Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیدین شہیدین کی لازوال تحریک

May 5, 2015May 5, 2015 0 1 min read
Sultan Muhammad
Fight
Fight

تحریر : محسن فارانی
مئی 1799ء میں سلطان ٹیپو شہید ہو چکے تھے۔ ان کے بعد انگریزوں نے مرہٹوں کی طاقت توڑ کر 1803ء میں دہلی پر قبضہ کر لیا اور شاہ عالم ثانی انگریزوں کا وظیفہ خوار بن گیا۔ یوں ہندوستان پر برطانوی حکومت کا آغاز ہوا جبکہ 1799ء میں رنجیت سنگھ لاہور پر قابض ہو کر ایک مضبوط سکھ ریاست قائم کر چکا تھا۔ان تیرہ و تار حالات میں سید احمد شہید نے مسلمانوں کی دینی اصلاح کے ساتھ ساتھ جہادی تنظیم قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ شاہ عبدالعزیز انہی دنوں ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دے چکے تھے۔ دہلی میں انہیں خانوادہ شاہ ولی اللہ کے دو ممتاز عالم شاہ اسماعیل اور مولانا عبدالحی مل گئے اور وہ روہیل کھنڈ، آگرہ، اودھ، (یوپی) کے مختلف شہروں کے دورے کر کے دینی اصلاح اور تنظیم جہاد کا کام کرتے رہے۔ شاہ اسماعیل عقیدہ توحید پر ”تقویة الایمان” نامی کتاب لکھ کر ہندوستان میں شرک و بدعت کی جڑ کاٹ چکے تھے۔ سید احمد نے نکاح بیوگان کا اجراء کیا جسے مسلمان شرفاء باعث ننگ سمجھنے لگے تھے۔ خود سید صاحب نے اپنی بیوہ بھاوج سے نکاح کیا وہ اپنے مریدوں کو فنون جنگ کی تربیت بھی دیتے رہے۔

حج بیت اللہ کے بعد سید صاحب 2 اپریل 1824ء کو وطن واپس پہنچے پھر ہمہ تن جہاد کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور پھر طے پایا کہ علاقہ سرحد کو مرکز بنایا جائے کیونکہ رنجیت سنگھ کی حکومت نے پنجاب اور سرحد کے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی، یہاں تک کہ لاہور کی شاہی مسجد پر سکھوں کا قبضہ تھا۔ مسجد کے حجروں میں سکھ فوجی رہتے تھے اور مسجد کے صحن میں گھوڑے باندھے جاتے تھے۔ عملی اقدام سے پہلے شاہ اسماعیل پنجاب کے خفیہ دورے پر آئے اور خود مشاہدہ کیا کہ سکھا شاہی میں مسلمان کس قدر مظالم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔گوالیار، ٹونک، اجمیر، حیدر آباد (سندھ)، شکار پور، کوئٹہ، قندھار، غزنی، کابل اور جلال آباد سے ہوتے ہوئے مجاہدین پشاور پہنچے۔ ادھر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بدھ سنگھ کو دس ہزار فوج دے کر اکوڑہ بھیج دیا تھا۔ 20دسمبر 1826ء سید احمد کے 900 غازیوں نے شب خون مار کر سات سو سکھ موت کے گھاٹ اتار دیئے

جبکہ مسلم شہداء کی تعداد صرف 36 تھی۔ اس کامیابی کے بعد علماء اور خوانین نے 11 جنوری 1827ء کو ہنڈ کے مقام پر سید احمد کے ہاتھ پر امامت جہاد کی بیعت کی۔ ان میں پشاور کے سردار یار محمد خان اور سلطان محمد خان بھی شامل تھے۔ سکھوں سے لڑنے کے لئے ایک لاکھ کے قریب مجاہدین جمع ہو گئے لیکن یار محمد غدار نکلا۔ لڑائی سے ایک رات پہلے اس نے سید صاحب کو زہر دلوا دیا جس سے آپ علیل ہو گئے۔ اگلے روز لڑائی میں سکھوں کے پائوں اکھڑنے لگے تو یار محمد اور اس کے بھائی شکست شکست کا شور مچاتے ہوئے میدان سے بھاگ نکلے۔ اس طرح غازیوں کی فتح شکست سے بدل گئی۔ اب سید صاحب نے پنجتار (خدوخیل) کو مرکز بنایا۔ بونیر و سوات کا دورہ کیا، دریں اثناء ہندوستان سے مجاہدوں کے قافلے آگئے۔ پشاور و مردان اور کوہستان سے بھی کثیر تعداد میں لوگ ساتھ آ ملے۔ غازیوں نے سکھوں کو ڈمگلہ اور شنکیاری میں شکستیں دیں۔ خالص اسلامی ریاست قائم ہونے کے روشن امکانات تھے لیکن درانی سرداروں کی شرانگیزی کے باعث تحریک میں رکاوٹیں پیدا ہونے لگیں۔

