدا ہوا جس کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہ ہوتو مالدار شخص کیلئے یہ ضروری ہے کہ دوسرا جانور اس کے بدلے خرید کر قربانی کرے، غریب ہے تو اسی جانور کی قربانی کر سکتا ہے۔
اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کیلئے گراتے ہوئے کوئی عیب پیدا ہوجائے مثلاً ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے یا سینگ وغیرہ ٹوٹ جائے تو اس سے قربانی پر اثر نہیں پڑے گا البتہ جانور کو گراتے وقت احتیاط کرنا چاہیے۔
مسئلہ نمبر 23: قربانی کے گوشت میں بہتر یہ ہے کہ تین حصے کرے، ایک حصہ اپنے لئے رکھے، ایک حصہ اپنے رشتہ داروں کو دے، اور ایک حصہ فقراء و مساکین کو دے، لیکن اگر سارے کا سارا اپنے لئے رکھے تب بھی جائز ہے۔

مسئلہ نمبر 24: قربانی کی کھال کسی کو خیرات کے طور پر دے یا فروخت کر کے اس کی قیمت فقراء کو دے۔ البتہ اگر کسی دینی تعلیم کے مدرسہ اور جامعہ کو دے دے تو سب سے بہتر ہے کیونکہ علم دین کا احیاء سب سے بہتر ہے۔
مسئلہ نمبر 25: قربانی کی کھال کو اپنے مصرف میں بھی لایا جاسکتا ہے اس طور پر کہ اس کا عین باقی رہے مثلاً مصلیٰ بنائے یا رسی یا چھلنی بنائے تودرست ہے۔
مسئلہ نمبر 26: قربانی کی کھال کی قیمت مسجد کی مرمت یا امام و مؤذن یا مدرس یا خادم کی تنخواہ میں نہیں دی جاسکتی نہ اس سے مدارس کی تعمیر ہو سکتی ہے اور نہ شفا خانوں یا دیگر رفاہی اداروں کی۔
مسئلہ نمبر 27: قربانی کی کھال قصائی کو اجرت میں دینا جائز نہیں۔
اگر کسی کی قربانی کی کھال چوری ہوگئی یا چھن گئی تو اسے چاہیے کہ وہ کھال کی رقم صدقہ کردے اگر استطاعت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں قربانی پر فرق نہیں پڑے گا۔
مسئلہ نمبر 28: اگر قربانی کے تین دن گزر گئے اور قربانی نہیں کی اب ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کردے، اور اگر جانور خریدا تھا مگر قربانی نہیں کی، تو بعینہ وہی جانور خیرات کردے۔
مسئلہ نمبر 29: ایصال ثواب کیلئے قربانی کا گوشت خود بھی کھاسکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے۔
مسئلہ نمبر 30: اگر کسی شخص کے حکم کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو اس کے حکم و اجازت کے بغیر قربانی میں شریک کیا تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر حصہ داروں میںسے کوئی ایک صرف گوشت کی نیت سے شریک ہے تو کسی کی قربانی صحیح نہ ہوگی۔
مسئلہ نمبر 31: قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دے سکتا ہے البتہ کسی کو اجرت میں نہیں دے سکتا۔
مسئلہ نمبر 32: گابھن جانور کی قربانی صحیح ہے اگر بچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کردے اور گوشت آپس میں تقسیم کرنے کی بجائے صدقہ کردیا جائے۔
قربانی کے جانور کے بال کاٹنا یا دودھ دوھنا درست نہیں ہے اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے صدقہ کرے اگر بیچ دیا تو اسکی رقم کو صدقہ کرنا واجب ہے۔ (بدائع ٥٧٨)
مسئلہ نمبر 33: جو شخص قربانی کرنا چاہے اس کیلئے مستحب یہ ہے کہ یکم ذی الحجہ سے قربانی کا جانور ذبح ہونے تک نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ناخن۔ (ابو داؤد)
البتہ اگر زیر ناف اور بغل کے بالوں پر چالیس روز کا عرصہ گزر چکا ہوتو ان بالوں کی صفائی کرنا بہتر ہے۔
مسئلہ نمبر 34: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک بھی رکھ سکتا ہے۔ (ابوداؤد)
مسئلہ نمبر 35: جانور ذبح کرنے کیلئے چھری خوب تیز ہونی چاہیے تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔ (ابو داؤد)

مسئلہ نمبر 36: اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت سارا کا سارا کسی اور کو کھلادے خود کچھ بھی نہ کھائے تو ایسا کرسکتا ہے۔ (کتاب الآثار)
مسئلہ نمبر 37: خصی جانور کی قربانی جائز بلکہ افضل ہے کیونکہ اس میں دوسروں کی بنسبت گوشت زیادہ ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 38: ذبح کرتے وقت تکبیر کے علاوہ کچھ اور نہیں کہنا چاہیے، مثلاً بِسْمِ اللّٰہِ تَقَبَّلْ مِنْ فُلَان۔ (کتاب الآثار)
مسئلہ نمبر 39: اگر کسی نے قربانی کی نذر مانی اور وہ کام ہوجائے تو قربانی واجب ہے اس کا گوشت خود نہیں کھا سکتا سارا فقراء اور مساکین کو کھلادے۔
مسئلہ نمبر 40: اگر کسی شخص کی ساری یا اکثر آمدنی حرام کی ہوتو اس کو اپنے ساتھ قربانی میں شریک نہیں کرنا چاہیے۔ اگر شریک کیا تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی۔
ایسا شخص جس کی ساری کمائی حرام کی ہو اس پر قربانی لازم نہیں کیونکہ اس کا سارا مال واجب التصدق (بلانیت ثواب صدقہ کرنا ضروری) ہے دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ حرام مال سے کسی کا صدقہ قبول نہیں فرماتے بلکہ وہاں صرف پاکیزہ مال سے کیا ہوا صدقہ و خیرات قبول ہوتا ہے۔

مسئلہ نمبر 41: بکری کے علاوہ دوسرے کسی جانور میں تمام شرکاء اپنا اپنا حصہ تقسیم کئے بغیر فقراء کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
البتہ اگر نذر کی قربانی ہویا مرحوم کی وصیت کے تحت قربانی کررہے ہیں تو پھر تقسیم سے پہلے کسی فقیر کو دینا درست نہیں۔
مسئلہ نمبر 42: کسی نے مرتے وقت وصیت کی کہ میرے مال سے قربانی کی جائے تو اس قربانی کا سارا گوشت خیرات کرنا ضروری ہے، خود کچھ بھی نہ کھائے۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو قربانی کی روح اور حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری یہ ظاہری قربانی حقیقی قربانی کیلئے پیش خیمہ ہو اور ہم اس ظاہری و مادی قربانی کی طرح اللہ کے حکم پر اپنی جان کی قربانی کیلئے بھی ہمیشہ تیار رہیں۔
واللہ الموفق والمعین
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔

Rizwan Ullah Peshawari
Rizwan Ullah Peshawari

تحریر: رضوان اللہ پشاوری
rizwan.peshawarii@gmail.com

Share this:
Tags:
orders Prayer problems Rizwan Ullah Peshawari sacrifice احکام اللہ تعالیٰ عبادت عید قربانی مسائل
Hajj
Previous Post حج کی اصطلاحات و مقامات اور فضائل و مسائل
Next Post سرکاری طوطے
Parrot

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close