Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سقوط ڈھاکہ، اسباب، اسباق اور نجات کا راستہ

December 15, 2015 0 1 min read
Sakoot e Dhaka
Sakoot e Dhaka
Sakoot e Dhaka

تحریر : محمد عبداللہ
سر شرم سے جھکے ہوئے تھے، نگاہیں بارِ ذلت سے زمین میں پیوست ہوئی جاتی تھیں… چہرے عرق ندامت سے بھیگے جاتے تھے… اس پر مستزاد یہ کہ اردگرد کھڑے لاکھوںافراد کے ہجوم کے طعنے اور ذلت بھرے نعرے احساس شرمندگی کو بڑھاوا دے رہے تھے… اہل درد کے دل و دماغ دھماکوں کی زد میں تھے… بات ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ قوم صدیوں سے ناقابل شکست مانی جاتی تھی … دنیا کے ہر خطے میں بہادری کے جوہر دکھا کر اسلام کے پھریرے کو لہرایا تھا… جس نے کبھی میدان جنگ میں شکست تسلیم کرنا سیکھا ہی نہیں تھا… آج وہ ہتھیار ڈال کر اللہ کے باغیوں کی واضح فتح کو تسلیم کرنے کھڑی تھی۔ اس قوم کی سپاہ کا سالار اپنے دشمن ہم منصب کو سلیوٹ کر کے قوم کی غیرت کے جنازے کو کندھا دینے کی تیاریوں میں تھا!قارئین! یہ منظر16 دسمبر1971 کو ڈھاکہ کے پلٹن میدان کا تھا۔ یہ وہی ڈھاکہ ہے جہاں جمع ہو کر مسلم قیادت نے 1906 میں مسلم لیگ قائم کی گئی تھی۔اسی مسلم لیگ نے آگے چل کر دوقومی نظریہ کی بنیاد پر ہندئوں اور انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لییایک علیحدہ وطن حاصل کیا تھا ۔مگر آزادی کے صرف 24 سال بعد ہی اس ملک کے عین عالم شباب میں ڈھاکہ کو یہ منظر بھی دیکھنا پڑ رہا تھا کہ جس ہندو سے آزادی کی خاطر لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر یہ وطن حاصل کیا تھاآج اسیعظیم وطن کا یہ خطہ ، ذلت کے ساتھ اسی ہندو کے ہاتھوں میں دیا جا رہا تھا۔

آخر وہ کون سی وجوہات تھیںکہ آزادی کے صرف 24 سال بعد ہی اس ملک کے حصے کرنے کی نوبت پیش آگئی؟ وہ کون سی مجبوریاں تھیں کہ وہ فوج جس نے صرف چند سال قبل ہی اپنے اس ازلی دشمن بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا تھا، آج وہی فوج اس دشمن کے سامنے سر جھکائے کھڑی تھی۔ وہ کون لوگ تھے جو محمد علی جناحhکی رحلت کے بعد ہی ملک کے دونوں حصوں کے مابین افتراق و اختلاف کی باتیں کرنے لگے تھے۔ ڈاکٹرصفدر محمود لکھتے ہیںکہ بنگالی سیاستدان دونوں صوبوں کے درمیان موجود ثقافتی اور جغرافیائی بُعدسے پوری طرح باخبر تھے اور انہوں نے اختلافات کی تشہیر کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ دستور ساز اسمبلی کے ایک ممتاز بنگالی رکن ابوالمنصور احمد نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ”پاکستان ایک منفرد ملک ہے۔ اس کے دو بازوئوں کے درمیان ایک ہزار میل سے زائد فاصلہ ہے۔ مذہب اور مشترکہ جدوجہد کے سوا ان کے درمیان کوئی قدر مثلاً زبان، ثقافت غرض کچھ بھی مشترک نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں صوبوں میں وہ مشترکہ اقدار عنقا ہیں جو کسی قسم کی قوم کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں۔”