Sultan Muhammad
Sultan Muhammad

ان کے اکسانے پر بعض اور خوانین نے بھی منافقت کی روش اختیار کر لی۔ شعبان 1244ھ فروری 1829ء میں سید صاحب نے اڑھائی ہزار علماء و خوانین کو مرکز پنجتار میں جمع کر کے نظام شریعت کے نفاذ پر بیعت لی لیکن غداروں نے کام خراب کر دیا۔ ہنڈ کا رئیس خادے خان سکھوں سے مل گیا، وہ انہیں پنجتار پر چڑھا لایا لیکن سکھ فوج کے سالار کو لڑائی کی ہمت نہ پڑی۔ سید صاحب نے منافقین سے نمٹنے کے لئے پہلے ہنڈ فتح کیا، پھر درانیوں کے بھاری لشکر کو شکست دی جس میں یار محمد خان مارا گیا۔ اس کے بعد مجاہدین نے امب پر قبضہ کر لیا۔ نیز مردان کے قریب سلطان محمد اور اس کے بھائیوں کے لشکر پر کاری ضرب لگا کر مردان اور پشاور فتح کر لئے۔ اب سلطان محمد نے صلح کی درخواست کی سید صاحب نے جہاد میں امداد کے وعدے پر پشاور اس کے کنٹرول میں دے دیا۔ یوں پشاور سے اٹک اور دوسری طرف امب تک کا پورا علاقہ ایک نظام کے تحت متحد ہو گیا اور سید صاحب اطمینان سے پنجاب کی سکھ ریاست کے خلاف اقدام کی تیاری کرنے لگے جو دریائے سندھ سے ستلج تک اور ڈیرہ غازی خان سے سرینگر تک پھیل چکی تھی۔

1244ھ / 1829ء میں جب پشاور سے اٹک اور امب تک سید احمد شہید کی اسلامی ریاست قائم ہو گئی تو سکھوں پر اس قدر رعب چھا گیا کہ وہ اٹک پار کا پورا علاقہ سید صاحب کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گئے مگر آپ نے ان کی یہ مصالحانہ پیشکش اس بناء پر قبول نہ کی کہ حقیقی مقصد کوئی علاقہ یا جاگیر لینا نہ تھا بلکہ پورے پنجاب، کشمیر اور سارے ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بحالی اور شرعی نظام کا اجرا مقصود تھا۔ ادھر منافق سلطان محمد پشاور نے 1830ء کی سردیوں میں ڈیڑھ دو سو غازیوں کو بے خبری کی حالت میں شہید کرا دیا جو مختلف دیہات میں بکھرے ہوئے تھے اور جنہیں سید صاحب ہندوستان کی اسلامیت کا ”خلاصہ” اور ”لب لباب” کہتے تھے۔ بس وہی مجاہدین زندہ بچے جو امب اور پنجتار میں تھے یا بروقت اطلاع مل جانے پر محفوظ مقامات پر چلے گئے تھے۔ یہ تحریک جہاد کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا۔ سید صاحب نے سرحدی خوانین کے بار بار عہد توڑنے پر مناسب سمجھا کہ سرحد کا مرکز چھوڑ کر کشمیر منتقل ہو جائیں جہاں کے مسلمانوں کی طرف سے بارہا دعوت آ چکی تھی۔

ہزارہ، مظفر آباد کے خوانین بھی ساتھ دینے کو ہمہ تن تیار تھے، چنانچہ سید احمد اور ان کے ساتھی دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرتے ہوئے دریائے اباسین (سندھ) عبور کر کے راج دواری (بالائی ہزارہ) میں وارد ہوئے اور غازی بو، گڑمنگ، گونش اور بالا کوٹ میں جہادی مرکز قائم کرتے ہوئے مظفر آباد تک پہنچ گئے۔ تحریک جہاد کے معاون خوانین کو سکھوں کی دست برد سے بچانے کے لئے مجاہدین کچھ عرصے کے لئے بالا کوٹ میں مقیم ہو گئے۔ ان دنوں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے فوجی سالار ہری سنگھ نلوہ نے صوبہ سرحد میں بدترین دہشت پھیلا رکھی تھی حتیٰ کہ مائیں اپنے بچوں کو سلاتے ہوئے کہتی تھیں، ”سو جائو ورنہ نلوہ پکڑ لے گا”

