Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مکافات عمل

December 20, 2015December 20, 2015 0 1 min read
Bengali Baba
baba bengali advertisement
baba bengali advertisement

تحریر: عفت
وہ ادھر ادھر متلاشی نظروں سے دیکھ رہی تھی پھر اس کی نظر بورڈ پر پڑی اس نے برقعے کا نقاب نیچے گرایا اور دکان پر لگے بورڈ کی طرف بڑھ گئی۔ بورڈ پر جلی حروف میں لکھا تھا ساحری بنگالی بابا، جادو ٹونا اور کالے علم کی کاٹ کے ماہر، نحبوب آپ کے قدموں میں ،گھریلو ناچاقی، ساس بہو کے جھگڑے اور دیگر تمام معاملات کے لیے رجوع کریں ۔رقیہ نے دکان میں قدم رکھا سبز موٹے پرانے سے پردے کے پیچھے ایک کائونٹر بنا ہوا تھا جہاں ایک بڑا سا ڈبہ پڑا تھا ،ایک طرف پانی کا کولر اور اس پہ میلا سا گلاس پڑا تھا ۔کائونٹ کے پیچھے کالا بھجنگ مو ٹا سا آدمی سر پہ ٹوپی جمائے بیٹھا تھا ،وہ ہر آنے والے کو ٹوکن دیتا اور ٥٠٠ کا ہدیہ وصول کر لے ڈبے میں ڈال دیتا۔

رقیہ نے بھی دوپٹے کے پلو سے مڑا تڑا پانچ سو کا نوٹ نکالا اور ڈبے میں ڈال دیا ۔موٹے آدمی نے اس کو پانچ نمبر کا ٹوکن دیا اور آگے جانے کا اشارہ کیا۔ وہ آگے بڑھ گئی ۔راہداری نما لمبی سی دکان کے پارٹیشن بنائے گئے تھے رقیہ پردہ ہٹا کر اگلے حصے میں داخل ہوئی جہاں پلاسٹک کی کرسیاں لائن میں لگ ہوئی تھیں۔ وہاں دو عورتیں اور ایک مرد بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔عورتوں نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا اور پھر اپنی باتوں میں مشغول ہو گئیں۔

مرد کی توجہ اپنے موبائل پہ تھی ۔رقیہ ایک کرسی پہ بیٹھ گئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی اتنے میں کیبن کا دروازہ کھلا اور ایک مرد باہر آیا ، پھر دونوں عورتیں اندر چلی گئیں وہ پندرہ منت کے بعد واپس آئیں پھر مرد کی باری تھی ۔رقیہ بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی گھر سے تو وہ جلدی ہی نکلی تھی مگر پھر بھی اسے دیر ہوگئی تھی ۔مرد باہرآیا تو وہ جلدی سے کھڑی ہو گئی اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا وہ خود کو سنبھالتے ہوئے اندر آئی نیم تاریک ماحول پر پرسراریت چھائی ہوئی تھی ۔کچھ لمحے بعد اس کی آنکھیں تاریکی میں دیکھنے کے قابل ہوئیں۔

Bengali Baba
Bengali Baba

سامنے ایک تخت پہ ایک مکروہ صورت بنگالی براجمان تھا سفید داڑھی میں اس کا کالا رنگ بہت عجیب لگ رہا تھا ۔اس کی گلے میں موٹے دانوں کی ایک مالا تھی ہاتھوں میں رنگ برنگی انگوٹھیاں تھیں سامنے ایک انگیٹھی نما برتن میں آگ دہک رہی تھی جس میں بنگالی بابا وقفے وقفے سے کچھ ڈال رہا تھا ،فضا میں لوبان اور جلنے کی سڑاند پھیلی ہوئی تھی ۔دیوار پہ ایک سوکھا ہوا الو اور کئی حنوط شدہ پرندے لٹکے ہوئے تھے ۔ایک طرف مرتبان میں مرغیوں کے سر ، پنجے اور مختلف آلائیشیں رکھی تھیں ۔رقیہ جھجکتی ہوئی بابا کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

بابا نے اپنی سرخ نظریں اوپر اٹھائیں اور گونجتی آواز میں بولا با مراد ہو کر جائیگی اس آستانے سے فکر نہ کر بتا کیا چاہتی ہے؟رقیہ نے بابا کے پائوں چھوئے اور دو زانو ہو کر بیٹھ گئی بابا جی میں بہت دکھیاری ہوں ساس اور نند نے میرا جینا دو بھر کر رکھا ہے شوہر ماں کا اتنا فرماں بردار ہے کہ ساری کمائی اس کے ہاتھ پہ رکھ دیتا بس بابا جی کوئی ایسا عمل بتائو کہ وہ میرا ہو کر رہے میری دیورانی بھی آپ کے پاس آئی تھی اور اب وہ الگ گھر میں اپنے میاں کے ساتھ رہتی روپے پیسے کی بھی ریل پیل ہے ۔میری بھی ان ساس نندوں سے جان چھڑوائیں۔