قبل اس کے کہ ہم مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات پر بحث کریں ایک چھوٹا سا واقعہ پیش کرتے ہیں۔ چند دن قبل راقم راولپنڈی میں کچھ دوستوں کے درمیان موجود تھا کہ ایک بھائی کہنے لگا” بھائی میرے تایا جی شوگر کے مریض تھے۔ ایک دن اچانک ان کو ٹانگ پر معمولی زخم آیا مگر انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی، اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا۔ چند دن گزرنے کے بعد وہ زخم بگڑ گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ڈاکٹر نے تایا کی وہ ٹانگ ہی کاٹ دی۔” قارئین کرام!یہ مثال یہاں بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں، چھوٹے چھوٹے زخموں کی اگر پرواہ نہ کی جائے اور ان پر کوئی مرہم نہ رکھا جائے تو زخم ناسور میں بدل جاتے ہیں اور بالآخر متاثرہ حصے کو بھی ساتھ لے ڈوبتے ہیں۔ کچھ یہی حال مشرقی پاکستان کا بھی ہواکہ سیاستدانوں کی بے اعتنائیوں اور مغربی پاکستان کے روکھے رویوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں احساس محرومی میں بدل گئیں اور اغیار نے اس کو ہوا دے کر نفرت کے بیج بوئے جو 1970 کے اوائل ہی سے تناور درخت بن کر نفرت و دشمنی کے پھل دینے لگے تھے۔

Pakistan
Pakistan

دراصل صورتحال کچھ یوں تھی کہ قیام پاکستان کے بعد وہ جوش جذبہ سرد پڑ گیا تھا جو تحریک آزادی کے دوران موجزن تھا۔ ان حالات میں دونوں صوبوں کو متحد رکھنے کے لیے گہری فراست، تحمل اور سیاسی رواداری از حد ضروری تھی مگر بدقسمتی سے محمد علی جناح h اور لیاقت علی خاں h کے بعد کے سیاستدان اس بصیرت سے عاری تھے۔
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن مرکزی حکومت کی بعض غلط اور بچگانہ پالیسیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان کے لوگوں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بھارت نے مشرقی پاکستان میں اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس احساس کو پروان چڑھانے کی بھرپور سعی کی۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے دونوں صوبوںکے درمیان یکجہتی اور اتحاد کی ضامن قوت ، اسلامی اخوت تھی مگر مقام افسوس ہے کہ قیام پاکستان کے بعد دونوں صوبوں کو جوڑے رکھنے کی اس سب سے بڑی قوت سے صرف نظر کیا گیا۔

