Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
June 10, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جب مرا ہر ایک دکھ میرا ہنر ہو جائے گا

September 26, 2016 0 1 min read
Dr.Najma Shaheen
Dr.Najma Shaheen
Dr.Najma Shaheen

تحریر: سلیم سرمد
علوم وآگہی اور زبانوں کے ارتقاء اور پھیلائو سے قبل ، جب انسان تمدنی نہیں تھا، اپنی ضرورتوں کے پیشِ نظر اپنا مقصد بیان کرنے،اپنی بات دوسروں تک پہنچانے، سمجھانے،اور اپنے محسوسات و جذبات کے اظہار کے لیے مختلف طریقوں ،مثلاََاعضاء کی حرکات و سکنات، مخصوص آوازوں اور اشاروں کنایوں سے کام لیتا تھا۔جس سے کسی بات کے اظہار اور ابلاغ میںکافی دِقّت اور وقت صرف ہوتا تھا۔

جوں جوں انسان شعور وآگہی اور علم حاصل کرتا گیااس پر کائنات کے اسرار و رموز کھلنے لگے،وہ تمدنی ہوتا چلا گیا،بہتر رہنے، کھانے، پہننے،بہتر سوچنے سمجھنے اور بہتر بولنے لگا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور علوم نے مزید ترقی کی تو زندگی سہل ہوتی گئی،انسان کے فکری پہلو روشن ہوئے تو اجتماعی سوچ پروان چڑھی جس سے اجتماعی معاشرے کی تشکیل ہوئی،اظہار ،ابلاغ اور روابط کے ذرائع وسیع ہوتے چلے گئے اور دنیا گلوبل ویلج بن گئی۔

لیکن آج اتنی جدت،آزادی اور انسان کے شعوری ارتقاء کے باوجود کچھ حقائق ایسے بھی ہیں جو انتہائی تلخ ہیں،کچھ مسائل ایسے ہیں جن پر تاحال تاریخ کی گرد پڑی ہوئی ہے،اظہارِ رائے کے معاملے میںہم آج بھی کسی حد تک انسانی تاریخ کے ابتدائی عہد میں ہیں۔اس آزاد ، اور مہذب معاشرے میںسچ کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔پیار محبت کے جذبات کا اظہار معیوب اور گناہ سمجھا جاتا ہے ،زمانے کی تنگ نظری ، فرسودہ روایات اورخودساختہ حدود قیود کی وجہ سے ہم اپنی خواہشات کو تکمیل کا پیرہن نہیں پہنا سکتے۔اپنے محسوسات وجذبات کے اظہار میں ایک کرب،ایک تڑپ اور ایک گھٹن محسوس کرتے ہیں۔اور یہی کرب یہی گھٹن یہی تڑپ اور سوز و گداز مجھے ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی کتاب”پھول خوشبو اور تارہ ” میں بکثرت نظرآئے۔

Dr.Najma Shaheen
Dr.Najma Shaheen

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ،جو کسی تعارف اور تشہیرکی قطعاَ محتاج نہیں،مستقل مزاج،باوقارسنجیدہ شخصیت اور ایک آفاقی شاعرہ،جن کا شمار ڈیرہ غازیخان ہی نہیںبلکہ پاکستان کے نمایاں شعراء اور شاعرات میں ہوتا ہے ،ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ جو ڈیرہ غازیخان کی پہچان تو ہیں ہی مگراسکے علاوہ انھیں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کااعزاز بھی حاصل ہے۔ایک اوسط عرصے پر محیط ان کاکامیاب شعری سفر ان کے بھرپور فنی و فکری صلاحیتوں کے حامل ہونے کا ثبوت ہے،جس میں وہ مستقل مزاجی ،محنت ،لگن اور جستجو کے دم پر اپنی نئی خوبصورت تخلیق منظرِعام پر لے آئی ہیں جو لائقِ صد تحسین ہے۔”پھول خوشبو اور تارہ ”ڈاکٹر صاحبہ کی چوتھی کاوش ہے،اس سے قبل جو ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے تین مجموعے آئے تھے مجھے ان کا مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملا،شدتِ اشتیاق اور انتظار کے بعدان کی شہ پارہ تخلیق”پھول خوشبو اور تارہ” دسترس میں آئی ”مگر تشنگی باقی رہی ”۔پھول خوشبو اور تارہ میں وہ تمام موضوعات اور مسائل بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں جو ہمارے صنفی امتیاز برتنے والے معاشرے میںایک عورت کو در پیش ہوتے ہیں،کسی حبس زدہ ماحول میں ایک محبوس روح،کربِ ہجر اور درد کے لامتناہی سلسلے،اک خلش اک گھٹن،معاشرے کی قبیح اور فرسودہ روایات میں الجھی زندگی کی ڈور۔