Balakot
Balakot

جب سید احمد شہید بالا کوٹ میں مقیم تھے اس زمانے میں رنجیت سنگھ کا بیٹا شیر سنگھ دس ہزار فوج کے ساتھ مانسہرہ اور مظفر آباد کے درمیان چکر لگا رہا تھا۔ وہ مقامی مخبروں کی رہنمائی میں سکھ فوجیوں کی بڑی تعداد کو مٹی کوٹ کے ٹیلے پر پہنچانے میں کامیاب ہو گیا جو قصبہ بالا کوٹ کے عین سامنے مغرب کی جانب واقع ہے۔ یوں اپنوں کی غداری سے جنگ کا وہ سارا منصوبہ تلپٹ ہو گیا جو سید صاحب نے مظفر آباد اور کشمیر کو بیس بنانے کی شکل میں تیار کیا تھا۔ اب بالاکوٹ آنے والی ایک ایک پگڈنڈی پر مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ ارباب بہرام خان کی رائے تھی کہ ہمیں سکھ لشکر کے کیمپ پر حملہ کر دینا چاہئے لیکن پل توڑا جا چکا تھا۔ ارباب نے عرض کی، پل راتوں رات بن سکتا ہے مگر سید صاحب نے دل گرفتگی کے عالم میں کہا: ”ارباب! اس بات کو چھوڑیے جو کچھ ہونے والا، یہیں ہوکے رہے گا”۔ اس پر ارباب بہرام خان انگشت شہادت سے اپنی گردن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے: ”ایں سر در راہ خدا تعالیٰ حاضر است”!

24ذی قعدہ 1246ھ / 6 مئی 1831ء کو چاشت کے وقت راہ حق کے مجاہدین اور سکھ کفار میں بالاکوٹ اور مٹی کوٹ کے درمیانی میدان میں خونریز لڑائی شروع ہوئی۔ یہ جمعہ کا دن تھا، لڑائی تقریباً 2 گھنٹے جاری رہی، سکھوں کی تعداد غازیوں سے کئی گنا زیادہ تھی۔ سینکڑوں سکھ مارے گئے اور تقریباً 300 غازیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ ان میں خود سید احمد اور شاہ اسماعیل بھی شامل تھے۔قافلہ حق کے سالار سید احمد شہید نے چند رسالے بھی تصنیف کئے تھے۔ (1) تنبیہ الغافلین(فارسی)، (2) رسالہ نماز (فارسی)، (3) رسالہ در نکاح بیوگان (فارسی)، (4) صراط مستقیم (فارسی، مولانا عبدالحی نے قیام مکہ میں اس کا ترجمہ عربی میں کیا تھا)، (5) ملہمات احمدیہ فی الطریق المحمدیہ۔

Battle Field
Battle Field

معرکہ بالاکوٹ کے بعد صادق پور (پٹنہ) کے دو بھائیوں مولوی ولایت علی اور مولوی عنایت علی نے سرحد آ کر تحریک جہاد کی قیادت کی۔ انہوں نے اسلام گڑھ کو مرکز بنا کر فتح گڑھ (بالائی ہزارہ) کے معرکے میں پورا سکھ لشکر تہ تیغ کر دیا۔ (1846ئ)۔ اسی مرکز سے مجاہدین بعد میں جموں و کشمیر کے ہندو ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ اور انگریزوں کے خلاف جہاد کرتے رہے۔ مولوی ولایت علی 1852ء میں اور مولوی عنایت علی مارچ 1858ء میں وفات پا گئے۔ اپریل 1858ء میں انگریز جرنیل سڈنی کاٹن نے بہت بڑے لشکر کے ساتھ پنجتار کو توپوں کی گولہ باری سے تباہ کر دیا۔ پھر چنگلئی، منگل تھانہ اور ستھانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، مجاہدین ملکا منتقل ہو گئے۔ آخری معرکہ دسمبر 1863ء میں درہ امبیلا سے آنے والی آٹھ ہزار انگریزی سپاہ اور ملکا کے 200 مجاہدین میں برپا ہوا جو اپنے امیر عبداللہ کی قیادت میں مردانہ وار لڑتے ہوئے سب شہادت پا گئے۔

تحریر : محسن فارانی

Share this:
Tags:
control martyr Movement power Tipu Sultan انگریزوں تحریک شہید طاقت قبضہ لازوال
Mohmand Agency
Previous Post مہمند ایجنسی، ایف آر پشاور اور ایف آر کوہاٹ کے پلئیرز ٹرائل میں شرکت کر سکتے ہیں۔شاہ محمود
Next Post زبان کا رس
MQM

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close