سیاستدانوں کی سیاست کا محور صوبائی، علاقائی، اور محدود اقتصادی مفادات تھے۔ نتیجتاً نظریہ پاکستان سے دوری اور اسلامی شرعی قوانین سے فرار دونوں صوبوں کے درمیان تعلقات میں کمزوری کا موجب بنا۔ اقتصادی مفادات اور ثقافتی حقیقتوں کو مذہب اور دوقومی نظریہ پر فوقیت دی گئی تو لسانیت اور علاقائیت کے جن بھی اپنا سر اٹھانے لگے۔ دونوں صوبوں کے درمیان تعلقات کی خرابی میں بہت بڑا کردار لسانیت اور صوبائیت کابھی تھا۔ 1965ء میں ہی ”بنگال بنگالیوں کا ہے ”کے نعرے سنائی دینے لگے تھے اوراس سے بھی قبل بنگالی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دلوانے کے لیے تحریکیں شروع ہوگئیں، جنہوں نے مرکز سے مشرقی اکائی کو دور کرنے میں اہم کردار کیا۔ اسی طرح مشرقی پاکستان کے لوگوں میں احساسِ محرومی کو انتظامی اور سرکاری عہدوں پر مغربی پاکستان کے لوگوں کی اکثریت نے بڑھا یا۔ آبادی کے اعتبار سے مشرقی پاکستان برتری پر تھا مگر انتظامی عہدوں اور فوج میں بھرتیوں وغیرہ کے معاملے میں مغربی پاکستان کے لوگوں کا پلڑا بھاری تھا۔ چنانچہ دونوں صوبوں کے درمیان عدم مساوات نے مشرقی پاکستان کے عوام میں بددلی اور اضطراب کو جنم دیا۔ اس پر انہوں نے احتجاج کا آغاز کر دیا کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک کیا جا رہا ہے اور مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان کی نو آبادی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح مشرقی پاکستان کے لوگوں کی ایک اور بہت بڑی شکایت یہ تھی کہ محنت وہ کرتے ہیں جبکہ فائدہ مغربی پاکستان کو جاتا ہے۔ مرکزی حکومت نے مشرقی پاکستان کی معاشی بدحالی کے ازالے کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھولنے کے بجائے مغربی پاکستان میں ہی صنعتوں کے قیام کے لیے سارا سرمایہ لگادیا۔ مشرقی پاکستان سے خام مال ملتا تھا جبکہ اس کی زیادہ تر مصنوعات مغربی پاکستان ہی میں بنتی تھیں۔ اس صورتحال نے بھی مشرقی پاکستان کے لوگوں میں مغربی پاکستان کے بارے میں غلط فہمیوں کو پروان چڑھانے کا موقع فراہم کیا۔مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستان سے علیحدگی میں ایک اوربہت بڑا سبب اسلامی طرز سیاست کو پس پشت ڈال کر جمہوری سیاست کا نفاذ تھا۔ اس جمہوری سیاست نے غلط فہمیوں کے بیجوں کو نفرت کے تناور درختوں میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اسی جمہوری سیاست کے تالاب میں ڈبکیاں لگانے والے بعض عاقبت نا اندیش سیاستدانوں نے نفرت کی خلیج کو وسیع کرنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ ”اِدھر ہم اُدھر تم” کا نعرہ لگا کر مشرقی پاکستان کے لوگوں کو علیحدگی اور تقسیم پاکستان کی راہ دکھانے والے یہی سیاستدان تھے جن کو ملکی اور ملی مفادات سے بڑھ کر اپنی کرسی اور اپنی سیاست عزیز تھی۔ ان کے نزدیک ان کی سیاسی مسند کی حیثیت کے سامنے قومی مفادات کی کچھ اہمیت نہ تھی۔ وہ اپنی مسند اور سیاست بچانے کے لیے ملک کو تقسیم کرنے کی قربانی دینے پر تیار ہو چکے تھے۔

1971 War
1971 War

اسی طرح مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں گھنائونا کردار ادا کرنے والے وہ عالمی غنڈے تھے جو اپنے نظاموں اور ملکوں کے دفاع کی خاطر کمزور ملکوں کو ہولناک جنگوں میں دھکیلنے اور ان کی سا لمیت کی دھجیاں اڑانے کی منصوبہ بندیاں کر رہے تھے۔اس کے علاوہ تاریخ کے اوراق میں سی آئی اے اور جرمن فیچر ایجنسی کے بنائے ہوئے منصوبے ایک عرصے تک گردش کرتے رہے جن کا منصوبہ یہ تھا کہ کیمونزم کو جنوب مشرقی ایشیا میں روکنے کی صرف ایک صورت ہے کہ اس خطے میں ایک ایسی ریاست بنائی جائے جو کچھ ریاستوں کا اتحاد ہو اور اس کی قیادت بھارت کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ اس منصوبے کے لیے 1969ء کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ اس کی تائید ”کھلنا” کے اخبار ”The View”کی اس رپورٹ سے بھی ہوتی ہے کہ امریکن سی آئی اے کی خاتون رکن مس جین ڈکسن نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ مشرقی پاکستان میں نومبر، دسمبر 1969 میں دس لاکھ افراد مارے جائیں گے۔سامراجی قوتوں نے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی خاطر رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے بھرپور تیاریاں کیںاور لاکھوں ڈالر پانی کی طرح بہائے۔