ان کی شاعری میں عشق و محبت کے جذبات اور غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ غمِ دوراں کا تذکرہ بھی پایا جاتا ہے،ہجر و فراق کا مختلف کیفیات میں اظہار،حسرت ِوصالِ یار،جلتے بجھتے آس امید کے دیے تو کہیں آنکھوں میںچبھتی ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں۔ مختصر یہ کہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی شاعری میں وہ تمام موضوعات وہ تمام پہلو موجود ہیںجو ایک حساس انسان کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی شاعری کا اسلوب روایت و جدت سے مزین،سادہ عام فہم اور خوبصورت الفاظ کا پیرہن ،مرصع مترنم شعریت اور معنویت سے بھر پور لمبی بحور کی غزلیں اور نظموں کی جدت انکے اسلوب کی خاصیت ہیں۔ ان کے کلام میں ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری میں مشکل پسندی بالکل نہیں،شعر فوراََ ہی قاری اور سامع کے ذہن وقلب میں اتر جاتا ہے جس سے قاری اور سامع بلا تامل شعر کی معنویت کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔

نسائی جذبوں کی ترجمان شاعرہ کا یہ اعجاز ہے کے اپنے فن میں معراج کی بدولت ان کی شاعری قیاس آرائی کے بجائے حقائق کے قریب ترین اور حالات و واقعات کی مکمل عکاس ہے۔
شعر دیکھئے کہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ حالات و واقعات کی سختیوں اور زمانے کی ستم ظریفی کو کتنی بردباری اور تحمل کے ساتھ جھیلتی آرہی ہیں:
میں اشک آنکھوں کے پی رہی ہوں ،میں وار سہہ سہہ کے جی رہی ہوں،
دعا کرو بس رہے ابد تک مری یہ آہ و فغاں سلامت۔

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ ،استعارے،کنائے،تشبیہات اور تلمیحات کے استعمال کا فن بخوبی جانتی ہیں،ان کی اکثر کتابوں کے نام بھی استعاراتی ہیں،میں انھیں استعاراتی شاعرہ کا خطاب دیناپسند کروںگا،وہ اپنے مدعا،اپنی بات اور اپنے اظہار کے لئے استعاروں کا استعمال کر کے کمال مہارت کے ساتھ اپنے دل کی بات کہہ جاتی ہیں مثلاََ:
چلتے چلتے وصل اچانک ہجر کی شام میں ڈھل جاتا ہے،
تم کیا جانو کیا ہوتا ہے بات سے نکلی بات کا دکھ۔

Desires
Desires

آرام و آسائش کا طلبگار اور دائمی سکون کا متلاشی انسان اپنی زندگی کسی نہ کسی مقصد،خواہشات کی تکمیل اور وابستہ امیدوں کے سہارے بسر کرتا ہے، ان تمام جملہ عناصر کے حصول کا مقصد ذہنی و قلبی سکون ہی ہوتا ہے۔اگر انسان کو مقصدِ حیات حاصل ہوجائے،خواہشیں پوری ہو جائیں ،خوابوں کو تعبیر مل جائے تو انسان کی ویران زندگی میں بہار آ جاتی ہے۔بے پناہ مسرت کا احساس ہوتا ہے،ذہنی و قلبی اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔لیکن اگر یہ تمام رعنائیاں، رنگینیاں اور خوشیاں اچانک چھن جائیں توزندگی بے نور اور پھیکی پھیکی پڑ جاتی ہے۔یہی کیفیت اگر عشق اور محبت میں ہو یعنی اگر حاصلِ مقصد چھن جائے،وصالِ یار فراقِ یار میں بدل جائے،خوشیوں کی جگہ شقی القلب غم لے لیںتو یاس و ناامیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھاجاتے ہیں ۔انسان آسمان کی رفعتوں سے زمین کے پاتال میں جا گرتا ہے،کائنات بے رنگ اور دل کی دنیا کسی اجڑے ہوئے چمن کی طرح لگتی ہے۔زندگی کے لمحات بے کیف لگنے لگتے ہیںاور انسان کو اپنی ہستی بے معنی اور اپنی ذات کی بے ثباتی کا احساس ہوتا ہے۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ پہ اس طرح کے حالات کس طرح سے اثر پذیر ہوئے آئیے دیکھتے ہیں:

دل کو ذر ا قرار تھا وہ بھی نہیں رہا
آنکھوں کو انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا
وہ ساتھ تھا تو ساتھ میں میری بھی ذات تھی
میرا کہیں شمار تھا ، وہ بھی نہیں رہا
اس سے ہوئے جدا تو پھر خو د کو بھی کھو دیا
خود پر جو اعتبار تھا وہ بھی نہیں رہا
شاعرچونکہ معاشرے کا حساس طبقہ ہوتا ہے اسی لیے ایک شاعر کا بنیادی ذریعہء اظہار شاعری ہی ہوتا ہے ،شاعر حالات و واقعات کی عکاسی،اپنے مشاہدات و تجربات کااظہارباآسانی اور خوبصورتی کے ساتھ شعر کی صورت میںبہترطور پرکرسکتا ہے اوراپنے محسوسات و جذبات کی ترجمانی بھی شعر کی صورت میں کرنا پسند کرتا ہے،۔اپنی اس صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے شاعر اپنی شاعری میں نا صر ف اپنی مسرت و شادمانی ، کرب اور دکھ کا اظہار فرماتے ہیں بلکہ اسے مزاحمت اور شکایت کے ساتھ ساتھ مختلف کیفیات میں بطور ہتھیاربھی استعمال کرتے ہیں،مگر کہیں کہیں یہ فن بھی کارگرثابت نہیں ہوتا،مثلاََڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا ایک شعر دیکھے:

٭کل سوچا تھا شعر میں تجھ سے سارے شکوے کر ڈالوں گی
آج غزل کہنے بیٹھی تو کیوں اتنی دشواری سائیں
بعض اوقات ہماری زندگی میںہمارے معاشرے یا اپنوں کی طرف سے اس طرح کے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ ہم ہر جگہ خود کو محبوس تصور کرتے ہیں۔ہماری شخصی آزادی سلب کر لی جاتی ہے،سانسوں تک پر پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں،ہم اپنے خیر خواہوں کے بیچ بھی خوف اور گھٹن کی زندگی جیتے ہیں۔اس طرح کے کرب کا اظہار ایک شاعرہ(ایک عورت) کتنی خوبصورتی کے ساتھ کر سکتی ہو گی جس نے اپنی زندگی کو دشت سے تشبیہ دی ہو ،اور جس کا زاد ِ سفر بہتے اشک اور آہیں ہوں:
دشت میں زادِ سفر اتنا ہی تھا میرے لئے
اشک تھے اورساتھ تھا بس ،میری آہوں کا حصار
سانس لینے سے بھی اکثر روک دیتے ہیں ہمیں
جان لیوا ہو چلا ہے خیر خواہوں کا حصار

کہتے ہیں اگر انسان کے اندر کا موسم اچھا اور خوشگوار ہو تو باہر کے موسم اور مناظر بھی بھلے لگتے ہیں۔ ہر طرف رنگینی اور رعنائی نظر آتی ہے ، مسرت و شادمانی کے خوشگوار اثرات انسان کے مزاج، بول چال،روحانی اور جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں،اور دیکھنے والے با آسانی ہماری اندرونی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔اس کے بر عکس اگر انسان یاس و غم کی کیفیت میں ہو تو اس کے منفی اورنا خوشگوار اثرات بھی ہمارے مزاج اور صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔جب انسان دکھوں اور مصائب میں گھرا ہوتو آنکھوںمیں ہزاروں سوالات کے ساتھ چہرے پر مایوسی ،شب کے اندھیرے کی طرح پھیل جاتی ہے اور چشم ِ تر کو ہر سمت پیاس کا صحرا دکھائی دیتا ہے:
میرے عارض جس سے دمکے تھے کبھی
ایک دن وہ آرزو بھی مر گئی
ہر طرف اک پیاس کا صحرا تھا بس
جس طرف بھی میری چشم ِ تر گئی
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے چندمنفرد خوبصورت اشعار دیکھیے۔
مجھ کو مرے وجود میں بس تُو ہی تُو ملا
ایسے تری مہک سے سنواری گئی ہوں میں

افسوس مجھ کو اس نے اتار ا ہے گور میں
جس کے لیے فلک سے اتاری گئی ہوں میں

دکھ سے نڈھال ہو کے جب روتی ہیں بیٹیاں
پھر ان کے لیکھ دیکھ کے ہنستی ہے زندگی

جرم بس یہ تھا کہ منزل کا تعین کر لیا
پھر سد ا رہنا پڑا ہم کو سفر کے درمیاں

میں اس مختصر سے مشاہدے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی شاعری میں بھر پور فکری تنوع اور شعوری بالیدگی ہے۔ان کی شاعر ی میں شعری محاسن بڑی عمدگی کے ساتھ پائے جاتے ہیں اور وسعت ِ معانی کے لحاظ سے ان کا کلام کسی تجزیے کا محتاج نہیں ۔ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ بلا شبہ ایک آفاقی شاعرہ ہیں ،ان کی شاعری میں روایتی اور جدیدتمام موضوعات کمال مہارت کے ساتھ پائے جاتے ہیںاوران کی اس فنی پختگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے اس شعر پر میں اپنی تحریر کا اختتام کروں گا جو کہ اس مضمون کا حاصل ہے اور ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے کامل شاعرہ ہونے کی دلیل ہے:
جب مرا ہر ایک دکھ میرا ہنر ہو جائے گا
زندگی کا یہ سفر آسان تر ہو جائے گا
عشق کی لَو ایک نہ اک دن جلا دے گی مجھے
پھر مرا ہر ایک دکھ مثلِ قمر ہو جائے گا۔:

Saleem Sarmad
Saleem Sarmad

تحریر: سلیم سرمد
contact number(03326209296)
email adrs:saleemsarmad418@gmail.com

Share this:
Tags:
emotions Human life sadness Saleem Sarmad انسان جذبات دُکھ زندگی ہنر
Tera Khayal
Previous Post حسن خیال ۔۔ تیرا خیال ۔۔
Next Post فوڈ فیسٹیول ۔۔ مسکرا پاکستان ۔۔

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close