Jadoo
Jadoo

رقیہ کے لہجے میں حسد اور نفرت انتہائی درجے کو چھو رہی تھیں ۔بابا جی نے آنکھیں بند کر لیں اور مراقبے میں چلے گئے کچھ دیر منہ میں بدبدانے کے بعد ایک دم آنکھیں کھول دیں اور غیض غضب میں بولے تیری ساس نے تجھ پہ جادو کروایا ہے مگر ہم اس کا توڑ کریں گئے کام مشکل ہے ،جو ہم کہیں اس پہ عمل کرنا۔جی بابا جی آپ جو کہو گے وہی ہوگا ۔بابا جی نے ایک پتلہ نکالا اور اس میں سوئیاں چبھوئیں اور رقیہ کا حوالے کیا یہ رات بارہ بجے کسی تازہ قبر کے سرہانے دبا دینا اور تین راتوں کو اسی قبر کے سرہانے ایک وظیفہ پڑھنا ہے یہ کر پھر اگلا عمل بتائینگے اب جا یہ کہہ کے وہ دوبارہ اپنے وظیفے میں گم ہوگئے۔

رقیہ اپنے بستر پہ پہلو بدل رہی تھی ،اسلم کی اس پورے ہفتے نائٹ ڈیوٹی تھی وہ ایک مل میں ٹیکنیشن تھا ۔ساتھ والے کمرے میں اس کی ساس عشاء کی نماز کے بعد وظیفے میں مشغول تھی پھر ووسو جاتی اور تہجد کے وقت اٹھتی ۔ساس کے ساتھ اس کی سترہ سالہ نند میٹھی اور بے فکر نیند سو رہی تھی ۔ساس نے وظیفہ ختم کیا آیت الکرسی کا حصار بنایا اور لیٹ گئی چند لمحوں بعد اس کے خراٹے گونج رہے تھے ۔رقیہ دھیمے سے اٹھی الماری سے پتلہ نکالا کالی چادر اوڑھی اور خاموشی سے باہر نکل گئی،ہر طرف ہو کا عالم طاری تھا چند گلیاں عبور کر کے ایک بڑا میدان تھا جس کے ساتھ ہی قبرستان تھا۔

وہ قبرستان میں ڈاخل ہوئی ۔اس کی نظریں تازہ قبر کی تلاش میں تھیں ایک چھوٹی سی قبر جس کی مٹی بھی نم تھی اور اس پر تازہ گلاب کی پتیاں موجود تھیں ۔وہ دل کڑا کر کے قبر کے سرہانے پہہنچ گئی۔انسان کی نفرت بھی عجیب چیز ہے اسے اندھا بنا دیتی ہے کہ وہ غلط اور ٹھیک میں تمیز کے قابل نہیں رہتا ۔رقیہ کو بھی نفرت نے بہادر بنا دیا مگر اس کی عقل پہ پردہ ڈال دیا ۔وہ چھوٹے سے کدال سے قبر کا سرہانہ کھود رہی تھی پھر اس نے اس میں پتلا دبایا اور واپس پلٹی مگر اس کے قدم گویا زمین نے جکڑ لئے۔

Graveyard
Graveyard

سامنے قبرستان کا گورکن اسے خشمگیں نظروں سے گھور رہا تھا ۔رقیہ بری طرح گھبرا گئی گویا وہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی ۔اس نے جلدی سے چادر سے منہ ڈھکا اور تقریبا دوڑتی ہوئی وہاں سے بھاگ آئی ۔گھر پہنچنے تک وہ بری طرح ہانپ چکی تھی ۔کمرے میں آتے ہوئے اس کی نظر ساس کے بستر پہ پڑی وہ وہاں موجود نہیں تھیں ۔اب تو اس کے حواس گم ہونے لگے ۔وہ خاموشی سے اپنے بستر پہ آکر لیٹ گئی ۔صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس کی نند سکول جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی جبکہ اس کی ساس چولھے پر توا رکھے روٹی بنا رھی تھی ۔اس نے چور نظروں سے ساس کی طرف دیکھا مگر وہ اپنے کام میں مصروف تھی۔اسلم کی بائیک باہر آ کر رکی سلام کے بعد وہ ہاتھ منہ دھو کے ماں کے پاس پیڑھی پہ ناشتہ کرنے آ بیٹھا ۔رقیہ نے سالن اور پانی لا کر رکھا اس دوران اس کی نند سکول جا چکی تھی ۔اسلم بھی سو گیا ۔ساس چھوٹے چھوٹے کام نبٹاتی رہی پھر کسی میلاد میں جانے کا کہہ کر باہر چلی گئی۔رقیہ کو ہول اٹھ رہے تھے کہ وہ رات کا عمل کیسے کرے گئی۔