قارئین کرام! ایک بہت اہم بات کہ سقوط ڈھاکہ کا تجزیہ کرتے وقت اس کا وبال صرف چند ارباب اقتدار پر ہی ڈال دینا حقائق کے منافی ہے، بلکہ اس سانحے کا تجزیہ کرتے وقت ہمیں بیرونی اسباب کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ کس طرح ہمارے پڑوسی اور ازلی دشمن بھارت جس کی آنکھوں میں ہم روز اول سے ہی کھٹک رہے ہیں، دن رات ہمارے خلاف سازشوں کے جال بننے اور نقصان پہنچانے کے لیے مصروف عمل رہتا تھا۔ اس کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو دنیا میں بے توقیر کیا جائے اور یہ آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود نہ رہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے اپنے تمام تر ذرائع استعمال کیے اور کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ اچانک سے رونما نہیں ہوا تھا بلکہ بھارت نے ہمارے خلاف بھرپور منصوبہ بندی کی تھی۔ مغربی پاکستان میں عصبیت اور مشرقی بازو کے اندر قومیت کے بیج بوئے۔ اس مقصد کے لیے کراچی اور اسلام آباد میں امریکہ اور برطانیہ کے قونصل خانے استعمال ہوئے تجوریوں کے منہ کھولے گئے اور ابن الوقت سیاستدانوں سے کام لیا گیا۔ مشرقی پاکستان میں عوام کو پاکستان مخالف جذبات پر ابھارنے کے لیے بھارت نے ان ہندوئوں کو استعمال کیا جو تقسیم برصغیر کے وقت اپنے خاندانوں کو بھارت بھیج کر خود مشرقی پاکستان میں رہائش پذیر تھے۔

ان کے ذریعے بھارت سے پاکستان مخالف لٹریچر اور زہریلا مواد مشرقی پاکستان پہنچتا اور دوسری طرف دولت اور اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کو پیسے کے زور پر خرید کر ان کو عوام میں پاکستان سے نفرت کے جذبات پیدا کرنے کا کام سونپا گیا۔ اسی اثناء میں 70ء کے انتخابات منعقد ہوئے جن میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ بھاری اکثریتی جماعت کی صورت میں سامنے آئی اور جمہوری اصولوں کی روسے حق بھی اسی کا تھا کہ وہ حکومت سازی کرے۔ مگر مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کرنے والوں کو قطعاً گوارانہ تھا کہ وہ حکومت سے محروم رہیں۔ وہ ہر حال میں حکومت میںآنا چاہتے تھے اس کے لیے عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن کو منانے کی کوششیں شروع کی گئیں جس کے جواب میں اس نے اپنے 6نکات سامنے رکھے جن کی بنیاد پر اس نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ یہ کوششیں بار آور ثابت نہ ہوئیں اور نفرت کی خلیج بڑھتی گئی جس میں بہت بڑا ہاتھ بھارت کابھی تھا۔ اس نے مذاکرات کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہونے دی۔ دوسری طرف بھارت ایک کثیر سرمایہ خرچ کر کے بنگالیوں کو مکتی باہنی کی صورت میں عسکری تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا تھا۔ جس کے بل بوتے پر مکتی باہنی والوں سے مشرقی پاکستان میں شورش اور بغاوت شروع کروائی گئی۔ کیفیت یہ تھی کہ مکتی با ہنی کے غنڈوں اور درندوں نے مشرقی پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنا شروع کردی تھی۔محب وطن پاکستانیوں کو چن چن کر قتل کیا جانے لگا۔ کسی کی بھی عزت و جائیداد محفوظ نہ تھی۔

Pakistan Army
Pakistan Army

ان حالات میں پاکستانی فوج نے حالات کو درست کرنے کے کیے آپریشن شروع کیا اور بقول جنرل اسلم بیگ:”مشرقی پاکستان میں جب مزید فوج کی ضرورت ہوئی تو ہمارا ایک ڈویژن کھاریاں سے ہوائی جہازوں کے ذریعے 30 مارچ کو ڈھاکہ پہنچا اور سلہٹ سے لے کر چٹا کانگ تک کی ذمہ داری سنبھال لی۔ ہمارے پاس صرف رائفلیں اور لائٹ مشین گنیں تھیں۔توپ خانہ تھا اور نہ ہی ٹینک۔ اس طرح وہاں کل چار ڈیژن فوج نے مارچ سے اگست تک صرف پانچ ماہ کی مدت میں پورے مشرقی پاکستان پر حکومت کی رٹ قائم کر دی اور شہروں، قصبوں اور گھروں پر صرف پاکستانی پرچم ہی نظر آنے لگا ۔ اس وقت ہمارے جنرل کمانڈنگ آفیسر جنرل شوکت رضا نے جو عسکری دانشور مانے جاتے تھے،اپنی سفارشات پیش کیں کہ فوج نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اس لیے لازم ہے کہ اب سیاسی عمل شروع کیا جائے اور سول انتظامیہ اپنی ذمہ داری سنبھالے۔مگر ان کی سفارشات کو رد کر دیا گیا اور عوامی لیگ کو حکومت سازی سے روک دیا گیا جس پر بھارت نے مکتی باہنی اور فوج کے ساتھ ایک بار پھر پاکستان پر چڑھائی کر دی جس کے ساتھ ہی عوام کے دلوں میں سالوں سے پکتے نفرت کے لاوے پھٹ گئے، آندھیاں اور بگولے طوفان میں بدل گئے مشرقی پاکستان ایک بار پھر جنگ کے ہولناک سایوں کی لپیٹ میں آگیا۔ پاکستانی فوج نے معاملات سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی مگر اب پانی سرسے گزرچکا تھا جس کے سامنے بند باندھنا ممکن نہیں تھا۔”

بالآخر باقی ماندہ پاکستان کو بچانے اور مسلمانوں کے لہو کے دریا کو روکنے کے لیے مسلم امہ کی چودہ سوسال کی تاریخ میں وہ سیاہ دن بھی آیا کہ جب 16دسمبر 1971کو مسلمان فوج کافروں کے سامنے سرینڈر کر چکی تھی۔پاکستان اپنے عین عالم شباب میں دولخت ہو چکا تھا۔ امت مسلمہ غم میں ڈوبی ہوئی تھی اور بھارتی ہندو خوشی کے شادیانے بجاتے نہیں تھکتے تھے کہ انہوں نے تقسیم برصغیر اور 65 کی ہزیمت کا بدلہ لیا تھا۔ اندرا گاندھی بڑھکیں مار رہی تھی کہ ہم نے دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔بھارت کا موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی آج فخر سے اعتراف کرتا ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام میں سب سے اہم کردار بھارت کا ہے، پچھلے دنوں بنگلہ دیش کے سرکاری دورے پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے یہ اعتراف گناہ بڑی ڈھٹائی اور فخر سے کیا۔

Pak Amry
Pak Amry

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے اس سیاہ ترین باب اور اس کے حقائق سے نظریں چرانے کے بجائے، اپنی غلطیوںاور کوتاہیوں کا جائزہ لیں کہ کہیں ملک کے اشتعال زدہ علاقوں کے معاملات میں کہیں غفلت کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟ ان علاقوں میں چلتی علیحدگی کی تحریکوںاور دہشت گردی کے تانے بانے بھارت سے ملنا اور بھارتی حکمرانوں اور ذمہ داران کی وقتاً فوقتاً پاکستان کو سندھ کارڈ،بلوچستان وغیرہ پر دی جانے والی دھمکیوں کی حقیقت پر توجہ دینی چاہیے اور ان علاقوں میں اپنی غفلتوں کا تدراک کر کے اور مئوثرلائحہ عمل ترتیب دے کر بھارتی سازشوں کو بے نقاب اور ناکام کرنا چاہیے۔ دوسری طرف ان علاقوں کے ناراض لوگوں کو مزید کسی نقصان سے بچتے ہوئے ابھی سے قومی اور سیاسی دھارے میں شامل کرنا چاہیے۔ ان علاقوں کی معاشی بدحالی دور کرنے کے لیے مختلف منصوبے وغیرہ شروع کرنے چاہئیں تاکہ سقوط ڈھاکہ جیسے حادثات سے بچ سکیں۔

تحریر : محمد عبداللہ

Share this:
Tags:
defeat Islam lessons nation path Sakoot e Dhaka saved اسباب اسلام راستہ سقوط ڈھاکہ شکست قوم نجات
Army Public School
Previous Post لہو ہمار بھلا نہ دینا
Next Post حکمران سانحہ سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھیں
1971 War

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close