اسی کشمکش میں شام ہو گئی اسلم کے جانے اور ساس کے سونے تک وہ خاموش رہی ساس نے ایک دو مرتبہ پوچھا تو ا س نے ہوں ہاں کہہ کر ٹال دیا ۔ رات بھیگ چکی تھی ،وہ دبے پائوں باہر نکل آئی ، قبر تک پہنچی اور بنگالی بابا کا عمل کرنے کے لیے سرہانے بیٹھ گئی بتائے گئے منتر کے الفاظ دہراتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔یکا یک اسے کسی کی آہٹ سنائی دی وہ ڈر کر پیچھے مڑی ۔گورکن غالبا اس کی تاک میں تھا اس نے رقیہ کا بازو پکڑ کر گھسیٹا ۔رقیہ نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر مرد کی گرفت کے آگے اس کی ایک نہ چلی۔

Gorkan
Gorkan

وہ اسے گھسیٹتا ہوا ایک طرف بنے مکان میں لے گیا ۔اب رقیہ کو احساس ہوا کہ وہ کس مصیبت میں گرفتار ہوگئی ہے ۔گورکن باہر سے تالا لگا کر غائب ہو گیا ۔رقیہ اب اپنے کیے پہ پچھتا رہی تھی ۔ایک گھنٹے بعد قدموں کی چاپ سنائی دی اور تالے میں چابی گھومنے کی آواز آئی ۔رقیہ ڈر کے مارے سمٹ کے بیٹھ گئی کمرے میں ایک چارپائی کے علاوہ کچھ نہ تھا گورکن کے ساتھ بابا بنگالی کو دیکھ کر رقیہ دنگ رہ گئی ۔پھر اس کے ذہن میں آیا کہ بابا اسے بچا سکتا ۔وہ بابا کے قدموں سے لپٹ گئی اور فریاد کرنے لگی کہ اس کے بتائے عمل کرنے آئی تھی بابا کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ تھی۔

فجر کی اذان کی آواز سنتے ہی حاجی کرامت نے مسجد کی راہ لی گلی کا موڑ مڑتے کچرا کنڈی کے پاس ایک مڑا تڑا وجود دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئے ۔اس کی نبض ٹٹولی اور زندگی کی ہلکی سی رمق پا کر فورا اپنے گھر بیٹے کو فون کیا دونوں باپ بیٹا اسے اپنے گھر لے آئے ۔حاجی صاحب نے بیگم کو صورتحال سے آگاہ کیا ۔ رقیہ کو ہوش آ چکا تھا مگر وہ شاک کی حالت میں تھی اور اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی تھی ۔حاجی صاحب اور ان کے گھر والوں کے ہمدردانہ رویے نے اسے سب بتانے پر مجبور کر دیا ۔ساری داستان سن کر حاجی صاحب اس کے بتائے پتے پہ اس کے گھر جا پہنچے مگر وہاں ماتم کا عالم تھا اسلم کام کرتے ہوئے الیکٹرک شاک لگنے سے جاں بحق ہو گیا تھا ۔اور اس کی میت صحن میں پڑی تھی ۔ساس اور سعدیہ کا رو رو کے برا حال تھا۔

Half Insane
Half Insane

حاجی صحب نے واپس آکر رقیہ کو جب یہ خبر سنائی تو وہ پچھاڑیں کھانے لگی بہت مشکل سے اسے گھر لے جایا گیا ۔اس کا دماغ الٹ گیا اور وہ خود کو مورد الزام دیتی رہی ۔جس کو حاصل کرنے کے لیے اس نے خدا کو فراموش کر کے بابا کا سہارا لیا وہ ہی اس سے جدا ہوگیا ۔رقیہ نیم پاگل ہو گئی ہے سارا دن گلیوں میں کبھی اسلم کو تلاش کرتی ہے تو کبھی چھری لے کے بابا کی تلاش میں نکل جاتی ہے مگر بابا نے شاید کسی اور شہر ڈیرا بسا لیا جہاں کئی ضعیف العتقاد عورتیں اس کا شکار ہو رہی ہونگی۔ رقیہ کے دو ماہ قبل وفات ہوگئی۔ اس کی ساس نے اپنے آنسو پونچھے اور اپنے گھر کی جانب تھکے قدموں سے روانہ ہوگئی۔

تحریر: عفت

Share this:
Tags:
eyes knowledge magic mask sad بنگالی جادو عفت علم نظروں نقاب
Environmental Pollution
Previous Post ماحولیات اور اسلامی تعلیمات
Next Post رحمت اللعالمین
Muhammad PBUH

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close